Site icon Writers Club Pakistan

سچی محبت (امن بنتِ اکبر)

دن کے گیارہ بج چکے تھے لیکن سورج کا کوئی نام و نشان نہ تھا۔ پہاڑوں، درختوں یہاں تک کے سڑک پر بھی آسمان سے گرتی برف اپنا لحاف اوڑ رہی تھی۔ اگرچہ دسمبر کا موسم بہت سرد ہوتا ہے مگر ساتھ ہی یہ ایک خوشگوار تبدیلی ہوتی ہے۔ جس سے ہر ذی روح لطف اندوز ہوتا ہے۔
گھر کی بالائی منزل پر کھڑے ہو کر تقریباً پورے شہر کا نظارا کیا جا سکتا ہے۔حدِ نگاہ تک اسے جتنے بھی لوگ دیکھائی دیے ان کے چہرے پر خوشی کے سوا کوئی تاثر نہ تھا۔وہ لوگ خود کو سر تا پاٶں اچھی طرح ڈھانپے دلکش موسم سے لطف اندوذ ہو رہے تھے کچھ لوگ برف کے گولے بنا کر اسے ایک دوسرے کی اور پھینک رہے تھے اور کچھ انہیں ہوا میں اچھال کر اپنی تصاویر بنانے میں مصروف تھے۔
ان سب کے باوجود کھڑکی میں کھڑا وجود اُداس تھا ۔ہلکے پنک رنگ کے ٹرائوزر شرٹ پہنے وہ بنا شال لیے ماضی کی تلخ یادوں میں کھوئی نا چاہتے ہوئے بھی سارا منظر دیکھے جا رہی تھی۔ اس کے ہاتھ میں پکڑی کافی کب کی کھڑکی سے آنے والی سرد ہوا کی نظر ہو گٸ تھی۔ اگر اس وقت کمرے میں بشر نامی کوئی چیز ہوتی تو اب تک جسم کو چیر دینے والی سردی کے باعث اللہ کو پیاری ہو گٸ ہوتی۔ ابھی اس کی یادوں کا قفل ٹوٹا نہ تھا کہ ایک جھٹکے سے سامنے کا منظر غائب ہو گیا۔

”توبہ ہے بھئی ہم کب سے تمہارا انتظار کر رہے ہیں اور تم ادھر پتھر کا مجسمہ بنے کھڑی ہو“
عاصم نے کھڑکی کا پردہ سیدھا کیا اور منہ بسورتے ہوئے اس سے مخاطب ہوا۔
”تم۔۔۔۔۔تم کب آئے؟“رومی نے الٹا سوال کر ڈالا۔
”کہاں؟ یہاں یا تمہارے دل میں؟“
رومی نے ایک نظر اسے دیکھا۔ وہ اسے ہی دیکھ رہا تھا اس کے لہجے کے ساتھ ساتھ چہرے پر بھی شرارت کے رنگ نمودار تھے اور پھر ایک نظر اپنی کافی پر ڈالی جو اس وقت اسے زہر لگ رہی تھی۔
”بیٹھو۔۔۔۔۔“ہاتھ کے اشارے سے کہتی ہوئی وہ اس سے سامنے بیٹھ چکی تھی۔
”جب تمہیں کافی پسند نہیں تو کیوں پیتی ہو۔“ وہ تھوڑا سنجيدہ ہوا تھا۔
”اس لیے کے میں چائے سے شرمندہ ہوں۔ “رومی نے ہلکی سی مسکراہٹ کے ساتھ سامنے پڑے کافی کے کپ کو دیکھتے ہوۓ کہا۔
”جن سے محبت ہوتی ہے ان سے شرمندہ نہیں ہوا جاتا ان پر اپنا حق جتایا جاتا ہے۔ انہیں اپنا لیا جاتا ہے اور۔۔۔۔“
اس سے پہلے کے عاصم اپنا فقرہ مکمل کرتا طوبٰی چاۓ لیے اندر داخل ہوئی۔
”لو بھئی انہی محترمہ کو یاد کیا جا رہا تھا بڑی لمبی عمر ہے بھئی چائے کی۔“ وہ اپنے مخصوص انداز میں ہنستے ہوئے بولا۔ اور طوبٰی مسکراتے ہوئے ٹرے ٹیبل پر رکھ کر چلی گٸ۔

