Site icon Writers Club Pakistan

طالب و مطلوب (ناول: حصہ اول)

تحریر: عروج احمد، لاہور
اندھیری رات میں گھوڑوں کی ٹاپوں کی آوازیں گونج رہی تھیں۔ ان آوازوں میں کوئی غیر معمولی پن نہیں تھا۔۔ واضح سی آوازیں اور ویرانی کا شدید احساس۔۔
پیچھے سے ایک اور گھوڑا ان کے گھوڑے کے ساتھ چلا آتا ہے اور پھر ایک جانی پہچانی آواز گونجتی ہے۔
”بیٹا اس گھوڑے سے اتر کر دوسرے گھوڑے پر سوار ہو جاؤ.. تم گر جاؤ گی.“
ان کے وہاں نمودار ہوتے ہی روشنی اور نور سا پھیل گیا تھا۔ وہ بار بار اسے یہی کہتے جا رہے تھے۔۔ وہ حسرت سے انہیں دیکھتی ہے اور پھر خاموشی سے سر جھکائے رہتی ہے۔ وہ انہیں کیسے بتائے گھوڑے کی باگ اس کے ہاتھ میں نہیں ہے۔ اس کے آگے گھوڑے کا مالک بیٹھا ہے اور ان کے ساتھ والے دوسرے گھوڑے پر دو بچے موجود ہیں۔ وہ کسی عالم میں ایک طرف دیکھ رہی ہے۔
”بیٹا میں اتنی دور سے تمہیں کہنے آیا ہوں تم دوسرے گھورے پر سوار ہو جاؤ۔“
وہ سر گھما کر نظریں دوڑاتی ہے۔ اندھیرے میں اسے اپنے بائیں جانب ایک سفید گھوڑا نظر آتا ہے۔۔ اس پر ایک ہی سوار ہے مگر وہ اس کو دیکھنے کی کوشش نہیں کرتی۔ وہ سر جھکائے مایوسی سے تھکان اور بوجھ کی کیفیت میں اپنے ہاتھ دیکھتی ہے جنہیں ایک دوسرے سے باندھ رکھا ہے۔ گھوڑوں کا سفر جاری ہے۔
بوڑھا آدمی اس کے گھوڑے کے مالک سے بات کر کے اس کے لیے دوسرے گھوڑے پر سوار ہونے کی اجازت لیتا ہے۔ اس کے گھوڑے کا مالک بے حسی سے کہتا ہے کہ وہ اس کی قانونی غلام ہے اس لیے وہ اسے جانے نہیں دے سکتا۔ بوڑھا فکر مندی سے اس گھوڑے کے مالک سے بات چیت میں مصروف ہے۔
بالآخر کافی بحث کے بعد مالک اسے دوسرے گھوڑے کے مالک کے حوالے کرنے پر مان جاتا ہے مگر اسے ایک راضی نامے پر دوسرے مالک کے دستخط چاہیے۔ دوسرے گھوڑے والا وہاں سے کچھ آگے سے ملنے والا ہے۔ جب وہ اس کے قریب پہنچتے ہیں تو وہ شیطان بن جاتا ہے۔ کبھی وہ خود کو غائب کر لیتا ہے اور کبھی ظاہر ہو جاتا ہے۔ بوڑھے کی بھرپور کوشش سے دوسرے گھوڑے کا شیطان مالک دستخط کر لیتا ہے۔ مگر وہ خود غائب ہو جاتا ہے۔ بوڑھا شخص اپنی بیٹی سے کہتا ہے میں نے بڑی مشکل سے تمہیں اس شیطان سے بچا کر دوسری منزل پر ڈالا ہے اب دوسرے شیطان کے بہکاوے میں مت آنا۔
وہ بوڑھا اسے یقین دلاتا ہے کہ وہ اور اس کی بیٹی اب آزاد ہیں وہ دوسرے گھوڑوں میں سے کسی پر بھی جا سکتی ہے اور بوڑھا غائب ہو جاتا ہے۔
وہ ابھی پہلے والے گھوڑے پر سوار ہے اور دوسرے گھوڑے پر عورت سوار ہے مگر وہ اپنا شیطان چھپا کر نیک ظاہر ہوتی ہے اور اسے اس کے گھوڑے پر سوار نہیں ہونے دیتی۔ وہ اسی کشمکش میں حسرت سے اپنے ساتھ جاتے ہوئے دوسرے کو دو گھوڑوں کو دیکھتی ہے۔ گو کہ اب اس کے ہاتھ کھلے ہیں مگر نقاب پوش عورت اسے اس کا حق نہیں لینے دیتی اور اپنے گھوڑے پر نہیں آنے دیتی۔ بالآخر ایک سفید گھوڑے والا اس کے قریب گھوڑا کر کے اسے اپنے گھوڑے پر آنے کی دعوت دیتا ہے۔ وہ ابھی سوچ رہی ہے کہ کیا کرے کہ اس کی آنکھ کھل گئی۔
وہ حیرانی سے اٹھ بیٹھی اور اپنے خواب کو یاد کر کے گھبرا گئی۔ اس کے دل کو عجیب سا محسوس ہوا تھا۔ اس نے اپنے والد کی وفات کے بعد پہلی بار آج انہیں اپنے خواب میں دیکھا تھا۔ وہ غمزدہ سی سر جھکائے کچھ سوچتی رہی۔ کافی دیر کچھ سوچنے کے بعد وہ مایوسی سے پھر سے بستر پر لیٹ گئی۔
———-
وہ صبح سے بہت ڈسٹرب تھی۔ اسے اپنا خواب اور اس کی تعبیر مسلسل پریشان کر رہے تھے۔ ہفتے کا آخر تھا وہ ذہن کو جھٹک کر اپنا موڈ بدلنے کو ہمیشہ کی طرح آؤٹنگ پر جانے کا سوچنے لگی۔ کافی سوچ و بچار کے بعد اس نے نیچر سے قریب جگہ کا انتخاب کیا۔ اس نے ہانیہ اور دانیہ کو ان کے کمروں میں جا کر آگاہ کیا کہ آج وہ پارک چلیں گے۔ یہ سن کر دانیہ تو دلچسپی سے پوچھنے لگی مگر ہانیہ نے غیر دلچسپی دکھاتے ہوئے ان کے ساتھ جانے سے انکار کر دیا۔ وہ گھر پر رہ کر ویڈیو گیمز کھیلنا چاہتی تھی۔ اس نے دانیہ کے کپڑے تبدیل کروائے اور کچھ دیر میں گھر سے نکل پڑی۔ دوپہر کے 12 بجے تھے سڑکیں صاف تھیں۔ دن بھی خوبصورت لگ رہا تھا۔ راستے سے اس نے حبیبہ بیگم کو ان کے گھر سے لے لیا۔ یوں تو دانیہ بھی اپنی نانو کے بغیر کہیں جا کر خوش نہیں ہوتی تھی مگر وہ آج کچھ زیادہ اداس تھی اور اسے ان کو ساتھ لے جانا بہتر لگا تھا۔ جب سے صغیر صاحب کی وفات ہوئی تھی وہ ماں بیٹیاں بہت غمگین رہنے لگی تھیں۔ اسے کہیں بھی جانا ہو وہ زیادہ تر انہیں ساتھ ہی لے لیا کرتی۔ وہ اپنی سوچوں میں کار چلا رہی تھی کہ حبیبہ بیگم کی آواز نے ماحول میں چھایا سکوت توڑا۔
”ذاکر واپس کب آ رہا ہے۔“ وہ چونکی تھی اور یوں صورت بنا کر سوچنے لگی گویا انہوں نے بہت مشکل سوال پوچھ لیا ہو۔ وہ تسلی سے اس پر ایمانداری سے سوچ کر بولی۔
”وہ دبئی سے تو پرسوں آئیں گے مگر آپ سے ان کی ملاقات شاید نہ ہو پائے کیونکہ انہوں نے ایک دو دن کے لیے ہی آنا ہے اس کے بعد وہ آسٹریلیا نکل جائیں گے۔ آپ کو تو معلوم ہے پانچ سال سے ان کی یہی روٹین ہے۔ یہاں کم ہی رکتے ہیں اسی لیے آپ ان کے آنے کا نہ ہی پوچھا کریں۔“
وہ اس کا اتنا پھیکا سا جواب سن کر کڑھ گئی تھیں۔ پھر وہ مسکرا کر ٹالنے لگیں۔
”تمہیں اس بات پر نظر رکھنے کی بجائے کہ وہ کہاں کتنے دن اور کتنی راتیں رکتا ہے، یہ دیکھنا چاہیے کہ وہ تمہیں پیسے کتنے بھیجتا ہے۔۔ ہر سال نئی کار یا کوئی گھر لے کر دیتا ہے اور تگڑے بینک بیلنس کے بعد تمہاری کوئی ایسی خواہش نہیں بچتی ہوگی جو پوری نہ ہوتی ہو۔“
وہ اداسی سے انہیں دیکھ کر رہ گئی۔ وہ ان کی باتوں پر دل میں صرف افسوس ہی کر سکتی تھی۔
”ہاں سوائے ایک کے۔۔“ اس نے چند لفظوں پر ہی اکتفا کیا تھا۔
ایک یہ ہی میری ضرورت جو کبھی اس سے پوری نہیں ہو پائے گی۔ اس نے دل میں جملہ مکمل کیا تھا۔ وہ کار سے باہر دیکھ رہی تھی مگر اس کا ذہن کہیں اور تھا۔
”ناشکری نہ کیا کرو۔ جب سب کچھ مل رہا ہو تو ایک خواہش کو چھوڑ دینا چاہیے۔“
وہ بجھے ہوئے چہرے کے ساتھ انہیں دیکھ کر افسوس سے سوچنے لگی کہ وہ اتنے پرانے خیالات کی مالک ہیں کہ ان سے اس کی کوئی بات سمجھ جانے کی امید ہی نہیں کرنی چاہیے۔ وہ ان پرانی روایتی خواتین میں سے تھیں جن کے بارے میں ہی پہلے بھیڑ بکریوں کا محاورہ بولا جاتا تھا۔ انہیں تو گدھے اور گھوڑے کا فرق بھی معلوم نہیں۔ جس کے بھی پلو سے باندھ دیا گیا وہ اس کے لیے خدا کا درجہ رکھتا تھا۔
وہ چپ چاپ انہیں دیکھ کر دل ہی دل میں خود سے لڑتی رہی۔ پھر اسے نئی بات کا غصہ آ گیا۔ پتہ نہیں اس دور کے لوگ اتنے سطحی کیوں ہیں۔۔ مال اور مادیت ہی ان کے لیے سب کچھ کیوں ہے۔۔ روح کی کوئی اہمیت کیوں نہیں۔۔ بس جسمانی آرام ہی سب کچھ کیوں ہے.. کیا اس دور میں اور کچھ بھی اہم نہیں..!
