خوش ہوجایا کیجیے!!
ہادیہ جنید گابا، کراچی
شخصیت کو اپنی عاجز بنایا کیجیے
جب طفل گولی مارے، مر جایا کیجیے
ہنس کے بنا دیجیے یہ زیست خوشگوار
ننھی ننھی خوشی میں خوش ہوجایا کیجیے
لگے جو چوٹ دل پر، ٹال دیا کیجیے
لفظوں کی کرختگی کو بھلادیا کیجیے
مٹھاس ڈھونڈا کیجیے کہ زندگی ہے مختصر
صبر بہت سا کرکے خوش ہوجایا کیجیے
اپنا کوئی روٹھے تو منایا کیجیے
معاف کیجیے مسکرایے، گلے لگایا کیجیے
ہے سفر زندگی کا بہت ہی مختصر
ڈھونڈے بغیر خوشی کو خوش ہو جایا کیجیے
شکوے ختم کرکے شکر گزاری کیجیے
ننھی سی کوششوں کو بھی سراہا کیجیے
منائے اگر کوئی تو مان جایا کیجیے
نہیں تو بغیر منے ہی خوش ہوجایا کیجیے
جنت کے واسطے دعا کرایا کیجیے
محبت سے دلوں میں جگہ بنایا کیجیے
دنیا کا کیا ہے آج گئے کل دوسرا دن
سب ہی کی خوشی میں خوش ہوجایا کیجیے
خوشی کی حقیقت جاکر پوچھا کیجیے
ویران بستیوں کے چکر لگایا لیجیے
قبر کے وہ مکین جو کامیاب ٹہر گئے
خوشی کی اصل ان سے جانا کیجیے
یارب ہمیں سدا متقی بنا دیجیے
معاف ہم کو کرکے مولا، خوش ہوجایا کیجیے

