اللہ تعالیٰ نے انسان کو اپنا نائب بنا کر دنیا میں بھیجا اور اسے علم وعقل عطا کیا تاکہ وہ غور وفکر کرے اور اللہ کی نشانیاں تلاش کرے۔ انسان معرفت الٰہی حاصل کرنے کے لیے تلاش کہاں سے شروع کرے، کس شے پر غور وفکر کرے؟ انسان کو چاہیے کہ اس تلاش کی شروعات اپنی ذات سے کرے۔
یہ جاننے کی کوشش کرے کہ میں کیا ہوں، کیا صرف ایک خاک کا پتلا یا فقط آدم زاد، جو چند سانسیں مستعار لے کر اس روئے زمین پر آبسا اور چند سال عیش وعشرت میں گزار کر واپسی کی راہ لی؟ کیا بس یہی میرا مقصد ِ حیات ہے۔ چند دن کی دوڑ دھوپ اور روکھی سوکھی کھا کر غفلت کی چادر تان کر سو جانا؟ کیا فقط یہی منشائے الٰہی تھی کہ وہ ایسا نائب تخلیق کرے جو اپنے مقصد ِ تخلیق تک سے آگاہ نہ ہو۔ جسے اپنی ذات میں مخفی صلاحیتوں کا علم تک نہ ہو۔
یہ سوال جب میں نے خود سے کیا تو میرے اندر سے جواب آیا، نہیں۔ رب تبارک وتعالیٰ نے روئے زمین پر موجود حشرات الارض کو بھی بے مقصد تخلیق نہیں کیا پھر میں تو اشرف المخلوقات ہوں، نیابت ِ الٰہی کے منصب پر فائز ایسی مخلوق، جسے اللہ نے عقل وشعور اور علم سے نوازا ہے۔
اس جواب نے میرے اندر خودشناسی کے جذبے کو پیدا کیا کہ آخر میں بھی تو جانوں کہ میں کیا ہوں اور کیوں ہوں؟ پھر میں نے اپنے مقصد ِ حیات کی تلاش شروع کردی کہ خودشناسی ہی بالواسطہ یا بلا واسطہ وہ سیڑھی ہے جو مجھے مقصد ِ تخلیق ِ کائنات سے آگہی فراہم کر سکتی ہے۔
خود آگہی کے اس سفر کی شروعات میں، میں نے اپنے ظاہر وباطن کو ٹٹولا، اپنی ذات کے شب وروز کو پرکھا۔ اس تلاش کے دوران میرے علم میں یہ بات آئی کہ انسان جب تک خودآگہی کے مرحلے سے نہیں گزرتا، وہ خود کو جان نہیں لیتا، تب تک وہ جان ہی نہیں سکتا کہ اس کا مقصد ِ حیات ومقصد ِ تخلیق کیا ہے۔
میں نے اپنی ذات کی خوبیوں اور خامیوں کو جانچا، دن رات اپنی ذات کا مطالعہ کیا۔ خودآگہی کے اس سفر میں مجھ پر اپنی ہی ذات کے بارے میں کئی راز افشا ہوئے۔ کئی خامیوں سے بھی آگہی حاصل ہوئی۔ بالآخر میں نے جانا کہ اللہ نے مجھ میں دیگر کئی صلاحیتوں کے ساتھ تخلیقی صلاحیت بھی پوشیدہ رکھی ہے۔ ایک حسّاس دل دیا ہے اور جذبات کو قرطاس پر رقم کرنے کی صلاحیت ودیعت کی ہے۔ میری خودشناسی نے مجھے میری ذات کے اندر مخفی قلم کارسے متعارف کروایا اور میں نے جانا کہ یہی میرا مقصد حیات ہے۔