اف۔۔ اس کی کار لگتے لگتے بچی تھی.
”دیکھ کر چلاؤ۔“ انہوں نے اسے ٹوکا تھا۔
”میں دیکھ کر چلا رہی ہوں، قصور اس کا تھا۔“
اس نے غصہ دباتے ہوئے کم بولنے کی کوشش کی تھی۔
”ڈرائیور کو لانا تھا، وہ کار چلاتا۔۔“ انہوں نے معمول کی طرح اس پر غصہ نکالا تھا۔
”میں نے اسے نکال دیا۔ اب نیا رکھوں گی۔“ وہ انہیں جواب تو دے رہی تھی مگر ذہن اس کا وہیں تھا۔
بس جس انسان کو جو نہیں ملتا اس کے لیے وہی اہم ہے۔ انہیں بابا جان نے ساری عمر پیسے سے ترسایا تو ان کے لیے عیش و آرام ہی سب کچھ ہے۔۔ انہیں کیا معلوم پیسے سے روحانی آرام اور خوشی نہیں خریدی جا سکتی۔
”نیا ملنے سے پہلے تم اسے نہ نکالتی۔۔ اب پتہ نہیں کب تک دوسرا ملے گا۔۔ ذاکر کو پتہ چلا تو غصہ کرے گا۔“
داماد کا بہت خیال ہے۔۔ کاش بیٹی کا بھی کچھ سوچا ہوتا۔۔ ان کے سوال پر وہ دل میں جل کر رہ گئی.
”میرے بھی جذبات ہیں، مجھے بھی غصہ آتا ہے، اس نے کبھی میری پرواہ نہیں کی تو میں ہی کیوں یہ سوچتی رہوں کہ اسے غصہ نہ آ جائے۔۔“
حبیبہ بیگم اسے دیکھ کر رہ گئی تھیں۔ کار کی پچھلی سیٹ پر بیٹھی پانچ سالہ بچی اپنی دھن میں شیشے سے باہر تکتی رہی تھی۔
”بیوی نہیں سوچے گی تو اور کون سوچے گا؟“
وہ پھر سے دل میں خود سے لڑنے لگی۔
جو خود انہوں نے کبھی بابا جان کی زندگی میں کبھی ان کا خیال نہیں کیا تو اب داماد ان کے لیے اتنا اہم کیوں ہے؟ شاید ساری نصیحت اولاد کے لیے ہوتی ہیں۔ اس نے خود کو جواب دے کر چپ کروا دیا۔
”جن عورتوں کے شوہر خود گھر پر نہیں رہتے اس گھر کے نوکر گھر کی عورتوں پر غلط نگاہ رکھ لیتے ہیں اور یہ بات اسے بھی سوچنی چاہیے۔“
وہ ناراضگی سے انہیں دیکھ کر رہ گئی تھی۔
حبیب بیگم خاموشی سے کچھ سوچنے لگیں۔ انہوں نے بات کو بدلا۔
”قصور اس کا بھی نہیں ہے۔ اب تم شادی کے 10 سال بعد بھی کنواری لگتی ہو تو یہ تمہاری قسمت ہے۔ صحت بناؤ خوش رہا کرو کچھ عمر کی لگو گی تو دوسروں پر رعب پڑے گا نا!“
وہ سر پکڑ کر رہ گئی۔ ہر بات میں وہی غلط ہے، ساری کمیاں اس میں ہیں۔۔ بس ذاکر کی کوئی غلطی انہیں نظر نہیں آ سکتی۔ وہ اب مزید کوئی جواب دیے بغیر کار پارکنگ میں لگانے لگی اور مزید کوئی بات کیے بغیر کار سے باہر نکلی۔
حبیبہ بیگم نے دانیہ کا ہاتھ پکڑا اور وہ تینوں پارک کی طرف نکل آئیں۔
آج موسم بہت اچھا تھا۔ ہر طرف سکون سا چھایا تھا۔ وہ اشتیاق سے قدرتی مناظر سے بھرپور راہ گزر سے گزرتی ہوئی وسطی حصے کی جانب چل پڑی تھیں۔ وہ تازہ ہوا میں سکون کا سانس لیتے ہوئے خاموشی سے ایک طرف چلتی رہی۔ حبیبہ بیگم دانیہ کو لے کر پارک کے ایک دائرے کی طرف چلی آئی تھیں اور بینچ پر جا بیٹھیں۔ ان کو بیٹھتا دیکھ کر عروش بھی وہیں آ بیٹھی۔
”آپ تھک گئی ہیں کیا! میں تو دوسری طرف جانے کا سوچ رہی تھی۔“ وہ اب اسے محبت سے دیکھنے لگیں۔
”ٹھیک ہے تم جاؤ۔۔ میں یہاں دانیہ کے پاس ہوں۔“
وہ گہری سانس لے کر کچھ دیر وہیں بیٹھی اپنے اطراف میں دیکھتی رہی۔۔
”چلیں۔۔ ٹھیک ہے میں ذرا آگے سے ٹہل کر آتی ہوں۔“ وہ وہاں سے اٹھ کر چل پڑی۔ ایک پتھریلی سی سڑک سے گزرتے ہوئے وہ باغ کے دوسرے حصے کی جانب چل پڑی۔ گیندے کے کھلے پھولوں نے ہر طرف رونق لگا رکھی تھی اور کچھ خاموشی نے جادواں ماحول بنا رکھا تھا۔
وہ باغ کے ایک حصے سے گزر رہی تھی تو اسے دور سے ایک خوبرو مرد ایزل پر جھکا برش کو حرکت دیتے نظر آیا۔ اس کے قریب ایک گارڈ رائفل پکڑے کھڑا تھا۔ اس کے ارد گرد موجود لوگ اسے دلچسپی سے دیکھ کر گزر رہے تھے۔ اسے بھی دور سے دیکھ کر تجسس ہوا تھا کہ نجانے وہ کیا پینٹ کر رہا ہے۔ اب وہ دور سے اندازہ ہی لگا سکتی تھی مگر وہاں جانا اسے مناسب نہیں لگا۔
وہ مسلسل اندازے لگاتی ہوئی وہاں سے آگے کو بڑھ گئی۔ وہ چلتے چلتے کافی دور نکل آئی۔ اسے وقت کا احساس ہوا تو پھر وہ واپسی کے راستے پر چل پڑی۔
اس کا فون بجنے لگا۔ اس نے فون اٹھایا تو عروہ نے اسے بتایا کہ وہ شام میں ایک جگہ اسے اپنے ساتھ لے جانے والی ہے۔ اس نے ساتھ چلنے کا یقین دلا کر فون بند کر دیا۔
چلتے چلتے وہ پھر سے وہاں سے گزری جہاں ایک خوبرو آرٹسٹ اپنے کام میں منہمک تھا۔ خیالات میں وہ اسی طرف چل پڑی۔ اس نے دل کی مان لی اور اس کی پینٹنگ کو دیکھنے کو وہیں چلی آئی۔ دور سے ہی آتے ہوئے پینٹنگ نے اسے اپنے سحر میں جکڑ لیا۔
وہ جو بھی منظر تھا اس نے عروش کے ہوش اڑا کر رکھ دیے تھے۔ وہ کسی صدمے اور سکتے کی سی کیفیت میں پینٹنگ کو تکتی ہوئی اس کے قریب چلی آئی۔ اس کا اسے بنانے والے کی جانب دھیان نہ گیا تھا بس وہ اتنا دیکھ پائی تھی کہ اس نے گہرے نیلے رنگ کا ماسک لگا رکھا تھا اور رنگوں والی پلیٹ میں رنگ نکال رہا تھا۔
