Site icon Writers Club Pakistan

رنگ محل کی پانچ قسطوں پر مختصر ری ویو

آج ہم آپ کو جیو کے ایک سپر ہٹ ڈرامے رنگ محل کی پانچ اقساط کا ایک ساتھ ریویو بتائیں گے۔

رنگ محل کی پچاس ویں قسط میں ماہ پارہ جو کہ ایک فرم میں بزنس اپلائنگ اینڈ اسٹریٹجک ہیڈ ہیں نے فضل بلڈرز کی فائل کو ری جیکٹ کروایا تھا جس کے لیے رائید اس سے بات کرنے کے لیے آتا ہے۔

اس وقت تک رائید کو معلوم نہیں ہوتا کہ جس افسر سے ملنے جارہا ہے وہ ماہ پارہ ہے، جیسے وہ آفس میں آتا ہے اس کا سامنا ماہ پارہ سے ہوتا ہے اور پھر وہ بس دیکھتا رہ جاتا ہے اور وہاں سے غصے سے نکل کر گھر چلا جاتا ہے جہاں وہ اپنے گھر میں بھی غصہ کرتا ہے۔

دوسری جانب بھابھی حاجرہ اپنی ساس کے ساتھ سارہ کےگھر آئی ہوئی ہوتی ہیں توجہاں سارہ اور بھابھی آپس میں باتیں کررہی ہوتی ہیں کہ اتنے میں کچھ گرنے کی آواز سنائی دیتی ہے، وہ دونوں باہر آکر دیکھتی ہیں تو نوکرانی سے کچھ سامان گر جاتا ہے جو کہ سامنے بکھرا پڑا ہوتا ہے اس میں ایک بریسلٹ بھی ہوتا ہے اسی جگہ رائید کی ماں بھی موجود ہوتی ہیں جو دیکھ کر پوچھتی ہیں کہ یہ کس کا سامان ہے جس پر سارہ اور اس کی ماں اسے معاملے کو ٹالنے کی کوشش کرتی ہیں،

اکیاون قسط میں حاجرہ اس بات پر خوش ہوتی ہیں ماہ پارہ اور دادی شہر سے چلی گئی ہیں،

رائید ابھی تک پریشان ہوتا کہ گھرمیں سب اس پر حیران ہوتے ہیں کہ رائید کو آخر ہوا کیا ہے۔

پھر اس کی ماں کمرے میں آکر اس سے پوچھتی ہے تو وہ بتاتا ہے کہ ماہ پارہ زندہ ہے او رمیں اسے دیکھ کر آیا ہوں، یہ بات اس کی ماں سن کر حیران رہ جاتی ہے

لیکن رائید ایک بار پھر ماہ پارہ کے آفس زبردستی گھس آتا ہے جس پر ماہ پارہ اسے کہتی ہے کہ جاکر میرے لگائے گئے الزامات پر مجھے غلط ثابت کردیں تو میں مان جائوں گی اور پھر گارڈ بلاکر اسے باہر نکال دیا جاتا ہے

دوسری جانب رائید کی ماں بھی اس بات پر خاصی پریشان ہوتی ہے کہ وہ ماہ پارہ کے متعلق سنجیدگی سے سوچنے لگتی ہے اور ساتھ ہی اسے پھر سے سارہ کے گھر میں بریسلٹ والا سین یاد آ جاتا ہے جو اس کے ہاتھ میں ہوتا ہے اسی اثنا سارہ آجاتی ہے تو رائید کی ماں اس سے پوچھتی ہے جبکہ اسی وقت بھابھی بھی پہنچ جاتی ہے۔

بھابھی بریسلٹ پر ایک نیا ڈرامہ کرتی ہے اور کہتی ہے یہ میرا ہے گم ہو گیا تھا

قسط باون میں

بھابھی اور سارہ دوسرے کمرے میں باتیں کررہے ہوتے ہیں کہ رائید کی ماں بھی یہ باتیں سن رہی ہوتی ہیں

اسی دوران وہ بتاتی ہیں کہ یہ بریسلٹ مجھے کسی نے گفٹ دیا تھا اور جس نے دیا تھا وہ مرچکی ہیں

سہیل کی ماں اسے کہتی ہیں کہ آپ اور حاجرہ کہیں ڈنر پر چلے جائیں،پھر وہ رائید سے بات کرتی ہیں کہ وہ سارہ سے ملیں اور ان کے ساتھ بات چیت کریں ساتھ رہیں

لیکن وہ غصہ ہوکر چلا جاتا ہے۔

اس دوران سہیل آتا ہے اور پھر جا کر بات کرتا ہے تو رائید اسے پوری بات بتاتا ہے تو وہ بھی حیران رہ جاتا ہے

اور پھر سہیل کو کچھ پرانے خیال آنا شروع ہوجاتے ہیں

سہیل اپنے باپ سے ایک موقع مانگتا ہے۔

قسط ترپن میں

حاجرہ کی ماں نے بیٹی کو فون کر کے کہتی ہے تم نے جھوٹ کیوں بولا، اور وہ کہتی ہے کہ تم آگ سے کھیل رہی ہو کہیں کچھ غلط نہ ہو جائے۔

سہیل سوچتا ہے اگر ماہ پارہ زندہ تھی تو پھر جھوٹ کیوں بولا گیا وہ اس کی کھوج لگانے کے لیے نکل پڑتا ہے

