Site icon Writers Club Pakistan

بارش کے پانی کو ذخیرہ  کر کے اپنی نسلوں کو محفوظ بنائیں ، سندس سہیل

کراچی :ماہر ماحولیات سندس سہیل کا کہنا ہے کہ رین واٹر ہارویسٹنگ ایک کامیاب پروجیکٹ ہے جس سے پانی کی قلت پر قابو پایا جاسکتا ہے ، بارش کے پانی کو ذخیرہ کرکے اپنی نسلوں کو محفوظ بنائیں ۔

ایکوا ایڈووکیٹ ( Aqua Advocate ) کی جانب سے آئی بی اے یونیورسٹی کراچی میں ایک روزہ سیمنار کا انعقاد کیا گیا جس میں بارش کے پانی کو ذخیرہ  کر کےقابل استعمال بنانے کی آگاہی فراہم کی گئی ۔

پراگرام میں ایکوا ایڈوکیٹ کی صدر جوریہ سلطان ، نائب صدر طحہ ٰ جاوید ، ٹیم ممبر ملیکہ سلطان ، حمزہ بھٹو ، بشریٰ سلطان ، حناکماری ، بسمہٰ سلطان ، تانیہ سلیم   بھی موجود تھی ۔ اس پرگرام میں طلبہ نے بڑی تعداد میں شرکت کی ۔

دیگر شرکاء میں ٹیکونٹ گلوبل کے صدر عثمان شریف ، 8 واٹر اسپونسر ز اور بلق وائز کے ڈائریکٹر  مسٹر واحب شامل تھے ۔

سند س سہیل کا کہنا تھا کہ سندھ میں پانی کی قلت بہت زیادہ ہو گئی ہے لیکن المیہ یہ ہے کہ بارشیں زیادہ ہونے کے باوجود ہمیں پانی کی قلت کا سامنا ہے اس کی اہم وجہ بارش کے پانی کو ذخیرہ کرنے کی کو ئی تجویز یا صلاحیت موجود نہیں ، اس جدید دور میں جہاں سائنس نے اتنا ترقی کر لی ہے لیکن سندھ میں رین واٹر ہارویسٹنگ پروجیکٹ پر کوئی کام نہیں کر رہا ہے ۔

انہوں نے کہا کہ یہ پائلٹ پروجیکٹ ہم اپنے گھروں میں بھی لگا سکتے ہیں  یہ انتہائی اہم ترین پروجیکٹ ہے جس سے بارش کے پانی کو ذخیرہ کر سکتے ہیں ، حکومتیں  اس پروجیکٹ پر کوئی اقدامات کرتے نظر نہیں آتیں ۔

ان کا کہنا تھا کہ انڈیا  کےگاؤں ، دیہاتوں میں اس طرح کے پائلٹ پروجیکٹ  لگائے ہیں جس سے پانی کی قلت کا خاتمہ کیا گیا اور انہوں نے اس پانی کو زراعت کے لئے استعمال کر رہے ہیں اس سے اربن فلڈنگ جیسے خطرات کو بھی کم کیا گیا ہے اور پانی کی قلت کا کم کیا گیا ہے ۔

انہوں نے مزید کہا کہ پاکستان میں کلائمیٹ  چینج کی وجہ سے بارشوں کا سسٹم تبدیل ہوچکا ہے  ، بارشوں کے پانی کو ذخیرہ نہ کرنے کی وجہ سے ہمیں ہر سال اربن فلڈنگ کا سامنا کرنا پڑتا ہے جس سے ہمارے شہر وں کے انفرااسٹریکچر ز تباہ ہو رہے ہیں ۔

انہوں نے کہا کہ پاکستان پانی کی قلت کی جانب گامزن ہے تو اس لیئے ہمارے لیئے رین واٹر ہارویسٹنگ پروجیکٹ لگانا بہت ضروری ہیں جس سے صرف ہماری زراعت نہیں بلکہ پینے کے لئے فلٹریشن کے بعد صاف پانی بھی مل سکتا ہے ، ان کا کہنا تھا حکومت عوام کے ساتھ مل اس طرح کے پروجیکٹ پر کام کرے تا کہ اس سنگین مسئلے کا دیرپا حل نکل سکے ۔

واضح رہے کہ پراگرام کے آخر میں شرکاء میں سرٹیفکٹ بھی تقسیم کے گئے ۔

Exit mobile version