Site icon Writers Club Pakistan

کامیاب کیسے ہوں؟

تحریر: ڈاکٹر تصنیف عزیز، دہلی

اس چند روزہ زندگی کی حقیقت کیا ہے، اس بات سے اگرچہ ہر شخص واقف ہے، پھر بھی اس فانی دنیا میں ہر شخص ایک کامیاب زندگی گزارنے کا خواہش مند نظر آتا ہے۔ دنیاوی جاہ و مرتبے میں ایک دوسرے سے سبقت لے جانے میں کوشاں رہتا ہے حتیٰ کہ کامیابی کی یہ دُھن آدمی کی عقل کو ماؤف کر دیتی ہے، جس کی باعث اُسے صحیح غلط میں پہچان باقی نہیں رہتی اور انسان صرف اس دنیا کی عارضی زندگی میں ہی محو ہو کر رہ جاتا ہے۔ دوسرے جہاں کی ابدی زندگی کو یکسر بھول جاتا ہے جبکہ ایک عاقل شخص جانتا ہے کہ اصل کامیابی اللہ کے بتائے ہوئے طریقے میں پوشیدہ ہے۔ وہ اعمال کرنے کا حکم جس سے دنیا و آ خرت کی کامیابی میسر آئے، لہذا وہ اس کامیابی کو حاصل کرنے کے لئے ہمہ تن مصروف با عمل رہتا ہے۔

کافر کی یہ پہچان کہ آفاق میں گُم ہے

مومن کی یہ پہچان کہ گُم اس میں ہیں آفاق

ہر انسان میں بہت سی خوبیاں اور صلاحیتیں موجود ہیں اور کامیابی کا راز انہیں صلاحیتوں کو بروئے کار لانے میں پوشیدہ ہے اور محنت، لگن و جستجو پر اس کامیابی کا انحصار ہے۔ قرآن پاک میں ارشاد ہے”کہ انسان کو وہی کچھ ملتا ہے، جس کی وہ کوشش کرتا ہے۔“یوں بھی اللہ تعالیٰ نے اس دنیا میں کس کو بھی بے کار پیدا نہیں کیا، ضرورت صرف اس بات کی ہے کہ ہر شخص اپنی صلاحیتوں کو پہچانے اور اپنے مقصد کو پورا کرنے کے لئے ہمّت اور محنت سے آگے بڑھے۔ انسان اپنی فطرت کے لحاظ سے ایک پروانے کی مانند ہے جو کسی نہ کسی مقصدکی خاطر اپنے آپ کو جلا رہا ہوتا ہے۔ یوں بھی کامیابی کی منزل تک پہچنے کے لئے ضروری ہے کہ

مٹادے اپنی ہستی کو اگر کچھ مرتبہ چاہے

کہ دانہ خاک میں مل کر گل وگلزارہوتا ہے

لیکن جنہیں پہلے سے ناکامی کا خوف ہو اور محنت سے گھبراتے ہوں ایسے لوگ کامیاب نہیں ہو سکتے۔ اس کے برعکس جو لوگ نہ ناکامی سے ڈرتے ہیں اور نہ محنت سے گھبراتے ہیں،کامیابی ایسے لوگوں کا مقدر ہوتی ہے۔کیونکہ ان کا توکّل ہمیشہ اللہ سبحان تعالیٰ پر رہتا ہے اور انہیں یقین ہوتا ہے، اللہ تعالیٰ کسی کی محنت کو ضائع نہیں کرے گا۔ اس لئے یہ کبھی حوصلہ نہیں ہارتے اور کامیاب منزل کے حصول کے لئے مسلسل کوشاں رہتے ہیں۔

بحر حال یہ واضح ہے کہ کسی بھی کام کے شروع میں کوئی بھی شخص یہ دعویٰ نہیں کر سکتا کہ وہ اس کام میں کامیاب ہوگا یا نہیں، اسی لئے جب کوئی اپنے مقصد میں کامیابی حاصل کرنے کے لئے سفر کا آغاز کرتا ہے تو اُسے راستے میں طرح طرح کے حالات سے گزرنا پڑتا ہے۔ ایسے میں دشوار گزار مرحلے بھی آتے ہیں اور آسان ترین بھی۔ ان مرحلوں سے کس طرح نبردآزما ہونا ہوتا ہے۔ وہ سب حالات انسان کو سکھاتے ہیں اس شرط کے ساتھ کہ عزائم میں پختگی اور حوصلوں میں مضبو طی ہو۔ اور یہ حالات ہی ہیں جو انسان کے ارادوں کو مضبوطی بخشتے ہیں۔اور ایسے میں نا امیدو ناکامی کے خیالات بھی انسان کی سوچ سے دور رہتے ہیں۔ ضرورت صرف اپنی سوچ کو مثبت بنانے کی ہے۔

وہی دیرینہ بیماری وہی نامحکمی دل کی
علاج اس کا وہی آب نشاط انگیز ہے ساقی
نہیں ہے نا امید اقبال اپنی کِشتِ ویراں سے
ذرانم ہو تو یہ مٹی بہت ذرخیز ہے ساقی

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

نوٹ: تحریر سے متعلق مندرجہ ذیل ای میل پر اپنی رائے دے سکتے ہیں۔

tasneefaziz24@gmail.com

Exit mobile version