Site icon Writers Club Pakistan

محبت کی شام (حصہ اول)

ناول نگار: عروج احمد، لاہور
جو رشتے ہمارے لیے سب سے زیادہ خوشی اور سکون کا باعث ہوتے ہیں بعض اوقات وہی ہمیں دکھ اور تکلیفیں پہنچانے لگتے ہیں۔ میں ایک ایسے کرب سے گزر رہی تھی جو ناقابل بیاں تھا۔
وہ نام جس کو لے کر میرے دل میں خوشی کی لہر دوڑ جاتی تھی اب وہی میرے لیے اذیت کا باعث بن چکا تھا۔ دنیا کی کوئی بات مجھے سکون نہیں دے رہی تھی۔
دوپہر چار بجے تھیراپی سیشن ختم ہونے کے بعد میں کلینک سے باہر نکلی تو مجھے آج سب کچھ ہمیشہ سے الگ محسوس ہوا۔
ہر چہرہ، ہر منظر، آسماں کا رنگ، موسم کی تبدیلی، چہرے سے ٹکراتی تازہ خوشگوار ہوائیں۔۔
یہانتکہ دماغ میں چلنے والے ماضی کے اذیت ناک لمحے بھی مجھے اچھے لگ رہے تھے۔ میں خوش تھی اور اداس بھی۔۔
اداسی کا بس ایک ہی سبب ہے، باقی سب ٹھیک ہے۔
میرے دماغ نے مجھے آگاہ کیا۔
سڑک کی ایک جانب پیدل چلتے ہوئے میرا سر جھکا ہوا تھا اور ذہن پرانی یادوں میں اٹکا ہوا تھا۔
آج کے لیے مجھے یہی سرگرمی ملی۔ مجھے اپنے ماضی کو یاد کرتے ہوئے ان سوالوں کے جواب لکھنے تھے جو اس نوٹ پیڈ پر درج تھے جو مجھے دی گئی تھی۔
میں ذہن میں سوالات دہرا رہی تھی اور ان کے جواب تلاش کر رہی تھی۔ دو سوال مجھے الجھا رہے تھے۔ سب سے زیادہ اذیت مجھے کیا بات دیتی ہے؟ ماضی کی کون سی بات مجھے بھولنا مشکل لگ رہی ہے؟
میں چپ چاپ ایک انگریزی اسٹائل کے بنے ہوٹل میں داخل ہو گئی۔ میں نے کونے کی سیٹ منتخب کی اور سوچوں میں الجھے ہوئے کرسی پر بیٹھ کر باہر تکنے لگی۔
پرانی اداس یادوں نے مجھے اندر ہی اندر رلانا شروع کر دیا۔ ریستوران میں بجنے والے پیانوں کا میوزک ماحول کو عجیب سا سوگوار بنا رہا تھا۔ حالانکہ وہ پرسکون کرنے کے لیے تھا اور مجھے اندرونی طور پر سکون مل بھی رہا تھا مگر ساتھ ہی ساتھ میرا روتا ہوا دل۔۔
اس کو آج مجھے کھل کر رونے دینا تھا اور اس کے بعد سے ہمیشہ مسکرانا تھا۔
ماضی سے چھٹکارا.. ماضی سے چھٹکارا..
میں بار بار خود کو باور کرا رہی تھی.
کھانا زہر مار کرتے ہوئے میں ساز میں کھوئی رہی۔ میرا ماضی میرے ذہن کی پٹی پر چلتا جا رہا تھا۔
ہر وہ چیز جو میں نے بھلا دی تھی اب دھیرے دھیرے مجھے یاد آرہی تھی۔
میں نے بل ادا کیا اور وہاں سے اٹھ گئی۔ سڑک کے کنارے چلتے ہوئے میری نظریں اداسی سے جھکی رہیں۔
کوئی نہیں جان سکتا تھا کہ میرے ہر وقت مسکراتے چہرے کے پیچھے کیا غم چھپے ہیں۔
میں نے گھر پہنچتے ہی رائٹنگ پیڈ پر لکھے سوالوں کے جواب لکھنے شروع کر دیے۔
میں اپنے ماضی سے جلد از جلد چھٹکارا چاہتی تھی۔ کچھ سوالوں نے مجھے اندر تک زخمی کر ڈالا۔ ناچاہتے ہوئے مجھے ہر ملنے والے دھوکے کو بیان کرنا پڑا۔ مجھے کیوں کسی پر یقین نہیں آتا تھا یہ خود آج میں جان رہی تھی۔
لکھتے ہوئے مجھے معلوم ہوا کہ سب سے زیادہ دکھ ہمیشہ اچھے لوگ دیتے ہیں۔۔ یا جنہیں ہماری نظر نے اچھا سمجھ کر منتخب کیا ہوتا ہے۔ اب میرے دل سے ہر انسان کی اچھائی کا ماسک اترا ہوا تھا۔
اچانک سے مجھے خیال آیا اس دفعہ تو سب میرے سامنے تھا پھر یہ سب کیا ہو گیا۔
دل نے ہمیشہ کی طرح اپنی صفائی میں بولنا شروع کر دیا کہ اس کا انتخاب غلط نہیں ہو سکتا۔
وہ بہت اچھا ہے۔ اس کے دل میں کوئی میل نہیں تھی، بس ایک غلط فہمی کی وجہ سے سب ختم ہو گیا۔
میں نے اس معاملے میں مزید سوچنے کی بجائے ماضی پر فوکس رکھا اور ہر سوال کا جواب ایمانداری سے لکھ ڈالا۔
اچانک سے مجھے لگا سب ختم۔۔ میں اب آزاد ہوں۔ اپنے ماضی کا ہر ایک شخص میرے دل سے اتر گیا۔
میں خود کو ہلکا پھلکا محسوس کرنے لگی۔ مجھے اب سمجھ آئی کہ میں ہر اچھے انسان کو شک کی نگاہ سے کیوں دیکھنے لگی تھی۔ جو انسان ہر رشتے سے دھوکا کھا چکا ہو وہ اپنے سائے سے بھی بچ کر چلتا ہے۔
میں سکون سے بستر پر لیٹ گئی۔ میں نے آج بہت دنوں بعد سکون محسوس کیا۔ سارے زخم سل چکے تھے۔ میں نے ہر غم سے آزاد ہو کر ایک پرسکون سانس لی اور اپنی آنکھیں موند لیں۔ نیند کی دیوی نے مجھے اپنی بانہوں میں لے لیا۔
شام میں جب میری آنکھ کھلی۔ سب بدل چکا تھا۔ سارے زخم درد کر رہے تھے۔ میں خود کو سلگتا ہوا محسوس کر رہی تھی۔ یہ احساس کم ہونے کی بجائے بڑھتا ہی رہا۔ میں تڑپ کر اٹھ بیٹھی۔ میری آنکھیں بہنے لگیں اور ایک نام میرے ذہن میں گونجنے لگا۔
میرے دماغ نے دل کو کوسا۔ ”کیا عالی..! ایک شخص کو بھلا نہیں پا رہی۔“ میں نے عالی کو یقین دلایا یہ میں نہیں ہوں یہ میرا سایہ ہے جس نے میری پیٹھ پر وار کیا ہے، ورنہ میرا دل تو پتھر کا ہے، میں کسی سے محبت نہیں کر سکتی۔
میری آنکھوں سے آنسو بہتے رہے۔ ایک کیفیت نے مجھے بےبس کر ڈالا۔
ایک گھنٹے بعد میں اپنے آنسو صاف کر کے بستر سے اتر گئی۔ تازہ دم ہو کر میں واش روم سے باہر نکلی تو حسن کا فون آنے لگا۔ اس نے بتایا وہ اور ردا ایک پارٹی پر جا رہے ہیں اور وہ مجھے ساتھ لے چلنے کی ضد کرنے لگا۔ میں نے اپنا موڈ بدلنے کو حامی بھر لی۔
حسن وہ شخص تھا جس کے تماشوں کی وجہ سے ابھی تک میرا دل زندگی سے جڑا ہوا تھا ورنہ اس وقت میرا کوئی نہیں تھا اور مرد ذات سے میرا بھروسہ اٹھ چکا تھا۔
اس سے میری پہلی ملاقات اپنی ایک ماڈل دوست عظمیہ کی برتھ ڈے پارٹی پر ہوئی تھی۔ اس نے براہراست مجھ سے دوستی کے لیے پوچھا تھا۔
میں نے نخرے سے منہ چڑھا کر کہا تھا کہ میں مردوں سے دوستی نہیں کرتی۔
