تحریر: لبنی اسد
پچھلے دنوں اپنی ایک کزن سے ملاقات ہوئی کچھ بات چیت کا سلسلہ ہوا تو اس نے اپنی نند کا بتایا جو کہ تقریبا 35 سال کی ہیں ان کے رشتے کے لیے اہل خانہ پریشان ہیں پھر کچھ دن گزرے ایک سہیلی سے فون پر بات ہوئی تو انہوں نے بھی اپنی نند کا جن کی شادی کی عمر تقریبا نکل ہی گٸ تھی ذکر کیا اچھے رشتے کی تلاش میں اہل خانہ پریشان ہیں یہ ایک یا دو گھرانے نہیں ہیں ایسے بیشتر گھرانے ہیں جو رشتوں کے لیے پریشان ہیں۔
ایک رپورٹ پڑھی کہ ملک میں 35 سال سے بڑی تقریبا 1کروڑ خواتین شادی کی منتظر ہیں یہ ایک افسوس ناک بات ہے جبکہ نکاح پیارے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی سنت اور اہم فریضہ ہے اللہ تعالی قرآن میں ہماری رہنمائی کرتے ہیں کہ بالغ بچوں کے نکاح میں جلدی کردو اور نکاح میں بے جا رسومات اور اسراف نہ ہو نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے کہا کنواری لڑکی سے پہلے اگر مطلقہ یا بیوہ موجود ہے تو اس کے نکاح میں جلدی کرو نکاح سے روک کر رکھنا فتنہ اور بے حیائی کا سبب بنتا ہے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اگر کسی شخص کی نکاح کی خواہش ہو اور وہ کر نہیں پارہا ہو تو اس کو چاہیے زیادہ سے زیادہ روزے رکھے تاکہ اپنی جذباتی کیفیت کو کنٹرول کر سکے۔
پاکستانی معاشرے کا المیہ یہ ہے آج کے زمانے میں لڑکی والوں کے معیار بہت اونچے ہو گئے ہیں؟ پہلے زمانے میں لوگ اپنے خاندان کو ترجیح دیا کرتے تھے۔ جس سے عموماً حسن و خوبصورتی کو اتنی اہمیت نہیں دی جاتی تھی جب بچے اپنے والدین کیےانتخاب پر بھروسہ کرتے تھے۔
مگر والدین نے یہ فریضہ اپنے بچوں کے سپرد کر دیا ہے۔ جس کی وجہ سے وہ تمام خوبیاں اپنے ہم سفر میں چاہتے ہیں یہ ایک وجہ ہے۔ دوسری یہ کہ مرد بھی چاہتے ہیں۔ دنیا کی ہر خوبی ان کی شریک حیات میں موجود ہوں جو کہ ناممکن ہے۔ تیسرے غریب باپ اپنی غربت کی وجہ سے شادی کے اخراجات پورے نہیں کرسکتا یہ بھی ایک وجہ ہے کچھ لڑکیاں ایسی بھی ہیں جو کسی ذہنی بیماری یا معذوری کاشکار ہیں جو شادی میں رکاوٹ بن رہیں۔
دوسری بڑی بات ہمارا میڈیا جو لڑکیوں کو افسانوی دنیا میں رکھتاہے اور یہ رواج دے رہا ہے کہ شادی ضروری کام نہیں اپنا کیریٸر بنانا اپنی دنیا آپ بنانا اہم ہے ایک رپورٹ کے مطابق ایک عورت شادی کے بغیر بھی کامیاب زندگی گزار سکتی ہے یہ سراسر غلط رحجان ہے۔ یہ ہی بنیادی مسائل ہیں جن کی وجہ سے گھر بسانا ایک مشکل مرحلے میں تبدیل ہوگیا ہے جبکہ ہماری ذمے داری ہے کہ ہم قرآن کی تعلیمات پر عمل پیرا ہوکر نکاح کے فریضے کو سرانجام دیں اگر ہم فضول رسومات اور جہیز کے اسراف سے باہر آجائیں تو یہ کام بہت آسان ہو جائے گا۔

