Site icon Writers Club Pakistan

توبہ کا در

”آپی! کیا آپ کے فون کو بھی سوشل ڈسٹینسنگ ہوا ہے۔۔؟“ احمر بڑے شرارتی سے انداز میں اپنی بہن سے پوچھ رہا تھا۔”ارے میں بہت مصروف تھی تم کیسے ہو؟ کیا ہو رہا ہے آج کل؟“ مریم نے بات کا رخ بدلتے ہوئے احمر سے پوچھا تھا۔
”کیا ہونا ہے آپی! بس دل ہی نہیں لگ رہا آپ بھی اتنے دن سے نہیں آئیں۔ دل چاہ رہا ہے گھر سے بھاگوں، دوستوں میں جاؤں اور سوشل ڈسٹینس کو ہوا کروں۔“
”احمر ایسا بھی کیا سوشل ڈسٹینس؟ کال پر بات کر تو رہے ہو مجھ سے، اسی طرحاپنے دوستوں کو بھی کال کر لو، اس میں کیا مسئلہ ہے؟“ مریم تھوڑی جھنجلاہٹ کے ساتھ بولی تھی۔
”کیا آپی آپ بھی نا، نا کہیں آسکتے ہیں نہ کہیں جا سکتے ہیں، نہ ہی ہاتھ ملا سکتے ہیں۔ یہ سوشل ڈسٹینسنگ نہیں ہے کیا؟م اور دنیا پاگل ہے کیا جو سوشل ڈسٹینس کا نعرہ لگائے ہوئے ہے؟“ وہ اپنی اکتاہٹ مریم پر نکال رہا تھا۔
”احمر میں تمہیں کچھ کہوں گی تو تم سننا نہیں چاہو گے اس لیے اس بات کو ختم کرو اب۔“ وہ بڑی رنجیدگی سے بولی تھی۔
”آپی آپ بولیں میں جاننا چاہتا ہوں کہ آپ اس بارے میں کیا سوچتی ہیں۔م آپی آپ کی سوچ کی میں قدر کرتا ہوں۔“م احمر نے یکدم اپنا لہجہ نرم کرکے اسے کہا تھا۔
”تم نا احمر بڑے ڈرامے باز ہو۔“ مریم کھلکھلا کر بولی تھی۔
احمر جانتا تھا کہ مریم مسکرا دے گی اور وہ یہی چاہتا تھا۔
”اچھا جی! تو میں تمہیں بتاؤں کہ کیا ہے سوشل ڈسٹینسنگ؟“
مریم نے پھر سے اس سے سوال پوچھا تا کہ اسے تسلی ہو جائے کہ واقعی احمر سننا چاہتا ہے یا نہیں۔
”جی آپی آپ کہیں، مجھے واقعی جاننا ہے۔“ احمر نے بڑے اطمینان سے اسے جواب دیا۔
”احمر تمہیں پتا ہے ابھی جو ڈسٹینس ہم نے اختیار کیا ہوا ہے وہ سوشل ڈسٹینس نہیں ہے یہ بس فاصلہ ہے احتیاط کا، اس کو ہم فزیکل ڈسٹینس تو کہہ سکتے ہیں مگر سوشل ڈسٹینس نہیں کہہ سکتے۔ ہم تو سوشلی بالکل رابطے میں ہیں۔ ہم اپنے گھروں میں رہ کر بھی ایک دوسرے سے جڑے ہوئے ہیں۔“
”احمر تمہیں معلوم ہے جب بھی میں یہ لفظ سوشل ڈسٹینس سنتی ہوں نا! تو میرے ذہن میں ایک واقعہ بار بار آجاتا ہے۔“مریم بڑے دھیمے انداز میں اپنی سوچ اس سے بانٹ رہی تھی۔ احمر بظاہر چلبلی طبیعت کا مالک تھا لیکن اندرونی طور پر حق کا متلاشی تھا۔ وہ مریم کو چھیڑتا ہی اس لیے تھا تا کہ مریم اس سے بات کرے۔