اسی لمحے اس کے چہرے پر دوستانہ مسکان پھیل گئی تھی۔ اس نے خوشی سے بتایا وہ گے ہے۔
میں نے اس کی بات پر یقین نہیں کیا تھا کیونکہ وہ دیکھنے میں اچھا بھلا مرد لگتا تھا اور میں کسی پر بھی جلدی یقین نہیں کرتی تھی۔
میں اس سے جتنی جان چھڑا رہی تھی وہ اتنا ہی میرے پیچھے پیچھے پھر رہا تھا۔
نجانے کیسے مجھے اس پر رحم آ گیا۔ وہ خوبرو تھا اور بظاہر اس میں کوئی کمی نظر نہیں آتی تھی مگر اپنی کسی جذباتی مجبوری کی وجہ سے وہ میرے آگے پیچھے پھرنے پر مجبور تھا۔
تنگ آ کر میں نے اسے جان چھڑانے کو کہہ ڈالا۔
”میرے گھر میں ایک ملازم کی ضرورت ہے۔ اس کے لیے سوچ سکتی ہوں۔“
وہ خوشی خوشی تابعداری سے بولا۔
”آج سے میں آپ کا غلام ہوں۔“ میں نے اچٹتی سی نگاہ اس پر ڈالی اور بیزاری سے اس پر آخری نگاہ ڈال کر وہاں سے آگے بڑھ گئی۔
اگلے دن عظمیہ نے اس کی خاص حمایت کی کہ اچھا لڑکا ہے، تم اس سے باہر کے کام وغیرہ لے لیا کرنا۔
میں نے اسے آزمایا تو وہ تابعدار ثابت ہوا۔ پھر جب بھی مجھے کوئی کام ہوتا میں اسے کہہ دیتی۔ وہ آلہ دین کے چراغ کی طرح ثابت ہوا۔
چار ماہ اس سے نوکروں کی طرح کام لینے کے بعد رمضان میں مجھ پر انکشاف ہوا کہ وہ ایک اچھے خاصے کھاتے پیتے گھرانے سے ہے اور صرف مجھ سے دوستی کے لیے کبھی گے اور کبھی ملازم بن گیا۔
رمضان کے آخری عشرے میں جب میں نے زکوٰۃ نکالتے ہوئے اس سے بھی پوچھ لیا تو اس نے ذلت محسوس کر کے غیرت میں سب اگل دیا اور بگڑ کر وہاں سے چلا گیا۔
میں نے خود کو کوسا اور خود سے سوال کیا۔
کیا میں سچ میں اتنی بھولی یا بے وقوف ہوں کہ مجھے کوئی بھی پاگل بنا کر چلا جاتا ہے؟
اس کے جانے کے بعد جب مجھے کسی کام کے سلسلے میں اس کی ضرورت محسوس ہوئی تو مجھے خیال آیا۔
وہ اپنی خوشی سے سب کر رہا تھا۔۔ اس میں میرا کیا قصور..!
دو دن بعد اس نے اکھڑے ہوئے لہجے میں خود ہی فون لگایا اور شکوہ کیا۔
”مجھے معلوم تھا کہ آپ نے تو عید مبارک نہیں کہنا۔۔ میں ہی مبارک دے دوں۔۔“
میں نے ڈھیٹ بنتے ہوئے اسے کام بتانے شروع کر دیے اور زکوٰۃ کے متعلق سوال کر ڈالا۔
اس کا لہجہ اب غم میں بدل گیا۔
”خیرات اپنے باقی ملازموں میں بانٹ دیں۔ ہم نے بھی بہت نکالی ہے۔ اگر کوئی ملازم رہ جائے تو بتا دینا۔۔ اور کوئی کام پڑے تو بھی۔۔“
میں ہنستی چلی گئی۔ ”سب کو دے دی۔۔ تمہارے حصے کی پڑی ہے، لے جانا۔“
وہ کسمپرسی کی حالت میں بیچارگی سے خودکلامی کے انداز میں بولا۔
”حسن تو تو بچی پھساتے پھنساتے فقیر ہی بن گیا۔ آج تیری یہ اوقات ہے کہ تجھے زکوٰۃ لینی پڑ رہی ہے۔“
میں اس پر خوب ہنستی رہی۔ مجھے لگا تھا وہ شرمندہ ہوگا اور دوبارہ رابطہ نہیں کرے گا مگر وہ منہ بنائے ہوئے آیا اور کام کر کے خاموشی سے چلا گیا۔ چار سال پہلے اس کی ماں فوت ہو چکی تھی۔ اس کے چار بڑے بھائی تھے اور وہ سب سے چھوٹا اور لاڈلا تھا۔ مجھے خیال آیا جو اپنے گھر میں نوابوں کی طرح رہتا ہو وہ کسی کے کام کیوں کرے گا۔
واپسی پر جاتے ہوئے میں نے حسن کا بنا ہوا منہ دیکھا پر مجھے کیا پرواہ تھی۔ جس دل میں پہلے سے کوئی اور ہو وہاں دوسرے کے لیے جگہ نہیں بنتی۔
میں نے اسے شام میں فون کر کے بتا دیا کہ میں کسی سے محبت کرتی ہوں۔ وہ کچھ مایوس ہو گیا اس کے بعد اس نے دوبارہ شادی کا ذکر نہ کیا۔ میں پرسکون ہوگئی کہ اب وہ میری زندگی سے چلا جائے گا۔
اگلی شام اس نے فون کر کے غمگین ہوتے ہوئے بتایا کہ میرے کاموں کے لیے اس نے ایک قابل اعتبار شخص تلاش کر لیا ہے۔
میں نے افسوس سے سوچا میں کسی پر اعتبار ہی کیوں کرؤں گی۔ اس کو تو اتنے دنوں میں آزما لیا تھا اب نئے نئے لوگوں کو آزمانا مجھ کو گنوارہ نہیں تھا۔ میں نے اس کو منع کیا تو وہ کہنے لگا۔ ”وہ کبھی کسی شکایت کا موقع نہیں دے گا۔“
مگر چونکہ میں ٹھان چکی تھی تو میں نے اس سے ایک کام لے لیا اور غیر مطمئن ہو کر اسے نکال دیا۔
میں نے حسن کو فون کر کے ذلیل کیا کہ مجھے کوئی نوکر نہیں چاہیے۔ میں نے سوچا اب وہ میرا پیچھا چھوڑ دے گا مگر وہ روز بہانے سے فون کرتا۔ کبھی حال پوچھنے کا بہانہ کرتا اور کبھی کوئی کام پوچھ لیتا۔ بدلے میں جب میرا موڈ خراب ہوتا تو میں اسے ذلیل کر کے اپنا غصہ ٹھنڈا کر لیتی مگر اس نے میرا پیچھا نہ چھوڑا۔
وہ میرے سے روز اپنی بےعزتی کرواتا اور اس پر بھی مسکراتا رہتا۔ میں نے ہر حربہ استعمال کر لیا مگر وہ مجھے چھوڑنے کو تیار نہیں ہوا۔ تنگ آ کر میں نے اسے بھائی بنا لیا اور وہ اس میں بھی راضی ہو گیا۔
وہ ہمیشہ میرے کام آنے کی کوشش کرتا رہا۔ جب تک وہ اپنی ہر بات مجھے بتا نہ دیتا اسے نیند نہیں آتی تھی۔
آج کل وہ نئی نئی دوستیں بنانے لگا تھا۔ ردا بھی اسی کا سلسلہ تھی۔
ڈاکٹر اذان نے فون کر کے حال دریافت کیا تو میں نے اپنے بے وجہ رونے کے متعلق بتا ڈالا۔ اس نے مجھے سمجھایا۔
”آج آپ کو اپنے دوستوں کے ساتھ خوب انجوائے کرنا ہے اور خوش رہنے کی ہر ممکن کوشش کرنی ہے۔۔ آج آپ نے اپنے ماضی سے نجات پائی ہے اور یہ آپ کی خوشیوں بھری زندگی کی نئی شروعات ہے۔۔“
میں بے دلی سے پارٹی پر جانے کو تیار ہونے لگی۔
کچھ ہی دیر میں وہ دونوں مجھے پک کرنے چلے آئے۔ حسن نے اشتیاق سے مجھے مخاطب کیا۔ ”کیا آپ کو مجھ میں کوئی تبدیلی نظر نہیں آتی؟“
اس کو دیکھ کر مجھے لگا کوئی تو اس میں بہتری آئی تھی۔ ”کیوں..! کیا کیا ہے تم نے؟“
میں نے غیر دلچسپی سے پوچھا۔
