اس کی آنکھ کھلی تو اسے اپنا دل غم سے بوجھل محسوس ہوا۔ جان سے عزیز شخص کو موت کی طرف جاتے دیکھنا کتنا اذیتناک ہوتا ہے، اس نے پہلی بار محسوس کیا تھا۔
اسے پہلی بار احساس ہوا، جب وہ بچپن میں بیمار ہوتا تھا تو اس کے والدین کس کیفیت سے گزرتے تھے۔
عروش کو بیمار پا کر اسے لگانے لگا جیسے وہ خود ایک جان لیوا بیماری سے گزر رہا ہے اور جلد ہی مرنے والا ہے۔ اسے سمجھ نہیں آ رہا تھا اس کی یہ کیفیت کیوں ہے۔
اس کے اندر چھپے باہمت انسان نے اسے امید دلائی کہ اسے ہی عروش کو زندگی کی طرف واپس لانا ہے۔ وہ اسے مرنے کے لیے ایسے چھوڑ نہیں سکتا۔
وہ ایک نئے جوش اور امید کے ساتھ بستر سے نیچے اترا۔ اس نے تیار ہو کر ناشتہ کرتے ہی سب سے پہلے ہسپتال کا رخ کیا۔ صبح کے نو بج رہے تھے۔ جب وہ ہسپتال میں داخل ہوا تو وہ کمرے میں اکیلی موجود تھی اور اپنے اردگرد سے بے خبر سو رہی تھی۔ طالب نے اسے جگانا مناسب نہیں سمجھا اور نرس سے اس کی طبیعت کے متعلق دریافت کیا۔ وہ نرس کو کچھ ہدایات دے کر آفس کے لیے چلا آیا۔ اس نے ارادہ کیا کہ وہ دو گھنٹے بعد پھر سے چکر لگائے گا.
————*
کھڑکی پر لگے پردوں کی آڑ سے سورج کی روشنی اندر کو آ رہی تھی۔ شاید اس نے کوئی اچھا خواب دیکھا تھا، اس کے چہرے پر اطمینان سا تھا۔ سردی میں دھوپ دیکھ کر اس کے احساسات میں روانی آنے لگی تھی۔ اس نے نظریں جو کب سے ایک طرف جما رکھی تھیں، اب کمرے میں گھمائیں۔ سب پہلے جیسا تھا مگر کوئی کمی اسے محسوس ضرور ہوئی۔
وہ سمجھ نہ پائی، کیا کمی اسے ستا رہی ہے۔ اس نے اٹھنے کی کوشش کی تو حبیبہ بیگم اسے دیکھ کر کہنے لگیں۔
”ہر وقت سوئی نہ رہا کرؤ۔۔ کچھ دیر بیٹھا کرؤ۔۔ تمھیں جلدی سے ٹھیک ہو کر گھر جانا ہے۔“
وہ بے یقینی کی کیفیت میں انہیں دیکھ کر رہ گئی۔ اسے اس بات کی بالکل امید نہیں رہی تھی۔ اس کا سر اتنا زیادہ چکرا رہا تھا کہ وہ سمجھ نہیں پا رہی تھی کہ اس کی طبیعت میں کوئی بہتری بھی آئی ہے کہ وہ مزید موت کی طرف جا رہی ہے۔
اچانک سے اسے جینے کی خواہش ہونے لگی۔ اس نے میز کی جانب دیکھا تو وہاں نیلے، پیلے، گلابی اور سفید گلابوں سے سجا کل والا گلدستہ ابھی تک ویسے کا ویسے پڑا مسکرا رہا تھا۔
اس نے دور سے ہی اس گلدستے کو لانے والے نرم سے ہاتھوں کی مہک محسوس کی تھی۔
اس نے اٹھ کر ان گلابوں کو چھونے کی حسرت کی۔ اسے احساس ہوا اب سب ختم ہونے والا ہے۔ اس نے اپنا سر پھر سے سرہانے پر رکھ کر آنکھیں موند لیں۔
حبیبہ بیگم اسے مایوسی سے دوبارہ لیٹتے دیکھ کر فکر مند ہو گئیں۔ وہ اسے دیکھ کر سوچوں میں الجھ گئیں۔
”اگر تم نے سوئی رہنا ہے تو میں یونہی تمہارے پاس بیٹھی ہوں۔۔ ادھر مطاہر بیمار پڑا ہے اس کو بھی میری ضرورت ہے۔۔ پھر تمہاری بچیاں میرے جانے پر کہتی ہیں نانو آپ ہمارے پاس رک جائیں۔۔ اور آج مجھے فاریہ کے سسرال بھی جانا ہے۔۔ میری اتنی ذمہ داریاں ہیں میں کیا کیا کروں!“
اس نے فکرمندی سے کہا۔ ”آپ کل رات سے یہاں ہیں اب صبح ہو گئی ہے۔۔ آپ میری فکر نہ کریں جوس اور دوائی میں نے لے لی ہے۔۔ میں نرس سے ہی تازہ جوس منگوا لوں گی۔ آپ نہ بھی ہوں تو دن میں میرا گزارا ہو جاتا ہے۔۔ آپ گھر جائیں۔ میں اپنا خیال رکھ لوں گی۔“
اس کی بات سن کر وہ کچھ پر امید نظر آنے لگیں۔ کچھ دیر بیٹھے سوچنے کے بعد وہ فالتو برتن سمیٹنے لگیں۔ وہ کمبل لیے پڑی رہی تھی۔ کچھ دیر بعد ان کی آواز آئی۔ ”ٹھیک ہے پھر میں ابھی چلتی ہوں۔۔ آج صبح کا ٹیسٹ ہو گیا ہے۔۔ رپورٹ ڈاکٹر کو چیک کروا دی ہے۔ روٹین کی میڈیسن تمہیں نرس سے ملتی رہیں گی۔۔ میں کوشش کروں گی جلدی آ جاؤں۔“
وہ اطمینان دلا کر رہ گئی تھیں۔ اس نے ایک نظر انہیں جاتے دیکھا تھا۔ دروازہ بند ہوا تو وہ سو گئی۔
آدھے گھنٹے بعد اس کی نیند کمرے کا دروازہ کھلنے پر ٹوٹی تھی۔
اس نے بخار اور درد کی کیفیت میں مشکل سے آنکھیں کھول کر دیکھا تھا۔ وہ سامنے سے اپنے آفس کے لباس میں ملبوس خوشگوار موڈ کے ساتھ کمرے کے اندر چلا آ رہا تھا۔ وہ اس سے طبیعت کا پوچھنا چاہ رہا تھا مگر اب اس کی صورت دیکھ کر اس کی حالت جان چکا تھا۔ اس نے امید بھرا تبسم چہرے پر سجائے رکھا۔
اچانک سے اسے لگانے لگا جیسے جلد ہی سب ٹھیک ہونے والا ہو۔
تھوڑی دیر پہلے جو کمی اسے محسوس ہو رہی تھی وہ اب نہیں رہی تھی۔ اس نے دل میں خود کو اچھی امیدیں کرتے پایا۔
اس نے بے ہوشی کی کیفیت میں نیم وا آنکھوں سے اسے دیکھا تھا۔ وہ بینچ پر بیٹھ رہا تھا۔
اسے لگا جیسے اس کے بینچ پر بیٹھنے سے بینچ کی قیمت بڑھ گئی ہو۔ اچانک سے سارا کمرہ گلاب کی طرح مہکنے لگا۔ اس کے پرفیوم کی خوشبو تو مسحور کن تھی ہی مگر اس کی موجودگی نے کمرے کو الگ ہی رونق بخش دی۔ اس نے گھبرا کر اپنی آنکھیں بند کر لیں۔