”احمر! تم جانتے ہو تبوک کے موقع پر کعب بن مالک رضی اللہ عنہ اپنے دو ساتھیوں کے ساتھ پیچھے رہ گئے تھے یعنی غزوہ میں شامل نہ ہوئے تھے۔ ایسا نہیں کہ وہ غزوہ میں شامل نہیں ہونا چاہتے تھے لیکن بس وہ یہ سوچ کر تاخیر کرتے رہے کہ وہ غزوہ کے وقت پہنچ جائیں گے۔ احمر ہم کتنی تاخیر کرتے ہیں نا ہر عبادت میں، یہ سوچ کر کہ مرنے سے پہلے عبادت کر لیں گے جیسے ہمیں اپنی زندگی کا علم ہو۔“
احمر دھیمے انداز میں ”ہمم“ کر کے رہ گیا۔
”پھر معلوم ہے کیا ہوا؟ ان کی تاخیر نے ان کو پیچھے رہنے والوں میں بنا دیا حتیٰ کہ نبی کریم صلی ا للہ علیہ وسلم تبوک سے واپس لوٹ آئے۔ کعب رضی اللہ عنہ ان کے پاس یہ سوچتے ہوئے گئے کہ کوئی بہانہ تلاش لیں گے کیونکہ وہ بہت فصاحت وبلاغت کے ساتھ بولنا جانتے تھے لیکن جب وہ نبی اقدس صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس پہنچے تو سچ کے علاوہ ان کے منہ سے کچھ نہ نکلا اور نبی کریم صلی ا للہ علیہ وسلم ان سے خفا ہو گئے حالانکہ کچھ اور بھی لوگ پیچھے رہ گئے تھے لیکن انہوں نے جھوٹا عذر پیش کر کے اللہ سے اور اس کے نبی صلی ا للہ علیہ وسلم سے معافی مانگ لی لیکن کعب رضی اللہ عنہ نے سچ بول کر اللہ اور اس کے رسول صلی ا للہ علیہ وسلم کے دربار میں معافی کی درخواست دی اور پھر درخواست موخر کر دی گئی اور کعب رضی اللہ عنہ کو کہا گیا کہ وہ اپنے گھر کو جائیں یہاں تک کہ اللہ کا حکم آجائے۔
یہاں سے شروع ہوتی ہے سوشل ڈسٹینسنگ۔ جب کعب رضی اللہ عنہ اور ان کے ساتھیوں پر زمین اپنی وسعتوں کے باوجود تنگ ہو گئی۔ کعب رضی اللہ عنہ جوان تھے گھر میں نہ ٹہر پاتے۔ ہر وقت اللہ سے معافی مانگتے اور مسجد میں جاتے لیکن نہ کوئی انسے سلام نہ کرتا۔ لوگ انہیں دیکھ کر نظر انداز کرتے۔ اس حال میں چالیس دن گزرے۔ پھر ایک اور سخت حکم آیا کہ اپنی بیوی سے علیحدہ رہیں، تنگی اور بڑھائی گئی تھی، یہ ہے سوشل ڈسٹینسنگ احمر۔“
”آپی!“ احمر نے بہت دیر بعد اپنی خاموشی توڑی تھی۔”جی۔“ مریم نے احمر سے سوالیہ انداز میں کہا۔”آپی یہ تو سوشل بائیکاٹ ہوا نا؟“مریم نم آنکھوں کے ساتھ مسکرائی: ”نہیں احمر! یہ سوشل ڈسٹینس ہے کیونکہ ایسا نہیں ہے کہ مسلمان کعب رضی اللہ عنہ بن مالک سے بات کرنا نہیں چاہتے تھے یا نبی کریم صلی ا للہ علیہ وسلم کعب کو نہیں چاہتے تھے۔ کعب رضی اللہ عنہ بن مالک کا بیان ہے کہ جب وہ نماز میں ہوتے نبی صلی ا للہ علیہ وسلم انہیں دیکھتے اور جب وہ نبی پاک صلی ا للہ علیہ وسلم کو دیکھتے تو آپ صلی ا للہ علیہ وسلم نگاہ پھیر لیتے یعنی آپ صلی ا للہ علیہ وسلم کی محبت کم نہیں ہوئی تھی اور نہ ہی مسلمانوں کی، لیکن وہ سب اللہ کے حکم کے منتظر تھے لیکن کعب رضی اللہ عنہ پر یہ دوری اس قدر سخت ہو گئی کہ زندگی کا دائرہ تنگ ہوگیا، احمر! سوشل بائیکاٹ معلوم ہے کیا ہوتا ہے؟