”دیکھو جم کر کے خود کو فٹ کر رہا ہوں۔۔ کوئی فرق نہیں نظر آ رہا؟“
مجھے حیرانی ہوئی۔ ”کچھ کچھ۔۔ مگر تم تو کہہ رہے تھے تمھیں جم جانا پسند نہیں۔“
وہ منمنایا۔ ”آپ نے ہی کہا تھا مجھے جم جانا چاہیے۔“
”میں تمھیں کہوں گی بھاڑ میں جاؤ تو کیا سچ میں چلے جاؤ گے؟“ میں نے ناراضگی سے کہا۔
”شاید چلا جاؤں۔“ ردا اس کا میری جانب رجحان دیکھ کر کڑھنے لگی۔ میں نے اس کی توجہ ردا کی جانب کر کے اسے بھی باتوں میں شامل کیا۔
وہ ہمیں اپنی نئی مصروفیات بتاتا رہا اور سارے راستے کچھ نہ کچھ بول کر ہمیں ہنساتا بھی رہا۔
کوئی مجھے دیکھ کر نہیں کہہ سکتا تھا کہ کچھ دیر پہلے میں پھوٹ پھوٹ کر روئی تھی۔
دوستوں میں بیٹھ کر میرا موڈ بدلنے لگا۔ حسن کے طبیعت کو ہلکا کر دینے والے مذاق اور ہمارا آپس میں بات بات پر لڑنا مجھے پرسکون کرنے لگا۔
ہم نے مل کر کافی فن کیا اور ہلکی پھلکی طبیعت کے ساتھ گھر لوٹ آئے۔
مجھے خیال آیا محبت سے بہتر دوستی ہے جو دکھ میں راحت پیدا کر دیتی ہے۔ محبت ہمیں صدمہ دے کر تنہا چھوڑ جاتی ہے مگر دوستی حوصلہ دے کر مرہم بن جاتی ہے۔ رات کو بستر میں لیٹ کر میں خود کو پرسکون محسوس کرنے لگی۔
————*
”تم سکون سے کیسے سو سکتی ہو؟“
کسی کے غصے سے بولنے کی آواز سے میری نیند ٹوٹ چکی تھی۔ میں تعجب سے اٹھ کر اپنے آس پاس دیکھ رہی تھی کہ میں نیند میں ہوں یا یہ حقیقت میں ہو رہا ہے۔
کافی کشمکش کے بعد مجھے اسے وہم قرار دینا پڑا کیونکہ صارم سے طلاق کے بعد میں اس گھر میں اکیلی رہ رہی تھی۔
میرے والد کی وفات کے بعد والدہ نے بھائی کے ساتھ رہائش اختیار کر رکھی تھی۔ میرے سب بہن بھائی اپنی زندگیوں میں مست تھے۔ ہم میں سے کوئی کسی کی زندگی میں مداخلت نہیں کرتا تھا اور میں بھی سب سے الگ ہی خوش تھی۔
کچھ دنوں سے سب بہت اچھا چل رہا تھا۔ مجھے دوبارہ اس کی یاد نے تنگ نہیں کیا تھا اور مجھے امید نہیں تھی کہ دوبارہ اس مرحلے کا سامنا کرنا پڑے گا۔ اب یہ واقعہ مجھے دوبارہ سے سب یاد دلانے لگا۔
میں نے بستر سے اٹھنے کی کوشش کی تو کسی غم کے اثر سے بے بس ہو کر میں وہیں بیٹھ گئی۔ میں اپنے بالوں میں انگلیاں پھنسائے اپنے کانوں کے قریب، غصے سے دھاڑتی آواز بار بار سن کر نظر انداز کرنے کی کوشش کرتی رہی۔
زیادہ دیر میں خود کو روک نہیں پائی تو میری سلگتی آنکھوں سے پانی نکل کر گالوں پر بہنے لگا۔ آنکھوں سے گرتا گرم پانی میرے گالوں اور کپڑوں کو بھگوتا رہا۔ آدھے گھنٹے بعد میں ہوش کرتے ہوئے گھڑی دیکھ کر چہرہ صاف کرتے ہوئے وہاں سے اٹھ گئی۔
تازہ دم ہو کر میں باہر آئی تو مجھے موبائل پر ڈاکڑ اذان کے چند پیغامات ملے۔
میں نے فوراً اسے کال لگائی اور بے چینی سے بتایا۔
”پانچ دن سے سب ٹھیک چل رہا تھا مگر اچانک سے کسی آواز نے مجھے بےچین کر ڈالا ہے۔۔ میں پھر سے رونے پر مجبور ہوں۔۔ سب بگڑ چکا ہے۔۔“
اس نے توجہ سے میری بات سنی اور اطمینان سے کہا۔ ”آپ ابھی جوگنگ پر نکل جائیں۔ باہر موسم بہت اچھا ہے۔“
میں اٹھی اور جوگنگ کا لباس پہن کر کانوں میں میوزک لگائے باہر نکل آئی۔
موسم بہت حسین تھا۔ بارش کا سماں ہو رہا تھا۔ قریبی پارک کے ٹریک پر جوگنگ کرتے ہوئے میں موسم سے لطف اندوز ہونے لگی۔ میرے چہرے پر رونق تھی اور کوئی مجھے دیکھ کر یہ نہیں بتا سکتا تھا کہ کچھ دیر پہلے میں کس کیفیت سے گزری تھی۔
جب میں ہلکی ہلکی بوندا باندی سے گھبرا کر ریسٹ پوائنٹ کی بینچ پر آ بیٹھی تو ڈاکٹر اذان سامنے سے آتا نظر آیا۔
میں کچھ خوشگوار حیرت سے مسکرائی ضرور تھی مگر میرے دل میں کیا تھا وہ نہیں جانتا تھا۔ وہ اپنی عادت سے مجبور مجھے دیکھ کر کچھ شرماتے ہوئے براہراست میری جانب دیکھنے سے احتیاط کر رہا تھا۔ میں اس کی اس عادت پر ہمیشہ سوچتی کہ کیا وہ میرے ساتھ ہی ایسے پیش آتا ہے یا اس کا یہ رویہ سب کے ساتھ ہی ہوتا ہے؟
میں اس کے سوالات کے جواب میں اسے آخری دو دنوں میں پیش آنے والے حالات سے آگاہ کرنے لگی۔
میں خود پریشان تھی کہ سب کچھ صحیح چل رہا ہوتا ہے اور پھر اچانک سے کوئی ایسا واقعہ ہوتا ہے جو میرا توازن بگاڑ دیتا ہے۔
اس سے پچھلی سرگرمی نے مجھے بہت بہتر کر ڈالا تھا۔ میں نے اپنے بائیں ہاتھ سے اپنے بچپن کی تصویر بنائی تھی اور سارا دن اس سے باتیں کر کے اپنے بچپن کی یادیں تازہ کی تھیں۔ اس سرگرمی سے میں نے ایسا سکون محسوس کیا جو اس سے پہلے میں اپنی پوری زندگی میں محسوس نہیں کر پائی تھی۔
بچپن کی پسندیدہ اشیاء کے بارے میں لکھتے ہوئے میں دل سے مسکرائی تھی۔
مجے یہ جان کر خوشی ہوئی کہ اتنے سال گزرنے کے بعد بھی لال ٹماٹر مجھے آج بھی اتنے ہی پسند ہیں جتنے بچپن میں ہوا کرتے تھے اور پسندیدہ کاموں میں تحفہ دینا مجھے آج بھی خوش کرتا ہے۔
ڈاکٹر نے اگلے دن مجھے اپنے پیاروں کو تحفے دینے کی سرگرمی دے ڈالی۔ اس سرگرمی سے میں نے خود کو بہت خوش پایا تھا۔ البتہ کسی لمحے مجھے خیال آیا کہ جس کو میں نے تحفہ دینے کے لیے کتنی چیزیں منتخب کر کے رد کیں تھیں، ناراضگی کی وجہ سے اسی کی سالگرہ پر اسے تحفہ نہ دے پائی۔
پھر میں نے خود کو سمجھایا کہ وہ خود ہی مجھے چھوڑ کر چلا گیا ورنہ میں نے کوئی کمی نہیں کی تھی۔ میں اس کے لیے کتنے منصوبے بنائے بیٹھی تھی۔ مگر اس نے سب ختم کر دیا۔
میں اس سرگرمی کے بعد اس کی یاد میں رونے کی بجائے اپنے بچپن میں کھوئی رہی تھی اور تین دن کتنے سکون سے سوئی تھی۔ میں نے اپنے خواب میں وہ سب خوشیاں محسوس کی تھیں جو کبھی بچپن کا دور ہوا کرتی تھیں۔