”تم پھر آگئے!“ اس نے سپاٹ لہجے میں کہا تھا۔
”ہاں۔۔ آپ اکیلی تھیں تو مجھے میٹنگ چھوڑ کر آنا پڑا۔“
وہ اندر سے ہل کر رہ گئی۔ یعنی اس پر مکمل نظر رکھی جا رہی تھی۔
”میری وجہ سے میٹنگ کیوں چھوڑ دی۔ کہا تھا نا کہ میں تمہاری ذمہ داری نہیں ہوں۔“ اس نے خشک لہجے میں یاد دلایا تھا۔
”یہ تو احساس کی بات ہے۔۔ آپ مجھے روک نہیں سکتیں۔“ وہ تھکی تھکی نظروں سے اسے دیکھنے لگی۔
سامنے والے کی آنکھوں میں محبت اور خلوص تھا۔ وہ اسے ٹوکنے کا سوچتی رہ گئی۔
”یہ جوس پی لیں ابھی تازہ لے کر آیا ہوں۔“
اس نے سیب کے جوس کا گلاس اس کی جانب بڑھایا۔ وہ اب گلاس کو تکنے لگی۔
اسے پیاس تو لگی ہوئی تھی مگر وہ خود سے اٹھ نہیں پائی تھی اب اپنے سامنے پانی کی جگہ جوس دیکھ کر اسے لگا یہی مشروب اس کی زندگی ہے۔ وہ فیصلہ نہیں کر پا رہی تھی کہ پیاس بجھائے یا اس کی حوصلہ شکنی کے لیے انکار کر دے۔
آخر اس نے منع کر دیا۔ ”میرا دل نہیں کر رہا۔۔ تم یہ لے کر یہاں سے چلے جاؤ، ابھی میری دوست آ جائے گی۔“ اس نے سرد لہجے میں کہا تھا۔
اسے کل بھی خود پر بہت غصہ آیا تھا کہ وہ درد میں خاموشی سے اس کا احسان کیوں لیتی رہی۔ اب اس نے دوبارہ غلطی کرنے سے خود کو روکا تھا۔
”جب وہ آ جائے گی تب میں یہاں سے چلا جاؤں گا۔۔ ابھی میں یہیں ہوں اور آپ کو یہ پینا پڑے گا۔“
اس نے یوں اپنائیت سے کہا تھا جیسے وہ اس کے گھر کا ہی کوئی فرد ہو۔
”تم چاہتے ہو میں ایک اجنبی کا احسان اس لیے لیتی رہوں کہ وہ محبت کا حوالہ دے رہا ہے؟“
اس نے ناراضگی سے پوچھا تھا۔
”محبت میں کسی پر احسان نہیں ہوتا۔ یہ تو میں خود پر احسان کر رہا ہوں۔ میں آپ کو پہلے کی طرح صحتیاب دیکھنا چاہتا ہوں۔“
”مگر میں اب مزید نہیں جینا چاہتی اور مجھے جینے کے لیے کوئی دلفریب امید نہیں چاہیے۔ تم بھی اپنی اچھی اچھی باتیں لے کر یہاں سے چلے جاؤ۔“ وہ بے دلی سے کہہ رہی تھی۔
وہ اسے سمجھتے ہوئے سر جھکائے رہ گیا تھا۔
”میں جانتا ہوں آپ ایسی نہیں ہیں۔ کبھی آپ نے بھی زندگی سے بہت ساری امیدیں لگائی ہوں گی۔۔ اچھے خواب دیکھے ہوں گے۔۔ مگر زندگی کے اس موجودہ فیز نے آپ کو موت کا طلبگار بنا ڈالا ہے۔۔ زندگی کے سفر میں اگر اچھا ہمسفر نہ ملے تو زندگی بوجھ ہی لگنے لگتی ہے۔۔
مگر جینے کے لیے تو بار بار کوشش کی جاسکتی ہے آخر زندگی ایک بار ہی تو ملنی ہے۔“
وہ چپ چاپ اسے سنتی ہوئی دیوار کو تکتی رہی۔
”کچھ لوگ کتنی بھی کوشش کر لیں ان کی قسمت ان کی راہ میں بار بار روڑے اٹکاتی ہے اور ان کی زندگی کا سفر بہت مشکل بنا دیتی ہے۔۔ پھر سفر سے کیا گلہ اور مسافر سے کیسی شکایت۔“
طالب نے اسے پر امید صورت لیے ٹوکا تھا۔
”قسمت تو صرف ہمیں چیلنج دے کے آگے بڑھنے کی مشق کروانے کا کام کرتی ہے۔۔ جو کم ہمت ہو وہ قسمت کے دیے چیلنج سے ہار جاتا ہے اور جو بلند حوصلہ ہو وہ اس کو ہرا کر آگے بڑھ جاتا ہے۔“
اسے طالب کی بات نے گرما کر رکھ دیا تھا۔ ہار جانا اس کی فطرت میں نہیں تھا۔ وہ ہمیشہ سے ایک باحوصلہ عورت تھی جب ہی کسی مرد کے ساتھ کے بغیر اتنے سالوں جی رہی تھی۔ شاید یہ امیدوں کا ہی احسان تھا جو وہ یہاں پہنچی تھی۔ اب اس کی باتیں اس میں نئے سرے سے جینے کی لگن پیدا کرنے لگیں۔ وہ دھیرے سے اٹھ بیٹھی تھی۔
”مگر ایک بے بس قیدی کے پاس کوئی دوسری آپشن نہیں ہوتی۔“ ایک خیال نے اسے اداس کر دیا۔
”جو رشتے ہمیں پیدائشی ملتے ہیں ہم ان کے بدلنے کا اختیار نہیں رکھتے۔ لیکن جو رشتے بنانے اور ختم کرنے کا حق ہمیں ملا ہے۔۔ ہم ان کو لے کر ساری عمر خود کو غیر حقیقی قید میں رکھ کر اپنے رب سے اور قسمت سے گلہ کرتے رہیں تو یہ ہماری اپنی غلطی ہے۔“
عروش نے اسے ٹوکا تھا۔
”تم کیا سمجھتے ہو! میں نے کبھی کوشش نہیں کی ہو گی! کیا مجھے اپنی زندگی سے پیار نہیں ہے..! میں تو شادی کے مطلب سے بھی واقف نہیں تھی جب میری پڑھائی کے بیچ میں ہی میری شادی کر کے رخصت کر دیا گیا۔ جب مجھے زندگی میرے مطلب کی نہیں ملی تب بھی میں نے اس میں خوش رہنے کی کوشش کی۔ مگر پھر کیا ہوا..! وقت کے ساتھ سب مزید بگڑتا ہی گیا۔۔ ہمیشہ میری ہر کوشش رائیگاں ہو جاتی ہے۔۔ کبھی حالات نے میرا ساتھ نہیں دیا۔ آج میں بہت سکون میں ہوں۔۔ اب میری اس زندگی سے نجات ہونے والی ہے۔“ وہ بے دردی سے مسکرائی تھی۔
طالب اسے افسوس سے دیکھتا رہ گیا۔ ”مایوسی کا دوسرا نام کفر ہے۔۔ آپ تو موت سے پہلے ہی مر چکی ہیں تو پھر قسمت سے کیسا شکوہ..!“
وہ شکستہ حال نظر آنے لگی۔
”تم کیا جانتے ہو میری زندگی کے بارے میں..! خود خوفناک سی پینٹنگ بنا کر اپنا سٹریس کم کر لیتے ہو اور اچھی اچھی باتیں کر کے سمجھتے ہو سب بہت آسان ہے۔۔ باتوں سے قلعے فتح نہیں ہوتے۔۔“