ادھر ماہ پارہ کی دادی ماہ پارہ سے پوچھتی ہے کہ کیا بات ہے بتائو تو وہ اسے بتاتی ہے کہ رائید آیا تھا اور وجہ بھی بتاتی ہے۔

اس کی دادی کہتی ہیں تم اپنا ٹرانسفر کروا لو، یہاں کہیں وہ لوگ تمہیں نقصان نہ پہنچائیں تو مارہ پارہ انہیں مطمئن کرتی ہیں

سہیل اپنے نوکر کے پاس جاتا ہے اور اس سے وجہ پوچھتا ہے تو وہ اسے ٹھیک ٹھیک بتا دیتا ہے کہ کس نے کروایا۔

سہیل کو جب پتا چلتا ہے کہ یہ حاجرہ نے کروایا تو وہ ساری کہانی سمجھ جاتا ہے اور سیدھا گھر جاتا ہے۔

ادھر رائید سوچتا کہ نہ تو اماں کو علم نہ بھائی کو پھر کس نے گیم کھیلا، وہ بس سوچتا رہتا ہے

پھر وہ سارہ اور اس کی ماں سے ملتا ہے، جہاں سارہ کی ماں ان کی بے عزتی کا طعنہ دیتی ہیں۔

دوسری طرف رائید کی ماں اور حاجرہ کی آپس میں دوستی بننے لگتی ہے وہ آپس میں باتیں کررہی ہوتی ہیں کہ رائید یہ باتیں سنتا ہے۔

اسی دوران وہ بتاتی ہے کہ بریسلٹ ماہ پارہ کا تھا اس نے مجھے دیا تھا ، وہ اس نے اپنے افیئر چھپانے کے لیے دیا تھا کیوں کہ وہ پریگنٹ تھی اور اس نے وہ خرچہ مجھ سے مانگا اور مجھے بریسلٹ بیچنے کو کہا میں نے وہ سنبھال کر رکھ لیا تھا۔

اور یہ ساری باتیں رائید سنتا ہے

اس دوران رائید گھر سےباہر نکل جاتا ہے اور سوچتا جاتا ہے کہ کریکٹر ماہ پارہ کا خراب ہے اور شہرت ہماری خراب کر دی۔ وہ سوچتا ہے کہ پیسے دے کر اسے چپ کروایا جاسکتا ہے تو وہ ماہ پارہ کو فون کرتا ہے اور اس سے قیمت پوچھتا ہے۔

قسط چون میں

فون پر رائید اسے بتاتا ہے کہ تم ہمارے گھر والوں کے لیے مرچکی ہو وہ اس سے کہتا ہے کہ قیمت بتائو تو ماہ پارہ اسے کہتی ہے کہ اپنے خاندان کی عزت اور ایک جنازہ بھجوا دو قیمت پوری ہو جائے گی۔

سہیل حاجرہ سے بات کرتا ہے کہ ماہ پارہ جیسی لڑکی کے لیے تم سے لڑائی کی مجھے تم سے محبت ہے وغیرہ وغیرہ کہتا ہے جس پر وہ خوش ہو جاتی ہے۔ مگر وہ پوچھتی ہے کہ تیار ہوکر کہاں جا رہے ہو تو سہیل کہتا ہے تمہاری سوتن سے ملنے جا رہا ہوں۔ وہ حیران ہوتی ہے

سہیل ماہ پارہ کی تصدیق کرتا ہے اور پھر اس کے دفتر پہنچ جاتا ہے جب وہ جاتی ہے تو سہیل پہلے ہی اس کے دفتر میں موجود ہوتا ہے

اور کہتا ہے بہت انتظار کروایا

کتنے سال تمہارے لیے تڑپتا رہا، وغیرہ وغیرہ

تو ماہ پارہ گارڈ کو بلاتی ہے تووہ دھمکی دے کر چلا جاتا ہے۔

رائید کے والد رائید سے کہتا ہے کہ کوشش کرتے رہیں اور گرینڈ لینڈ والوں سے کام لیں تا کہ ہمارا کام ہو اور ہمارے اوپر سے بدنامی کے داغ ختم ہوں۔ اپنی عزت بچانے کے لیے سچ کو جھوٹ کروائیں وغیرہ وغیرہ۔ ادھر ماہ پارہ جب گھر آتی ہیں تو دادی جان جاتی ہیں کہ سہیل آیا ہو گا تو وہ بتاتی ہے ایسا ہوا ہے۔

اس کی دادی کہتی ہے چھوڑ دیں تو وہ کہتی ہے نہ میں نوکری چھوڑوں گی اور نہ شہر اور اٹھ کر چلی جاتی ہے

حاجرہ میکے جاتی ہے اور پھر اپنی والدہ کو بتاتی ہے کہ سہیل میری قدر کرنے لگا ہے اور وغیرہ وغیرہ تو اس کی ماں کہتی ہے پھر بھی بیٹا احتیاط کریں۔

اب مزید کیا ہونے والا یہ تو آئندہ قسط میں پتا چلے گا

اگر آپ نے ہمارا چینل اب تک سبسکرائب نہیں کیا تو پہلے وہ کیجیے اور اپنی رائے کمنٹس باکس میں ضرور دیجیے گا۔

مجھے دیجیے اجازت اللہ نگہبان

Exit mobile version