تحریر: زینب الغزالی بیگ
”مجھے معلوم نہیں ہے“یہ لفظ ایسا ہے جو دراصل انسان کو حقیقت میں جاننے کی جانب لے کر جاتا ہے۔ اس لفظ کے بعد انسان سیکھنا، جاننا اور معلومات جمع کرنا شروع کردیتا ہے۔
اگر کوئی یہ سوچ لے کہ وہ سب جانتا ہے ، یا اسے سب پتا ہے تو وہ اس کی سیکھنے، جاننے اور معلومات جمع کرنے کی جانب فل اسٹاپ لگا دیتا ہے۔ یعنی وہ اس سے آگے کچھ نہیں سیکھتا وہ خود کو ہی کل سمجھ لیتا ہے۔
یہاں تین مختلف استعمال ہونے والے الفاظ کو جاننے کی کوشش کرتے ہیں۔
انفارمیشن، یعنی معلومات کا ہونا، ایکسپیرینس کرنا یعنی مشاہدہ اور یقین کرلینا یعنی اندھا اعتماد یہ تین ایسی چیزیں ہیں جو ہمارے معاشرے کے ہر فرد میں پائی جاتی ہیں۔
انفارمیشن کا مطلب ہوتا ہے صرف سن لینا، یعنی کسی نے آپ کو کچھ بتایا اور آپ نے سن لیا۔ معلومات ل گئی مگر وہ معلومات آپ کے ایکسپیرینس سے خالی ہے۔ جب آپ ایکسپیرنس کرتے ہیں تو آپ کے پاس معلومات مشاہدے کے ساتھ ہوتی ہے۔ اب تیسری چیز کہ اس معلومات اور مشاہدے پر یقین کرنا ہے یا نہیں وہ اس وقت ملتا ہے جب آپ اپنے ایگو کو ایک طرف رکھ کر اس پر بلیو کرلیتے ہیں۔
بتائے گئے اور عمل کیے گئے پر یقین بھی کرنا ضروری ہے۔ جیسے ہمیں کسی نے کہا خدا ہے ، تو یہ معلومات تھی۔ پھر ہم نے کچھ ایسا فیل کیا کہ جس سے محسوس ہوا کوئی تو ہے جس نے اس کائنات کو بنایا تو یہ ہمارا مشاہدہ ہوا۔ اب اس پر اعتماد کرنا یقین کرنا ہمارا بلیو کہلاتا ہے اور ان تینوں کو ملاکر ہم خدا کو پہنچان پاتے ہیں۔
ایگو کے ساتھ ایکسپیرینس بھی اندھا ہو سکتا ہے۔زیادہ لوگ بلیو کو نالج سمجھ لیتے ہیں ، جاننا اور معلومات ایک جیسے نہیں ہوتے معلومات وہ ہے جو ہم سن لیتے ہے، پڑھ لیتے ہیں۔جاننا وہ ہے جو ہم ہوش میں رہ کر جی لیتے ہیں ۔ایکسپیرینس بنا ہوش کے ہو تو وہ بھی صرف معلومات ہی رہ جاتا ہے۔ اور ہوش میں ایکسپیرینس ہو تو نالج بن جاتی ہے۔
مثال کے طور پر بچہ چھوٹا ہوتا ہے اس کے پاس کوئی انفارمیشن نہیں اب اسے بتایا جا رہا یہ آگ ہے جل جاؤں گے تو اسے جلنے تک جلن کا کوئی علم ہی نہیں ہوتا اور جیسے ہی جلنے کا ایکسپیرینس کر لیتا ہے ہوش میں رہتے ہوئے تو جان لیتا ہے جلنا کیا ہوتا ہے۔پہلے اسے جو انفارمیشن ملی تھی اب وہ انفارمیشن، ایکسپیرینس، ایوارنیس سے مل کر نالج بن گئی۔
یہاں ایک اہم بات یہ ہے کہ زیادہ تر لوگ جاننے کو ہی جاننا سمجھ لیتے ہے اور انفارمیشن کے ذریعے لوگوں کو بتاتے رہتے ہیں کی ان کے پاس کتنا علم ہے دلیل دیتے ہے کبھی کہی سے،کبھی کہی سے (اِسی کو بلیو کہتے ہے نالج نہیں۔ جاننا جب ہوتا ہے جب انسان اپنا ایگو کو ایک طرف رکھ کریہ مان لے شاید میں نہیں جانتا، تو جاننے کا سفر شروع ہوتا ہے۔ دنیا کی اکثریت اس لئے نہیں جانتی، کیوں کی وہ اپنی معلومات چھوڑنے کو تیار نہیں ہوتی جو مل چکا ہے اسی کو سچ مان لینا ، اِسی کا نام ماننا ہے جاننا نہیں۔
ایگو کے ساتھ نا تو ”ایکسپیرینس“ ہوتا ہے ، نا ”جاننا“ دوسرے لفظوں میں کہیں تو جاننے کا وہم کہہ سکتے ہیں۔ تو وہی اصل میں کچھ نہیں جانتا۔یہ وہی جگہ ہے جہاں سے محبت ریزن کے پار جاتی ہے ۔ اور جاننا بلیو سے اوپر اٹھتا ہے۔