میں اپنا ماضی بھلا کر اب اپنے حال میں لوٹ آئی۔ اس کی یاد پھر سے میرا پیچھا کرنے لگی۔
اذان نے مزید کسی غمزدہ موضوع کو کریدنے کی بجائے، جو کہ اس کا ہمیشہ سے انداز تھا، خوشی والی باتیں چھیڑ ڈالیں۔
پھر اچانک سے اس نے بات بدل کر اصل موضوع لے لیا۔
”آج آپ ایک صفحے پر اپنے دل کی وہ تمام باتیں لکھ ڈالیں گی جو آپ اس سے کہنا چاہتی تھیں اور کہہ نہ پائیں۔۔ ایسے تمام جذبات جو آپ کو کہیں نہ کہیں دل میں اذیت دے رہے ہیں۔ وہ تمام باتیں دل سے نکال دینا ضروری ہیں۔۔
اس کے بعد آپ نے اپنی یاداشت میں موجود اس سے جڑے ماضی کے تمام واقعات اکٹھے کرنے ہیں اور ان کی ایک گٹھڑی بنا کر اپنے پیچھے ایک ریگستان کا خیال کر کے اس میں پھینک دینی ہے اور اسے مٹی میں دفن ہوتے ہوئے محسوس کرنا ہے۔۔“
میں یہ سن کر کافی حیران ہوئی۔ مجھے یقین ہونے لگا کہ ایسا کرنے سے مجھے سکون ملنے والا ہے۔
اب مجھے اس انسان سے ڈھیر ساری باتیں کرنی تھیں جس سے میں سب سے زیادہ پیار کرتی تھی اور اسے ہمیشہ کے لیے بھلا دینا ضروری ہو چکا تھا۔
”میں کچھ سوال لکھ کر بھیجوں گا ان کے جواب اسی رائٹنگ پیڈ میں لکھنے ہیں اور اسے لے کر کل میرے کلینک آئیے گا۔“
میں نے اثبات میں سر ہلایا اور بارش رکنے کا انتظار کرنے لگی۔
میں اسے دیکھ کر حیران تھی۔ وہ ایک سال میں کہاں سے کہاں پہنچ چکا تھا۔ میری اس سے پہلی ملاقات اپنی طلاق کے بعد ڈپریشن کے دور میں ہوئی۔
وہ پٹھان تھا اور ان دنوں دوسرے شہر سے یہاں شفٹ ہوا تھا۔ اسے یہاں سیٹ ہونے میں مشکلات پیش آ رہی تھیں۔ کسی پنجابی نے اسے لوٹ لیا تھا۔ اس کے اتنے برے حالات میں پرسکون رہنے نے مجھے بہت متاثر کیا تھا۔
میں نے اسے یہاں سیٹ ہونے میں کچھ مدد کی تھی۔
اس سے صرف دو سیشن لینے کے بعد میں ڈپرشن سے باہر نکل آئی تھی۔ میں نے اس سے برے سے برے حالات میں پرسکون رہنا سیکھا تھا۔ اس کے پاس بڑی سے بڑی مشکل اور پریشانی کا حل ایک اطمینان بھری مسکراہٹ ہوا کرتی۔
جب میں خود کو تنہا محسوس کرتی تو فراغت میں اس کا دماغ کھانے لگتی اور وہ اطمینان سے مسکراتے ہوئے میری باتیں سنتا رہتا۔ میں ہمیشہ سے جذباتی اور شدت پسند طبیعت رکھتی تھی۔ اپنی اس طبیعت کو بدلنے کے لیے میں نے اس سے دوستی کر لی تاکہ میں اس کی طرح اپنے جذبات کو میانہ روی میں رکھ کر ہر حال میں خوش رہنا سیکھ لوں۔
یوں بھی میں اپنے سرکل میں ہمیشہ سے وہ لوگ شامل کیا کرتی تھی جنہیں خوش رہنے اور رکھنے کا ہر فن آتا ہو۔ میں کچھ غم اور حقیقتوں کو بھول جانا چاہتی تھی۔
چھے ماہ پہلے اس نے مجھے شادی کا پروپوزل بھیجا تو میں نے سوچنے کا کہہ کر ٹال دیا تھا۔ سچ یہ تھا کہ اس وقت میں اس کے لیے تیار نہیں تھی۔ ظاہر ہے وہ نفسیات کا ڈاکٹر تھا اور دوسروں کی نفسیات سمجھنا ہی اس کا کام تھا تو پھر دوبارہ کبھی اس نے یہ ذکر نہیں چھیڑا۔
مجھے وقت کے ساتھ ساتھ اور مصروفیات مل گئیں اور میں نے اسے بھلا دیا مگر وہ کبھی کسی برے وقت میں مجھے اکیلا نہیں چھوڑتا تھا۔
اس بار کے صدمے نے مجھے مکمل توڑ ڈالا تھا۔ بظاہر میں ٹھیک تھی اور اپنے اندر کے برباد حال سے خود میں بھی ٹھیک سے واقف نہیں تھی۔ میں خود کو جلد ہی سب ٹھیک ہونے کا یقین دلا رہی تھی مگر جب میری نیند اور سوشل لائف پر اثر پڑنے لگا تو مجھے ڈاکٹر اذان سے بات کرنا پڑی۔ میں نے ہمیشہ کی طرح اس سے باتیں چھپا کر آدھی ادھوری باتیں کیں تو اس نے ہمیشہ کی طرح سمجھتے ہوئے مزید کچھ پوچھے بغیر سب ٹھیک ہونے کا یقین دلایا مگر میں سمجھ چکی تھی کہ اس دفعہ کا صدمہ بہت گہرا ہے اور اس سے نکلنا میرے بس سے باہر ہو چکا ہے۔
اس نے مجھے میرے بچپن سے ملوا کر مجھے پھر سے خوش رہنا سیکھایا اور ماضی کے صدموں اور دھوکوں کے بوجھ سے آزاد کروا دیا۔ آج بھی میں اسے کچھ بتانا نہیں چاہتی تھی تو اس نے مجھے کوگنیٹیو بیہیویرل تھیراپی سے ہیلنگ گائیڈ لائن دی۔
اس کی یہ عادت ہمیشہ سے مجھے پسند رہی کہ وہ کچھ بھی کریدنے کی بجائے ہمیشہ مجھے آزاد علاج دستیاب کر دیا کرتا تھا۔ دراصل اس نے مجھے اپنا علاج خود کرنا سیکھا دیا تھا۔
بارش تھم چکی تھی۔ اس نے اپنے ہاتھ پر بندھی گھڑی سے وقت دیکھا اور اجازت لے کر وہاں سے چل پڑا۔
میں شروع سے سب واقعات کو ذہن میں دہرا کر کوگنیٹیو بیہیویرل تھیراپی سے اصل وجہ تک پہنچنے کی کوشش کرنے لگی۔
مجھے لگا اس صدمے کی گہرائی کی بڑی وجہ یہی تھی کہ ثمر کو خود میرے دل نے چنا تھا اور میں نے اسے سگے رشتوں سے بڑھ کر اپنا لیا تھا۔ اس نے مجھے بے یقینی کی اذیت سے نجات دی تھی۔
اسے دیکھ کر میں نے انسانیت پر یقین کرنا سیکھا تھا۔ مجھے لگا تھا پوری دنیا بدل سکتی ہے پر وہ کبھی نہیں بدلے گا۔۔
پھر ایک دن وہ بدل گیا۔
اچانک میرے دل نے افسردگی سے کہا۔ میں نے جس پر خود سے بھی زیادہ یقین کیا تھا وہ بھی تو مجھے چھوڑ کر چلا گیا نا! اس دنیا میں کوئی بھی شے قابل یقین نہیں۔
میں چپ چاپ گھر کے راستے پر چلنے لگی۔
وہ پہلا انسان تھا جسے میں نے مجبوری میں نہیں چنا تھا اور نہ ہی مجھے اس کی ضرورت تھی۔ اسے میرے دل نے چنا تھا۔
میرے دل کا سورج اس کی محبت کے سمندر میں غروب ہوا تو مجھے احساس ہوا محبت تو بہت حسین جذبہ ہے۔
