اسلام آباد: ملک میں پٹرول کی قیمت میں آئندہ پندرہ روز کے لیے 6 روپے 60 پیسے فی لیٹر اضافے کا امکان ہے، جبکہ ہائی اسپیڈ ڈیزل کی قیمت میں 5 روپے 27 پیسے فی لیٹر اضافہ متوقع ہے۔ یہ اضافہ روپے کی قدر میں تبدیلی اور پٹرولیم لیوی میں ردوبدل کے باعث متوقع ہے ۔
میڈیا رپورٹ کے مطابق مٹی کے تیل کی قیمت میں 3 روپے 74 پیسے فی لیٹر اور لائٹ ڈیزل آئل (LDO) کی قیمت میں 2 روپے 23 پیسے فی لیٹر کمی ہونے کی توقع ہے۔
اضافے کے بعد پٹرول کی نئی ممکنہ قیمت 273.39 روپے فی لیٹر ہو جائے گی، جو کہ 2.5 فیصد اضافہ ظاہر کرتی ہے، جبکہ ہائی اسپیڈ ڈیزل کی قیمت 278.25 روپے فی لیٹر ہونے کا امکان ہے، جو کہ 1.9 فیصد اضافہ بنتا ہے۔
دوسری جانب، امریکہ کے سابق صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے روس کو یوکرین پر حملے روکنے میں ناکامی کی صورت میں تجارتی پابندیاں بڑھانے کے اعلان نے بین الاقوامی مارکیٹ میں تیل کی قیمتوں کو مزید بڑھا دیا ہے۔ خام تیل کی قیمتیں 71 ڈالر فی بیرل سے تجاوز کر چکی ہیں۔
گزشتہ ماہ، عالمی منڈی میں خام تیل کی قیمتوں میں اتار چڑھاؤ کے پیش نظر، وزارت خزانہ نے 1 جولائی سے پٹرول کی قیمت میں 8.36 روپے فی لیٹر اضافہ کیا تھا۔ اس سے قبل 16 جون 2025 کو پٹرول کی قیمت میں 4.80 روپے اور ہائی اسپیڈ ڈیزل میں 7.95 روپے فی لیٹر اضافہ کیا گیا تھا۔
پٹرول کا استعمال زیادہ تر موٹر سائیکلوں، رکشوں، اور چھوٹی گاڑیوں میں ہوتا ہے، جس کے باعث اس کی قیمت میں اضافے کا اثر براہ راست متوسط اور کم آمدنی والے طبقے پر پڑتا ہے جو روزانہ کے سفر کے لیے اس پر انحصار کرتے ہیں۔
اس کے برعکس، ٹرانسپورٹ کے بیشتر شعبے بشمول ٹرک، بسیں، ریل گاڑیاں، اور زرعی مشینری (جیسے ٹریکٹر اور ٹیوب ویل) ہائی اسپیڈ ڈیزل پر انحصار کرتے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ ڈیزل کی قیمت میں اضافہ افراط زر کو مزید بڑھا دیتا ہے، کیونکہ اس سے سبزیوں اور دیگر اشیائے ضروریہ کی قیمتیں بھی براہ راست متاثر ہوتی ہیں۔

