وہ ایک سرکاری اسکول میں استاد تھا۔ اس کا باپ کسان تھا۔ کسان ہونے کے باوجود اس کے باپ کو اپنے بچوں کو تعلیم دلوانے کا بہت شوق تھا۔ اس نے پیار سے، سختی سے، کوشش کی کہ اس کے بچے پڑھ سکیں۔ اپنے بہن بھائیوں اور پورے خاندان میں سے یہی تھا جس نے تعلیم حاصل کی اور استاد کے عہدے پر فائز ہوا۔ اس نے تعلیم حاصل کرنے سے نوکری کرنے تک بہت مشکلات کا سامنا کیا۔ چالیس کلومیٹر سے زیادہ تک کا سفر پیدل طے کیا تھا لیکن ہمت نہیں ہاری اور کامیابی حاصل کی۔ ایک دن اس کے دل میں خیال آیا، اس نے جس طرح تعلیم حاصل کرنے کے لیے اتنی مشکلات کا سامنا کیا، کیوں نہ اپنے بچوں کو ان سب مشکلات سے نکالنے کے لیے کوئی اقدام کرے، تاکہ اس کے بچے اپنی آنے والی زندگی میں آسانیاں حاصل کر سکیں۔ اس نے اپنے بچوں کے بہتر مستقبل کی خاطر اپنا آبائی گاؤں چھوڑنے کا سوچا۔
رات کو اس نے اپنی شریک حیات سے بات کی۔ یہاں کوئی اسکول نہیں ہے جس میں ہم اپنے بچوں کو تعلیم دلوا سکیں۔ تعلیم حاصل کرنے کے لیے انہیں شہر جانا پڑے گا۔ شہر بہت دُور ہے اور ہمارے بچے اتنے بڑے نہیں ہیں۔ انہیں روز پیدل اسکول جانے میں مشکل ہوگی۔ میں سوچ رہا ہوں، کیوں نہ ہم یہ گاؤں چھوڑ دیں۔ اپنا آبائی گاؤں، اپنا گھر چھوڑنا، وہ گھر جسے بہت محنت اور مشقت سے بنایا گیا ہو، مرد کی نسبت عورت کے لیے بہت مشکل ہوتا ہے۔ یہاں بھی کچھ اسی طرح کی صورت حال تھی۔ پہلے تو اس کی بیوی نے کہا، ہم سفید پوش لوگ ہیں۔ ہمارے اتنے ذرائع نہیں، جن سے ہم یہ گھر چھوڑ کر شہر میں گھر لے سکیں اور میں اپنے خاندان، بہن، بھائیوں اور ماں کو چھوڑ کر شہر میں اکیلی نہیں رہ سکتی۔ جس پر اس نے بیوی کو اس طرح قائل کرنے کی کوشش کی کہ ہم تھوڑی سی قربانی سے، جو گھر کو چھوڑنے کی صورت میں ہم اپنے بچوں کے لیے دیں گے، اپنے بچوں کا مستقبل بنا سکتے ہیں۔ تم اس پہلو کو دیکھو، اس میں ہمارے بچوں کا مستقبل سنور سکتا ہے۔ ضد نہ کرو، میرے ساتھ شہر چلو۔
ٹھیک ہے، تم نے فیصلہ کر ہی لیا ہے تو میں تمہارے ساتھ ہوں لیکن ایک شرط ہے۔ ہم شہر میں جب تک اپنا گھر نہ بنا لیں، میں یہ گھر چھوڑ کر نہیں جاؤں گی۔ میں اپنے خاندان کو باتیں بنانے کا موقع نہیں دی سکتی کہ ہم یہاں اپنا بنا بنایا گھر چھوڑ کر شہر میں کرائے کے گھر میں رہ رہے ہیں۔ یوں اس نے بیوی کے مشورے سے شہر میں ایک پلاٹ لینے کا فیصلہ کیا۔ دن گزرتے گئے لیکن وہ بھی اپنی دُھن کا پکا نکلا۔ اس نے اپنے اسکول کے ساتھیوں کے مشورے سے شہر میں ایک پلاٹ خرید کے اس میں ایک چھوٹا سا کمرہ بنا لیا۔