وہ اب غور سے اسے ہی دیکھنے لگا تھا۔
”جو تصویر تم اس دن پارک میں بنا رہے تھے اس میں بنائی عورت کی جگہ اگر تم خود ہوتے تو تمہیں کیسا محسوس ہوتا؟“ یہ سوال کرتے ہوئے عروش کی آنکھوں سے پانی ابھرا اور بہہ کر نیچے جما رہ گیا۔
طالب کی زبان سل چکی تھی۔ وہ اب صرف اسے سننا چاہتا تھا۔
وہ پھر سے کہنے لگی۔
”میں نے اس میں خود کو محسوس کیا تھا اور اس کانٹے دار بیل کی جگہ مجھے میرے اپنے رشتے دار، میرے مسائل اور میرے شوہر سب باری باری نظر آئے ۔۔ جنہوں نے مجھے اپنی گرفت میں لے رکھا ہے۔ میں اس شکنجے سے باہر نہیں نکل سکتی۔۔ میرے اندر ایک چھوٹی بچی اکیلی بیٹھی روتی رہتی ہے۔۔ اپنی بری قسمت سے میں خود کو کبھی بچا ہی نہیں پائی۔ میں جب بھی اپنی مرضی کی زندگی گزارنے کی کوشش کرتی ہوں میرے گرد لپٹی بیل اور بری قسمت مل کر ایک ہو جاتے ہیں اور مجھے احساس دلاتے ہیں کہ میں ان کی قید میں ہوں۔
وہ خوبصورت ہرا بھرا باغ پیسہ ہے جس کی چکاچوند سب کو اس وہم میں مبتلا رکھتی ہے کہ میں بہت عیش میں ہوں، بہت خوش ہوں، مزے میں ہوں۔۔۔
کسی کو میرے گرد لپٹی کانٹے دار بیل نظر نہیں آتی جو مجھے ذیت دے رہی ہے۔“
وہ افسوس سے نظریں جھکانے پر مجبور ہو چکا تھا۔
”میں جانتا ہوں آپ بھی ایک آرٹسٹ ہیں اور ہم آرٹسٹ کے جذبات واحساسات عام لوگوں سے بڑھ کر گہرے اور نازک ہوتے ہیں۔۔ لیکن اس کا مطلب یہ نہیں کہ آپ اتنی جلدی ہار مان لیں۔ اگر آپ بیل سے نکل نہ پائی تو مرنے کا سوچ کر اپنے دل کو تسلی دے لی۔۔ موت بھی یہاں اتنی آسان تو نہیں۔“
”جن کی زندگی مشکل ہوتی ہے ان کی موت آسان ہو جاتی ہے۔“ اس نے مایوسی سے کہا تھا۔
وہ دھیرے سے نمناک لہجے میں بتانے لگا۔ ”اس پینٹنگ میں موجود، خاردار بیل میں لپٹی عورت میری ماں تھی۔“ اس نے مزید کچھ نہیں کہا۔ عروش کی زبان کنگ رہ گئی۔ وہ مزید کچھ بول نہیں پائی۔
اس نے دھیرے سے اپنی آنکھوں کے نیچے سے جما پانی صاف کیا اور طالب کے ہاتھ سے جوس لے کر پینا شروع کر دیا۔
چند لمحے یوں ہی خاموشی چھائی رہی جسے طالب نے ہی توڑا۔ ”مگر اب وہ وہاں نہیں ہیں۔۔ وہ وہاں ہیں جہاں وہ چاہتی تھیں۔“
وہ حیرانی اور تجسس سے اسے دیکھتی رہ گئی جیسے وہ بنا پوچھے اسے سب سمجھا دے گا مگر اسے چپ سی لگ گئی۔ کمرے میں چھائی خاموشی توڑنے کو وہ گویا ہوئی۔
”تمہیں نہیں معلوم مگر میں جب بھی اپنی زندگی جینے کی اور اس خاردار بیل کی قید سے آزاد ہونے کی کوشش کرتی ہوں تو میرے بچے اور یہی دولت مجھے روک لیتے ہیں۔۔ مجھے لگتا ہے میرے بچے میرے بغیر رہ نہیں سکتے۔۔ اور کبھی مجھے لگتا ہے میں ان آسائشوں کے بغیر نہیں رہ پاؤں گی۔۔ مجھے اپنی سانسیں بند ہوتی محسوس ہونے لگتی ہیں۔۔ میں ہر مسئلے سے لڑ کر ان دو مسائل پر آ کر ٹھہر جاتی ہوں۔“
وہ ٹھنڈی آہ بھر کر رہ گیا تھا۔
”اسی لیے قرآن میں اللہ نے ان دونوں کو ہی آزمائش کہا ہے۔ اکثر موقوں پر یہی دونوں فیصلہ کرنے میں مشکل پیدا کر دیتے ہیں۔“ وہ افسوس سے سر جھکا کر رہ گئی۔ اس نے جوس ختم کر لیا تھا۔ وہ گلاس سائیڈ پر رکھتی ہوئی اسے تیکھی نظروں سے گھورنے لگی۔
”اس دور میں کوئی انسانیت کے ناطے بھی کچھ نہیں کرتا تو تم کس لیے میری زندگی میں گھس رہے ہو؟ کوئی تو فائدہ ہے تمہیں اس میں..!“
اچانک سے وہ اپنے گہرے خیالات سے باہر آ گیا۔
ابھی وہ کچھ کہتا کہ عروش اسے مشکوک نگاہوں سے دیکھنے لگی۔ ”یقیناً تم سے کسی نے ایسا کرنے کو کہا ہے..!“ وہ اسے دیکھتا ہی رہ گیا تھا۔
”ذاکر نے تمہیں میرے پیچھے لگایا ہے نا..!“
وہ تعجب سے نفی میں سر ہلاتا رہ گیا۔
”آپ بالکل غلط سوچ رہی ہیں۔۔ میں اس نام کے کسی شخص کو نہیں جانتا۔“
وہ اس پر یقین نہیں کر سکتی تھی۔
”پھر تمہیں عروہ نے میرے پیچھے لگایا ہے۔“ اس نے نیا شک ظاہر کیا تھا۔
اس پر وہ مزید شاک کی کیفیت میں نظر آنے لگا۔
”میں کسی عروہ یا ذاکر کو نہیں جانتا۔۔ میں نے تو اس دن پارک میں بھی آپ کو پہلی بار ہی دیکھا تھا۔“
”عروہ میری دوست ہے اور ذاکر میرے شوہر کا نام ہے۔۔ ذاکر ایسا پہلے بھی کر چکا ہے۔۔ اور عروہ کے معاملے میں میری چھٹی حس مجھے خبردار رکھتی ہے۔ دیکھو اگر تم سچ بتاؤ گے تو تمہیں فائدہ ہو گا۔۔ ورنہ تمہیں یہاں چکر لگانے سے کچھ نہیں ملنے والا۔۔“
وہ یہ سن کر متعجب ہوا تھا۔ ”فائدہ..! وہ کیسا..!“
وہ پراسرار انداز میں مسکرائی تھی۔ اس کے چہرے پر جینے کی امید نظر آنے لگی۔
”ذاکر نے تمھیں میری جاسوسی کے بدلے میں جو بھی فائدہ دینا ہے میں تمھیں اس سے زیادہ فائدہ دے سکتی ہوں۔“
وہ مسکرایا تھا۔ اسے عروش کے چہرے پر ابھرتی چمک اچھی لگی تھی۔
”مثلاً..! کیسا فائدہ؟“
