Site icon Writers Club Pakistan

سیاست ایک عبادت

تحریر: لبنی اسد، لاہور

اگر ہم سیاست کو عبادت کہیں تو یہ غلط نہیں ہے کیونکہ اسلام اور سلطان دو جڑواں بھائی ہیں (حدیث)
جبکہ سیاست کو عام طور پر طاقت، اقتدار اور مفادات سے جوڑا جاتا ہے لیکن اگر اسے دیانت داری اور اخلاص کے ساتھ انجام دیا جائے تو یہ عبادت بن جائے ۔ سیاست دراصل عوامی خدمت کا دوسرا نام ہے، جس کا مقصد لوگوں کی بھلائی، انصاف کی فراہمی اور سماجی مسائل کا حل نکالنا ہونا چاہیے۔

اگر ہم تاریخ کا جائزہ لیں تو ہمیں نظر آئے گا کہ ہمارے نبی کریم ﷺ نے مدینہ میں ایک فلاحی ریاست کی بنیاد رکھی، جہاں عدل و انصاف، مساوات اور عوام کی فلاح و بہبود کو اولین ترجیح دی گئی۔ خلفائے راشدین نے بھی سیاست کو ایک ذمہ داری اور عبادت سمجھ کر انجام دیا، جس کا مقصد صرف اللہ کی رضا اور عوام کی خدمت تھا۔

آج کے دور میں سیاست کو بدعنوانی، مفاد پرستی اور جھوٹ سے جوڑ دیا گیا ہے، حالانکہ اصل سیاست وہی ہے جو معاشرے کی اصلاح اور لوگوں کی خدمت کے لیے کی جائے۔ اگر کوئی سیاست دان دیانت داری، خلوص اور ایمانداری سے اپنی ذمہ داریاں نبھاتا ہے، تو وہ اپنی سیاست کو عبادت میں بدل سکتا ہے۔

ضرورت اس بات کی ہے کہ ہم سیاست کو مفاد پرستی کی بجائے خدمت اور عبادت کا ذریعہ بنائیں تاکہ ہمارا معاشرہ ایک بہتر اور انصاف پر مبنی نظام کی طرف گامزن ہو سکے۔

Exit mobile version