وہ سب اسلام آباد کے ایک معروف مقام پر ہاتھوں میں پلے کارڈ اٹھائے حقوق کی بات کررہی تھیں، “ہم لے کر رہیں گی آزادی تیرا باپ بھی دے گا آزادی، یہ سماج بھی دے گا آزادی، ہے حق ہمارا آزادی۔۔۔” ان نعروں کی گونج میں ایک آواز نور کی بھی تھی۔
ہاتھوں میں ایک انگریزی کے حروف سے مزین پلے کارڈ بھی تھا۔ نور بھی موجودہ معاشرے کو حبس زدہ قرار دے چکی تھی۔ اسے بھی اب کھلی فضا درکار تھی۔ باقیوں کی نسبت نور کے حقوق زیادہ تھے۔ ان کے والد صاحب کی ملک کے لیے بڑی خدمات تھیں، ملک کے لیے وہ جلاوطنی کاٹ چکے تھے۔
سفیر کی زندگی کی مشکلات کون جانے، جسے اپنا ملک چھوڑنا پڑے۔ ان خدمات کے عوض نور کو اگرچے آزادی میسر تھی مگر اب وہ کم تھی مزید ملنا نور کا حق تھا۔نور کو اب مکمل آزادی مل گئی تھی، وہ بہت خوش تھی۔
گھر سے آزادنہ آنا جانا اب اتنا معیوب نہیں سمجھا جاتا تھا۔ والد نے اپنی روایات اور خاندانی تربیت کی وجہ سے ایک دو بار ناراضی کا اظہار بھی کیا تو ماں نے بچی ہے کہہ کر ٹال دیا، کئی کئی بار اکیلے میں اس پر سنجیدہ تبادلہ خیال بھی کیا گیا مگر ماں نے صاف انکار کردیا کہ بچی پر پابندیاں لگانا بند کیجیے۔
وہ نور کی زندگی کی آخری شام تھی۔ جب وہ اپنے ایک دوست سے ملنے اس کے گھر پر تھی۔ وہاں کوئی اور نہیں تھا۔ ملازمین تھے مگر وہ کبھی کچھ نہ دیکھتے ہیں نہ سنتے ہیں۔
نور سے اس کے میل دوست نے کچھ زبردستی کرنا چاہا مگر نور بھاگ نکلی لیکن اس کے دوست نے پکڑ لیا، اس کے پاس ایک پستول تھی اس نے گولی چلائی جو کہ پھنس گئی تو اس نے چھری کے وار سے قتل کیا پھر گلہ کاٹ کر جسم سے الگ کردیا۔
نور کا جسم تڑپا پھر ٹھنڈا ہوگیا۔ نور کو آزادی کی دولت ملی تھی مگر وہ آزادی اس کی جان لے گئی۔ نور کی روح آج بھی سوچتی ہوگی کہ کاش وہ یہ آزادی نہ مانگتی۔ وہ یہ بھی کہتی ہوگی کہ کاش وہ یوں اکیلے ملنے نہ آتی، اسے آج یہ بھی دکھ ہوگا کہ کیا اچھا ہوتا ابا کی بات مان لیتی تو یوں دو حصوں میں نہ بنٹی ہوتی۔
نور چلی گئی مگر وہ آج بھی ان خواتین سے کہنا چاہتی ہوگی کہ جسم کی آزادی صرف اپنے والد کے گھر میں ہے اس لیے بابل کی دہلیز کے پار آزادی مت ڈھونڈیں۔
گلے پر پھرتی چھری کے وقت کم گو دھیمے لہجے والی نور نے اپنے دوست سے آہستہ سے ضرور کہا ہوگا کہ مجھے ایک مہلت دے دو میں زندگی بھر والدین کے علاوہ کسی پر بھروسہ نہیں کروں گی، ایک اسٹیٹس لگانے دو بس عورت مارچ والیوں کو بتانا ہے کہ وہ گلے پر جب چھُری پھرتی ہے تو بہت تکلیف ہوتی ہے کاش کہ وہ میں بتا سکوں۔
اس نے روتے ہوئے آخری دید کے ساتھ یہ التجا بھی کی ہوگی کہ لڑکیو! یہ سب دھوکا ہے، فراڈ ہے اس سے بچو، نور نے ایڑھیاں رگڑتے ہوئے ابا کو یاد کیا ہوگا اور کہا ہوگا مجھے معاف کردیجیے گا میری ضد نے آپ کو یہ دن دکھایا۔ نور نے سماج سے بھی شکوہ کیا ہوگا۔ نور کہنا بہت کچھ چاہتی ہوگی مگر۔۔۔۔۔۔ روح پرواز کرگئی۔
وہ تو گئی مگر پیچھے رہنے والوں نے اس کے جسم کے دو حصوں کو لیا اور وہ سب کیا جو ان کو کرنا تھا۔ یہاں تک کہ عورت مارچ والیوں بھی نکل آئیں۔ اسی مقام سے کچھ فاصلے پر ہم لے کر رہیں گے آزادی کے نعرے بھی مارے، نور کو خراج بھی پیش کیا، مطالبہ بھی کیا۔
بینرز بھی اٹھا رکھے تھے، البتہ آج وہ نور کے لیے نکلے تھے مگر نور نہ تھی۔ نور جس آزادی کی بھینٹ چڑھی تھی آج پھر اسی آزادی کے نعرے مارے جارہے تھے، نور کی روح نے تڑپ کر ان سب خواتین کو دیکھا ہوگا اور کہا ہوگا پلیز اس دھوکے سے بچو، خدارا گلے پر چھُری پھرنے سے قبل ہی سمجھ جاو، مگر وہ جانتی ہے کہ اس بات کو یہاں سننے والا کوئی نہیں ہے اب۔