اب وہ اطمینان سے بتانے لگی۔ ”اس کی آدھے سے زیادہ پراپرٹی میرے نام ہے۔ وہ ٹیکس کی وجہ سے زیادہ چیزیں میرے نام سے لیتا ہے۔ اس وقت میں اس سے زیادہ مالدار ہوں اور تمہیں اس سے زیادہ فائدہ دے سکتی ہوں۔“
وہ دلچسپی سے یہ سب سن رہا تھا۔ اب وہ کچھ سوچ کر مسکرایا۔
”ٹھیک ہے۔۔ اور اس کے لیے مجھے کیا کرنا ہوگا؟“
”وہ مجھے چھوڑنا چاہتا ہے۔۔ مگر اتنا مجبور کر کے، کہ اسے خود مجھے طلاق نہ دینی پڑے بلکہ میں خود اس سے خلع لوں اور اسے اس کی ساری پراپرٹی واپس کر دوں۔ مگر میں مجبور ہوں کیونکہ میں دوبارہ شادی نہیں کرنا چاہتی اور باقی زندگی یونہی گزارنے کے لیے پیسہ بہت ضروری ہے۔۔
منصوبہ یہ ہے کہ تم میرے متعلق اس کے ذہن میں ایسے شک ڈالو گے اور اسے ایسی خبریں دو گے کہ وہ وہاں چین سے بیٹھ نہ پائے اور اتنا مجبور ہو جائے کہ غصے سے بھڑکتا ہوا واپس آئے اور خود مجھے طلاق دے۔“
وہ بغور اسے سنتا ہوا اس کی باتیں کسی خاص حکم کی طرح یاد کر رہا تھا۔
”میں آپ کا کام کرنے کے لیے تیار ہوں۔۔ مگر اس سے پہلے آپ ایک بار سوچ لیں۔۔ اگر آپ کا مقصد اس سے جان ہی چھڑانا ہے تو پیسہ آپ کی عزت اور جان سے زیادہ قیمتی نہیں ہو سکتا۔۔ آپ کچھ رکھ کر اور کچھ چھوڑ کر مصلحت سے آپس میں یہ سب طے کر لیں تو اچھا ہو گا۔۔دوسرے راستے میں وہ آپ کو چھوڑنے کے بعد رسوا کر سکتا ہے۔“
یکدم وہ بہت بکھری ہوئی لگنے لگی۔
”میں اس سے بات کر کے دیکھ چکی ہوں، وہ کسی صورت بھی مجھے طلاق نہیں دینا چاہتا۔۔ اسے طلاق دے کر اپنے خاندان میں برا نہیں بننا۔۔ اسے اپنے بچوں کی اچھی تربیت کے لیے میری ہی ذات چاہیے۔۔ اسے مجھ سے اپنی مرضی کا ہر فائدہ چاہیے گویا میں اس کی ذرخرید غلام ہوں۔۔ مگر مجھے اس سے سوائے پیسے کے اور کوئی فائدہ حاصل نہیں۔۔ اسے اپنی عزت بہت عزیر ہے اور چونکہ میرا نام اس سے جڑا ہے تو وہ نہ تو ابھی اور نہ ہی بعد میں، میری کوئی برائی یا خامی دنیا کی نظر میں آنے دے گا۔۔ وہ اپنے کھیل کا شاطر ترین کھلاڑی ہے۔۔ اسے کوئی ہرا نہیں سکتا اور اپنی کسی ضد سے ہٹا نہیں سکتا۔۔
تم سوچ بھی نہیں سکتے کہ اتنے سالوں میں میں اس سے جان چھڑانے کا کون کون سا حربہ آزما چکی ہوں۔۔ وہ انتہا درجے کا ڈھیٹ اور بےغیرت شخص ہے۔۔ یہ کام اتنا آسان نہیں جتنا تمھیں لگ رہا ہے۔۔ اسے اسی کے برابر چل کر گرانا پڑے گا۔۔“
وہ سب سنتے اور سمجھتے ہوئے سر ہلا کر رہ گیا تھا۔
”ٹھیک ہے۔۔ میں نے تو بس آپ کو دوسرے راستے کا سائیڈ ایفکٹ بتانا چاہا تھا۔۔ اگر آپ راضی ہیں تو میں اس سلسلے میں کچھ بھی کرنے کو تیار ہوں۔۔
اس کے لہجے میں بلا کا یقین تھا۔
لیکن اس سب کے لیے آپ کا یہاں سے نکلنا بہت ضروری ہے۔“ اس نے عروش کو یاد دلایا تھا۔
وہ اچانک سے پرامید نظر آنے لگی۔
”میں اب جلدی سے ٹھیک ہونا چاہتی ہوں۔۔ اگر میں زندہ رہتی ہوں تو اب یہی میرے جینے کی امید ہو گی۔“
وہ اسے زندگی کی خواہش کرتا دیکھ کر سکون محسوس کرنے لگا۔
”اب آپ کے اچھے دن شروع ہونے والے ہیں اور اس کے لیے آپ کو جلدی سے بستر سے اٹھنا ہو گا۔“
وہ اثبات میں سر ہلانے لگی۔
”انشاء اللہ۔۔ میں بہت جلد ٹھیک ہو جاؤں گی۔۔ اور تمہیں مجھ سے وعدہ کرنا ہو گا کے یہ کام پورا کیے بغیر تم کہیں نہیں جاؤ گے۔ بدلے میں تمھیں منہ مانگی قیمت ملے گی۔“
طالب نے چہرے پر یقین دلانے والی مسکان سجائے اعتماد سے سر ہلا دیا۔ ”میں وعدہ کرتا ہوں کہ اب آپ کو طلاق دلوائے بغیر میں چین سے نہیں بیٹھوں گا۔“
وہ خوشی سے اپنی انگلیوں سے آنکھوں کو ملنے لگی جیسے خود کو مزید ہوش میں لا رہی ہو۔ وہ پرجوش نظر آنے لگی تھی۔
اس نے اپنا سر سرھانے سے لگا کر ایزی ہونے کو ٹیک لی تھی۔
”یاد رکھنا جب تک تم میرا کام پورا نہیں کر دو گے تب تک میں بھی تمھیں چین سے بیٹھنے نہیں دوں گی۔“
وہ خوشی سے مسکرایا۔ ”چین تو خیر پہلے بھی نہیں تھا۔۔ کم از کم اب پتہ تو ہو گا کہ مجھے بےچین کیوں رہنا ہے۔۔“
کمرے میں زندگی سے بھرپور نسوانی قہقہ گونجا تھا۔
”دیکھ لینا یہ کام اب تمھیں ہی پورا کرنا پڑے گا۔ کام پورا کیے بغیر تم کہیں بھاگ نہیں سکتے۔“
”یہ کام میرے علاوہ اور کوئی کر ہی نہیں سکتا۔۔ اور آج سے کام پورا ہونے تک یہ بندہ آپ کا غلام رہے گا۔“
اس نے عروش کے ہاتھ کی پشت پر اپنا ہاتھ رکھ کر اسے طمانیت کا احساس دلایا تھا۔
”تم میں دلوں کو موہ لینے کی صلاحیت ہے۔۔ امید ہے اس بار تم سب بدل کر رکھ دو گے۔“
”دیکھنا! اس بار سب آپ کے حق میں ہی ہوگا۔۔ میرا یقین کریں۔“ وہ اس کے تسلی بخش لہجے اور یقین دلاتے گرم جوش انداز سے متاثر ہوئے بغیر نہ رہ پائی تھی۔
اس نے سکون سے لیٹتے ہوئے آنکھیں موند لیں۔
طالب نے سکون کا سانس لیتے ہوئے اپنی ٹائی ڈھیلی کی تھی۔ کچھ ہی دیر میں وہ نیند کی اثر میں جا چکی تھی.