وہ اس پینٹنگ کو مبہوت انداز میں دیکھنے میں مگن تھی۔ ایک حسین عورت ایک باغ میں کھڑی تھی مگر اس کے پورے وجود کو ایک کانٹے دار بیل نے جکڑ رکھا تھا۔ وہ اس حسینہ کا وجود دیکھ کر حیران تھی۔ اسے بنانے والے نے اس کے سراپے کو پینٹ کرتے ہوئے بڑی مہارت دکھائی تھی۔ اس کا لباس اس کا حسن بڑھا رہا تھا اور کانٹے دار بیل یوں اس کے جسم پر لپٹی تھی کہ اس کے حرکت کرنے کی بھی گنجائش نہ تھی۔ اس کے چہرے اور آنکھوں سے حسرت اور اذیت کا اتنا واضح احساس مل رہا تھا کہ وہ بس اس عورت کو ہی تکتی جا رہی تھی۔ غور سے دیکھنے پر اسے مزید حیرانی ہوئی کہ پینٹنگ میں بنی عورت کی صورت اس سے مل رہی تھی۔
مصور نے اپنے ہاتھ میں پکڑی رنگوں والی پلیٹ سے نظر اٹھا کر اس کی جانب رخ کیا۔ وہ لمحے بھر کو وہیں جم گیا۔
اس کی نظریں اپنے سامنے کھڑی جیتی جاگتی حسین دوشیزہ پر ٹک گئیں۔ اس نے سیاہ گاؤں پہن رکھا تھا جو آگے سے کھلا ہوا تھا۔ اس کے آگے کے کھلے ہوئے کناروں پر مختلف رنگوں کی کڑھائی سے بیلوں کی پٹیاں بنی ہوئی تھیں جو ہوا سے لہرا رہی تھیں اور اس نے اس سے ملتا ہوا سر پر سیاہ دوپٹہ لے رکھا تھا۔
وہ چہرہ اتنا حسین تھا کہ وہ رک کر اسے تکنے پر مجبور تھا۔ اس دوشیزہ کی آنکھوں میں بلا کا کرب تھا۔ اس کی آنکھوں میں پھیلی اذیت کو دیکھ کر وہ حیران تھا۔ وہ دو قدم چل کر آگے آیا اور یہ فیصلہ کرنے لگا کہ اس جیتی جاگتی لڑکی کی آنکھوں سے زیادہ درد عیاں ہے یا اس کے بنائے تصور کی آنکھیں زیادہ اذیت کا تاثر دے رہی ہیں۔ وہ وہیں کھڑا اسے تکتا رہا۔ وہ چہرہ اس کے لیے حیرانی در حیرانی کا باعث تھا۔ ابھی وہ یہ فیصلہ کر پاتا کہ عروش اس کی توجہ کا احساس پا کر حرکت میں آئی اور اسے اپنی جانب تکتا پا کر گھبراتے ہوئے اس سے دور ہوئی۔ اس کی آنکھوں نے اس نوجوان کا چہرہ دیکھنا چاہا جسے ماسک نے چھپا رکھا تھا۔ اس کی گھورتی آنکھوں نے اسے اندر تک ہلا کر رکھ دیا تھا۔
اس کی ساحرانہ سبز سی پراسرار آنکھوں کو دیکھ کر اس کے دل کو کچھ ہوا ضرور تھا کہ وہ جلدی سے وہاں سے آگے کو بڑھ گئی۔ اسے وہاں سے جاتے ہوئے احساس ہوا جیسے اس کا پورا وجود کسی کی نگاہوں کے حصار میں ہو۔
وہ کسی سحر کے عالم میں وہاں سے چلتی ہوئی اس پتلی سی راہ گزر پر آئی تھی۔ اس کے دماغ کی اسکرین پر بس وہی تصویر جمی تھی۔ وہ بڑے بڑے کانٹوں سے جکڑی اس لڑکی کا وجود بھلا نہیں پا رہی تھی۔ اسے لگا یہ لڑکی وہی ہے اور وہ اس کی طرح ایک خوبصورت بیل میں لپٹی ہے جس کے بڑے بڑے کانٹے کسی کو نظر نہیں آرہے سب کو اس کا باغ میں ہونا نظر آرہا ہے۔ اس کی آنکھوں سے اس کے اندر کا لہو لہان وجود نظر آرہا تھا۔
اسے دور سے دانیہ کھیلتی نظر آئی تھی اور بینچ پر بیٹھی والدہ بھی۔ وہ زخمی دل کے ساتھ ان کی جانب چلی آرہی تھی۔ اس نے سر جھکا لیا اور ان کے پاس آ بیٹھی۔
وہ خوشی سے کچھ کہہ رہی تھیں مگر وہ دانیہ کو دیکھتے ہوئے کہیں اور کھوئی ہوئی تھی۔
اسے اندرونِ شہر لاہور کی ایک خستہ حال سی عمارت کی بالکونی کی دیوار سے لگی بیٹھی ایک چھوٹی بچی یاد آ گئی۔ کئی کئی گھنٹے اپنی ایک چھوٹی سی ضد کے لیے روتی ہوئی بچی اسے اداس کرنے لگی۔ وہ چند روپوں کی ایک معمولی سی چیز کے لیے روتی رہی تھی مگر اس کی ضد پوری کرنے والا کوئی نہیں تھا۔
اس نے والدہ کی کسی بات پر مسکراتے ہوئے زیادہ ہنس لیا تھا اب اس کی آنکھوں سے پانی نکل آیا۔ کچھ دیر بعد ہی وہ وہاں سے اٹھ گئیں اور دانیہ کو لے کر گھر کو نکل پڑیں۔
عروش نے ڈرائیونگ سیٹ سنبھال لی۔ حبیبہ بیگم کچھ نا کچھ بولتی رہی تھیں۔ وہ جواب میں ہوں ہاں کرتی رہی۔ آدھے راستے سے اسے ایسا لگا کوئی مسلسل اس کی کار کا پیچھا کر رہا ہے۔ وہ بار بار اسے بیک مرر میں دیکھ کر فکرمندی سے کچھ سوچ رہی تھی۔ اس جہاز نما بڑی سی کار کے سیاہ شیشے اس کے ڈرائیور کو دیکھنے نہیں دے رہے تھے۔ اب اس نے راستہ بدلنے کی کوشش کی۔ حبیبہ بیگم کو وہ یہ سب بتانے سے گریز کر رہی تھی کیونکہ وہ اس پر اسے صرف ڈانٹنے والی تھیں کہ ڈرائیور کو نہ نکالتی۔ اب وہ خاموشی سے سب برداشت کر رہی تھی۔ راستہ دوبارہ بدلتے ہی وہ کار اس کی نظروں سے اوجھل ہو گئی۔ وہ گھر کے راستے پر ہوئی تو اسے ایک دوسری سیاہ کار کبھی آگے کبھی پیچھے نظر ضرور آئی مگر اس نے خود کو اطمینان دلایا کہ یہ وہ کار نہیں تھی۔ اپنے گھر کے صدر دروازے سے کار اندر لے جاتے وقت اسے وہ کار اسی گلی میں داخل ہوتی نظر آئی مگر جب وہ کار پارک کر کے باہر آئی تو وہ دوسری سیاہ کار وہاں نہیں تھی۔ اس نے اسے اپنا وہم سمجھ کر سر کو جھٹکا اور اندر کو بڑھ گئی تھی۔
———-
تازہ ہوا میں سانس لیتے ہوئے وہ کار کے شیشے سے باہر دیکھ رہی تھی۔
”ہم آج چائنیز کھائیں گے۔“ عروہ نے فرمائش ظاہر کی۔ وہ چپ چاپ ان کی باتیں سن رہی تھی۔ احمد کے رنگ اڑ رہے تھے۔
”چلو ٹھیک ہے میں تمہیں آج بہت اچھی جگہ سے کھلاتا ہوں۔“ عروہ مطمئن ہو گئی۔
عروش نے ایک نظر احمد کو دیکھا تھا۔ اسے تعجب ہوا کہ اندر سے مر رہا ہے مگر اوپر سے ہنس رہا ہے۔
”یہ کار آپ دونوں میں سے کس کی ہے؟“ عروش نے سوال کیا کیا تھا وہ دونوں لڑکے ایک دوسرے کو دیکھنے لگے کہ دونوں میں سے کون دستبردار ہوگا۔ وہ کوئی جواب نہ دے پائے۔ ان کی طرف سے یک دم اتنی خاموشی پا کر وہ عروہ کو دیکھ کر رہ گئی تھی۔ عروہ نے پھر سے سوال کیا اب دانش بولا تھا۔