آہستہ آہستہ دوست بن کر وہ میری زندگی میں شامل ہو گیا۔ اس کی سنگت میں میں خود کو بہت خوش پانے لگی۔ اس سے مل کر ہمیشہ مجھے لگتا جیسے صدیوں سے ہم ایک دوسرے کو جانتے تھے بلکہ ایک ہی جسم کا حصہ تھے۔
وہ مجھ سے اپنی ہر بات کرنے شئیر لگا اور میں اس سے اپنی اداسیاں بانٹنے لگی۔ وہ شخص میری اداسی کا واحد علاج تھا۔ اس کے علاوہ کبھی کوئی میری اداسی دور نہ کر پایا تھا۔ پھر مجھے یہ علاج راس آ گیا۔
میں نے ان دنوں خود کو بہت بدلا ہوا پایا۔
گزرتے وقت کے ساتھ مجھے احساس ہونے لگا کہ وہ میری ضرورت بنتا جا رہا ہے جبکہ میں اسے اپنی ضرورت نہیں بنانا چاہتی تھی۔ میں پہلے اس درد سے گزر چکی تھی اور جانتی تھی کہ کوئی بھی چیز میری ضرورت بن جائے تو وہ مجھے کتنا تڑپاتی ہے۔
میری بے حد جذباتی طبیعت مجھے چین سے جینے نہیں دیتی تھی۔ اُس کے بغیر جینا میری مجبوری تھی۔ یہ رشتہ دوستی سے آگے نہیں بڑھ سکتا تھا۔ میری شادی طے پا چکی تھی اور دوسری وجہ یہ تھی کہ ثمر مجھ سے عمر میں چھوٹا تھا۔ وہ ابھی فرسٹ ایئر میں پڑھتا تھا اور اسے اپنا کیرئیر بنانا تھا۔
میرا دل اور روح اس کے علاوہ کہیں اور سکون نہیں پاتے تھے۔ میں نے خود پر قابو پانے کے لیے اپنے گرد ایک دائرہ لگا لیا۔ مجھے اب اس سے آگے نہیں بڑھنا تھا اور اسے خود کے لیے مختص نہیں کرنا تھا۔ اس کے آگے ایک پوری زندگی پڑی تھی۔ وہ اپنے فیصلے لینے میں آزاد تھا۔ میں اپنی محبت کو خودغرض نہیں بننے دینا چاہتی تھی۔
میں آہستہ آہستہ اس کا راستہ چھوڑنے لگی۔
میں نے اس کی عمر میں اتنا سمجھدار اور مثبت سوچ والا مخلص لڑکا کبھی نہیں دیکھا تھا۔ اس کی دوستی میں رہ کر مجھے بہت سکون ملتا تھا۔
میری شادی ہو گئی تو میں نے اسے وقت دینا کم کر دیا مگر اس نے کبھی کوئی گلہ نہیں کیا۔
ان دنوں صارم کا دوسرے شہروں میں آنا جانا رہتا تھا۔ اس کی غیر موجودگی میں ہماری بات ہو جایا کرتی۔ کچھ وقت گزرنے کے بعد میرے ضمیر نے مجھے جھنجھوڑنا شروع کر دیا۔
میری فطری ایمانداری اور وفاداری نے مجھے اس بات پر مجبور کرنا شروع کر دیا کہ میں اسے چھوڑ دوں اور جس رشتے میں بندھی ہوں اس کے ساتھ وفا کروں۔
میں سمجھ نہیں پا رہی تھی کہ یہ سن کر وہ کیا ردعمل ظاہر کرے گا۔
میرا ضمیر مجھے پریشان کرتا رہا تو ایک دن میں خاموشی سے اس کی زندگی سے نکل گئی۔ مجھے لگتا تھا کہ میں اس کے لیے اتنی ضروری نہیں ہوں جو وہ میرے بغیر جی نہ پائے گا۔ ایسا کرنا میری مجبوری بن چکی تھی مجھے یقین تھا کہ وہ سمجھ جائے گا۔
پھر نو سال میں مجھے مسلسل احساس ہوتا رہا کہ میں اس رشتے میں خوش نہیں ہوں۔ اپنی بیٹی کی وجہ سے میں یہ رشتہ کھینچنے پر مجبور تھی اور پھر میں اس مجبوری کی زندگی سے تنگ آگئی۔
میری وہی ایمانداری اور وفاداری جس نے مجھے اسے چھوڑنے پر مجبور کیا تھا اب اس نے مجھے اپنے شوہر کو چھوڑنے پر اکسانا شروع کر دیا کیونکہ میں اس رشتے سے کبھی خوش نہیں تھی اور اسے منافقت سے لے کر چل رہی تھی۔ میں اسے مزید دھوکے میں نہیں رکھنا چاہتی تھی اور مجھے اپنے ہمسفر سے جو سکون چاہیے تھا وہ صارم کبھی دے نا پایا تھا۔
آخر میں نے اپنے ضمیر کی آوازوں سے تنگ آ کر صارم سے طلاق لے لی۔ وہ آٹھ سالہ آنزے کو لے کر باہر شفٹ ہو گیا اور میں اس گھر میں جو میرے ہی نام تھا، اکیلی رہ گئی۔ میرے باپ کے انتقال کے بعد مجھے وراثت سے جو حصہ ملا تھا میں نے اس سے ایک گھر لے کر کرائے پر دے رکھا تھا۔ اب میں نے وہ گھر اور شوہر سے ملے سب قیمتی تحائف کو بیچ کر ایک بزنس کا آغاز کیا۔
انویسٹر کے طور پر میں نے مارکیٹ میں انویسٹ کرنا شروع کر دیا۔ میری قسمت ایسی تھی کہ مٹی کو چھوا تو سونا بن گئی۔ میں نے اپنے کام میں اپنا دل لگانا شروع کر دیا مگر کوئی نہ کوئی کمی مجھے ستاتی رہی۔
محبت کی شدت جو کہ ہمیشہ سے میری ضرورت تھی اسے پورا کرنے کے لیے میں ایسے ہم سفر کی تلاش کرنے لگی جس کے ساتھ سے میری زندگی مکمل ہو جائے اور جس کے بعد مجھے کبھی کوئی کمی نہ ستائے۔
میری بے چین طبعیت مجھے لاحاصل بھٹکانے لگی تو مجھے ثمر کی یاد آنے لگی۔ اس کی یاد آتے ہی مجھے لگا وہ مل جائے تو میری ساری کمیاں دور ہو جائیں گی۔
میں نے ثمر سے رابطہ کرنے کی کوشش کی تو قسمت سے وہ مجھے مل گیا۔
مجھے یہ دیکھ کر کچھ خوشی اور کچھ افسوس ہوا کہ اب وہ پہلے جیسا نہیں رہا تھا۔
پہلے میں جس ثمر کو جانتی تھی وہ ہر فکر سے آزاد ایک خوش مزاج، خوش اخلاق اور محبت کرنے والا چلبلا سا دھیمے مزاج کا نوجوان تھا۔
اب وہ زمانے میں چلنے کے لیے پختہ مرد بن چکا تھا۔ ایک طرف وہ بہت سی اچھائیوں کا مالک تھا تو دوسری طرف وہ بات بات پر ناراضگی اور غصہ دیکھانے والا ضدی مرد بھی تھا اور اکثر فیصلے عقل یا دل کی بجائے انا سے کرنے کا عادی تھا۔
کبھی کبھی اس سے بات کرتے ہوئے ایسا لگتا جیسے کہیں نہ کہیں اس کے اندر آج بھی وہ چھوٹا سا معصوم لڑکا ہے جو اپنے اندر خود کو بہت تنہا محسوس کرتا ہے اور اسے کوئی بھی سمجھ نہیں پایا۔
میں اسے آہستہ آہستہ سمجھنے لگی اور پہلے سے زیادہ محبت کرنے لگی۔
میرا دماغ مجھے بار بار کہتا کہ وہ میرے لیے خطرناک ہے مگر میرا دل کہتا وہ وہی پہلے والا معصوم سا ثمر ہے جو کبھی کسی کا برا نہیں سوچ سکتا۔ ایک طرف اس کے اندر کا پرانا ثمر مجھے اپنی جانب کھینچنے لگتا اور دوسری طرف اس کے اندر کا نیا خشک مزاج مرد مجھے اس سے دور ہونے پر مجبور کرنے لگتا۔