————*
اچانک سے اس کی بےرنگ، بے چین اور بے سکون سی زندگی میں ہلچل سی پیدا ہو گئی۔
وہ ہسپتال سے گھر لوٹا تو شام ڈھل رہی تھی۔ آج وہ بہت الگ سے انداز میں مسکراتا نظر آ رہا تھا۔
اس کے پاس اس کے بہت سے سوالوں کے جواب تھے۔ وہ خوش بھی تھا اور پریقین بھی۔۔
آج اسے پتہ چل گیا کہ وہ کیوں اس لڑکی کی جانب دیوانوں کی طرح کھنچا چلا جاتا تھا.. اسے اس کی صورت میں اپنی ماں کی صورت کیوں نظر آتی تھی!
دراصل اسے اپنی ماں جیسی محبوبہ مل گئی تھی۔۔ اسے احساس ہوا اس کی زندگی میں عروش کی کمی تھی جو اب دور ہو چکی تھی۔
اس نے بستر پر لیٹ کر ماما کی بنائی ہوئی تصویروں سے دل ہی دل میں ڈھیروں باتیں کیں۔ اس نے آنکھیں بند کیں تو اسے لگا اس کا سر ان کے قدموں میں ہے۔ نجانے کب اس کی آنکھ لگ گئی، اسے کچھ یاد نہیں تھا۔
چند گھنٹوں بعد اس کی آنکھ کھلی تو اس کا فون بج رہا تھا۔
سسٹر ماہم کی کال نے اسے چونکا ڈالا۔
”سر ان کی ماما کچھ دیر کے لیے یہاں آئی تھیں پھر وہ ہمیں بتا کر چلی گئیں کہ ان کی جگہ ان کی دوست رات رکے گی۔ اب تھوڑی دیر پہلے ان کی دوست آئیں تھیں مگر کوئی کال آئی اور وہ بھی انہیں بہانا کر کے نکل گئیں۔ اب وہ اکیلی لیٹی چھت کو گھور رہی ہیں۔ کوئی بھی اس کے پاس موجود نہیں ہے۔ آپ نے کہا تھا جب بھی وہ اکیلی ہوں تو آپ کو لازمی بتادوں۔۔“ سسٹر نے اس وقت کال کرنے کی وجہ بتائی۔ اس نے جلدی بیٹھتے ہوئے کہا۔
”میں آدھے گھنٹے میں وہاں آ جاؤں گا۔ تب تک آپ ان کا خیال رکھیے گا۔“ اس کی نیند سے جاگی ہوئی آواز میں سنجیدگی شامل ہو چکی تھی۔
”آپ بے فکر رہیں، میں ان کا خیال رکھوں گی۔“
اس نے گھڑی پر نظر ڈالی تو رات کے نو بج رہے تھے۔ اسے خود پر حیرانی ہوئی کہ وہ آج بے وقت کیسے سو گیا۔ اس نے جلدی سے کپڑے بدل کر ڈائننگ روم کا رخ کیا۔ وہ ملازم سے کہہ کر رات کا کھانا لگوا چکا تھا۔ کھانے شروع کرنے سے پہلے وہ ملازم سے تازہ انار اور سیب کا جوس نکال کر پیک کرنے کو کہہ چکا تھا۔ اس کے کھانے کے دوران حسن گردیزی صاحب وہاں داخل ہوئے۔ ”کہاں جانے کی جلدی ہے..؟“
اس نے ایک نظر انہیں دیکھا تھا۔ ”ایک دوست کو ڈینگی بخار ہوا ہے۔۔ آج رات اس کے پاس رکنا ہے، بس وہیں کے لیے نکل رہا ہوں۔“ حسن صاحب چونکے تھے۔
”کمال ہے.. میرے بیٹے کے اتنے دوست تو نہیں ہیں.. کس کو ڈینگی ہو گیا؟“
وہ سرسری سا بتانے لگا۔ ”وہ پرانا دوست ہے.. کچھ دن پہلے ہی امریکہ سے آیا تھا۔ آج رات میرا ارادہ تھا اس کے پاس رکنے کا۔“
وہ فکر مند ہونے لگے۔ ”میرے خیال سے تمہیں احتیاط کرنی چاہیے.. اس سے تمہیں ہو گیا تو تمہارے لیے بڑا مسئلہ ہو جائے گا.. وہ تو ٹھیک ہو کر گھر چلا جائے گا اور تمہیں جو بخار کے ساتھ دوسرا مرض گھیر لے گا تو پھر کئی دن اس کی تکلیف اور علاج میں گزارنے پڑیں گے۔“ وہ فکر مند لگ رہے تھے۔ اسے برا سا لگنے لگا۔ جب سے اس نے ہوش سنبھالا تھا وہ ذرا ذرا سی بات پر یونہی اس کی پریشانی لیتے تھے جیسے وہ ابھی تک چھوٹا بچہ ہو۔ اسے ان باتوں سے اب بیزاری ہونے لگتی تھی۔
”پاپا اس سے کیا ہو جائے گا..! آپ ہر بار یوں ہی مجھے خوفزدہ کر کے منع کر دیتے ہیں۔۔ میں خود کو سنبھال سکتا ہوں.. آپ کو میری فکر کرنے کی ضرورت نہیں۔“
حسن صاحب نے اسے خشک نگاہوں سے گھورا تھا۔
”شاید تم بھول رہے ہو.. ڈاکٹر نے ہمیں مطلع کر رکھا ہے کہ کسی بھی طرح کے اسٹریس یا بخار کے ساتھ تمہارا مرض لوٹ آئے گا.. احتیاط تو تمہیں ساری عمر کرنی پڑے گی۔ تمہیں پہلے اپنا خیال کرنا چاہیے.. دیکھ لینا نیکی گلے نہ پڑ جائے۔“
وہ اکتائے ہوئے کہتا ہوا اٹھا تھا۔ ”ڈینگی کوئی اچھوت کا مرض نہیں ہے اور یہ ویسے بھی اتنا زیادہ پھیلا ہوا ہے کہ ہر گھر میں کسی نہ کسی کو لازمی ہو رہا ہے.. اس کے پاس نہ بھی رکا تو بھی مجھے ہونا ہوا تو ہو ہی جائے گا.. میں اتنا خوفزدہ ہو کر نہیں جی سکتا۔“
اس نے کھانا کھا لیا تھا۔ وہ ملازم سے تازہ جوس لے کر باہر نکل گیا تھا۔ حسن صاحب اسے جاتا دیکھ کر دل میں اس کی حفاظت کی دعائیں کرتے رہ گئے۔
وہ اپنی کار میں سوار ہوا تھا۔ اب اس کا رخ سیدھا ہسپتال کی جانب تھا۔
وہ راہداری سے ہوتا ہوا اس نجی کمرے میں داخل ہوا تھا۔