”کیا ہوتا ہے سوشل بائیکاٹ؟“ احمر درد اور الجھن کی ملی جلی کیفیت سے مریم کا سوال دوہرا رہا تھا۔”سوشل بائیکاٹ شعب ابی طالب میں مسلمانوں کی محصوری تھی۔ بائیکاٹ میں عداوتیں ہوتی ہیں، حقارتیں ہوتی ہیں۔ قریش مکہ کے کافر سرداروں نے مسلمانوں کو شعب ابی طالب میں محصور کرکے انہیں سماجی رابطوں سے ہی محروم نہیں کیا تھا بلکہ ضروریاتِ زندگی سے بھی محروم کر دیا تھا۔ نفرت کے باعث، دشمنی کے باعث وہ لوگ مسلمانوں کی جان کے درپے تھے، یہ ہے بائیکاٹ۔“
احمر نے تائید میں سر ہلاتے ہوئے ”ہمم“ کہا:
پھر آپی کعب رضی اللہ عنہ بن مالک کا کیا ہوا؟ انہیں معافی مل گئی تھی نا؟
”ہاں احمر! سوشل ڈسٹینسنگ کو پچاس دن گزرے اور پھر پچاسویں دن فجر میں اللہ کی طرف سے خوشخبری اتری تو مسلمان دوڑے کعب رضی اللہ عنہ بن مالک کو خوشخبری دینے۔ وہ گلیوں میں پکارتے ہوئے بھاگ رہے تھے۔ ان کی خوشی کا اندازہ کرو احمر! وہ کیسے پکارتے ہوئے دوڑ رہے تھے جیسے انہیں معافی مل گئی ہو۔ کعب رضی اللہ عنہ بن مالک کو آوازیں سنائی دیں تو وہ مسجد کی جانب سرپٹ دوڑے اور نبی مہربان صلی ا للہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوگئے۔ نبی کریم صلی ا للہ علیہ وسلم نے کعب بن مالک کو گلے لگایا اور فرمایا:”کعب! خوش ہو جاؤ۔ یہ تمہاری زندگی کا سب سے بہترین دن ہے جب سے تم پیدا ہوئے ہو۔
احمر! آسمانوں سے یہ پیغام آیا تھا کہ کعب رضی اللہ عنہ کی توبہ رب نے قبول کی۔کتنی خطرناک سوشل ڈسٹینسنگ اور کتنا بہترین انعام۔“
احمر بالکل چپ تھا۔ اس کے پاس کچھ تھا ہی نہیں بولنے کو۔
”احمر ایک بات بتاؤں تمہیں؟“ مریم نے جیسے اسے سکتے سے ہلانا چاہا تھا۔”اس سوشل ڈسٹینس کے دوران غسان کے بادشاہ نے کعب رضی اللہ عنہ کو خط بھیجا تھا کہ کعب ان سے جا ملیں کیونکہ اللہ اور اس کے رسول صلی ا للہ علیہ وسلم نے کعب کو ٹھکرایا ہے۔ یہ آزمائش میں ایک اور بڑی آزمائش تھی۔ جب زمین ان پر تنگ تھی تو انہیں ایک بہت بڑا موقع مل رہاتھا لیکن انہوں نے اس خط کو جلا ڈالا کیونکہ انہیں وسعتیں نہیں چاہیے تھیں۔ انہیں وسعتیں دینے والے رب کی خوشنودی چاہیے تھی۔ احمر! ہم پر تنگی آجائے تو ہم کتنا چلاتے ہیں نا کہ ہائے رے تنگی، ہائے رے تنگی لیکن فراخی دینے والے کے بارے میں سوچتے ہی نہیں۔“
”آپی! اللہ آپ کو جزا دے۔“ احمر بہت دھیمے سے بولا تھا لیکن اس کی آواز میں کسی عزم کی گونج سنائی دے رہی تھی۔ مریم نے اس گونج کو محسوس کیا تھا۔
٭……٭……٭

Exit mobile version