”یہ میری کار ہے۔“ احمد نے اپنے ساتھ کی سیٹ پر بیٹھے نوجوان کو دیکھا تھا۔ عروش اپنے ساتھ بیٹھی عروہ کو دیکھ کر سہولت سے مسکرائی تھی جس پر وہ کندھے اچکا کر رہ گئی۔
وہ مختلف باتیں کرتے ہوئے عروش کو محظوظ کرنے کی کوشش کر رہے تھے۔ ”اپنی شاعرہ دوست سے کہو وہ بھی کچھ بولے۔“ احمد نے دلچسپی سے اسے دیکھتے ہوئے کہا تھا۔ وہ ان کے درمیان بہت بے دلی سے بیٹھی ہوئی تھی مگر اب وہ وہاں سے نکل کر نہیں جا سکتی تھی.
دانش خاموشی سے ایک نظر اسے دیکھ کر سامنے دیکھنے لگتا تھا۔ عروہ احمد سے باتیں کرنے لگی تھی۔
اس کا ذہین آج پارک میں دیکھی اس پینٹنگ میں کہیں اٹکا ہوا تھا۔ وہ اداسی سے باہر کے مناظر کو دیکھ کر سوچ رہی تھی کہ وہ بڑے بڑے خوبصورت کانٹوں والی بیل میں لپٹی ہوئی وہی لڑکی ہے اور اس کے شکنجے سے نکلنے کا کوئی راستہ نہیں ہے۔ وہ مجبور و محصور عورت اپنے ارد گرد کے خوبصورت مناظر کو صرف دیکھ سکتی ہے ان سے لطف اندوز ہونا اس کے نصیب میں نہیں ہے۔ پھر اسے اس پینٹنگ کا مصور یاد آ گیا۔ اس کا چہرہ ماسک سے چھپا تھا مگر اس کی آنکھیں بہت پراسرار تھیں۔ وہ اس کی آنکھوں کو یاد کر کے سب بھول گئی۔ اپنے ارد گرد کو بھول کر وہ کسی سوچ میں ڈوب گئی۔ بعض اوقات غیر معمولی حسن قریب آتے ہی ہمیں خوفزدہ کر دیتا ہے۔ وہ اس کی خوبصورت آنکھیں دیکھ کر گھبرا گئی تھی۔ اس کے خوبصورت سلکی بال تھے اور اسے دیکھ کر ایسا لگتا تھا انسانی صورت کے ایک خوبصورت موم کے گڈے کو ماسک پہنا دیا گیا ہو۔ اس کا رنگ بہت گورا تھا۔ اس کے دل کو کچھ عجیب محسوس ہوا تھا۔ کسی نہ کسی خیال میں وہ الجھی رہی اور وہ مطلوبہ ہوٹل پہنچ گئے۔
وہ جیسا خیال کر رہی تھی یہ اس سے بھی نچلے درجے کا ہوٹل تھا۔ وہ حیرانی سے اندر داخل ہوئی۔ اسے ایسی جگہوں پر آنے کی عادت نہیں تھی۔ وہ چپ چاپ اپنے ارد گرد دیکھتی رہی اور ان کے ساتھ اندر آ بیٹھی۔ اس کے سامنے دانش بیٹھ گیا۔ وہ اس سے انجان بنی اپنی ارد گرد ہی دیکھتی رہی۔ عروہ احمد سے باتوں میں مصروف تھی۔ احمد نے خود ہی کھانا آرڈر کر دیا۔ اسے بہت بھوک لگ رہی تھی۔ وہ اپنے خیالات میں کھوئی رہی جبکہ دانش اس سے باتیں کرنے کی کوشش کرتا رہا۔ کچھ دیر میں کھانا آ چکا تھا۔ کھانا مزیدار نہیں تھا مگر اسے بھوک نے چپ چاپ کھانے پر مجبور کر دیا۔ وہ چپ چاپ کھاتے ہوئے ان کی باتوں سے محظوظ ہوتی رہی۔ ان کا مذاق بھی ساتھ ساتھ چل رہا تھا۔ وہ دونوں دانش کو چھیڑ رہے تھے کہ آج اس کی بھی بولتی بند ہو گئی۔ وہ چپ چاپ کھانا کھاتے ہوئے اسے دیکھ رہا تھا۔ عروش اسے نظر انداز کرتے ہوئے کھانے میں مگن رہی۔ آخر میں دانش نے بات کرنے کا بہانہ تلاش کر لیا۔ ”کھانا کیسا لگا آپ کو؟“
وہ کچھ سوچتے ہوئی مسکرائی۔
”ٹھیک ہے۔۔ بھوک میں تو کچھ بھی کھانا پڑتا ہے۔ کیا مزہ اور کیا بے مزہ۔“
اس کی بات نے باقی تینوں کو شرمندہ سا کر دیا تھا مگر تینوں کا محسوس کرنے کا انداز الگ تھا۔ عروہ اعتراف کرتے ہوئے سر ہلا کر رہ گئی۔ احمد شرمندگی سے گال سکیڑتے ہوئے بولا۔ ”ہممم۔۔ آج کچھ خاص ذائقہ نہیں تھا۔“ دانش کسی گہری سوچ میں شرمندگی بھول کر اب ایک طرف دیکھ رہا تھا۔ وہ اپنے پرس سے موبائل نکال کر مصروف ہو گئی۔
”آپ اپنا نمبر دیں گی۔“ دانش نے پوچھا۔
وہ مسکرا کر اٹھ گئی۔ ”مجھ سے بات کر کے آپ کو بور ہونا پڑے گا۔“ وہ مسکرا دیا۔
”آج تو آپ کی موجودگی میں میں بھی زیادہ بول نہ پایا۔“ وہ کھلکھلا کر مسکرائی۔ ”مگرمیں نے آپ کو خاموش رہنے کے لیے نہیں کہا تھا۔“ عروہ بھی بولی تھی۔
”یہ تو بڑا سنجیدہ ہو رہا ہے آج تو۔۔“
اس نے چھیڑا تھا۔ ”کچھ لوگوں کی موجودگی ایسی ہوتی ہے، خاموشی سے کچھ سوچنے کا موقع مل جاتا ہے۔“
احمد بھی اسے دیکھ کر کچھ سوچ رہا تھا۔ وہ سب وہاں سے اٹھ کھڑے ہوئے۔ عروہ نے واپسی کے راستے پر نکلتے ہی آئس کریم کی فرمائش کی تھی مگر وہ دیر ہونے کا بہانہ کر کے انہیں گھر اتار گئے۔ ان کے گھر آتے ہی عروش نے عروہ کو ناراضگی سے دیکھا۔
”اس سے زیادہ غریب دوست نہیں ملے تھے کیا؟“ عروہ شرمندہ ہو رہی تھی۔ ”اب مہنگائی ہی اتنی ہو گئی ہے۔ ویسے وہ ایسے نہیں تھے۔“
عروش افسوس سے سر جھکا کر رہ گئی۔ ”مجھے پتہ ہوتا کہ یہ ایسے کریں گے تو میں ہی سب کو کھانا کھلا دیتی۔ کم از کم ہم کسی اچھی سی جگہ پر بیٹھ کر اسے بہتر کھانا کھاتے۔“ اس کی بات نے عروہ کو شرمندہ کر دیا۔
”یار میں تو دانش سے تمہاری دوستی کروانے لے کر گئی تھی۔“ عروش افسوس سے بولی۔
”سوری یار۔۔ پر تمہیں پتہ ہے مجھے بہت اچھا خرچنے والے مرد کی عادت ہے۔ ذاکر بغیر سوچے سمجھے مجھ پر اتنا پیسہ لٹاتا ہے۔۔ کبھی ایسی جگہ پر جانے کی عادت نہیں مجھے۔۔ ذاکر نے میری عادتیں بگاڑ رکھی ہیں۔ میں اس سے حیثیت میں کم مرد کے ساتھ چل ہی نہیں سکتی۔ذاکر میری بات مان کر یہیں رہنے لگتا تو مجھے یوں کہیں اور دل نہ لگانا پڑتا۔“
