Site icon Writers Club Pakistan

سقوط ڈھاکہ، ایک سانحہ (طیبہ سلیم)

سفوط ڈھاکہ تاریخ کا ایک ناقابل فراموش سانحہ ھے جس کی تپش أج بھی محسوس ہوتی ہے ۔انہی ہتھیاروں سے لیس جملے اب بھی کبھی کبھی سنائی دیتے ہیں ۔تعصب۔جغرافیائی عدم تحفظ کی چنگاری ہی تھی جس کو بڑھکا کر آگ بنا دیا گیا۔ اردو، بنگالی مراعات کی آگ میں جھونک کر کتنی آسانی سے اپنا بازو دشمن کے حوالے کر دیا۔ اپنے ہی بھائیوں کے خلاف جنگ کی چنگاری بڑھکانے میں بھارت ہی ملوث تھا۔ مسلمان تو تعصب سے بالاتر ہوکر صرف لا الہ کی بنیاد پر پاکستان کے لئے ایک ہوئے تھے۔
ہمارے درمیاں ذات پات و رنگ و نسل نے ہماری بنیادوں کو کمزور بنا دیا اور اپنے ہی بھائی سے برسرپیکار ہوگئے۔ معاملہ افہام و تفہیم سے سلجھایا جا سکتا تھا لیکن دشمن کو تو کچھ اور ہی مطلوب تھا اور اسی آگ کو بڑھکا کر ہمارے ہی لباس میں دشمن ہماری صفوں میں شامل ہو چکا تھا اور اس جنگ کو اس دستاویز پر دستخط کر کے ٹھنڈا کرنے کی کوشش کی کہ بنگلہ دیش اپنی علیحدہ ریاست بنائے گا۔
وہ بنگلہ دیش جو ایک کلمے کی بنیاد پر ایک ہوا تھا۔ وہ ہم سے الگ ہوگیا۔ ہماری اتنی بڑی قوت ہم سب جدا ہو گئی۔ انساں تاریخ کے تجربات سے سیکھتا ہے۔ ان عناصر کو دوبارہ نہیں بڑھکاتا جس کی چنگاری سے پہلے بھی آگ لگ چکی ہو، مہاجر ، سندھی، پنجابی، پٹھان، کشمیری یہ سب ہماری پہچان تو ہے لیکن یہ سب ملتے ہیں تو پاکستان بنتا ہے۔ کسی بھی ایک کے ساتھ ناروا سلوک ہمیں زیب نہیں دیتا۔
1971ء کی جنگ میں اسی تعصب کا فائدہ دشمن عناصر نے اٹھایا۔ ہمیں اس تاریخی سبق کو یاد رکھنا چاہیۓ اپنی تعلیمی نصاب میں اس کا اندارج کرنا چاہئے تاکہ ہماری نسل اس سبق  کو کبھی فراموش نہ کر سکے۔
Exit mobile version