اسے اپنے سامنے بستر پر بیہوش پڑی حسینہ کو دیکھ کر ایسا لگا وہ کسی فیری ٹیل کے اندر داخل ہو گیا ہو۔۔ شاید وہ آج بے وقت سو کر اٹھا تھا، یہ اس کا اثر تھا یا۔۔ شاید وہ آج اپنی ماما کو اور اپنے بچپن کو یاد کرتا رہا تھا۔۔
اسے باہر سے اندر آنے تک کا ڈرامائی منظر بھی اس سازش میں شامل لگا تھا۔ رات کے پونے دس بجے آسمان سے زمین پر اترتی ہوئی اسموگ کا دھند میں تبدیل ہوتا خوابناک سا منظر اور سردی کی لہروں کے ہوا میں بہنے کا خوبصورت احساس آج اسے ہمیشہ سے الگ محسوس ہو رہا تھا۔
اس کے بستر کی جانب بڑھتے ہوئے اسے احساس ہوا وہ آج دھلی دھلی سی نکھری ہوئی لگ رہی تھی اور اس کی حالت پہلے سے بہت بہتر لگ رہی تھی۔ اس کے سلکی لمبے بال سرہانے سے ہوتے ہوئے بستر سے باہر کو لٹکے ہوئے تھے۔ اس کے جسم پر ذرد رنگ کا خوبصورت لباس موجود تھا جس سے اٹھتی خوشبو دور سے محسوس کی جا سکتی تھی۔ وہ سانسوں میں اس خوشبو کو اترتا ہوا محسوس کر رہا تھا۔ اس کا چہرہ پہلے سے کم ذردی مائل دیکھا جا سکتا تھا۔ اس کے ہونٹ بھی آج پہلے کی نسبت گلابی لگ رہے تھے۔
اسے یاد آنے لگا اس کی ماما اسے بچپن میں اکثر فیری ٹیل سنایا کرتی تھیں جس میں ایک شہزادی کو بچانے کے لیے ایک شہزادہ آتا ہے اور اس کے آتے ہی سب ٹھیک ہو جاتا ہے۔ وہ ہمیشہ سوچتا تھا کہ کیا وہ بھی کسی کہانی میں ایسا شہزادہ بن سکتا ہے جس کی آمد سے کہانی مکمل ہوتی ہے..
آج اسے لگا وہ اپنے سامنے پڑی حسینہ کی ادھوری کہانی مکمل کرنے کے لیے ہی اس کی زندگی میں داخل ہوا ہے۔
وہ اس کے بستر کے پاس پہنچ کر اس کے قریب آ بیٹھا تھا۔ اس کی نظریں اس کے خوبصورت چہرے پر جمی ہوئی تھیں۔ وہ نظر جھپکے بغیر اسے دیکھتا ہوا بس کچھ سوچتا ہی چلا جا رہا تھا۔ نرس اندر آئی تو اس نے نرس سے اس کی طبیعت کے متعلق دریافت کیا۔
”ان کو مصنوعی پلیٹ لیٹس لگائے گئے ہیں اور ابھی شام کی رپورٹ بھی کافی بہتر آئی ہے۔ ڈاکٹر لیاقت کہہ رہے تھے کل تک یہ مزید بہتر ہو جائیں گی۔ زیادہ امید ہے کل رات تک وہ انہیں ڈسچارچ کر دیں گے۔“
یہ سن کر اسے خوشی محسوس ہوئی تھی۔ وہ جان پایا تھا کہ مرتے ہوئے انسان کے لیے جینے کی امید اور خوشی کتنی ضروری ہے۔۔
نرس نے اس کی ڈرپ اتاری اور چیزیں سمیٹ کر وہاں سے چلی گئی۔ وہ چپ چاپ اسے تکنے لگا۔ اس کا کمبل اس کے اوپر ٹھیک سے نہیں تھا جس کی وجہ سے وہ کچھ بے چین نظر آتی تھی۔
طالب اپنی جگہ سے اٹھا اور آگے بڑھ کر اس کے اوپر کمبل دینے لگا۔
وہ اسے کمبل اوڑھ رہا تھا جب اس کا ہاتھ اس کے دھلے دھلے سے بالوں سے ہوتے ہوئے جسم کو ٹکرا گیا۔ وہ بےچینی سے حرکت میں آئی اور پھر اس نے دھیرے سے آنکھیں کھول کر طالب کو دیکھا۔
اسے اپنے سامنے دیکھ کر وہ کچھ سٹپٹائی تھی۔
”آپ کپکپا رہی تھیں اس لیے آپ کو کمبل دے رہا تھا۔۔“
اس نے شرمندگی سے صفائی پیش کی۔
وہ اسے دیکھ کر شرم سے خاموش رہی۔ طالب نے شرمندگی سے نظریں جھکا لیں۔
عروش نے کپکپاتے ہوئے اسے مخاطب کیا تھا۔ ”مجھے اس کمبل میں بھی سردی لگ رہی ہے۔“ طالب نے اپنے اطراف میں نظر دوڑائی۔ اسے دوسرے بستر پر ایک دوسرا کمبل پڑا نظر آیا تھا۔ اس نے وہاں سے کمبل لا کر اس کے اوپر پھیلا دیا۔ دوسرے کمبل کے لیتے ہی وہ قدرے پر سکون نظر آنے لگی۔ اب وہ اپنے ہوش میں تھی۔ اس نے فکر مندی سے وقت پوچھا تھا۔
طالب نے اسے بتایا کہ رات کے 10 بج رہے ہیں۔ اسے کچھ حیرانی ہوئی تھی۔ اس نے عروہ کے متعلق دریافت کیا تو طالب نے لاعلمی کا اظہار کیا۔
”مجھے نہیں معلوم۔۔ مجھے تو یہی پتہ چلا تھا کہ آپ کے پاس کوئی نہیں اس لیے میں یہاں چلا آیا۔“
عروش نے اپنے ذہن پر زور ڈالا تو اسے کچھ یاد آ گیا۔
”اوہ.!! مجھے یاد آیا.. وہ تو مجھے بتا کے ہی گئی تھی.. میں نیند میں تھی اس لیے مجھے بھول گیا۔ وہ تو شاید اب صبح ہی آئے گی۔“
طالب نے افسوس سے پوچھا۔ ”آخر آپ کی دوست کو ایسی بھی کیا مجبوری تھی جو اتنی رات میں آپ کو یوں ہسپتال میں تنہا چھوڑ کر چلی گئی..؟“
