یوں تو ہم اکثر بزرگوں سے سنتے ہی رہتے تھے کہ اگلا دَور اچھا تھا لیکن اس تلخ حقیقت کا ادراک ہمیں کچھ عرصہ قبل ہی ہوا۔ واقعی آج کے دور میں تو ٹیلنٹ کی کوئی قدر ہی نہیں۔ ہوا کچھ یوں کہ ہمارے والدین کی ’مجلس شوریٰ‘ نے فیصلہ دیا کہ آج کل کے بچوں کو زمانے کے ساتھ قدم سے قدم ملا کر چلنا چاہیے، جس کے لیے انگریزی تعلیم بہت ضروری ہے۔ لہٰذا، ہمیں اور ننھے میاں کو انگلش میڈیم اسکول میں داخل کروانے کا اعلان کیا گیا۔ ہم بھی یہ سن کر بہت خوش ہوئے اور نئے اسکول کے کئی سہانے خواب اپنی آنکھوں میں سجا لیے۔ لیکن پتا چلا کہ اسکول والے داخلے سے قبل انٹرویو لیتے ہیں۔ یہ خبر گھر والوں کے لیے تو پریشان کن نہیں تھی کیوں کہ وہ جانتے تھے کہ ہم کافی لائق فائق واقع ہوئے ہیں اور ہر سال کلاس میں پوزیشن لیتے ہیں لیکن اندر کی بات سے تو ہم اور ننھے میاں ہی واقف تھے مگر اب کیا کرتے۔ خیر…. ہمیں اپنے ٹیلنٹ پر پورا بھروسا تھا اور ہم پورے اطمینان سے انٹرویو دینے پہنچے۔ ہمیں اور ننھے میاں کو اکٹھے ہی طلب کیا گیا۔ انٹرویو والے کمرے میں داخل ہوئے تو پرنسپل صاحب ایک میز کے پیچھے براجمان تھے۔ ہم کو سامنے والی کرسیوں پر بیٹھنے کا اشارہ کیا۔ چند رسمی سوالات کے بعد ننھے میاں کی طرف متوجہ ہوئے اور پوچھا۔
”بیٹا! چاندنی کی انگلش تو بتائیے“۔ ہم ابھی جواب سوچ ہی رہے تھے کہ ننھے میاں جھٹ سے بولے۔ ”موننی“ اور پھر کچھ ایسی نظروں سے ہماری طرف دیکھا جیسے کہہ رہے ہوں کہ دیکھا! ایسے جواب دیتے ہیں۔ لیکن ہماری توجہ تو پرنسپل صاحب کی طرف تھی جو منہ کھولے ہمیں گھور رہے تھے۔ ہم بھی سمجھے کہ شاید وہ ہم سے اتنے مشکل سوال کے درست جواب کی توقع نہیں کر رہے تھے، اس لیے حیران ہیں۔ خیر…. چند لمحے بعد انہوں نے ہماری طرف توجہ کی اور پوچھا۔
”بیٹا! اب آپ اس فقرے کا انگلش میں ترجمہ کیجیے۔ صدر میں گولیاں چل رہی تھیں“۔ ہم نے چند منٹ سوچ کر دماغ میں فقرہ ترتیب دیا اور جواب میں کہا۔
“The bullets were walking in the president”
یہ سن کر پرنسپل صاحب چند لمحے ہمیں گھورتے رہے پھر شاید انہوں نے ہماری انگلش کو قابل اطمینان سمجھتے ہوئے دوسرے مضامین کی طرف توجہ کی اور پوچھا۔ ”چار جمع دو کتنے ہوتے ہیں؟“
”قریباً چھے“۔ ننھے میاں نے جواب دیا۔”قطب شمالی کہاں ہے؟“ ”جی قطب شمالی کا تو پتا نہیں لیکن قطبی ستارہ شمال میں ہوتا ہے تو یہ بھی وہیں کہیں ہوگا“۔ پرنسپل صاحب نے اپنے بالوں سے بے نیاز سر پر ہاتھ پھیرا پھر ہم سے پوچھا۔ ”بیٹا جی! سالانہ امتحان میں اردو کا مضمون کون سا لکھا تھا؟“
ہم نے جواب دیا، ”علامہ اقبال پر“۔ پرنسپل صاحب نے کہا، ”ذرا سنائیے تو“۔ ”علامہ اقبال صبح کے وقت سیالکوٹ میں ٹھنڈی ٹھنڈی ہوا میں پیدا ہوئے تھے“۔ ابھی یہیں تک پہنچے تھے کہ انہوں نے چپ کرا دیا اور جانے کی اجازت دے دی۔
ہم نے باہر آ کر سب کو خوش خبری سنائی کہ بہت ہی اچھا انٹرویو ہوا ہے اور داخلہ تو ایک طرف خصوصی وظیفہ بھی ملنے کی امید ہے۔ سب نے یہ سن کر خوشی کا اظہار کیا اور ہم سب گھر واپس آگئے۔
ہم بے صبری سے داخلے کی اطلاع کا انتظار کرنے لگے۔ چند دن بعد اسکول سے لیٹر آیا۔ چچا نے کھولا اور جیسے جیسے پڑھتے گئے، ان کا رنگ سرخ ہوتا گیا۔ ہم نے صورت حال کو بھانپتے ہوئے باہر کا رخ کیا ہی تھا کہ ان کی گرج دار آواز نے واپس آنے کا حکم دیا۔ آگے آپ خود سمجھ دار ہیں، جو کچھ ہوا ہوگا۔ پس…. یہ بات ثابت ہوگئی کہ یہاں ٹیلنٹ کی تو کوئی قدر ہی نہیں۔
ٹیلنٹ کی تو کوئی قدر ہی نہیں-صبیح الحسن

