امداد یونیورسٹی کے لیے نکلتا تو راستے میں بہت کچھ دیکھتا، سنتا، محسوس کرتا پھر حالات کے بہاؤ میں کھو کر سب کچھ بھلا دیتا۔ اس نے بوڑھے ریڑھی بان کو پھل بیچتے ہوئے دیکھا، چائے کے ہوٹل پر میز صاف کرتے معصوم بچے کو بھی مگن پایا۔ وہ موٹرسائیکل پر بیٹھے بے فکری سے پان گٹکا تھوکتے موٹے آدمی کو بھی سمجھانا چاہتا تھا اور بڑی سی گاڑی میں بیٹھے جلتی سگریٹ کا بٹ بغیر دیکھے گاڑی سے باہر پھینکنے والے باس سے بھی کچھ کہنا چاہتا تھا۔ اسے حکومت کی کرپشن پر اعتراض تھا اور گلی کے کونے میں چھوٹی سی دکان والے کے ترازو کے جھول پر بھی تکلیف ہوتی تھی۔ روز ہی بہت کچھ اس کے دل میں آتا اور نکل جاتا۔ کیا ہونا چاہیے اور کیا نہیں ہونا چاہیے؟ وہ ہمیشہ اسی ہاں اور نہ کے بیچ اٹکا رہتا۔ اس کے دماغ میں مچلتی اس ہلچل کو اس کی یونیورسٹی کے ہم جماعتوں نے بھی محسوس کیا۔ کوئی ”چِل (chill) کر“ کی پالیسی اپنانے کا مشورہ دیتا تو کوئی اس پر آواز اٹھانے کی بات کرتا۔ وہ بھی چاہتا تھا کہ اس پر قلم اٹھائے مگر کیسے؟ لکھے تو کیسے اور لکھ لے تو دوسروں تک کیسے پہنچائے؟
ایک روز سوشل میڈیا پر ”رائٹرز کلب“ کے نام سے ایک پیج دیکھا۔ نئے لکھنے والوں کے لیے قلمی معاونت کے ٹیگ سے مزین اس پیج نے اسے اپنی طرف متوجہ کیا۔ اس پیج کے ایڈمن سے بات کرنے کو دل مچلا اور پھر میسج کردیا۔ جواب مثبت ملا اور یوں اردو یونیورسٹی کے اس طالب علم نے اپنے قلمی سفر کا آغاز کردیا۔ ابتدا میں کئی مشکلات کا سامنا بھی کرنا پڑا، کبھی تحریر کا عنوان سمجھ میں نہیں آیا تو کبھی وہ اس کے ابتدائیے میں اٹک گیا، کبھی اسے لگتا کہ اختتام درست نہیں کر پایا۔ مگر ”جہد ِمسلسل کامیابی کا بہترین زینہ ہے“۔ پر عمل کرتا رہا اور بالآخر کامیابی بھی مل ہی گئی۔
امداد کا یہ سوال کہ وہ لکھے تو کیسے اور بھیجے تو کہاں؟ ایسا سوال ہے جو یقیناً ہر نئے لکھنے والے یا اس شعبے سے لگاؤ رکھنے والے کے دماغ میں آتا ہوگا۔ بہت کم ہوں گے جنہیں اس سوال کا جواب اور پھر رہنمائی بھی میسّر ہوگی۔ ممکن ہے کہ بہت سارے لوگ ان دونوں سوالوں کے بیچ پھنس کر شاید اب تک اپنے قلمی سفر کا آغاز ہی نہ کر پائے ہوں۔ اگر وہ لکھتے تو شاید کئی لکھنے والوں سے کہیں بہتر اور اچھا لکھ رہے ہوتے۔ یہاں دو باتیں اہم ہیں: ایک طرف وہ، جس کے دل میں سوال ہیں کہ وہ کیسے لکھے اور کہاں بھیجے؟ اور دوسری یہ کہ کیا کوئی ان سوالوں کے جواب دینے یا جواب بننے والا ہے؟
ابتدائی طور پر قلم اٹھانے والے کی کیفیت بالکل ایسی ہوتی ہے جیسی ڈوبنے والے کی۔ ڈوبنے والے کو تنکے کا سہارا چاہیے ہوتا ہے اور لکھنے والے کو بھی کوئی ہلکا سا سہارا مل جائے تو وہ بھی قلم تھام کر چل پڑتا ہے۔ ان دونوں میں ایک بات یہ بھی یکساں ہے کہ ڈوبنے والا زندگی سے اور معاشرے کی اصلاح نہ کرنے والا اخلاقیات سے جاتا ہے۔ وہ نظریاتی طور پر مرتا چلا جاتا ہے جو شاید جان جانے سے کہیں زیادہ خطرناک ہے۔
لکھنے کی بہت سی وجوہ ہوسکتی ہیں۔ کچھ شوقیہ لکھتے ہیں، کچھ اپنی تشہیر کے لیے تو کچھ صفحے کا پیٹ بھرنے کے لیے قلم اٹھاتے ہیں۔ مگر ان سب میں اہم ہے، نظریات اور معاشرے کے لیے لکھنا۔ یعنی آپ جو لکھ رہے ہیں وہ کم ازکم قاری کی ذات کو تو فائدہ دے۔ آپ کے لکھے ہوئے میں معلومات کی فراہمی ہو یا پھر آپ بطور قلم کار معاشرے کے لیے نظریاتی ڈاکٹر ہوں۔ یہ ایک طویل بحث ہے کہ کیا لکھنا اور کیا نہیں لکھنا چاہیے۔ تاہم، یہاں بات ہو رہی ہے ”کیسے اور کہاں بھیجنے“ کی۔