”تو تم نے اب کیا سوچا، آگے زندگی میں کیا ارادہ ہے؟؟“
جب ان دونوں کے درمیان خاموشی طویل ہوٸ تو اسم نے گلا کھنکھارتے ہوئے بات شروع کی۔
”ہمممم۔۔۔۔۔میرے پاس سوچنے یا کرنے کو اب کچھ بھی نہیں رہا عاصم! زندگی جیسے ختم ہی ہو گٸ ہو۔۔۔۔۔۔
جینے کی کوئی امید نظر نہیں آرہی۔۔۔۔۔ دل ہر چیز سے عاجز آ چکا ہے۔“
وہ تھوڑے توقف سے بولی اورجب بولنا شروع ہوئی تو بولتی ہی چلی گئی کیونکہ وہ جانتی تھی اس پوری دنیا میں اس کے علاوہ کوئی اسے سن یا سمجھ نہیں سکتا۔ یہ بات دیر سے ہی سہی مگر اس کی سمجھ میں آگٸ تھی۔

”رومی میری طرف دیکھو۔“وہ التجائیہ لہجے میں گویا ہوا۔
جو ہوا وہ ماضی کا حصہ ہے اور ماضی کو دھرانا سہی نہیں۔خواب دیکھنا غلط بات نہیں ہے رومی، ان کے پیچھے بھاگنا اور ان سے ضد کرنا غلط ہے اور خواب بھی ایسے جو دوسروں کے دیکھائے ہوئے ہوں۔ اپنی آنکهوں کے ہوں ہی نا۔۔۔۔۔جو ہوا اسے بھول جائو ۔زندگی میں آگے بڑھو۔“
کہنیوں کو گھٹنوں پر ٹکاۓ بازو کہنیوں تک موڑے وہ تھوڑا آگے جھک کر اسے سمجھا رہا تھا۔۔۔۔”
ہر بات نہیں بھلائی جاسکتی عاصم! یہ تم بھی جانتے ہو کچھ غلطیاں مرتے دم تک پیچھا نہیں چھوڑتیں۔ کچھ سزائیں زندگی میں ہی بھگتنی ہوتیں ہیں۔۔۔۔ بعض آنکهوں کے نصیب میں فقط جلنا لکھا ہوتا ہے۔۔۔۔۔ بعض دل صرف دکھنے کے لیےہی ہوتے ہیں۔ میں چاہ کر بھی اپنی غلطيوں کا مداوا نہیں کر سکتی۔“
باغی آنسوئوں نے خوبصورت آنکھوں کا بند توڑا اور گلاب جیسے نرم گالوں کو سیراب کرنے لگے۔ وہ رو رہی تھی اور اس کے آنسو اس کے دامن پر نہیں بلکہ سامنے بیٹھے شخص کے دل پر گر رہے تھے جن کی گرماہٹ اسے بے چین کر رہی تھی اور اس کا دل تڑپ تڑپ کر کہہ رہا تھا۔
”رومی اگر تم اپنا آپ مجھے سونپ دو تو میں کسی قیمتی متاع کی طرح تمہاری حفاظت کروں گا تمہاری آنکهوں کو خوبصورت خوابوں کی بُنتی کے لیے قاٸل کروں گا میرا یقین کرو۔ میں ہر دکھ کا مداوا کروں گا اور تمہارے ذہن سے ماضی کی دھول اڑاتی گرد کو مٹا دوں گا۔“
”رومی خدارا اپنی اس قید سے باہر نکلو دیکھو۔۔۔۔! سب تم سے کتنا پیار کرتے ہیں تمہارے انتظار میں ہیں کہ تم ان پر اپنا حق جتائو۔“
جب رومی نے اپنے آپ کو تھوڑا سنبھالا تو اس نے رومی کے ہاتھ پر اپنا ہاتھ رکھتے ہوئے قدرے دھیرے لہجہ میں درخواست کی۔
”کیا سب پیار کرتے ہیں؟“رومی نے آنکهوں میں امید لیے ایک آخری سوال کیا تھا۔
عاصم نے اسے بہت غور سے دیکھا یوں کے جیسے پہلی بار دیکھ رہا ہو اس کے ہاتھ پر رکھا اپنا ہاتھ اب تک وہ اٹھا چکا تھا۔
”ہاں۔۔۔۔سب۔“
”اور تم۔۔۔۔۔۔؟“چہرے پر بلاَ کی معصومیت سجائے وہ اس سے شاٸد کوٸ حلف لے رہی تھی۔
”ہاں۔۔۔۔میں بھی۔۔۔۔۔تم سے بہت پیار کرتا ہوں اور کرتا رہوں گا بشرطیکہ کے تم میرے سامنے نہیں میرے ساتھ بیٹھو۔۔۔۔“دھیمے لہجے میں بولتا وہ سیدھا رومی کے دل میں اتر رہا تھا اور پھر خوبصورتی کےساتھ اظہار کرتا وہ اپنی گہری نظریں جھکا گیا۔
وہ ایسا ہی تھا محبت کرنے والا مان رکھنے والا اعتبار کے قابل المختصر وہ ایک بہترین مرد تھا۔جو کسی کا ماضی نہیں اچھالتا تھا۔ جس کے پاس بناوٹی لہجہ نہیں تھا۔ وہ واجب المحبت تھا۔ کوئی کیسے نہ اس سے محبت کرتا۔