کچھ بھی تھا مگر اس دفعہ وہ پہلے والی بات نہ رہی۔ ہماری بے وجہ لڑائیاں ہونے لگیں۔
پھر مجھے لگتا ہماری کبھی بھی بات نہیں ہوگی مگر وہ خود ہی مجھے میسج کر کے احساس دلاتا جیسے ہم میں کبھی کوئی لڑائی ہوئی ہی نہ ہو۔ مجھے اس کا یہ انداز بہت اچھا لگتا تھا۔ مجھے احساس ہوتا کہ ہم وہی پہلے والے دوست ہیں اور ایک دوسرے سے کبھی نا بچھڑنے کے لیے واپس جڑے ہیں۔
میرے دل میں اس کے لیے موجود پرانی محبت جاگ چکی تھی مگر مجھے احساس ہوا کہ وہ محبت کے اس جذبے سے ناواقف ہے جسے میں تلاش کر رہی ہوں۔ اس کی جانب سے میری امیدیں ٹوٹنے لگیں۔
مجھے اس حقیقت سے نظریں ملانا پڑیں کہ وہ میرے لیے نہیں ہے اور مجھے کوئی ایسا شخص تلاش کرنا چاہیے جو میری دیوانگی بھرے جذبات کو سمجھ سکے، جس سے دل کی باتیں کرتے ہوئے مجھے ڈر نہ لگے، جسے بے لوث پیار کرنا آتا ہو اور جو ہمیشہ کے لیے میرا ہمسفر بن سکے۔ جبکہ اس سے مجھے ایسی کوئی امید نہیں تھی۔
میری مام بیمار رہنے لگیں تھیں اور میرے اکیلے رہنے سے وہ پریشان تھیں۔ ان کی ضد تھی کہ میں دوبارہ شادی کر لوں۔
مجبوراً میں شادی کے لیے ایک موافق مرد تلاش کرنے لگی جو میری زندگی کی وہ ساری کمیاں دور کر دے جو اب تک مجھے سکون نہیں لینے دے رہی تھیں۔
ایک دن ثمر کو پتہ چلا کہ میں کسی سے ملنے گئی ہوں تو وہ دبے انداز میں غصہ اور ناراضگی دیکھانے لگا۔
مجھے پہلی بار پتہ چلا کہ مجھے وہ اس لیے اپنے ہی جسم کا حصہ لگتا تھا کیونکہ وہ ہو با ہو میرے جیسا تھا۔ میں بھی اپنے رشتوں کے معاملے میں بہت جنونی اور جذباتی تھی۔ میں اپنے پیار کو کسی اور کے ساتھ دیکھ نہیں سکتی تھی۔
پاپا کی وفات کے بعد مجھے لگتا تھا اس دنیا میں اب کوئی بھی نہیں آئے گا جو مجھ سے پوچھے گا کہ تم کہاں سے آئی ہو اور کیا کرتی پھر رہی ہو؟
اس کے ایسے سوالات سے میں اندر سے ہل کر رہ گئی۔
اس کے غصہ کرنے نے مجھے احساس دلایا کہ میں جسے بچہ سمجھ رہی تھی اب وہ بڑا ہو چکا ہے۔
مگر میں نے کبھی یہ نہیں سوچا تھا کہ وہ اچانک سے اتنا بڑا ہو جائے گا کہ جو سوال میں نے کسی اور کو کرنے کی اجازت نہیں دی وہ مجھ سے کرے گا۔
اس کے علاوہ اگر کوئی اور ایسا کرتا تو میں اسے اسی لمحے چھوڑ دیتی مگر وہ پہلا مرد تھا جس کے غصہ میں بھی میں پیار محسوس کرنے لگی۔ میں جب سے اکیلی رہ گئی تھی کوئی میری فکر کرنے والا نہیں تھا اس کا غصہ مجھے اپنائیت کا احساس دلاتا اور میں اس سے دور جانے کی بجائے اس کے اور قریب آنے لگی۔
کبھی کبھی ہم اتنے مصروف ہو جاتے کہ کئی کئی دن ہماری بات نہ ہو پاتی۔
میرا دماغ مجھے بار بار حکم دینے لگتا کہ میں اپنا دل اس سے ہٹا لوں۔ اسے مجھ سے ویسی شدید محبت نہیں تھی جو میری ضرورت تھی۔ میں اپنے دل میں اس کے لیے موجود شدید جذبات کو اندر ہی اندر دباتی رہی اور اس سے اپنا دھیان ہٹانے کو چھپ کر شادی کے لیے مرد منتخب کرنے لگی۔
مجھے ڈر تھا کہیں میرا دل اس کے لیے اتنا بیمار نہ ہو جائے کہ جس کا علاج نہ ہو سکے۔
وہ میری پہلی ملاقات تھی جس پر ثمر نے پہلی بار کچھ غصہ کیا تھا۔ مجھے لگا میری دوست کو معلوم تھا تو وہیں سے اسے پتہ چلا ہے۔ پھر میں اپنی دوست سے اپنی باتیں چھپانے لگی اور اذیت اور بے چینی پر قابو پانے کو نئے نئے مردوں سے ملاقات کرنے لگی۔ نہ مجھے اس کی ناراضگی برداشت تھی اور نہ ہی اس کی غیر جذباتی سی محبت سکون دے رہی تھی۔
جلد ہی مجھے احساس ہونے لگا کہ میں اپنے دل سے اسے نکال کر کسی اور کے لیے جگہ نہیں بنا سکتی۔ پھر میں نے دوبارہ کبھی شادی نہ کرنے کا ارادہ کر لیا۔
اسی دوران میرے اور ثمر کے بیچ غلط فہمیاں پیدا ہو گئیں۔
وہ مجھ سے اپنی ہر بات شیئر کرتا تھا مگر میں اس سے اپنی کچھ باتیں چھپا لیتی تھی۔ اس نے یہ محسوس کر لیا اور اس بات کو دل ہی دل میں کہیں رکھتا رہا۔
ایک ایک کر کے سب باتیں اس کے دل پر پہاڑ کی طرح بوجھ بن گئیں اور اس سے مزید بوجھ اٹھانا مشکل ہونے لگا۔
وہ مجھے جتانے لگا کہ میں اس سے اپنی ہر بات چھپاتی ہوں۔ میں ہنس کے ٹال دیتی اور کہتی تم پوچھ لیا کرو۔ مگر وہ چاہتا تھا ہر بات خود سے کہہ دی جائے۔ میں یہ سمجھ نہ سکی۔ میری فطرت ایسی تھی کہ میں بن کہے ہر بات کو سمجھنا اور محسوس کرنا پسند کرتی تھی اور میں اس سے بھی یہی امید کر رہی تھی کہ میں اسے کچھ نہ بھی کہوں اور اسے ہر بات کا پتہ ہو۔
مگر میں یہ نہیں جانتی تھی وہ پہلے سے ہی کچھ ایسا انتظام کر چکا ہے کہ اس کو میری ہر بات پتہ چل رہی ہے۔ کچھ غلط، کچھ صحیح۔۔
اور پھر میں اس بات سے پریشان رہنے لگی۔
میں نے جن مردوں سے ملاقات کی تھی ان میں سے صرف ایک لڑکا مجھے شادی کے لیے کچھ معقول لگ رہا تھا اب میں نے اس سے دوبارہ ملاقات کا سوچ لیا۔ مجھے سمجھ نہیں آرہی تھی کہ میں غلط انتخاب کیوں کر رہی تھی۔ سبحان عمر میں مجھ سے دس سال چھوٹا تھا، کم حیثیت تھا اور بہت جوشیلے مزاج کا تھا۔ میں مسلسل خود کو کوس رہی تھی۔
عالی یہ کیا! تو نے ثمر سے بھی چھوٹا لڑکا شادی کے لیے منتخب کر ڈالا۔
پھر میں اسے منتخب کرنے کی وجہ تلاش کرنے لگی۔ وہ مجھ سے دس سال چھوٹا ضرور تھا مگر محبت کے وہی شدید اور مخلص جذبات رکھتا تھا جن کی مجھے ہر مرد میں کمی نظر آتی تھی۔ وہ خوبصورتی میں حسن یوسف کی جھلک تھا اور عاجزی و انکساری کا پیکر تھا۔ اس کا اپنی کم حیثیت نوکری پر شرمندہ ہونے کی بجائے شکر کا اظہار کرنا اور میرے یہ جاننے کے بعد کہ وہ اس مہنگے ہوٹل کا بل افورڈ نہیں کر پائے گا میرے بل دینے کی ضد پر ناراضگی کا اظہار کرنا اور خود بل ادا کرنا مجھے اس کا مردوں والا انداز لگا۔