وہ افسوس سے سر جھکا کر رہ گئی۔ ”میں تمہیں کسی اور اچھے دوست سے ملواؤں گی۔ پھر تم اس کے ساتھ دل لگا سکتی ہو۔“ وہ ناراضگی سے اسے دیکھنے لگی۔
”ایسا لگتا ہے دنیا میں میرے مطلب کا کوئی مرد نہیں آیا۔ تم کہہ رہی تھی دانش میرے ٹائپ کا ہے۔ مگر وہ میری امارت دیکھ کر پریشان تھا۔ وہ میرے ساتھ دوستی پر پورا نہ اتر سکے گا۔“
عروہ نے بشاش ہو کر کہا۔ ”تمہیں نا امید ہونے کی ضرورت نہیں۔ ہم تلاش جاری رکھیں گے اور کوئی تمہارے مطلب کا مل ہی جائے گا۔“ وہ نا امیدی سے اسے دیکھ کر رہ گئی۔ ”میں جیسے دوست کی تلاش میں ہوں وہ اس دور میں ملنا ممکن نہیں۔ مخلص جذبے ختم ہو چکے ہیں۔
ذرا سوچو جس دور میں میاں بیوی کو ایک دوسرے کے ہوتے ہوئے تنہا جینا پڑ رہا ہے تو اس دور میں خلوص کیا عالم ہو گا۔ اس دفعہ تو ذاکر کے پاس بھی دینے کو وقت نہیں۔ وہ کل بھی نہیں آ رہا، کہہ رہا تھا پرسوں آئے گا اور پھر ایک دن رک کر چلا جائے گا۔ اس کے بعد میں اسے چھ ماہ کے لیے بالکل بھول جاؤں۔“ وہ مایوس لگ رہی تھی۔ عروہ اسے ہمدردی سے دیکھ کر رہ گئی۔
”تمھیں اس کو احساس دلانا چاہیے۔“
”بہت دفعہ احساس دلانے کی کوشش کی ہے مگر مجھے تو اب لگتا ہے اس کے سر میں دماغ کی جگہ مشین فٹ ہے۔۔ پھر میں ہمیشہ سے جانتی تھی وہ مجھ سے محبت نہیں کرتا۔۔ ہماری کون سی محبت کی شادی ہوئی تھی کہ میں اس سے کوئی گلہ کروں۔ ہم دونوں ہی یہ شادی بڑوں کی خوشی کے لیے چلا رہے ہیں۔ ذاکر اپنی زندگی میں خوش اور مست ہے میں ہی تنہا اور بے چین جی رہی ہوں۔ مرد کو تو ویسے بھی چھپا کر دوسری شادی کی چوائس مل جاتی ہے۔ عورت کو ہی ساری پابندیوں اور مشکلات کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ عروہ فکر مندی سے بول پڑی۔
”وہ آسٹریلیا سے آ کر دبئی اپنے والدین کے پاس نکل گیا ہے اور تمہیں ساتھ بھی نہیں لے کر گیا۔۔ پھر اب کہہ رہا ہے کہ دو دن کے لیے آ کر واپس چلا جائے گا۔۔ مانو نہ مانو وہ اپنی لائف بہت مستی میں گزار رہا ہے، اسے تمہاری ضرورت نہیں۔ اس نے تو صرف تمہیں اپنے چھوٹے بچوں کی نگرانی اور پرورش کے لیے رکھا ہوا ہے۔۔ یا تو وہ وہاں دوسری شادی کر چکا ہے یا اس کے بغیر ہی عیاشی کی زندگی بسر کر رہا ہے۔ اسے تمہارا کیوں خیال آئے گا۔“ وہ اداسی سے سر جھکا کر رہ گئی۔
”اگر ایسا ہے تو بھی میں اس کا کیا بگاڑ لوں گی! میرے پاپا بھی نہیں رہے، ماں اور بھائی تو ہمیشہ سے چاہتے ہیں کہ کوئی بیٹی انہیں اپنے مسائل سنا کر تنگ نہ کرے۔ ان کے دلوں اور زندگیوں میں کسی بہن بیٹی کے لیے کوئی گنجائش نہیں۔۔ ذاکر کے بعد مجھے خود ہی طرح طرح کے مردوں سے کسی نہ کسی کام کے سلسلے میں سامنا رہتا ہے۔۔ایک وقت تھا مجھے مردوں سے کتنی نفرت تھی اب دل میں حسرت ہوتی ہے کہ میرا بھی ایک محبت کرنے والا شوہر ہوتا جس کے ہوتے ہوئے میری ساری فکریں ختم ہو جاتیں۔“ وہ لمحے بھر کو اداسی سے سر جھکا کر رہ گئی۔
”لڑکیوں کی شادی ہی اس عمر میں ہوتی ہے جس عمر میں مجھے مسلط کی ہوئی شادی والے شوہر اور دو بچوں کی ذمےداری کی فکروں نے کھا لیا ہے۔ اس وقت لڑکیاں اپنی پسند کی شادی کے جوڑے منتخب کرتی ہیں اور میں شوہر سے لے کر شادی کے جوڑے میں اپنی پسند تک محروم رہ گئی۔ دوسروں کی شادی اور محبت کرنے والے جوڑے دیکھ کر اندر ہی اندر میرا دل روتا ہے۔۔ میرا کوئی غم کبھی ختم نہیں ہو سکتا۔“ وہ آج اس پینٹنگ کو دیکھ کر نہ چاہتے ہوئے بھی اپنے اندر کے گہرے زخم کھول بیٹھی تھی۔
یہ وہ زخم تھے جو کبھی بھر نہیں سکتے تھے۔ صرف ایک پیسہ تھا جو اسے سنبھالے ہوئے تھا۔ جب دل کی اذیت بڑھ جاتی تو وہ بلاوجہ پیسے اڑا کر دل کو خوش کرتی کہ کم از کم اس کے پاس کچھ تو وافر مقدار میں ہے۔
”تم اب یہ سوچنا چھوڑ دو۔ جو بدل نہیں سکتی اسے بھول جاؤ۔ جو ممکن ہے اس کا سکون اٹھاؤ۔ ذاکر اپنی زندگی مزے میں گزار رہا ہے۔ تم بھی اچھے دوست بناؤ اور دل لگاؤ۔“
وہ سر کو جھٹک کر رہ گئی۔ ”میری فطرت میں وفاداری کی بیماری گھسی ہے میں کوشش کرتی ہوں مگر ایسا نہیں کر پاتی اور جب مشکل سے خود کو مناتی ہی ہوں تو مردوں کی ایسی حرکتیں مجھے ان سے دور کر دیتی ہیں۔
سچ بتاؤں مجھے دوستی نہیں کرنی۔ مجھے تو کسی کی سچی محبت چاہیے۔۔ بے پناہ محبت۔۔ جو مجھے کبھی نہ مل سکی اور ہمیشہ سے مجھے یہی امید رہی کہ ذاکر سے مل جائے گی یا میرے دل سے اس کی طلب مٹ جائے گی مگر دیکھو شادی کے 10 سال بعد یہ مٹنے کی بجائے شدید ہوتی چلی جا رہی ہے۔ ذاکر چاہتا ہے میں اس سے صرف پیسہ لوں اور ساری خواہشات اور ضرورتیں اسی سے پوری کروں۔ بتاؤ کیا انتہائی خالص محبت پیسے سے خریدی جا سکتی ہے؟“
عروہ نفی میں سر ہلا کر رہ گئی. ”کبھی نہیں“
عروش پھر سے کہنے لگی۔”خاص طور پر کسی غریب مرد سے تو اس بات کی امید بھی نہیں کرنا۔ وہ عورت سے ہر طرح کا فائدہ اٹھاتے ہیں اور پیچھے سے بیٹھ کر اس پر ہنستے ہیں۔“