یہ سوال سن کر عروش کے چہرے پر سنجیدگی در آئی۔ ”اس کا کام ہی کچھ ایسا ہے.. وہ ایک ماڈل ہے اور اسے جب بھی کوئی اچھی آفر ملتی ہے وہ اسی وقت نکل جاتی ہے۔ آج تو وہ اپنی مرضی سے یہاں رکنے والی تھی اور مجھے چھوڑ کر جانے کا ارادہ ہر گز نہیں رکھتی تھی۔۔ وہ کچھ پریشان تھی۔۔ اس نے حال ہی میں ایک مہنگی گاڑی خرید لی جسے وہ نشے میں ڈرائیو کرتے ہوئے کہیں مار بیٹھی تھی.. اب اسے ٹھیک کروانے کے لیے اس کو اچھی خاصی رقم درکار تھی۔ اسی سلسلے میں وہ آج کل پیسے اکٹھے کرنے میں مصروف ہے اور مجھے بھی وقت نہیں دے پا رہی۔ اب اچانک ہی اسے ایک کال آئی تو اس نے بتایا کہ اسے ایک پارٹی سے اچھا خاصہ معاوضہ ملنے والا ہے۔۔ تو میں نے اسے روکنا مناسب نہیں سمجھا۔“
طالب نے دل ہی دل میں افسوس کیا کہ ایسے بے حس دوستوں سے انسان تنہا اچھا ہے۔
”ویسے میرا حق تو نہیں آپ کے رشتوں کے معاملے میں کچھ بھی بولنے کا۔۔ مگر ایک سچائی یہ بھی ہے کہ جس انسان کے لیے پیسہ اور اپنی ضرورتیں ہر چیز سے پہلے ہوتی ہیں وہ شخص کبھی اچھا دوست نہیں ہو سکتا۔۔“
اس کی بات سن کر وہ سوچوں میں کھو گئی تھی۔
طالب نے اسے خاموش دیکھ کر فکر مندی سے پوچھا تھا۔ ”اگر میں رات یہاں رکوں گا تو اس سے آپ کے لیے کوئی مسئلہ تو نہیں پیدا ہو جائے گا؟“
عروش نے اطمینان سے سوچا پھر دھیرے سے کہنے لگی۔
”نہیں میرے گھر والوں کو پتہ نہیں چلے گا۔۔ ان کی معلومات کے مطابق تو عروہ ہی میرے پاس ہے۔۔ میں اسے سمجھا دوں گی تو وہ کچھ نہیں کہے گی۔۔“ اس نے یقین دلایا تھا۔ پھر وہ مزید کسی خیال میں کہنے لگی۔
”مگر.. میرے خیال سے.. یہ بات ذاکر کو ضرور پتہ چلنی چاہیے اور اس کو اس بات کی تکلیف ہونی چاہیے کہ اس کی بیوی کی دیکھ بھال کے لیے غیر مرد اس کے پاس رک رہے ہیں۔“
یہ سن کر طالب کچھ سوچتے ہوئے سر ہلا کر رہ گیا۔
”بلکہ یہ خبر تم اسے مزید مرچ مصالحے لگا کر دینا.. کہ اس کی بیوی اپنے پاس کسی مرد کو بلاتی ہے.. اس کا کوئی دوست ہے جو بار بار اس سے ملنے ہسپتال آتا ہے.. اور ایک رات بھی اس کے پاس رکا ہے۔“
وہ یہ سنتا ہوا گہری سوچ میں ڈوبا رہا۔ پھر اس نے عروش کو کھوجتے ہوئے دیکھا تھا۔
”کیا آپ کو یقین ہے کہ یہ خبر اس کو دینی چاہیے۔۔ اس سے آپ کے لیے کوئی مسئلہ تو نہیں ہو گا؟“
عروش نے یقین سے کہا۔ ”بالکل.. میرے خیال سے تو اس کو یہ خبر ضرور دینی چاہیے.. اور میں چاہتی ہوں اس کو یہ سن کر تکلیف ہو..“
وہ عروش کا اطمینان دیکھ کر کچھ حیران ہوا تھا۔ یعنی وہ اپنے ہوش و حواس میں وہ سب کہہ رہی تھی اور وہ اپنی مرضی سے ایسا چاہتی تھی۔
”اور اگر اس نے آپ کے گھر والوں کو آپ کے متعلق ورغلانا شروع کر دیا تو.!“
عروش بے فکری سے مسکرائی تھی۔ ”میں چاہتی ہوں انھیں بھی یہ پتہ چلے۔ انھوں نے مجھے غیر سنجیدہ لے رکھا ہے اب کچھ ان کی نیندیں بھی اڑنی چاہیں۔“
وہ مزید اس سلسلے میں تبصرہ کرتے رہے تھے۔ عروش کو ایک لمحے کو بھی نیند نہ آئی تھی۔ وہ بھی حسب عادت چہرے پر معصومانہ مسکراہٹ سجائے اسے سنتا رہا تھا۔
——————*
سلی سلی سی سرد ہوائیں اس کے چہرے سے ٹکرا رہی تھی۔ آنکھیں کھلتے ہی سب سے پہلے اسے جو احساس ہوا تھا وہ یہ کہ اسے پچھلی رات ایک خواب کی طرح لگ رہی تھی۔ اس نے اس سے پہلے ایسا خوبصورت خواب کبھی نہیں دیکھا تھا۔ وہ طرب کی سی کیفیت میں اپنے اطراف میں دیکھ رہی تھی۔ اسے بانسری کی میٹھی دھن پر بجتے طربیہ سے نغمے فضا میں بہتے ہوئے سنائی دیے تھے۔ اسے محسوس ہوا کسی کا معطر وجود ساری رات اس کمرے میں موجود رہا تھا۔ اس نے خواب میں خود کو کسی فیری ٹیل میں پایا تھا جس میں کہیں سے ایک شہزادہ چلا آیا تھا اور اس نے آتے ہی اچانک سے کہانی کا رخ بدل کر رکھ دیا تھا۔
وہ سمجھ نہیں پا رہی تھی کہ یہ کیسا احساس ہے۔ کمرے میں وہ رات والی معطر فضا اب بھی قائم تھی۔ اس نے دھیرے سے اٹھ کر پاؤں زمین پر رکھے اور پھر وہ وہیں بیٹھ گئی۔ اس نے ذہن سے خیالات جھٹک کر گھڑی پر نظر ڈالی تو صبح کے ساڑھے دس بج رہے تھے۔
کمرے میں عروہ داخل ہوئی۔ اسے دیکھ کر عروش چونکی تھی۔ ”تم کب واپس آئی؟“
اس کے ہاتھ میں کچھ کھانے کا سامان موجود تھا۔ ”میں سات بجے سے تمہارے پاس ہی تھی.. ابھی ناشتہ لینے کمرے سے باہر گئی تھی۔“ عروہ نے جلدی سے بات کو سنبھالا تھا۔
وہ تعجب سے اسے دیکھنے لگی۔ ”اچھا لیکن صبح سات بجے تک تو میں جاگ رہی تھی اور اس وقت تک تو تم یہاں نہیں تھی۔“
”جب میں یہاں پہنچی تب تم سو چکی تھی.. مگر تمھارا دوست اس کمرے میں موجود ہی تھا۔ مجھے دیکھ کر وہ چلا گیا تھا۔۔ اور تب سے میں ادھر ہی ہوں۔“