امداد کو ایک گروپ مل جاتا ہے تو وہ اپنے قلمی سفر کا آغاز کردیتا ہے، اس طرح کسی بھی لکھنے کا عزم رکھنے والے کو کوئی سہارا مل جائے تو وہ اپنے قلم کے ہنر کو خوب آزما سکتا ہے۔ ”رائٹرز کلب“ کی قلمی خدمات اگرچہ زیادہ نہیں مگر یہ سوشل میڈیا پر لکھنے والے نوجوان لڑکوں اور لڑکیوں کے لیے اس وقت بہترین فورم ہے۔ اس فورم نے لکھنے والوں اور لکھنے کی کوشش کرنے والوں کے لیے دو طرح سے کام کیا۔ ایک تو ان کی بھیجی گئی تحریر کی اصلاح کی اور پھر اسے قومی اخبارات میں شائع کرائی۔ یہ کام اس لیے اہم تھا کہ تحریر جیسی بھی ہو، جب وہ چھپتی ہے تو اس کے لکھنے والے میں ایک ہمت اور حوصلہ پیدا ہوتا ہے۔ اس میں جستجو بڑھتی ہے اور وہ مزید اچھے سے اچھا لکھنے کی کوشش کرتا ہے۔
”رائٹرز کلب“ جیسے دیگر بہت سے فورم سوشل میڈیا پر کام کر رہے ہیں۔ ان میں کچھ غیر سنجیدہ ہیں تو کچھ سنجیدگی سے لکھنے والوں کو صحیح راستہ دِکھا رہے ہیں۔ یہ حقیقت ہے اور باعث تشویش بھی کہ اس وقت دیگر شعبوں کی نسبت شاعری اور نثرنگاری کا شعبہ اہل قلم وعلم کی توجہ سے بالکل محروم ہے۔ الیکٹرونک میڈیا، اخبارات اور رسائل وجرائد میں اردو میں لکھنے والوں کی تعداد پہلے سے کہیں زیادہ ہے مگر ان کے لکھے ہوئے کا معیار گویا ”صفر“ ہے۔ پورے پورے پیراگراف اور جملے سمجھ سے بالاتر ہوتے ہیں۔ رموزِ اوقاف کا خیال رکھنا تو کوئی ضروری بھی نہیں سمجھتا اور نہ ہی اخبارات کے ایڈیٹرز اس کا اہتمام کرتے ہیں۔ حتیٰ کہ صف ِاوّل کے اخبارات تک اب اس کا خیال نہیں رکھتے۔
اس میں قصور کس کا ہے؟ قصور ہے بھی یا نہیں؟ کچھ نہیں کہا جا سکتا، کیوں کہ آج کے بیش تر لکھنے والے اپنی غلطیوں کی اصلاح کرنے کا ارادہ بھی تو نہیں رکھتے۔ انہیں اس بات کی فکر ہی نہیں ہے کہ وہ کیا لکھ رہے ہیں اور کیوں لکھ رہے ہیں۔ کئی ایک مضامین یا کالم، شروع سے آخر تک پڑھنے کے بعد سمجھ ہی میں نہیں آتے کہ موصوف قلم کار آخر کہنا کیا چاہتے ہیں۔
بات دوسری طرف نکل گئی۔ سوال یہ تھا کہ کیسے لکھیں؟ اس کا بہترین طریقہ یہ ہے کہ بس لکھنا شروع کر دیجیے۔ جب بہت بار لکھنے کے بعد اندازہ ہوجائے کہ اب کچھ بہتری آئی ہے تو اسے کئی بار خود پڑھیے۔ اپنی طرف سے مطمئن ہو جانے کے بعد کسی اچھے قلم کار کو پڑھوائیے۔ تصحیح کرانے کے بعد اسے اخبارات میں بھیج دیجیے۔ ہر اخبار کے ادارتی صفحے پر اس کا ای میل ایڈریس موجود ہوتا ہے۔
ایک اور اہم نکتہ…. اچھا لکھنے کے لیے پڑھنے کے ساتھ ساتھ اچھا لکھنے کی کوشش بہت ضروری ہے۔ ہمارے استاد محترم کے مطابق، روز کچھ نہ کچھ لکھیے اور اس کی اصلاح کراتے رہیے۔ ڈانٹ پڑنے پر گھبرائیے نہیں بلکہ اور اچھا کر کے لکھیے۔ یاد رکھیے کہ معاشرے کی اصلاح ہماری اپنی ذمے داری ہے۔ پہلے خود کی اصلاح کیجیے اور پھر اپنے قلم سے دوسروں کی اصلاح کا عزم کرتے ہوئے لکھیے اور ضرور بالضرور لکھیے۔ اہل قلم بھی اس طرف توجہ دیں۔ نئے لکھنے والوں کے لیے تربیتی ورکشاپ کروائیں، ایڈیٹر حضرات وخواتین، لکھاری کی تحریر درست کرتے وقت انہیں بتائیں کہ وہ کیا غلطی کر گئے ہیں۔ اس معاملے پر سنجیدگی سے توجہ کی اشد ضرورت ہے۔
نئے لکھاری کیا چاہتے ہیں؟

