”دیکھو بیٹا! محنت سے بڑھ کر کچھ بھی نہیں، اگر تم محنت کرو گے تو دنیا کی ہر چیز تمہارے لیے ہوگی“۔ احمد کی امی نے اسے سمجھاتے ہوئے کہا۔ ”محنت سے جی چُرانے والا کبھی کامیاب نہیں ہو سکتا اور نہ ہی اس کے دل کو سکون ملتا ہے۔ تم جو چیز محنت سے حاصل کرو گے، اس کی قدر کا اندازہ بھی تمہیں اچھی طرح ہوگا“۔ انہوں نے اب احمد کے سر پر ہاتھ پھیرتے ہوئے کہا۔ مگر احمد وہیں کا وہیں بیٹھا گیم کھیلتا رہا۔ اس پر امی کی باتوں کا گویا کوئی اثر ہی نہیں ہوا تھا۔
احمد اپنے ماں باپ کا اکلوتا چشم وچراغ تھا۔ سب کی آنکھوں کا تارا، سبھی گھر والے اس سے بہت پیار کرتے تھے۔ وہ جو بھی بات کہتا، اس کے گھر والے اسے لازمی پورا کرتے تھے۔ وہ اسے ہمیشہ خوش دیکھنا چاہتے تھے۔ یوں تو احمد بہت ہی پیارا بچہ تھا مگر کاہلی اس کی عادت کا حصہ بن چکی تھی۔ وہ محنت سے جی چراتا تھا۔ وہ چاہتا تھا کہ وہ ہر چیز اسے بغیر محنت کے مل جائے، ذہین ہونے کے باوجود پڑھائی میں دلچسپی نہیں لیتا تھا۔ وہ چاہتا تھا کہ جماعت میں ہمیشہ اوّل پوزیشن حاصل کرے۔ لیکن ایسا کیسے ہو سکتا تھا؟ کیوں کہ وہ محنت تو کرتا ہی نہیں تھا۔
ایک دن اسکول سے واپسی پر احمد کے کچھ دوستوں نے کہا کہ آج ہمارے ساتھ کھیلنے چلو۔ مگر احمد نے اپنی کاہلی وجہ سے منع کردیا۔ ارشد نے اس سے کہا بھی کہ ”استاد جی نے کہا تھا، ہمیں اپنے دماغ کے ساتھ ساتھ اپنی جسمانی فٹنس کا بھی خیال رکھنا چاہیے، ویڈیو گیمز سے دماغ بوجھل ہوتا ہے“۔ مگر احمد نے صاف انکار کردیا اور دوستوں کو خیرباد کہہ کر گھر کی طرف چل دیا۔
امتحانات میں کچھ روز باقی تھے۔ سب بچے خوب محنت کر رہے تھے۔ مگر احمد کا دل چوں کہ پڑھائی سے مکمل طور پر اچاٹ ہوگیا تھا لہٰذا، وہ بوجھل دماغ کے ساتھ کتابیں تکتا رہتا تھا۔ اس کا دوست ارشد جب اسے اپنے ساتھ پڑھنے کو کہتا تو کندھے اچکا کر جواب دیتا کہ مجھے نہیں پڑھنا، میں تو ایک دن پہلے ہی سب فٹافٹ یاد کر لوں گا۔ ارشد نے اس سمجھایا بھی کہ ایسے نہیں امتحان دینا ہوتا، اس کے لیے کچھ حاصل بھی ہونا چاہیے مگر احمد اسے اس کا جیلس پن سمجھتے ہوئے مزید انکار کردیتا۔
بالآخر وہ دن بھی آن پہنچا جب اگلے روز سے امتحانات شروع ہونے تھے۔ احمد نے تیاری کی بہت کوشش کی مگر اس کی سمجھ ہی میں نہیں آرہا تھا کہ کیا یاد کرے اور کیا نہیں۔ اسی پریشانی میں وہ پوری رات کچھ بھی نہ پڑھ سکا اور نہ ہی ٹھیک سے سو سکا۔ اسی کیفیت میں احمد نے پیپرز تو دے دیے مگر اسے معلوم تھا کہ وہ فیل ہوجائے گا اور وہی ہوا، یعنی جب رزلٹ آیا تو وہ بری طرح فیل تھا۔ اس پر گھر میں بھی اسے خوب ڈانٹ پڑی۔
اس دن سے وہ چپ چپ رہنے لگا۔ ایک دن دادا نے اسے اپنے پاس بلایا اور پوچھا، ”کیا بات ہے بیٹا! آج کل بہت چپ رہنے لگے ہو؟“ احمد، جو اتنے دن سے دل ہی دل میں اداس تھا، رو پڑا۔ ”کیا کروں دادا جان! میں نے بہت پڑھا تھا پر مجھے نہ یاد ہوا اور نہ میں پیپر میں کچھ لکھ پایا“۔ اس پر دادا جان نے کہا، ”ایسا نہیں ہو سکتا کہ تم نے یاد کیا اور وہ یاد نہیں ہوا، تمہارا طریقہ ٹھیک نہیں تھا۔ کیا تم نے کچھوے اور خرگوش کی کہانی پڑھی یا سنی ہے؟ خرگوش کو لگتا تھا کہ وہ کچھوے سے جیت جائے گا کیوں کہ کچھوا تو اس کے مقابلے میں بہت آہستہ چلتا ہے، جب کہ وہ تو قلانچیں بھر کے چشم ِ زدن میں کہیں سے کہیں پہنچ جاتا ہے۔ مگر وہ ہار گیا، اس کی وجہ یہ تھی کہ وہ سست او رکاہل تھا۔ جب کہ اس کے مقابلے میں کچھوا اگرچہ کم زور تھا، اس کی چال دھیمی تھی مگر وہ محنتی تھا۔ وہ نہ رکا اور نہ آرام کیا بلکہ اپنے ہدف کی جانب بس چلتا رہا“۔
دادا جان کی بات سن کر احمد کو اپنے وہ الفاظ یاد آگئے، جو اس نے اپنے دوستوں سے کہے تھے۔ ’میں ایک رات ہی میں سب یاد کر لوں گا۔‘ اور وہ ایسا نہیں کر پایا تھا۔ اب اس کی سمجھ میں آگیا تھا کہ سستی سے انسان ہمیشہ ہارتا ہی ہے۔ اس نے دادا جان سے وعدہ کیا اب وہ کبھی سستی اور کاہلی نہیں دکھائے گا۔ اگلے ہی روز سے احمد نے اپنی کلاس میں پڑھائی کا آغاز کردیا۔ اس بار احمد کلاس کا بہترین طالب علم تھا۔ سال کے اختتام پر احمد نے نہ صرف پہلی پوزیشن حاصل کی بلکہ کم چھٹیاں کرنے پر اسٹوڈنٹ آف دی ایئر کا ایوارڈ بھی حاصل کیا۔
٭……٭……٭
محنت سے ہی کامیابی ملتی ہے-طیبہ شیریں