اسے معلوم تھا کہ صبح سات بجے تک طالب وہیں موجود تھا اور اس کے بعد اسے کچھ یاد نہیں تھا۔ وہ طالب کے جانے سے پہلے ہی سو گئی تھی۔ اس کے بعد اس کی اب آنکھ کھلی تھی۔
عروہ نے اسے جوس پیش کیا تھا۔ ”تمھاری رات کیسی گزری؟“ عروہ نے مسکراتے ہوئے پوچھا تھا۔ عروش کے گالوں پر پھوٹتی لالیاں واضح بتا رہی تھیں کہ وہ پہلے سے بہتر ہو رہی ہے۔ وہ اس سوال کا جواب دیتے ہوئے کسی اور ہی احساس میں کھو چکی تھی۔
عروہ زیر لب مسکراتی رہی۔ ”یہ وہی تھا نہ جس نے تمھیں پینٹنگ گفٹ کی تھی اور اس رات تمھارے لیے رقص کیا تھا! آخر تمھاری اس سے دوستی ہو ہی گئی۔“ عروش نے لاتعلقی سے آنکھیں ٹپٹپائی تھیں۔
”ہماری دوستی نہیں ہوئی۔۔ نہ ہی میں ابھی اسے ٹھیک سے جانتی ہوں.. اسے ذاکر نے میرے پیچھے لگایا ہوا ہے تاکہ میری ہر حرکت پر نظر رکھ سکے۔۔ تمہیں یاد ہے نا پچھلے سال بھی اس نے میرا اور تمہارا پیچھا کروایا تھا۔ وہ اس سے وہی کام لے رہا ہے۔۔ مگر ذاکر کو ابھی یہ معلوم نہیں کہ میں جان چکی ہوں۔“
عروہ یہ سن کر اچانک سے بہت سنجیدہ ہو گئی۔ ”کیا واقعی..!“
”ہاں..! ایسا ہی ہے.. ورنہ تمہیں تو معلوم ہے کہ میری مردوں سے نہیں بنتی اور مجھے لڑکوں سے دوستی کرنا کتنا مشکل کام لگتا ہے۔“
عروہ نے افسوس کیا تھا۔ ”میں سمجھی تمہاری اس سے دوستی ہو چکی ہے اور تم مجھ سے چھپا رہی تھی۔۔ ویسے اسے دیکھ کر مجھے رشک ہوا تھا کہ یہ تم سے پہلے مجھے کیوں نہ ملا.! وہ بہت خوبصورت ہے.. خاص کر اس کی آنکھیں بہت حسین ہیں۔“
عروش نے مسکرا دیا تھا۔ ”ایسا کچھ بھی نہیں.. بلکہ میں تو خود اسے ابھی جاننے کی کوشش کر رہی ہوں۔۔ ذاکر بہت شاطر کھلاڑی ہے۔۔ اس نے بہت سوچ سمجھ کر مجھ پر ایک خوبصورت اور مضبوط مرد کا جال پھینکا ہے۔۔ وہ میرا اسٹینڈرڈ جانتا ہے۔۔“
عروہ گہری سوچوں میں گم لگ رہی تھی۔ اب اس کے چہرے پر وہ پہلے والی مسکراہٹ نہیں تھی۔
”وہ تمھارے جانے کی وجہ سے یہاں آیا تھا۔۔ وہ مستقل میری نگرانی کر رہا ہے.. اسی وجہ سے اسے خود بخود ہر بات پتہ چل رہی ہے۔“
عروہ یہ سن کر کچھ گھبرائی تھی۔ اس کے چہرے کے اڑتے ہوئے رنگ دیکھ کر عروش دل ہی دل میں کچھ حیران ہوئی تھی۔
ہر گزرتے وقت کے ساتھ عروہ اس کے لیے پرسرار بنتی جا رہی تھی۔ اس نے اب بات کو بدل کر اس کی پارٹی کے احوال دریافت کیے۔ پھر اس نے تازہ دم ہونے کے بعد ناشتہ کیا اور کچھ دیر یہاں وہاں کی باتیں کرنے کے بعد عروہ وہاں سے چلی گئی۔
اس کے جانے کے 15 منٹ بعد ہی حبیبہ بیگم اس کے پاس تھیں۔ دن یونہی گزرتا رہا۔ کبھی وہ سو جاتی اور کبھی جاگ جاتی۔ جاگنے کے دوران اسے انتظار رہا کہ کسی وقت اس کے پاس کوئی نہ ہو اور طالب چلا آئے۔ اس کی آنکھیں طالب کو دیکھنے کو ترستی رہیں۔ اس نے بہانے سے حبیبہ بیگم کو بھی بھیج دیا کہ اس کے پاس عروہ آ رہی ہے مگر ان کے جانے کے بعد عروہ تو نہیں آئی لیکن طالب بھی نہیں آیا۔ پھر قسمت سے فاریہ اس کے پاس ملنے چلی آئی۔ مگر اس کی آنکھیں طالب کے آنے کی متظر رہیں۔ اسے دل ہی دل میں افسوس ہونے لگا کہ اسے طالب سے اس کا نمبر لے لینا چاہیے تھا۔ اب وہ اس سے رابطہ کیسے کرے گی..!
فاریہ کے جانے کے بعد بھی طالب نہیں آیا۔ پھر حبیبہ بیگم لوٹ آئیں۔ دو گھنٹے بعد اسے ڈسچارج کر دیا گیا۔ وہ رات کے نو بجے اپنے گھر پہنچ چکی تھی۔ اتنے دنوں بعد اپنے گھر لوٹ کر اسے بہت عجیب لیکن اچھا لگ رہا تھا۔ اسے اپنے گھر کا ہر کونہ نیا نیا لگ رہا تھا۔ بچے بھی اس کے آنے پر بہت خوش ہوئے تھے اور کافی دیر اس کے گلے لگے اس سے باتیں کرتے رہے۔ اسے احساس ہوا کہ اگر اس سے دنیا میں کوئی بھی پیار نہ کرے تو کم از کم اس کے بچے تو اس سے پیار کرتے ہیں۔ پھر اسے خیال آیا محبت بہت خطرناک جذبہ ہے، یہ ہمیں کمزور بنا دیتا ہے۔ ان بچوں کی خاطر ہی تو وہ اتنی مشکل میں جی رہی تھی۔ اگر یہ بچے نہ ہوتے تو وہ گناہ کی راہوں میں جانے سے بچ جاتی اور اپنی زندگی کے فیصلے آزادی سے لے سکتی۔
اسے پھر سے قرآن کی وہ آیت یاد آ گئی جس میں مال اور اولاد کو فتنہ کہا گیا ہے۔
اس نے خود کو مزید پچھتاوے اور افسوس سے بچانے کے لیے بستر پر لیٹتے ہی اپنی سوچوں پر قابو پالیا اور سونے کی کوشش شروع کر دی۔ کمزوری کی شدت نے جلد ہی اسے ہوش و حواس سے انجان کر دیا۔
————*
جاری ہے