مجھے گھر آکر احساس ہوا مردوں میں مرد بھی کوئی کوئی ہوتا ہے۔ وہ اب تک کے شادی کے لیے دیکھے گئے سب مردوں میں واحد خوددار مرد تھا۔ دوسرے مرد میری حیثیت، کاروبار اور گھر دیکھ کر مرعوب ہو رہے تھے مگر وہ صرف میری ذات اور شخصیت سے مرعوب تھا۔
اس کا پر خلوص اور جوشیلا انداز دل کو چھو لینے والا تھا اس کے باوجود بھی میرے دل میں موجود ثمر کی جگہ وہ نہیں لے پایا۔
میں نے سوچا سبحان کو اپنی ماں سے ملوا کر مطمئن کر دیتی ہوں کہ اس سے شادی کرنے والی ہوں۔ ان کی ناراضگی ختم ہو جائے گی اور پھر سال بھر کوئی نا کوئی بہانے کر کے ٹالتے رہنے کے بعد معاملہ ختم کر دوں گی۔ مجھے اب کسی سے شادی نہیں کرنی تھی۔ مجھے ثمر کے علاوہ کسی دوسرے کو خود پر غصہ کرنے کی اجازت نہیں دینی تھی۔
سبحان کے ساتھ میری تیسری ملاقات ہوئی تو میں نے اسے سب بتا دیا کہ میں ثمر سے پیار کرتی ہوں اور مام کو دکھانے کے لیے اسے چنا ہے۔ شادی سے پہلے کے ڈرامے کر کے دکھانے ہیں اور پھر ایک سال بعد ڈرامہ ختم۔
یہ سب سن کر اس کا چہرہ اتر گیا۔ وہ چپ چپ سا لوٹ گیا۔
میں گھر پہنچی تو ثمر پہلے سے گھر کے باہر کھڑا تھا۔ اس نے بظاہر مسکرا کر مجھے کچھ شکی نگاہوں سے دیکھا۔ میں گھبراتے ہوئے اسے گھر لے آئی۔ اس نے کوئی سوال نہیں کیا مگر اس کی آنکھوں میں میں نے بہت سارے سوال دیکھ لیے تھے۔
کچن میں کام کرتے ہوئے نجانے کتنی بار مجھے یہ خیال آیا کہ ابھی وہ میرے پیچھے سے آئے گا اور میرے بال پکڑ کر ناراضگی سے پوچھے گا کہ آپ کہاں سے ہو کر آ رہی ہو؟
حالانکہ اس نے ایسا کبھی نہیں کیا تھا اور نہ ہی وہ ایسی طبعیت رکھتا تھا جو کسی دوسرے کو نقصان پہنچائے مگر نجانے کیوں میرے دماغ میں یہی چل رہا تھا۔
ابھی میں اس کیفیت سے گزر رہی تھی کہ وہ کچن میں چلا آیا۔ میری سانسیں حلق میں پھنس رہی تھیں جب وہ میرے پیچھے سے آ رہا تھا۔
اس نے دوستانہ انداز میں اپنا ہاتھ میرے کندھے پر رکھ دیا۔ مگر میرا خوف مجھے اس کا ہاتھ اپنی گردن پر آتے ہوئے محسوس کروانے لگا۔ میں نے خوف سے آنکھیں بند کر لیں۔
وہ میری گردن دبانے ہی والا تھا کہ اس کی آواز سے میری آنکھیں کھل گئیں۔
”میں کچھ مدد کرؤں؟“ وہ دوستانہ انداز میں پوچھ رہا تھا۔ اس کا ہاتھ ابھی تک میرے کندھے پر ہی تھا۔
میں اپنے تواہمات سے باہر نکل آئی اور میں نے قدرے سکون سے سانس لینے کی کوشش کی۔
”نہیں میں کر لوں گی۔“
وہ دھیرے سے مسکرایا اور آگے بڑھ گیا۔ میں سبزی اور چکن فرائی کرتی رہی۔
اب وہ دراز سے کچھ تلاش کرنے لگا۔
آخر اس نے چھری تلاش کر لی۔ میری سانسیں رکنے لگیں۔ مجھے وہ اپنی جانب بڑھتا ہوا محسوس ہونے لگا۔ میں نے اپنے خیالات سے باہر نکل کر دیکھا تو وہ فریج سے سبزیاں لے رہا تھا۔
وہ سلاد بنانے لگا تو میری سانسیں بحال ہوئیں۔
میں نے جلدی جلدی کھانا بنا کر میز پر لگایا تو وہ خاموشی سے کھانا کھانے لگا۔
کچھ دیر باتیں کرنے کے بعد وہ جا رہا تھا تو مجھے لگا وہ کچھ ڈسٹرب تھا۔
کچھ دنوں میں میں نے اس کی باتوں سے محسوس کیا وہ ناراض ناراض سا تھا۔ ہماری لڑائیاں ہونی بند ہو گئیں۔ میری ہر بات پر ”جی“، ”صحیح“ اور ”کیا بات ہے“ کے علاوہ اس کے پاس کوئی جواب نہیں بچا تھا۔
جب کسی رشتے سے لڑائی کا اپنائیت بھرا سرور ختم ہو جائے تو سمجھ لینا چاہیے کہ اب وہ رشتہ باقی نہیں رہا۔
وہ اندر ہی اندر ناراضگی پالے ہوئے تھا اور کچھ بھی کھل کر نہیں کہتا تھا۔
اس کی باتوں سے معلوم پڑتا تھا وہ مسلسل میری خبریں لے رہا تھا۔ مجھے تعجب ہونے لگا کہ آخر اسے کیسے میری باتیں پتہ چل رہی ہیں۔
میں جان بوجھ کر اپنی سہیلیوں کو غلط باتیں بتانے لگی تاکہ مجھے پتہ چلے کون سی سہیلی میری خبریں اس تک پہنچا رہی ہے۔ وہ بھی اب مجھ سے کچھ پوچھتا ہی نہیں تھا تاکہ مجھے پتہ نا چلے کہ کہاں سے وہ میری خبریں لے رہا ہے۔
وہ اب غصہ نہیں کرتا تھا اس کی باتیں مطلبی سی ہونے لگیں اور اس کا انداز ناراضگی بھرا رہنے لگا۔
ایک دفعہ میں اس سے ملنے گئی تو وہ غصے میں بیٹھا خود سے کہہ رہا تھا۔
”میں نے مارنا ہے۔۔ میں نے سب کو مارنا ہے۔“
جب میں پیچھے سے اس کے سامنے آئی تو وہ اپنے غصے کو دباتے ہوتے سنجیدگی سے مجھے دیکھنے لگا۔ مجھے لگا یہ میرا وہم ہے۔ پھر وہ عجیب سے سوالات کرنے لگا۔ میں نے اسے یقین دلایا کہ اس کے علاوہ میرے دل میں کوئی بھی نہیں ہے۔ حالانکہ یہی سچ تھا مگر اسے جیسے میری کوئی بات سنائی ہی نہیں دے رہی تھی۔
اسے میری بات پر یقین تو تھا مگر کوئی بات اسے بے سکون کر رہی تھی۔
اس کی اگلی دفعہ جب میں اس سے ملی تو وہ بلاوجہ خود کلامی کے سے انداز میں کہنے گا۔
”میں نے تھپڑ مارنے ہیں۔۔ میں نے تھپڑ مارنے ہیں۔“
مجھے لگا وہ مذاق میں کہہ رہا ہے کیونکہ کچھ بھی ہو وہ میرے ساتھ ایسا نہیں کر سکتا تھا۔ وہ مسلسل ایسے ہی جملے دہراتا رہا۔
جب مجھے کچھ سمجھ نہ آئی تو میں نے اس کی باتوں پر توجہ دینے کی بجائے اپنا دھیان کہیں اور بنا لیا۔
اس کے بعد ہمیشہ وہ مجھے بہت دھیمے مزاج میں نظر آیا۔ کوئی غصہ نہیں، کوئی سوال بھی نہیں۔
چپ چپ سا۔۔ الجھا الجھا۔۔ کبھی کبھی ذومعنی گفتگو کرتا ہوا۔۔
مجھے لگا اسے کچھ غلط باتیں بتائی جا رہی ہیں۔ میں بہت زیادہ پریشان رہنے لگی۔