گھر چھوڑنے کی گھڑی آئی تو وہ چپ تھا، بالکل خاموش۔ کیوں کہ شاید اس کے پاس اب وہاں رکنے کا کوئی جواز نہیں تھا۔ یکے بعد دیگرے ماں اور باپ، دونوں کا سایہ سر سے اٹھ گیا تھا۔ بڑا بھائی اپنے بیوی بچوں میں خوش تھا، اسے اس کے وہاں رہنے یا نہ رہنے سے کوئی سروکار نہیں تھا۔ ایک بیوہ بہن، جو اپنے بچوں کے ساتھ اپنے گھر میں رہتی تھی، اس کی ذمے داری سے وہ پہلے بھی نہیں بھاگا تھا اور شہر میں رہ کر بھی ان سے غافل ہونے والوں میں سے نہیں تھا۔ اب اس کے پاس کچھ بچا تھا تو یہی بیوی بچے، جن کے بہتر مستقبل کے لیے اس نے یہ فیصلہ کیا تھا۔ لیکن اس کی بیوی کے آنسو تھمنے کا نام نہیں لے رہے تھے۔ اس کے لیے اپنا آبائی گاؤں، اپنا گھر چھوڑنا ایک مشکل ترین مرحلہ تھا۔ اس لمحے سے بھی زیادہ مشکل، جب وہ بیاہ کر ایک گھر سے دوسرے گھر میں آئی تھی۔ باپ کے بعد بہن بھائیوں اور خاص طور پر ان چھوٹے دو بھائیوں کو چھوڑ کر آنا، جن کے سر پر باپ کے بعد اس بہن کا سہارا تھا لیکن اپنے بچوں اور بہن بھائیوں کے لیے اسے بھی قربانی تو دینی تھی، سو وہ اپنے شریک حیات کے ساتھ شہر آگئی۔
وقت گزرتا گیا۔ دن مہینے اور مہینے سالوں میں بدلتے گئے۔ اس نے دن رات محنت کر کے اپنے بچوں کی ضرورتوں کو پورا کیا۔ انہیں تعلیم دلوائی، اچھا انسان بنایا۔ وسائل کم ہونے کی وجہ سے وہ اپنے بچوں کو بہت اعلیٰ تعلیمی اداروں میں تو نہیں بھیج سکا لیکن کوشش جاری رکھی۔ وقت کے گزرنے کے ساتھ اس کے بچوں نے نہ صرف تعلیمی کامیابی حاصل کی بلکہ وہ اچھی نوکریاں حاصل کرنے میں بھی کامیاب ہوگئے اور ایک دن ایسا بھی آیا جب اس کی سب سے بڑی بیٹی اس کے پاس قریباً دوڑتی ہوئی آئی۔
ابو! ابو! یہ دیکھیں۔ میرا نام فائنل لسٹ میں آگیا ہے۔ میری سلیکشن ہوگئی ہے استاد کے طور پر اور پتا ہے میری پوسٹنگ کہاں ہوئی ہے؟کہاں ہوئی بیٹا؟ اس نے اشتیاق سے پوچھا۔ابو! آپ کے اپنے آبائی گاؤں میں۔ اس گاؤں میں، جسے کبھی آپ نے ہمارے اچھے مستقبل کے لیے دل پر پتھر رکھ کے چھوڑا تھا۔ میں اب ا س گاؤں میں جا کر بچوں کو پڑھایا کروں گی تاکہ وہ گاؤں میں رہ کر بھی زیور تعلیم سے آراستہ ہوسکیں۔
اس کے بعد اس کا ایک بیٹا اور چھوٹی بیٹی بھی تدریس جیسے مقدس پیشے سے وابستہ ہوئے اور یوں صحیح معنوں میں اس نے اپنے مقصد میں کامیابی حاصل کر لی۔اس نے یہ بات ثابت کر دی کہ ضروری نہیں، بہت اعلیٰ عہدوں پر فائز ہونا ہی اپنے مقصد میں کامیابی حاصل کرنے کے مترادف ہو۔ اپنے بچوں کو ایک اچھا انسان بنا کر بھی اپنے مقصد میں کامیابی حاصل کی جا سکتی ہے۔ کیوں کہ بقول شاعر:
فرشتے سے بہتر ہے انسان بننا
مگر اس میں لگتی ہے محنت زیادہ
٭
مقصد حیات-علینہ فاطمہ