”بھاٸ آپ کو پھپھو بُلا رہیں ہیں۔“طوبی نے دھڑ سے کمرے کا دروازے کھولا تو وہ دونوں یوں چونکے جیسے کوئی چوری پکڑی گٸ ہو۔اس کے جاتے ہی ان دونوں نے ایک دوسرے کو دیکھا اور ایک ساتھ بھر پور قہقہہ لگایا۔
”اچھا اب میں چلتا ہوں کل آئوں گا۔“
یہ کہتے ساتھ ہی وہ ٹیبل سے چابیاں اٹھاتے ہوئے بولا۔
جاتے جاتے رکا جیسے کچھ بھول گیا ہو۔رومی نے سوالیہ نظروں سے دیکھا جیسے پوچھ رہی ہو ”کیا ہوا؟“
”وہ نیچے سب تمہارے جواب کے منتظر ہیں۔ میں کیا کہوں؟ “وہ اس کی کیفیت سے محظوظ ہو رہا تھا۔
”انہیں کہنا سچی محبتیں جیت جایا کرتی ہیں اور میں جیت گیا۔ “اعترافِ محبت اس کی آنکهوں کی چمک بڑھا گیا۔
محبت کے سامنے محبت کا اظہار ایک حسین لمحہ تھا۔
یہ کہتے ہوئے وہ چائے کو بڑی محبت سے دیکھ رہی تھی اور عاصم اپنی مسکراہٹ ضبط نہ کر پایا۔
آج ایک محبت پایہِ تکميل تک پہنچ گٸ تھی۔ ”تمہاری محبت کی عمر دراز ہو عاصم۔ “چائے کو کپ میں ڈالتے ہوئے اس نے دھیرے سے کہا۔
جسے گھڑی کی ٹک ٹک نے ٹھہر کر سنا۔ اس کے ہونٹوں سے ہنسی جدا نہیں ہو پا رہی تھی۔

 

Exit mobile version