Site icon Writers Club Pakistan

مسکرانا سیکھیے

Group of happy Gypsy Indian children - desert village, Thar Desert, Rajasthan, India.

تحریر: آدرش نواز (رکن)

کبھی کہا جاتا تھاکہ”مسکرائیے ، آپ لکھنؤ میں ہیں”، آج بھی یہ تحریر کہیں کہیں نظر آتی ہے۔ مسکرانا سنت بھی ہے اور اس بات کی دلیل بھی کہ آپ اپنی زندگی سے خوش اور مطمئن ہیں

مسکراہٹ ایک ایسا اوزار ہے جو ہمارے مضبوط ہونے کی گواہی دیتا ہے۔ پردہ پوشی کرنا ایک بہت اچھی صفت ہے اللّٰہ رب العزت بھی عیبوں کی پردہ پوشی کرنے والوں کو پسند فرماتا ہے۔ ہمیں نہ صرف دوسروں کے عیبوں کی پردہ پوشی کرنی چاہیے بلکہ اپنے دُکھوں اور پریشانیوں کو بھی دوسروں سے چھپانا چاہیے کیونکہ یہ نفسا نفسی کا دور ہے یہاں کوئی اتنا مخلص نہیں جو آپکے غم کو اپنا غم سمجھے. یہ وقتی دلاسے یہ چند ہمدردی کے بول آپ کی شخصیت کو آپکے وقار کو ہلکا کر دیتے ہیں ۔آپ اپنے اندر چاہے جتنے دکھ لئے ہوئے ہوں، جتنی مرضی آپ پریشانیوں میں گِھرے ہوئے ہوں آپکے دل کی بھلے کتنی کرچیاں بکھری پڑی ہوں مگر آپ کو کمزور نہیں دِکھنا۔ ہم اچھا بننے کی اداکاری تو خوب کر لیتے ہیں تو پھر خوش دِکھنے کی کیوں نہیں ؟ ہماری پریشانیوں ہمارے دُکھوں سے کسی کو کوئی سروکار نہیں۔ آپ کے چہرے کے تاثرات دیکھ کر لوگ یہ اندازہ لگا لیتے ہیں کہ گویا یہ شخص گپ شپ لگانے کی پوزیشن میں ہے بھی یا نہیں۔مسکرانا سیکھیے۔ مجھے آج بھی یاد ہے کالج کا وہ دن جب ہماری اسلامیات کی پروفیسر ہمیں لیکچر دے رہی تھی تو کلاس کی بچیوں نے اُن سے پوچھا تھا کہ میم آپ اتنی ڈارک لپ اسٹک کیوں لگاتی ہیں تو میم نے مسکراتے ہوئے بڑا حیران کن جواب دیا تھا۔ انہوں نے کہا بچے یہ وقت کے ساتھ ساتھ اور ڈارک ہوتی جائے گی اور کہا کہ بیٹا ایک بات ہمیشہ یاد رکھنا کہ اس معاشرے میں عورت کو بہت سے چیلنجر کا سامنا کرنا پڑتا ہے تو جب بھی زندگی میں آپ یہ محسوس کرنے لگیں کہ اب دکھ اور پریشانیاں بہت زیادہ ہونے لگے ہیں تو لپ اسٹک ڈارک کر لینا اسے اگلا بندہ یہی سمجھے گا کہ آپ بہت خوش اور مطمئن ہیں۔ ان کی یہ بات مجھے آج اپنی زندگی میں بہت پُراثر لگتی ہے۔ ہمیشہ دُکھوں کو مات دیں،لوگوں کے تلخ رویوں کو نظر انداز کریں اور مسکراہٹ کو اپنا فیشیل ماسک سمجھ لیں۔یوں سمجھیں کہ اسے آپ کا چہرہ نکھرے گا۔ کیونکہ لوگ تو ہمیشہ باتیں کریں گے، تنقید جاری رکھیں گے لیکن جب آپ انکی باتوں کا انکی تنقید کا جواب مسکرا کر نظر انداز کرنے کی صورت میں دیں گے تو یقیناً یہ جواب اس شخص کو بھی لاجواب کر دے گا۔ زندگی میں خوش اور مطمئن دِکھنے کیلئے مسکراہٹ ہمیشہ اپنے چہرے پر سجائے رکھیں۔ باقی دل کی کیفیات کو سمجھنے کیلئے رب کی ذات موجود ہے نہ۔ بیشک وہ آپکے غموں کو خوشیوں میں بدلنے کی قدرت رکھتا ہے

Exit mobile version