خاور کی کال پر فورا ہی تیاری کی اور پہنچ گئے۔ کار کی فرنٹ سیٹ پر موجود خاور اور ڈرائیونگ سیٹ پر موجود سید غضنفر نے پرتپاک استقبال کیا۔ خاور نے اپنی سیٹ پر بٹھا کر عزت و اکرام بخشا۔ سوشل میڈیا کی حد تک کے تعلق کے بعد پہلی باقاعدہ ملاقات میں اجنبیت کا احساس مسکراہٹوں کے تبادلے کے ساتھ ہی رفوع ہوگیا۔
پروگرام تو یہ تھا کہ پریس کلب جتوئی میں اجلاس میں شرکت ہوگی۔ تاہم فراغت کے بعد علی پور اور اس سے آگے ہیڈ پنجند کی سیر و سیاحت پر نکل پڑے۔
جتوئی سے کچھ کلو میٹر کے فاصلے پر علی پور اور پھر علی پور کی حدود میں آتا ہے ہیڈ پنجند۔۔۔ ہیڈ پنجند کے متعلق کہا جاتا ہے کہ پاکستان کے پانچوں دریاﺅں کا سنگم ہے اس لیے اسے پنج ند یعنی پانچ دریاﺅں کے اکھٹے ہونے کی جگہ کہا گیا ہے۔
پنجند کے 47 درے ہیں۔۔ درے مطلب پانی کے آر پار کے لیے باقاعدہ یہاں پر دروازے بنائے گئے ہیں جن کو کھولا جاتا ہے تو پانی دوسری طرف سے نکلتا ہے۔ اپر پنجاب سے ہوتے ہوئے تمام دریا ایک دوسرے میں ملتے ہیں اور پھر یہاں پر ایک ہی ہوکر گزرتے ہیں۔ پنج ند پر جمع ہونے والے دریاﺅں میں بیاس، چناب، جہلم، راوی اور ستلج ہیں۔
دریائے چناب پاکستان میں رواں ہونے والا دوسرا بڑا دریا ہے۔ ستلج، راوی اور جہلم اس کے معاون دریا ہیں۔ ضلع جھنگ میں تریموں کے مقام پر دریائے جہلم شامل ہوتا ہے، احمد پور سیال کے مقام پر راوی اور اوچ شریف کے نزدیک دریا ستلج بھی دریائے چناب میں شامل ہوتا ہے۔ اس مقام کو پنج ند کہتے ہیں یعنی دریائے بیاس، دریائے ستلج میں شامل ہو کر اور دریائے راوی اور دریائے جہلم اور دریا چناب ، ایک دریا چناب بن جاتے ہیں تو اسے پانچ دریاﺅں کے پانی کا بہاﺅ ”پنج ند“ کہتے ہیں۔ دریائے چناب، مٹھن کوٹ کے مقام پر دریائے سندھ میں شامل ہوتا ہے۔ 2014 ءکے سیلاب کے بعد حکومت پنجاب کی قیادت کی کاوشوں سے واپڈا نے دریائے چناب کی وجہ سے سیلاب کی روک تھام کےلئے ایشین ڈویلپمنٹ بینک اور دیگر ذرائع سے قرض کا بندوبست کیا اور اس فنڈ سے 17 ارب، 48 کروڑ 80 لاکھ روپے کی منظوری دی۔ جس کو استعمال کر کے تریموں بیراج اور پنجند بیراج کی بحالی و توسیع اور دریائے چناب کے بہاﺅ میں بنے ہوئے جزیرے اور جنگل بیلے ختم کر کےکر کے بہاﺅ کی رکاوٹوں کو دور کرنا مقصود تھا۔
ہیڈ پنجند میں سب سے بڑا کاروبار مچھلی کا ہے۔ دو طرح کی مچھلیاں یہاں موجود ہوتی ہیں۔ ایک وہ جسے لوگ عام طور پر دریا سے پکڑتے ہیں شکار کی ہوئی، دوسری مچھلی زیادہ تر فارم کی ہوتی ہیں۔ ہیڈ پنجند پر مکمل کنٹرل مقامی سیاستدان کا ہے۔ مچھلی کا زیادہ تر استعمال سیزن پر ہوتا ہے جس میں عموما خاص مواقع شامل ہیں جیسا کہ 14 اگست، عیدین، یا گرمیوں کی چھٹیاں اور سردیوں کے اتوار۔۔۔ ایسے مواقع پر مچھلی کا استعمال بہت زیادہ ہوتا ہے۔
یہاں پر آنے والوں کو کشتیوں کے ذریعے دریا کی سیر بھی کرائی جاتی ہے۔ بااثر سیاستدان کا ایک ہوٹل بہت معروف ہے اگرچے معیار کے لحاظ سے اس کا نام کافی مدھم ہے۔ باوثوق ذرائع نے بتایا کہ یہاں بھتہ اور پرچی سسٹم بھی کافی اسٹرونگ ہے جو نہ صرف مچھلی فروشوں، ہوٹلز اور ڈھابے والوں کو دی جاتی ہے بلکہ کشتیوں والے بھی مکمل تعاون کرتے ہیں۔ ایک مقامی بزرگ کا کہنا تھا کہ سیاسی شخصیت اپنے فارم کی مچھلیاں مچھیروں اور ہوٹلز مالکان کو فروخت کرتے ہیں اور انہیں کے اشارے پر کاروبار ہوتا ہے۔
اس موقع پر جب کشتی بانوں سے سوال کیا گیا کہ کشتی سسٹم کا کوئی انچارج ہے کیا تو ان کا کہنا تھا کوئی بھی نہیں ہے۔ ہم اپنی مدد آپ کے تحت ہی چلا رہے ہیں۔ لائف جیکٹس لوگ پہنتے نہیں جس کی وجہ سے اب اس کا استعمال ختم کردیا گیا ہے۔ اگر خدا ناخواستہ کہیں کشتی سیاحوں کو لے جاتے ہوئے حادثے کا شکار ہوجائے تو کون ذمے دار ہوگا کہ سوال پر ان کا کہنا تھا ہم ہیں ذمے دار۔۔ کوشش کرتے ہیں کہ پانی تیز ہو تو دفع 144 کے تحت کشتی بند کردی جاتی ہے۔ ویسے بھی ہمارا اپنا قانون ہے اور ہم زیادہ سوار نہیں اٹھاتے۔۔ یہ بات یقینا اہم تھی کہ امسال اسی
خاور نے مچھلی تیار کروائی اور سیر ہوکر کھانا کھایا۔ مچھلی کا ذائقہ احساس دلا رہا تھا کہ اس نعمت سے ہم محروم ہی تھے۔ کراچی کے ساحل کی مچھلی تو کھائی تھی تاہم میٹھے کھلے پانی کی مچھلی کا ذائقہ بھی اپنا معیار رکھتا ہے۔
سورج مغرب کی جانب ہم نے بھی واپسی کی راہ لی۔ ایک یاد گار سفر اور بہت سی باتیں جو راستے میں چلتے پھرتے ہوئیں ان کو سمیٹے واپس پلٹ آئے۔ ایک یاد گار سفر اس امید اور وعدے پر ختم ہوا کہ اب کے بار کراچی سے آئیں گے تو فورمینٹرو یا فورمینڈرو کی سیاحت کو نکلیں گے۔ ان شاء اللہ
