Site icon Writers Club Pakistan

پاکستان گندھارا تہذیب کو تحفظ دے کر لاکھوں سیاحوں کو راغب کر سکتا ہے،ماہرین

اسلام آباد: پاکستان گندھارا تہذیب کو تحفظ دے کر لاکھوں سیاحوں کو راغب کر سکتا ہے،ٹیکسلا بدھ مت کا عظیم مرکز،مذہبی سیاحت کا فروغ زرمبادلہ کے حصول کا بہترین زریعہ، پی ٹی ڈی سی اور دیگر اداروں کے درمیان موجود خلا کو پر کرنا ضروری ہے ۔

ماہرین نے ویلتھ پاک کو بتایاہے کہ پاکستان میں آثار قدیمہ کے مقامات غیر ملکی سیاحوں کو اپنی طرف متوجہ کر سکتے ہیں تاکہ ملکی آمدنی میں اضافہ اور روزگار کے مواقع پیدا ہو سکیں، ٹیکسلا، گندھارا تہذیب کا دارالحکومت جو مقامی اور غیر ملکی سیاحوں، تاریخ دانوں، آثار قدیمہ کے ماہرین اور طلبا کے لیے ایک پرکشش آثار قدیمہ کی جگہ ہے۔

ٹیکسلا میوزیم کے ڈپٹی ڈائریکٹر اقبال خان نے کہا کہ ٹیکسلا اپنے وقت کے خوشحال دارالحکومتوں میں سے ایک بلکہ روحانیت اور مختلف تعلیمی مضامین کا مرکز بھی تھا،ان دنوں یہ خانقاہ علم کی علامت تھی، قانون، روحانیت، طب، فلکیات، جنگی مہارت، سائنس اور ادب 5ویں صدی عیسوی تک یہاں پڑھائے جانے والے مشترکہ مضامین تھے۔

انہوں نے کہا کہ دنیا کی قدیم ترین یونیورسٹیوں میں سے ایک ٹیکسلا میں قائم کی گئی۔ دوسری صدی قبل مسیح میں رہنے والے ریاستی دستکاریوں پر پہلی کتاب کے مصنف کوٹیلیہ چانکیہ اور سنسکرت گرائمر کے معمار پانینی جو چوتھی صدی قبل مسیح میں صوابی کے چھوٹا لاہور میں رہتے تھے، دونوں ہی تکشلا یونیورسٹی سے وابستہ تھے۔

پاکستان کے نوادرات ایکٹ 1975 کے تحت ٹیکسلا کو محفوظ نوادرات قرار دیا گیا تھا ۔ پاکستان ٹورازم ڈیولپمنٹ کارپوریشن کے منیجنگ ڈائریکٹر آفتاب الرحمان نے کہا کہ آثار قدیمہ مقامات سیاحت کی صنعت کا ایک اہم حصہ ہیں،پاکستان دیگر ممالک کی طرح غیر ملکی سیاحوں کو اپنے آثار قدیمہ کی طرف راغب کر کے خوب کمائی کر سکتا ہے، ملک میں ثقافتی ورثے کے تحفظ کے لیے ذمہ دار مختلف اداروں کے درمیان ہم آہنگی کے بارے میں ایک سوال پر انہوں نے کہا کہ پی ٹی ڈی سی اور دیگر اداروں کے درمیان موجود خلا کو پر کرنا ضروری ہے۔

سیاحوں کے لیے ضابطہ اخلاق وضع کرنے کے لیے ایک پالیسی کی ضرورت ہے۔ کمفرٹ زون یا ریسٹ ایریاز سائٹس سے تھوڑا دور قائم کیے جائیں۔

انہوں نے مزید کہا بین الاقوامی معیار کے مطابق تاریخی اشیا کو ہاتھ سے چھونے یا سانس سے بچانے کے لیے آثار قدیمہ کے مقامات پر ماسک، نمائش، فاصلاتی ٹیپ یا وزیٹر پلیٹ فارم کا استعمال ضروری ہے۔ آثار قدیمہ کے مقامات کے آس پاس رہنے والی مقامی کمیونٹیز بھی سیاحت کے فروغ کے ذریعے اپنی روزی روٹی کما سکتی ہیں۔

Exit mobile version