عروہ اس بات پر اس کی حمایت میں بولی۔ ”اگر جیب میں لاکھوں روپیہ بھی ہو تو مرد پر خرچ کر کے اسے بگاڑنا نہیں چاہیے۔ ویسے بھی مرد ہی عورتوں پر خرچتے ہوئے اچھے لگتے ہیں۔ تم فکر نہ کرو دیکھنا تمہیں جلدی تمہاری حسرت میں مٹانے والا مرد مل جائے گا۔“
عروش یوں ہنسی تھی جیسے کوئی بہت ناممکن سی بات کہہ دی گئی ہو۔
”دیکھو میری جان تم بہت حسین ہو شادی کے اتنے سالوں نے تمہیں بدلہ ضرور ہے مگر ایسے جیسے ہر گزرتے سال کے ساتھ تمہاری عمر پیچھے کو جاتی نظر آتی ہے۔ کوئی تمہیں دیکھ کر نہیں مان سکتا کہ تمہاری شادی ہوئی ہوگی۔ دیکھنا ایک دن تمہاری توقع سے بڑھ کر کوئی مل جائے گا۔“ وہ عروہ کو بے یقینی سے دیکھ کر خاموشی سے کچھ سوچنے لگی اس کی آنکھیں بتا رہی تھیں کہ اب وہ مایوسی کی سوچوں سے لڑ رہی ہے۔ وہ مزید اسے سمجھانے کی جرأت نہ کر پائی۔
———-
بدھ کا دن تھا۔ وہ پر امید تھی کہ ذاکر آ رہا ہے تو کچھ اچھا وقت گزر جائے گا مگر وہ آتے ہی اپنے کمرے میں سونے چلا گیا۔ اس نے سختی سے منع کیا کہ میرے کمرے میں کوئی ڈسٹرب کرنے نہ آئے۔ وہ اس امید سے اس کے کمرے میں داخل ہوئی کہ کوئی میں وہ شامل نہیں ہے۔ وہ اسے کیوں کچھ کہے گا۔
جب وہ کمرے میں داخل ہوئی تو وہ بیڈ پر لیٹا موبائل استعمال کر رہا تھا۔ اس کی آنکھوں میں نیند نہیں تھی۔ وہ اسے وہیں آتا دیکھ کر شرمندگی سے کہنے لگا۔
”وہ۔۔ بس میں سونے ہی لگا تھا۔ امی کا فون آیا تھا تو بس میں ان کو خیریت بتا رہا تھا۔“
وہ پھیکی مسکراہٹ کے ساتھ سر جھٹک کر رہ گئی اور کسی امید سے وہیں آ بیٹھی۔ ذاکر نے کمبل کندھوں تک لیا اور آنکھیں موند لیں۔ اس کے وہاں موجود رہنے پر آخر اس نے آنکھیں کھول کر دیکھا اور بےچینی سے پوچھنے لگا۔
”کیا ہوا کوئی پریشانی ہے؟“
وہ شرمندگی سے سر نفی میں ہلا کر رہ گئی. ”نہیں تو۔۔“
”تو پھر مجھے سونے دو۔ اپنا کوئی کام کر لو میں دو گھنٹے میں اٹھ جاؤں گا تو بات کریں گے۔“
وہ اپنا سا منہ لیے وہاں سے اٹھ گئی۔ اب اس کا دل اندر ہی اندر جل رہا تھا۔ وہ مسلسل کڑھ رہی تھی مگر ملازمہ کے ساتھ مل کر کچن میں کھانا بناتی رہی۔ کھانا بن گیا تو اس نے گھڑی دیکھی۔ دو گھنٹے ہو چکے تھے اس نے سوچا وہ خود ہی اٹھ کر کمرے سے باہر آئے گا۔ وہ عروہ سے فون پر باتیں کرنے لگی۔ دوپہر کے ڈیڑھ بجے تک وہ یونہی اس کے جاگنے کے انتظار میں خود کو مصروف کرتی رہی اور اپنے غصے اور بے چینی پر قابو پاتی رہی۔
وہ نماز پڑھ کر جائے نماز سے اٹھی تو وہ جاگ چکا تھا۔ اسے وہ ٹی وی لاؤنج میں اپنے بچوں سے باتوں میں مصروف نظر آیا۔ وہ وہاں سے خاموشی سے گزر گئی کہ وہ اسے خود ہی مخاطب کرے گا مگر ذاکر نے اسے دیکھ کر کتراتے ہوئے خود کو بچوں سے باتوں میں مصروف رکھا۔ وہ کچن میں کھانے کی تیاری دیکھنے آئی تھی۔ سب تیار تھا۔ وہ ملازمہ کو انہیں لگانے کا کہہ کر کچن سے باہر آئی۔
ذاکر اسے دیکھ کر اخلاق سے پوچھنے لگا۔ ”کھانا تیار ہے؟“ وہ اندر ہی اندر کڑھتے ہوئے سادگی سے بولی۔ ”جی تیار ہے اور میز پر لگنے والا ہے۔“ وہ کچھ سوچ کر کہنے لگا۔ ”چلیں پھر پہلے کھا ہی لیتے ہیں۔۔ ویسے مجھے کام سے جانا تھا۔“ اب وہ مزید اندر ہی اندر تپ کر رہ گئی مگر صبر کرتے ہوئے پرسکون نظر آنے کی کوشش کرتی رہی۔
”میں نے اپنے ہاتھوں سے سب آپ کی پسند کا بنایا ہے۔“ وہ اس کا دھیان کھانے کی طرف دلوا رہی تھی۔ ذاکر غیر دلچسپی سے سر ہلا کر رہ گیا۔ وہ اس کا چہرہ دیکھتی رہ گئی۔ کہیں کوئی محبت کا تاثر نہیں تھا، نا ہی وہاں کوئی دلچسپی یا اشتیاق تھا، بس اس کا ذہن اپنے ہی کسی رجحان میں تھا۔ اس کا دل چاہا اس کا قیمتی لباس پھاڑ ڈالے اور اسے اتنا مارے کہ اس کا جسم لال ہو جائے۔ وہ چپ چاپ وہاں سے گزر گئی اور بچوں کو آواز دیتی ہوئی ڈرائنگ ٹیبل کے قریب چلی آئی۔ اسے ڈر تھا کہ اگر وہاں مزید کچھ دیر رک گئی تو کچھ ایسا ویسا بول دے گی کہ ماحول میں بدمزگی پیدا ہو جائے گی۔ وہ اپنی مخصوص کرسی پر آ بیٹھی۔ ملازمہ کھانا لگا رہی تھی اور وہ چپ چاپ میز کو دیکھ رہی تھی۔ باری باری بچے اور پھر ذاکر وہاں چلے آئے۔ کھانے کا دور چلا تو ذاکر نے یہ دیکھے بغیر کہ کیا کیا بنایا گیا ہے، دو ڈشز پلیٹ میں ڈالیں اور چپ چاپ کھانا کھاتا رہا۔ وہ اسے اس امید سے بار بار دیکھتی رہی کہ وہ تعریف کرے گا یا ھر کوئی تبصرہ کرے گا مگر وہ خاموشی سے کھانا کھاتا رہا۔ وہ دل ہی دل میں خود سے لڑتی رہی اور اداسی سے کھانا کھاتی رہی۔ کھانا کھانے کے بعد وہ وہاں سے اٹھے تو وہ اس کے پیچھے پیچھے کمرے تک آئی۔ وہ جلدی میں تھا تو تیار ہو کر باہر نکل گیا۔ وہ کڑھتی ہوئی اسے جاتے ہوئے دیکھتے رہنے کے بعد چپ چاپ سونے کے لیے لیٹ گئی۔
شام میں وہ اکیلے چائے پیتے ہوئے سوچتی رہی کہ اس نے سوچا تھا ذاکر کے آنے کے بعد شام کی چائے اس کے ساتھ پینے کو ملے گی۔ اس کا دل اندر ہی اندر رو رہا تھا اس نے ہر دفعہ چاہا ان کے درمیان محبت کا معاملہ ہو جائے اور اسے شیطانی خیالات سے نجات مل جائے۔ اس دفعہ تو وہ کوئی کسر نہیں چھوڑنا چاہتی تھی۔ اس کا دل شدت سے چاہا تھا وہ اس کی طرف توجہ دے اور وہ دونوں ساتھ میں اچھا وقت گزاریں۔ نجانے ذاکر کا ذہن کہاں تھا۔
