ایک بزرگ خاتون میرے گھر آئیں اور بتایا کہ وہ جوانی میں بیوہ ہوگئی تھیں، بڑی مشکلوں سے لوگوں کے گھروں میں کام کاج کر کے بچوں کو پڑھایا، میٹرک تک تعلیم دلائی۔ اپنے بیٹے کو رکشا لے کر دیا کہ آگے کی زندگی سکون سے بسر ہوگی۔ ایک دن بیٹا کسی لڑکی کو بھگا کر گھر چھوڑ گیا۔ اس کے جانے کے بعد پولیس، کورٹ، کچہری کے چکروں میں گھربار سب کچھ بیچ دیا اور خود کرائے کے مکان میں آگئیں۔ ادھر بیٹے کو معلوم ہوا کہ معاملات ٹھنڈے ہوگئے ہیں تو وہ گھر لوٹ آیا۔ ماں نے بیٹے کا شان دار استقبال کیا اور بھرپور کوشش کر کے اسی کرائے کے مکان میں اس کے لیے بھی جگہ بنا دی۔ مگر جب بیٹے کو پتا چلا کہ ماں نے اپنا گھر بیچ دیا تو اس نے خوب برابھلا کہا۔ پانچ سال تک ماں بیٹے میں نوک جھونک چلتی رہی اور بالآخر ایک دن وہ بھی آگیا کہ بیٹے کو ماں بری لگنے لگی اور وہ اس کو ماں کہتے ہوئے بھی شرمانے لگا۔
وہ ماں آج میرے سامنے اپنی زندگی کی تلخیاں بیان کر رہی تھی۔ اس کی آنکھیں نم تھیں، جانے ان میں کس بات کے آنسو تھے؟ مگر میں دیکھ رہی تھی کہ ایک ماں، جس کی کل کائنات اس کا بیٹا تھا، مکمل طور پر مر چکی تھی۔ اب اس کے پاس کچھ نہیں تھا۔ میں بہت پہلے سوچا کرتی تھی کہ وہ کون لوگ ہوتے ہیں، جو اپنے والدین کو اولڈہوم میں چھوڑ جاتے ہوں گے۔ اس قدر بدبخت کہ جنہیں اپنی جنت سے نفرت ہوتی ہے۔
دنیا کا ہر مذہب اور تہذیب اس بات پر متفق ہے کہ والدین کے ساتھ حُسن ِ سلوک کرنا چاہیے۔ اُن کا ادب واحترام ملحوظ خاطر رکھنا چاہیے۔ اس بارے میں اللہ رب العزت نے ہمیں اپنی آخری کتاب میں اس بات کی تعلیم اس ڈھنگ سے بیان فرمائی ہے، جو اہم ہونے کے ساتھ ساتھ اپنے انفرادی اسلوب کی حامل ہے۔ مثال کے طور پر جب کبھی اللہ رب العزت نے اپنی اطاعت وفرماں برداری کی طرف توجہ دلانی چاہی ہے تو اس کے فوراً بعد والدین کی اطاعت اور فرماں برداری کی تاکید کی ہے۔ اللہ وحدہٗ لاشریک کا فرمان ہے: ”اور ہم نے انسان کو، جسے اس کی ماں تکلیف پر تکلیف سہ کر پیٹ میں اٹھائے رکھتی ہے، (پھر اس کو دودھ پلاتی ہے) اور (آخرکار) دو برس میں اس کا دودھ چھڑانا ہوتا ہے۔ (اپنے نیز) اس کے ماں باپ کے بارے میں تاکید کی ہے کہ میرا بھی شکر کرتا رہ اور اپنے ماں باپ کا بھی (کہ تم کو) میری ہی طرف لوٹ کر آنا ہے۔ (سورہ لقمان)
جس طرح سے اللہ کے حقوق ہم پر فرض ہیں بالکل اسی طرح انسانوں کے حقوق بھی فرض ہیں اور اتنے ہی اہم ہیں۔ انسانوں میں والدین کے حقوق سب سے بڑھ کر ہیں۔ فرمان ِالٰہی ہے: ”اور ہم نے انسان کو اپنے والدین کے ساتھ بھلائی کرنے کا حکم دیا“۔ (سورہ الاحقاف)
ایک دوسرے مقام پر ارشاد فرمایا: ”اور تمہارے پروردگار نے ارشاد فرمایا ہے کہ اس کے سوا کسی کی عبادت نہ کرو اور ماں باپ کے ساتھ بھلائی کرتے رہو۔ اگر ان میں سے ایک یا دونوں، تمہارے سامنے بڑھاپے کو پہنچ جائیں تو ان کو اُف تک نہ کہنا اور نہ انہیں جھڑکنا اور ان سے بات ادب کے ساتھ کرنا اور عجز ونیاز سے ان کے آگے جھکے رہو اور ان کے حق میں دعا کرو کہ اے پروردگار! جیسا انہوں نے میری بچپن میں (شفقت سے) پرورش کی ہے، تو بھی ان (کے حال) پر رحم فرما۔ جو کچھ تمہارے دلوں میں ہے، تمہارا پروردگار اس سے بخوبی واقف ہے۔ اگر تم نیک ہوگے تو وہ رجوع لانے والوں کو بخش دینے والا ہے۔ (سورہ الاسرء)
ان آیات میں اللہ تعالیٰ نے اپنی اطاعت کے بعد دوبارہ والدین کے ادب واحترام کی بات کی ہے۔ اللہ تعالیٰ نے ہمیں سمجھا دیا ہے کہ ہم بچپن میں کس طرح بے یار ومددگار تھے اور والدین نے ہمیں پالا پوسا اور پروان چڑھایا۔ ہمارے والدین مکمل خلوص اور محبت کے ساتھ ہماری ہر خواہش پوری کرتے تھے، اسی لیے اولاد پر فرض ہے کہ وہ والدین کا احترام کرے اور ان سے اچھا سلوک کرے۔
والدین کا احترام-ثناء نوشین

