کراچی: جماعت اسلامی کراچی کے امیر منعم ظفر خان شہر قائد میں پودا لگا کر کراچی کے 9 ٹاؤنز میں ایک لاکھ درخت لگانے کا اعلان کردیا ۔
بلدیہ کراچی میں قائد حزب اختلاف سیف الدین ایڈوکیٹ کے ہمراہ محمود غزنوی پارک گلشن اقبال میں شجر کاری مہم کا افتتاح کرتے ہوئے پریس کانفرنس سے خطاب میں کہا کہ انوائرمینٹل پروٹیکشن ایجنسی سندھ سولڈ ویسٹ منیجمنٹ اتھارٹی ایس بی سی اے اور واٹر کارپوریشن سمیت حکومت سندھ کے تمام ادارے شہریوں کو سہولت فراہم کرنے میں ناکام ہوچکے ہیں ۔ جماعت اسلامی کے نو ٹاؤنز کے منتخب چیئرمین اور منتخب نمائندے بھی موجود تھے۔
انہوں نے میئر کراچی سے کہا کہ کراچی کی ضرورت اٹھائیس ارب روپے نہیں پانچ سو ارب روپے ہے ۔ کراچی کی تعمیر و ترقی کے لیے ہر ٹاون کو کم از کم دو ارب روپے اضافی دیئے جائیں ۔ کراچی 256 ارب روپے ٹیکس دیتا ہے اور آپ اس شہر کو اس میں سے صرف ایک فی صد حصہ دے رہے ہیں ۔ اس میں سے بھی آدھی رقم کرپشن کی نظر ہوجاتی ہے ۔
انہوں نے کہا کہ ایم کیو ایم اور پیپلز پارٹی نے 1986 سے آج تک 39 سالوں میں ملکر اس شہر کو تباہ و برباد کیا ہے ۔ہم 500 ارب روپے وفاق سے مانگ رہے ہیں کے 4 منصوبے کے لیے 40 ارب روپے کی ضرورت تھی وفاق نے صرف 3ارب 20 کروڑ روپے مختص کیے ہیں ۔ ایس بی سی اے نے جن 749 عمارتوں کو مخدوش اور ناقابل رہائش قرار دیا ہے ان میں سے چار سو عمارتیں ضلع جنوبی میں واقع ہیں ۔
سندھ حکومت پر کڑی تنقید کرتے ہوئے ان کا کہنا تھا کہ سوال یہ ہے کہ 80 گز کے پلاٹ پر 8 آٹھ منزلہ عمارتیں بنانے کی اجازت کون دیتا ہے لوگوں کے جاں بحق ہونے کے بعد وزیر بلدیات سعید غنی کے آنسو بہانے کا کوئی فائدہ نہیں۔ جبکہ وزیراعظم کو کراچی سے کوئی غرض نہیں کراچی میں بلڈنگ گر جاتی ہے لوگ مر جاتے ہیں لیکن وزیراعظم کو توفیق نہیں ہوتی کہ کراچی کا چکر لگا کر لوگوں کے زخموں پر مرہم رکھ سکیں۔
انہوں نے کہا کہ کراچی ماحولیاتی لحاظ سے دنیا کے ناقابل رہائش شہروں میں شامل ہوچکا ہے پولیوشن اور ماحولیاتی تبدیلیوں کی وجہ سے گرمی کی شدت میں اضافہ ہورہا ہے۔ عالمی ادارہ صحت کے اعداد و شمار کے مطابق ہر سات افراد پر ایک درخت ہونا ضروری ہے جبکہ کراچی میں ہزار افراد پر ایک درخت ہے ۔ کراچی کی ٹھنڈی سڑک یونیورسٹی روڈ پر ریڈ لائن منصوبے کے نام پر ہزاروں درخت کاٹ دیئے گئے ۔
ان کا کہنا تھا کہ درخت موجود نہ ہونے کی وجہ سے ماحول تباہ رہا ہے دھول مٹی نے لوگوں کی زندگی اجیرن بنادی ہے۔ اس صورتحال میں جماعت اسلامی نے اپنی زمہ داری کو محسوس کرتے ہوئے جماعت اسلامی کے زیر انتظام تمام 9 ٹاؤنز میں شجر کاری مہم کا آغاز کیا ۔ نہ صرف تمام ٹاونز میں درخت لگائے جارہے ہیں بلکہ ہم نے اربن فاریسٹ اور روڈ سائیڈ جنگل کا منصوبہ متعارف کرایا۔
ان کا مزید کہنا تھا کہ گلبرگ ٹاؤن اور لیاقت آباد ٹاؤن میں دو مرکزی شاہراہوں پر ہزاروں کی تعداد میں درخت لگائے گئے اور ان کا تحفظ بھی کیا گیا جس کی وجہ سے یہ درخت پھل پھول رہے ہیں اور ہریالی نظر آرہی ہے۔ اسی طرح ہم نے تمام ٹاؤنز میں پارکس کو ڈیولپ کیا۔ ہم اس شجر کاری مہم کے دوران کمیونٹیز کو بھی ساتھ ملارہے ہیں ۔ اسکولوں میں طالبعلموں اور گلی محلوں میں شہریوں کو شجر کاری کے بارے میں آگاہی دیں گے ۔
انہوں نے کہا کہ گلبرگ ٹاؤن سمیت جماعت اسلامی کے تمام ٹاؤنز میں بارش اور وضو کے پانی کو زخیرہ کرنے کے منصوبے پر کام شروع ہوچکا ہے اس پانی کو شجر کاری کے لیے استعمال کیا جائے گا۔ نعمت اللہ خان ناظم کراچی بنے تو بلدیہ کا بجٹ 6 ارب روپے تھا ان کی مدت ختم ہوئی تو کراچی کا بجٹ 42 ارب روپے تھا اور اس وقت ڈالر کی قیمت 56 روپے تھی ۔ اسی طرح ہماری چار سالہ مدت ختم ہونے کے بعد کراچی کے نو ٹاؤن مثالی ہوں گے ۔ کراچی کا موجودہ بجٹ کہاں جارہا ہے اس کا سوال مرتضی وہاب سے کیا جانا چاہیے ۔