وہ آسمان میں اڑتے پرندے دیکھ کر کچھ سوچتی چلی گئی۔ مغرب کی آذان ہوتے ہی وہ نماز کے لیے اٹھی تھی۔ نماز پڑھتے ہوئے وہ امید کر رہی تھی کہ وہ آنے والا ہوگا۔ وہ جائے نماز سے اٹھی اور کمرے سے باہر نکلی تو اسے ذاکر کی بچوں سے باتیں کرنے کی آوازیں سنائی دیں۔ وہ بھی وہیں چلی آئی۔ وہ ہانیہ اور دانیہ سے باتوں میں مصروف تھا۔ وہ ان کے درمیان نہیں بولی بس چپ چاپ بیٹھی ان کی باتیں سنتی رہی اور بہانے سے وہاں موجود رہی۔ اسے امید تھی کہ وہ اسے بھی اپنی باتوں میں شامل کرے گا مگر ایسا نہیں ہوا۔ وہ نا امید ہو کر وہاں سے اٹھی اور اپنے کمرے میں چلی آئی۔ وہ ایک کتاب پڑھنے میں مشغول تھی جب وہ اس کے کمرے میں داخل ہوا۔ بظاہر وہ کتاب پڑھنے میں مگن تھی مگر اس کے دل میں غصہ اور ناراضگی بھری ہوئی تھی۔ اتنے دنوں بعد آ کر بھی اسے سب کی پرواہ تھی سوائے اس کے۔
وہ اس کے ساتھ مخاطب ہوا۔ ”دو گھنٹے بعد میری آسٹریلیا کی فلائٹ ہے۔“ وہ چونک کر اسے دیکھنے پر مجبور ہو گئی۔ اس کی آنکھوں میں حیرانی تھی۔ اسے شدید قسم کا جھٹکا لگا تھا۔
اسے امید تھی کہ وہ دو راتیں رک کر جائے گا مگر اس کا اچانک یہ بتانا اس کے لیے صدمے کا باعث تھا۔ اس وقت اس کا جی چاہا تھا سامنے بیٹھے شخص کو بزوکے سے اڑا دے۔ پھر اس کا جی چاہا اپنے ہی دل کو گولی سے اڑا لے جو نجانے کیا امیدیں لگائے بیٹھا تھا۔ اس نے اپنے جذبات پر قابو پایا۔
”آپ نے آج کا تو مجھے نہیں بتایا تھا۔“ اس نے بالآخر تعجب کا اظہار کر ڈالا۔ وہ جانتا تھا اس سے یہ سوال کیا جائے گا۔ وہ چور نگاہوں سے دیکھ کر کبھی نیچے اور کبھی ایک طرف دیکھتے ہوئے اسے جواب دینے لگا۔
”دراصل۔۔ میں نے پہلے اس لیے نہیں بتایا کہ آپ ناراض ہو رہی تھیں۔ میں نے سوچا خود جا کر بتا دوں گا۔“
وہ یہ سن کر اسے سخت ناراضگی کے عالم میں دیکھ کر رہ گئی۔ ”تو پھر دو دن پہلے دبئی سے لوٹ آنا تھا۔ اب چند گھنٹوں کے لیے یہاں آنے کی کیا ضرورت تھی..! وہیں سے نکل جاتے.“ اب وہ رو دینے والی تھی. وہ اس کے جذبات سمجھنے کی بجائے تلخی سے بولا.
”میں نے دو دن پہلے بھی یہاں آ کر کیا کرنا تھا۔ بچوں سے ملنا تھا وہ مل لیا۔۔ ابھی دبئی جانے سے پہلے میں تین ہفتے یہاں رہا تھا۔۔ آپ اور بچوں کو گھمایا بھی تھا۔۔ اب ماما وہاں بیمار تھیں تو ان کے لیے وہاں رکنا پڑا۔“ وہ کسی صدمے کی کیفیت میں اس کی باتیں سن رہی تھی۔ اس کا چہرہ لال ہو رہا تھا جسے وہ دیکھ چکا تھا۔
وہ ان تین ہفتوں میں بھی منتظر ہی رہی تھی کہ وہ کب صرف اور صرف اسے وقت دے گا۔۔ جیسے وہ چاہ رہی تھی وہ اسے اور اس کے احساسات کو سمجھے گا مگر وہ اپنے حساب سے چل رہا تھا۔
اس نے سوچا تھا اس کے آسٹریلیا واپس جانے سے پہلے وہ اس کے ساتھ اچھا وقت گزار پائے گی۔ اب اس کو آج ہی آ کر جاتے ہوئے دیکھ کر اس کا موڈ بہت خراب ہو گیا۔
”آپ دو دن وہاں رک سکتے تھے تو دو دن یہاں بھی رک کر جا سکتے ہیں۔“ وہ ناراضگی سے گلہ کرتی رہ گئی۔
”آپ اپنی دوستوں کے ساتھ انجوائے کرتی تو رہیں۔۔ میں نے سوچا میرے ہونے نہ ہونے سے آپ کو فرق نہیں پڑے گا۔“ اس نے اپنے بچاؤ کی آخری کوشش کی تھی۔ وہ اب اٹھ کر اس کے پاس آ بیٹھا۔ وہ غصے اور ناراضگی سے اسے دیکھ کر اٹھنے لگی کہ اس نے بازو سے پکڑ کر اسے روک لیا۔
”میں اپنی دوستوں کے ساتھ اس لیے مصروف رہی تاکہ آپ کے انتظار میں مجھے اکتاہٹ نہ ہو اور میں جانتی ہوں یہ آپ کا بہانہ تھا۔“ وہ اپنا بازو چھڑا کر وہاں سے اٹھی تھی اور بیڈ پر آ بیٹھی۔ اب وہ اسے اتنا ناراض ہوتا دیکھ کر پریشانی اور تلخی سے وہاں سے اٹھا تھا۔
وہ اپنا منہ دوسری جانب کیے کچھ سوچتی چلی گئی۔ وہ دوبارہ اس کے پاس آ کر بیٹھا تھا۔ نجانے وہ کیا بول رہا تھا وہ اپنے دھیان میں کچھ سوچ رہی تھی۔ اسے دماغ نے سمجھانا شروع کر دیا کہ وہ اتنے سالوں سے اس رشتے میں ہیں مگر وہ ایک دوسرے کے لیے نہیں ہیں۔ ان دونوں کی سوچ اور عادات میں بہت فرق ہے۔ وہ اس کے ساتھ خوش رہ ہی نہیں سکتی۔۔ صرف پیسہ ہی یہ رشتہ چلا رہا ہے تو پھر وہ اس سے زیادہ کی امیدیں لگایا ہی نہ کرے اور نہ ہی اسے اذیت ہو۔ ویسے بھی وہ دو دن بعد بھی تو چلا ہی جاتا پھر اس کا یہ گلہ بھی فضول ہے۔
مگر اب دل اپنی ضد پر تھا اور کچھ اس کے جذبات اسے پریشان کیے ہوئے تھے۔ اس نے عروش کا ہاتھ پکڑ کر اسے مخاطب کیا۔ ”تمہارے اکاؤنٹ میں میں نے اور پیسے ٹرانسفر کر دیے ہیں۔۔ تمھیں جو پسند ہوں لے لینا اور دوستوں کے ساتھ خوب عیاشی کرو۔۔ میں نے تمہیں کبھی کسی بات سے روکا تو نہیں ہے۔“ وہ اسے اخلاق سے سمجھا رہا تھا۔ اسے اس پر مزید غصہ آ گیا۔
”پیسے سے ہر آرام نہیں خریدا جا سکتا۔“ وہ تحمل سے بولی تھی۔ وہ چاہتی تھی ذاکر اس سے پوچھے کہ اسے کیسا آرام چاہیے مگر وہ بات کو نظر انداز کر گیا۔