یہ سوال بہت اہمیت کا حامل ہے کہ میرا لکھاری ہونا میرا مقصد حیات کیسے ہے؟ کیوں کہ انسان کی تخلیق کا مقصد تو رب تبارک وتعالیٰ قرآن کریم میں بیان کرچکا ہے۔ چناں چہ ارشاد ہوتا ہے، ”اور میں نے جن اور آدمی بنائے تاکہ وہ میری بندگی کریں“۔ (سورۃ الذریات:56) یہاں اس آیت کریمہ میں اللہ تعالیٰ نے انسان کی تخلیق کا بنیادی مقصد بیان فرمایا، جو عبادت ِ الٰہی ہے۔
اب اگر ہم عبادت کو سمجھیں تو لفظ عبادت کا مفہوم بے حد وسیع ہے۔ اس میں فقط نماز، روزہ اور فرائض ِ حج شامل نہیں بلکہ دین اسلام میں تو کسی کو مسکرا کر ملنا بھی عبادت ہے، کسی کو پانی پلانا بھی عبادت ہے اور کسی کی اصلاح کرنا بھی عبادت ہے، کسی کے راستے کی تکلیف دور کرنا بھی عبادت ہے۔
میں کیا ہوں اور کیوں ہوں؟ اس سوال کا جواب مجھے اپنے سفر ِ خودآگہی میں ملا کہ میں وہ اشرف المخلوقات اور نائب ِ خدا ہوں، جو اپنے قلم سے اصلاح ِ معاشرہ کا فریضہ سرانجام دے رہی ہے۔ میں وہ مصلح ہوں، جس کے قلم کا مقصد دین وملت کے لوگوں کی اصلاح ہے۔
میں وہ قلم کار ہوں جس کا قلم ہی بوقت ِ ضرورت اس کا ہتھیار ہے اور یہی میرا مقصد ِ حیات ہے کہ میرے قلم سے لکھے گئے الفاظ اگر کسی کی زندگی میں مثبت تبدیلی لانے یا کسی کی اصلاح کا باعث بنتے ہیں تو یہی میری عبادت ہے۔
اس دور ِ جدید میں ملک وملت کے خلاف آئے دن کئی قسم کے فتنے سر اٹھا رہے ہیں اور اسلام دشمن گروہ مسلمانوں کی صفوں میں گھس کر لادینیت پھیلا رہے ہیں۔ اس پُرفتن دَور میں بحیثیت قلم کار یہ میری اور ہر اس شخص کی ذمے داری ہے جسے اللہ کی جانب سے یہ صلاحیت عطا ہوئی ہے کہ وہ جہاد ِ بالقلم کر کے ان فتنہ پرور لوگوں کو منہ توڑ جواب دے اور ہر حال میں اپنا یہ کام جاری رکھے۔
درحقیقت یہی اقبال کا پیغام خودی بھی ہے، جس میں وہ انسان کو اپنی ذات کی معرفت حاصل کرنے کی تلقین کرتے ہیں۔ ہم میں سے کئی لوگ ہیں جو آج بھی اپنی مخفی صلاحیتوں سے ناآشنا ہیں۔ ناآشنا ہونے کی کئی وجوہ ہوسکتی ہیں۔
ہم نے خود کو اس مشینی زندگی اور نفسانفسی کے دور کا حصہ بنا لیا ہے۔ اب ہمارے پاس نہ اپنوں کے لیے وقت ہے اور نہ ہی اپنی ذات کے لیے یا پھر ہم خودشناسی کو اہم نہیں سمجھتے اور جیسا ہے، جہاں ہے، کی ڈگر پر زندگی بسر کرنا چاہتے ہیں۔
خودآگہی بلاشبہ ایک مشکل عمل ہے۔ اس مرحلے کے دوران ہمیں ہماری ذات کے ان منفی پہلوؤں سے بھی آگہی ہوتی ہے، جنہیں ہم بعض اوقات جان کر بھی نظرانداز کر دیتے ہیں۔ میں نے اس سفر کے دوران یہ جانا کہ خودشناسی، کام یاب زندگی کی کنجی ہے۔
خود سے ملنے کا چلن عام نہیں ہے ورنہ
اپنے اندر ہی چھُپا ہوتا ہے رستہ اپنا

