Site icon Writers Club Pakistan

جیو ٹی وی کے ڈرامے رنگ محل کی 55 قسط کا خلاصہ

اس سے قبل اگر آپ نے اے آر جے ڈرماز کا یوٹیوب چینل سبسکرائب نہیں کیا تو پہلے وہ کرلیجیے

55ویں قسط میں حاجرہ کی ماں اسے سمجھاتی کہ شوہر پر نظر رکھیں، وہ تو کہتی ہے بے فکر رہیں اب وہ پورا کا پورا میرا ہوچکا ہے، لیکن اتنے میں اس کی ماں خدشہ پیش کرتی ہے کہ ابھی تک اسے کال کرنا چاہیے تھی مگر نہیں کی، یہ تو ٹھیک نہیں، تو حاجرہ کہتی ہے وہ بیزی ہوتے ہیں اس وجہ سے نہیں کیا،

دوسری جانب سہیل ماہ پارہ کو پھول بھجواتا ہے اور پھر فون کرکے کہتا ہے پھول پسند آئے تو ماہ پارہ غصے میں اسے کہتی ہے تمہاری قبر پر چڑھا دوں، جس پر وہ اسے مزید غصہ دلاتا ہے اور مکروہانہ ہسنتا ہے ادھر حاجرہ اپنی ماں کے ساتھ گھر واپس آجاتی ہے تو سہیل کی ماں پوچھتا ہے سہیل کہاں ہے تو وہ کہتے ہیں ہمیں علم نہیں جس وہ پریشان ہو جاتی ہے۔

ادھر رائید مسلسل سوچ رہا ہوتا کہ آخر ماہ پارہ نے ایسا کیوں کیا، یہ سب لوگ اپنے فائدے کے لیے سچ کو جھوٹ کرتے ہیں، اسی فکرمیں ہوتا ہے کہ کال آتی ہے، یہ کال سارہ کرتی ہے اور کہتی ہے کہیں آپ ناراض تو نہیں تو رائید کہتا ہے میں حیران ہوں لوگ ایک چہرے کے پیچھے کئی چہرے چھپائے پھرتے ہیں اتنے میں سارہ کی ماں آجاتی ہے اور وہ اسے کہتی ہے کہ رائید لوگوں کے اتنے معاملات آچکے اب اس رشتے پر ہم سوچیں گے اور یوں ایک اشارہ مل جاتا ہے کہ وہ اس رشتے کو نہیں چلانا چاہتےادھر سہیل کی ماں سہیل کو فون کرتی ہے مگر وہ نہیں اٹھاتا، سہیل پھر سے ماہ پارہ کے آفس جاتا ہے مگر گارڈ اسے روک دیتے ہیں، مگر وہ زبردستی کرتا لیکن کامیاب نہیں ہو پاتا۔

ادھر ماہ پارہ کی دادی اسے سمجھاتی ہے کہ بڑے لوگوں کی جنگ میں ہار ہمیشہ کمزور کی ہوتی ہے بیٹا یہ سب چھوڑ دے مگر وہ ایسا نہیں کرتی ابھی وہ باتیں کر ہی رہے ہوتے ہیں کہ سہیل ان کے گھر آجاتا ہے تو وہ ماہ پارہ سے بدتمیزی کرتا لیکن وہ سخت لہجہ اپناتی ہے اور اسے دفع ہونے کو کہتی ہے۔ پھر وہ کہتا ہے تم گھبرائو نہیں آنا میرے پاس ہی ہے نوکری چلی جائے گی تو اکڑ بھی نکل جائے گی مگر وہ ڈٹی رہتی ہے، حاجرہ ساس سے بات کرتی ہے کہ ہم کوئی پارٹی رکھیں، مگر اتنے میں ماہ پارہ اسے کال کرتی ہے کہتی ہے تمہارا شوہر میرے گھر آسکتا ہے تو میں کال کیوں نہیں کر سکتی اور پھر کہتی ہے آپ کے شوہر کا وولٹ رہ گیا ہے ایڈریس بھیج کر منگوا لیں،

اور فون بند کر دیتی ہے۔

کال پر حاجرہ کو صدمہ پہنچتا ہے اور بے ہوش ہوجاتی ہے، وہ سب اسپتال لے کر بھاگتے ہیں۔۔۔

اب آگے دیکھتے ہیں کیا حاجرہ کا بچہ باقی رہتا ہے کیوں کہ ڈاکٹر بتاتی ہیں ان کے بچے پر اثر پڑ سکتا ہے

کیا حاجرہ ساری کہانی اپنے گھر والوں کو بتاتی ہے ۔۔۔

نوٹ: رائٹرز کلب اور اس کی پالیسی کا اس تحریر کے خیالات سے متفق ہونا ضروری نہیں۔ اگر آپ بھی ہمارے لیے اردو بلاگ لکھنا چاہتے ہیں تو قلم اٹھائیے اور تحریر اپنی تصویر، مکمل نام، فون نمبر، فیس بک اور ٹوئٹر آئی ڈیز اور اپنے مختصر مگر جامع تعارف کے ساتھ writerscpk@gmail.com پر ای میل کر   کر دیجیے۔

Exit mobile version