”میرے خیال سے تو ہر آرام خریدا جا سکتا ہے اور ویسے بھی ہم اکٹھے کہاں خوش رہ پاتے ہیں۔ اچھا ہے تم دوستوں کے ساتھ انجوائے کیا کرو۔“
وہ اسے کھا جانے والی نگاہوں سے دیکھتی رہ گئی۔
”آپ تو انجوائے کروا نہ سکے اب مشورہ بھی دینے کی ضرورت نہیں ہے۔“ وہ ہاتھ چھڑوا کر اس سے دور ہوئی تھی۔ وہ چپ چاپ اسے دیکھ کر وہاں سے اٹھا تھا اور اپنی پیکنگ کرنے لگا۔ اسے لگا تھا وہ مزید وہاں رکی تو توڑ پھوڑ شروع کر دے گی۔ اس نے گھٹن زدہ ماحول سے باہر نکل جانا بہتر سمجھا اور اپنا غصہ ٹھنڈا کرنے کو ٹی وی لاؤنج میں چلی آئی۔ وہ جوتوں سمیت ٹی وی کے سامنے پڑے صوفے پر آ لیٹی اور اونچی آواز میوزک سنتے ہوئے کچھ سوچنے لگی۔ کچھ دیر بعد وہ معمول پر آ چکی تو ایک ڈرامہ لگا کر دیکھنے لگی۔
رات کے کھانے کے بعد ان کی دوبارہ ملاقات کمرے میں ہوئی تھی۔ اسے ابھی بھی جیسے کوئی امید تھی کہ اس کے دل کی سنے گا۔ وہ اپنے کمرے کی الماری سے کچھ تلاش کر رہا تھا۔ وہ اس کے کمرے میں چلی آئی اور اسے مصروف دیکھ کر چپ چاپ اس کے بستر پر لیٹ کر اسے کچھ تلاش کرتا ہوا دیکھنے لگی۔ ”فلائٹ آگے کروا دو۔“
اس نے کمرے میں چھایا سکوت توڑا۔ وہ مصروف سا سر اٹھا کر اسے دیکھنے پر مجبور ہوا تھا پھر اطمینان کا سانس لے کر رہ گیا۔ ”یہ تو ممکن نہیں۔“
وہ جل کر رہ گئی۔ ”دو دن مزید دبئی رکنا ممکن تھا اور میرے لیے دو دن یہاں رکنا ممکن نہیں ہے۔“ وہ ضدی بچے کی طرح اس کے پیچھے پڑ گئی۔ اب وہ کسی امید سے اس کی جانب رخ کیے کہنی بیڈ پر ٹکائے ہاتھ میں چہرہ لیے اسے دیکھ رہی تھی۔ وہ بالکل چھوٹی بچی لگ رہی تھی جس کے پاس بہت ساری خواہشات اور خواب تھے۔
ذاکر نے اسے گھبرا کر دیکھا۔ وہ یک دم بہت ڈسٹرب لگنے لگا تھا مگر بظاہر وہ کپڑے تلاش کر کے رکھتا رہا۔
”فلائیٹ آگے نہیں کر سکتا۔۔ پہلے ہی ایک ہفتہ لیٹ جا رہا ہوں۔ یہ ساری عیاشیاں میری تنخواہ سے ہوتی ہیں۔ میری نوکری چلی جائے گی تو پھر میں تمھیں گھر بیٹھا بھی اچھا نہیں لگوں گا۔“
وہ اسے ٹوٹتے دل کے ساتھ دیکھتی رہ گئی۔
”دو دن نہیں تو کل تک رک جاؤ۔“ وہ آخری آس میں بولی تھی۔ ذاکر اپنے کچھ کپڑے نکال کر دیکھ رہا تھا۔
”اس دفعہ تو حالانکہ میں نے دو ماہ بعد آنا تھا، پہلے آ کر جا رہا ہوں تو آپ کو اعتراض ہو رہا ہے۔۔“ وہ سنجیدہ ہو گیا۔ اسے عروش کی باتیں اچھی نہیں لگ رہی تھیں۔
”میں آدھے گھنٹے تک ایئرپورٹ نکل جاؤں گا۔ بچوں کو مت بتانا۔۔ انہیں جا کر سلا دو پھر میں جاتے ہوئے پرسکون رہوں گا۔“ اسے یہ سن کر تکلیف ہوئی تھی۔
وہ کوئی جواب دیے بغیر وہیں لیٹی چھت کو گھورتی رہی۔ کچھ دیر یونہی گزر گئی۔ وہ وہاں سے اٹھ کر جانے کا سوچ ہی رہی تھی مگر شاید کچھ کہنا چاہتی تھی۔ ذاکر اپنے بیگ میں سامان ترتیب دے رہا تھا۔ وہ جو کہنا چاہتی تھی اب وہ کہنے کا فائدہ نہیں تھا اس کا دل جلا ہوا تھا۔ بالآخر وہ صاف گوئی سے بولی۔
”جا رہے ہو تو یہ سوچ کر جانا کہ تمہاری بیوی کا کسی سے چکر چل سکتا ہے میں کسی اور مرد سے دوستی کر کے دل لگا لوں گی پھر نہ کہنا۔“ وہ یہ کہہ کر ناراضگی سے اٹھ بیٹھی تھی۔
ذاکر اس کی بات پر یوں مسکرایا تھا جیسے وہ مذاق کر رہی ہو۔ ”کوئی مسئلہ نہیں۔۔ ویسے زیادہ دیر تو تم بھی کسی کے ساتھ نہیں چل سکتی۔ میرے آنے تک تم کہیں نہ کہیں دل لگائے ہی رکھو تو اچھا ہے۔“ وہ بے فکری سے مسکرایا تھا۔ وہ اب مزید تپ گئی ۔وہ سنجیدہ تھی مگر وہ سنجیدہ نہیں لگ رہا تھا۔
”میری بات کو مذاق میں مت لینا۔۔ میں جو کہہ رہی ہوں اس سے زیادہ بھی کر سکتی ہوں۔“ وہ غصے میں آگئی۔ وہ ہمیشہ اسے چھوٹی بچی کی طرح ٹریٹ کرنے کا عادی تھا۔ وہ اس سے بتانا چاہتی تھی کہ وہ اسے چھوٹی بچی سمجھنا چھوڑ دے۔
”شاید آپ کو یہ مذاق میں کہی ایک بات لگ رہی ہو مگر میں سنجیدہ ہوں۔“
”کہا نا آپ اپنے فیصلوں میں آزاد ہو۔۔ اور ساری عمر مجھ سے پوچھ کر تھوڑی زندگی گزارو گی۔۔ جو پسند ہو وہ کرو۔۔ سہیلیوں کے ساتھ پارٹیاں کرو۔۔ خوش رہو۔۔ میں نے آپ پر کبھی کوئی پابندی نہیں لگائی۔“
وہ مزید تپ گئی۔ ”دیکھنا ایک دن میں تمہیں چھوڑ کر بھاگ جاؤں گی۔“ وہ غصے سے وہاں سے اٹھی تھی۔
ذاکر لاپرواہی سے اپنے کام میں مصروف رہا۔
”بس جاتے ہوئے مجھے بتا دینا۔۔ میں اپنے بچے ساتھ لے جاؤں گا۔۔“ وہ اب مزید کٹ کر رہ گئی۔
ہاں بچوں کو ساتھ لے جا سکتے ہو۔ ان کی فکر ہے۔ بس میری ہی نہیں۔ وہ دل میں جلتی کڑھتی ہوئی اس کے پیچھے سے گزرتے ہوئے اس کی کمر پر دھکا مار کر گزری تھی۔ وہ جو بیگ کے قریب نیچے پاؤں کے بل بیٹھا تھا اب لڑکھڑا کر آگے کو گرا تھا۔ مگر وہ مسکراتے ہوئے پلٹ کر اسے چپ چاپ دیکھ کر رہ گیا۔ وہ جانتا تھا اس نے بھی اسے تپانے میں کوئی کسر نہیں چھوڑی تھی۔ اب اس کا رد عمل بنتا ہی تھا۔ وہ کمرے کے دروازے سے باہر نکل رہی تھی تو ذاکر کی آواز بلند ہوئی تھی۔
”میں بھی کہوں اتنی دیر سے مجھے مارا کیوں نہیں۔۔ اب میں سکون سے چلا جاؤں گا۔“
وہ جلے ہوئے دل کے ساتھ اسے دیکھ کر دروازے سے باہر نکل گئی۔
———-جاری

Exit mobile version