میٹا نے اپنی ایپ واٹس ایپ جو سوشل میڈیا پلیٹ فارم پر رابطے کا کام کرتی ہے نے اپنے صارفین کو آن لائن دھوکہ دہی سے بچانے کے لیے نئے فیچرز متعارف کرانے کا اعلان کیا ہے۔ یہ اقدام کمپنی کی جانب سے آن لائن فراڈ کے خلاف کوششوں میں مزید تیزی کا نتیجہ ہے۔
واٹس ایپ پر یہ نئے ٹولز، جو گروپ اور انفرادی چیٹس میں ممکنہ فراڈ کی نشاندہی کے لیے تیار کیے گئے ہیں، ان 6.8 ملین اکاؤنٹس کے خاتمے کے بعد سامنے آئے ہیں جو دنیا بھر میں مجرمانہ فراڈ نیٹ ورکس سے منسلک تھے۔
میٹا کی ویب سائٹ پر جاری کردہ اعلان کے مطابق، اپ ڈیٹ کردہ فیچرز صارفین کو فراڈ کی بروقت پہچان اور اس سے بچاؤ کے لیے مزید بااختیار بناتے ہیں۔ ان میں ایک اہم اپ ڈیٹ گروپ چیٹس کے لیے ایک “سیفٹی اوورویو” (حفاظتی جائزہ) کا اضافہ ہے۔
یہ فیچر صارف کو اس وقت مطلع کرے گا جب اُسے کسی ایسے گروپ میں شامل کیا جائے گا جس کا منتظم اُس کے رابطہ فہرست (Contacts) میں موجود نہیں ہو ۔
سیفٹی اوورویو صارف کو گروپ سے متعلق اہم معلومات فراہم کرے گا، جیسے کہ آیا گروپ کے دیگر ارکان اس کے رابطوں میں شامل ہیں یا نہیں ہیں ۔ یہ اضافی معلومات صارفین کو یہ فیصلہ کرنے میں مدد دیں گی کہ آیا وہ گروپ میں شامل رہنا چاہتے ہیں یا نہیں رہنا چاہتے ۔
اگر صارف گروپ کو مزید دریافت کرنا چاہے، تو اُسے مزید سیاق و سباق دیکھنے کی اجازت ہوگی، جب کہ گروپ نوٹیفکیشنز اس وقت تک خاموش (mute) رہیں گی جب تک صارف فیصلہ نہ کر لے کہ اُسے گروپ چھوڑنا ہے یا رہنا ہے۔
گروپ چیٹ سیکیورٹی کے ساتھ ساتھ، واٹس ایپ نجی پیغامات (پرائیویٹ میسجنگ) میں ہونے والے فراڈ کا بھی سدباب کر رہا ہے۔
اکثر دھوکہ باز دیگر پلیٹ فارمز سے رابطے کا آغاز کرتے ہیں، اور بعد میں صارف کو واٹس ایپ پر منتقل ہونے کا کہتے ہیں۔ اس رجحان کے پیشِ نظر، واٹس ایپ ایسے فیچرز آزما رہا ہے جو صارف کو خبردار کرتے ہیں جب وہ کسی ایسے شخص سے چیٹ کا آغاز کرے جو اُس کی رابطہ فہرست میں شامل نہ ہو۔
یہ نوٹیفکیشنز صارف کو اس شخص سے متعلق مزید پس منظر فراہم کریں گی، تاکہ وہ بات چیت شروع کرنے سے پہلے سوچ سمجھ کر فیصلہ کر سکے۔
واٹس ایپ نے فراڈ نیٹ ورکس کو توڑنے کے لیے اوپن اے آئی (OpenAI) کے ساتھ شراکت داری بھی کی ہے، جس کا خاص ہدف کمبوڈیا میں قائم ایک اسکیمنگ سینٹر تھا۔
ان دھوکہ بازوں نے چیٹ جی پی ٹی (ChatGPT) کی مدد سے دھوکہ دہی پر مبنی پیغامات تیار کیے، جن کے ذریعے لوگوں کو جعلی لائکس، پیرامڈ اسکیمز اور کرپٹو کرنسی میں سرمایہ کاری جیسے جال میں پھنسایا گیا۔
اکثر یہ فراڈ متاثرین کو ٹیلیگرام پر لے جاتے، جہاں اُنہیں ٹک ٹاک ویڈیوز پر “لائک” کرنے کا کام دیا جاتا، اور بعد میں کرپٹو کرنسی میں سرمایہ کاری کی ترغیب دی جاتی۔
واٹس ایپ کی حفاظتی ہدایات صارفین کو یہ مشورہ دیتی ہیں کہ وہ کسی بھی غیر مانوس پیغام کا جواب دینے سے پہلے ایک لمحے کو رکیں۔
ان ہدایات میں کہا گیا ہے کہ صارفین کو چاہیے وہ پیغام کی سچائی پر غور کریں، پیغام میں دی گئی ہنگامی اپیل کو جانچیں، اور اگر کوئی دوست یا رشتہ دار بن کر رابطہ کر رہا ہو تو اُس کی شناخت کسی اور ذریعہ سے تصدیق کریں۔
ان نئے فیچرز کی مدد سے، واٹس ایپ اپنے صارفین کو فراڈ سے محفوظ رکھنے اور پلیٹ فارم پر آن لائن تحفظ کو مزید مضبوط بنانے کے لیے اہم اقدامات کر رہا ہے۔