ہمارے بیچ وہ جو بھی تیسرا تھا وہ غلط باتیں پھیلا کر ہمیں دور کر رہا تھا۔ مجھے دن رات یہ ڈر ستانے لگا کہ تیسرا شخص ہمیں دور کرنے والا ہے۔ میں اس کے غصے کو ترسنے لگی۔ میں چاہتی تھی وہ کچھ بولے اور مجھے پتہ چلے اس کے اندر کیا چل رہا ہے۔
وہ مجھے بہت عزیز تھا۔ میں خود کو کھو سکتی تھی پر اسے نہیں۔
میں اس تیسرے کی کھوج میں ہر وقت سرگرم رہنے لگی۔
میں اس کو سننے کے لیے کچھ بھی بولنے لگی مگر وہ مجھ سے اپنی باتیں چھپانے لگا۔
پہلے میں اسے شکی کہتی تھی مگر میں بھی ایسے حالات میں پھنس گئی کہ مجھے بھی ہر کسی پر شک ہونے لگا۔ میں نے ایک ایک کر کے اپنی دوستوں سے تعلق ختم کر دیا۔ جب اسے یہ بات پتہ چلی تو اس نے مجھے سمجھایا کہ میں اپنی دوستوں کے ساتھ اس کی وجہ سے تعلق ختم نہ کروں۔
اس پر مجھے مزید شک پڑنے لگا کہ یقیناً میری دوستوں میں سے ہی کوئی اسے میری باتیں پہنچا رہی ہے۔
اس سے تعلق بچانے کی خاطر میں نے اپنی دوستیں چھوڑ دیں اور شادی کا ارادہ بھی ترک کر دیا۔ پہلے میں شدید چاہنے والے ہمسفر کی تلاش میں اس تک پہنچی اور پھر اس سے مایوس ہو کر کہیں اور بھٹکنے لگی۔ اس کے علاوہ کوئی اور مرد مجھے اچھا نہیں لگ رہا تھا اور ہر گزرتے دن کے ساتھ میری محبت شدت اختیار کرتی جا رہی تھی۔
میں نے اس کی ناراضگی محسوس کر کے سبحان سے رابطہ ختم کر دیا اور حسن تو تھا ہی میرے لیے بھائی جیسا۔ تیسرا شخص میرا کام کے سلسلے میں پارٹنر تھا۔ میرے دل میں اس کے لیے کچھ بھی نہیں تھا۔ اس کی فیملی سے میری اچھی جان پہچان تھی۔ مگر یہ بھی کچھ سچ تھا کہ وہ مجھے پسند کرتا تھا اور شادی کے لیے پروپوز کر چکا تھا جسے میں نے اہم نہیں سمجھا اور موقع پر ہی منع کر دیا۔
ثمر نے مجھ سے دو دن بات نہ کی تو میں نے اس سے شکوہ کر ڈالا۔ اس پر وہ خاموش رہا تو تنگ آ کر میں نے اسے ناراضگی میں کچھ ایسا میسج کر دیا جس سے اسے لگا کہ اب میں کبھی اس سے بات نہیں کرنے والی۔ ان دنوں میرے اردگرد کچھ عجیب واقعات ہونے لگے۔
کئی دن ہماری بات نہ ہوئی اور ان دنوں مجھ سے رابطے میں موجود سب مردوں کے ساتھ بہت برے واقعات پیش آنے لگے۔
حسن سرکاری ملازم تھا اسے نوکری سے کچھ ماہ کے لیے سسپینڈ کر دیا گیا۔ وہ بینک سے اپنی کئی ماہ کی تنخواہ نکلوا کر گھر لا رہا تھا جب اس کو گن پوائنٹ پر لوٹ لیا گیا۔ اس کے فون، کار اور کئی لاکھ چلے گئے۔
وہ غمزدہ تھا مگر اس نے کوئی شکوہ نہیں کیا۔
اس کے دو ہی دن بعد سدیس کے گھر کے سارے شیشے اور لیپ ٹاپ اور موبائل کی اسکرین ٹوٹ گئیں اور یہ بہت عجیب طریقے سے ہوا پھر کچھ دن بعد وہ حادثے میں زخمی ہو گیا۔
میری چھٹی حس نے کہا کوئی بہت بڑی گڑبڑ ہے۔ میں نے سوچا سبحان کا حال معلوم کر لوں۔ اسے فون کیا تو پتہ چلا اس کی بھی نوکری چلی گئی۔
بہت سے سوالات میرے ذہن میں گھومنے لگے۔ میں ان دنوں بہت زیادہ ڈپریشن میں تھی۔
مجھے اس کی یاد ستاتی رہی تو میں نے اس سے خود ہی بات کر لی۔ ہماری صلح ہوئی تو مجھے پتہ چلا وہ سمجھ رہا تھا کہ میں نے اسے چھوڑ دیا ہے۔ میں نے اسے یقین دلایا کہ میری طرف سے ایسا کبھی نہیں ہو گا۔
ہماری آپس کی باتیں ہوتیں رہیں اور وہ منتظر رہا کہ میں اس سے کچھ اور بھی شئیر کروں۔ جب ایسا نہ ہوا تو وہ بجھ گیا۔
پھر ایک دن باتوں میں میرے منہ سے سچ نکل گیا کہ کچھ سال پہلے میں نے اس کو خود ہی ہر طرف سے بلاک کیا تھا۔ میں اسے مکمل طور پر اپنی مجبوری نہ بتا سکی مگر میں نے اس سے معافی مانگی۔ اس نے یہ سن کر چپ سادھ لی۔ میرے بار بار معافی مانگنے کے باوجود وہ میرے سے اکھڑے اکھڑے انداز میں بات کرنے لگا اور چلا گیا۔
میں نے سمجھا وہی تو مجھے اچھے سے جانتا ہے وہ میری مجبوری سمجھے گا اور اس پرانی بات کو اہمیت نہیں دے گا مگر یہ بات اس کے دل میں بیٹھ گئی۔
اگلے دن ہماری فون پر باتیں ہونے لگیں تو اچانک سے اس نے غصہ کرنا شروع کر دیا اور مجھے بلاک کر دیا۔
مجھے اس وقت یہ بات سمجھ آئی کہ وہ مجھے معاف نہ کر پایا اور اس نے اپنا غصہ نکالنے اور بدلہ لینے کے لیے مجھے بلاک کیا ہے۔ میں نے اس بات پر صبر کر لیا کہ جب اس کا غصہ ٹھنڈا ہوگا تو وہ خود ہی مجھ سے بات کر لے گا۔
میں نہیں جانتی تھی کہ اس کے اندر کیا کچھ چلتا رہا تھا مگر ہر گزرتے وقت کے ساتھ میری ناراضگی بڑھتی رہی کہ اس نے میرے پیار کرنے والے دل کو نہیں سمجھا اور مجھے دکھ پہنچانے کو تنہا چھوڑ گیا۔
میں اپنا سارا ماضی یاد کرتے ہوئے خود کو سمجھا رہی تھی کہ میں نے جتنا اذیت ناک محسوس کیا یہ اتنا اذیت ناک نہیں تھا۔
کچھ غلطیاں مجھ سے بھی ہوئیں تھیں جن کو مجھے دوبارہ نہیں کرنا تھا۔ مجھ پر واضح ہوا کہ وہ مجھ سے محبت نہیں کرتا تھا کیونکہ محبت میں انسان اپنے محبوب کی بڑی سے بڑی غلطیاں معاف کرنے کی بھی گنجائش رکھتا ہے اور ناراضگی میں بھی اپنے محبوب کو کبھی تنہا نہیں چھوڑتا۔ اس نے سوچ سمجھ کر ہی یہ فیصلہ کیا تھا۔ میں اسے سے اب مزید کوئی امید نہیں رکھ سکتی۔
اسے گئے ہوئے آج ڈیڑھ ماہ گزر چکے تھے۔ اس نے کوئی رابطہ نہیں کیا تھا جس کا مطلب یہی تھا کہ اب وہ بدل چکا ہے اور کبھی نہیں لوٹنے والا۔
مجھے بھی خود کو بدلنا تھا اور اسے بھولنا تھا۔
میں نے نوٹ پیڈ نکالی اور چند سوالوں کے جواب لکھنے لگی۔
مجھے وہ باتیں لکھنی تھیں جو کبھی اس سے کہہ نہ پائی تھی۔ مجھے لگا میں ایسا نہیں کر سکتی۔ جو انسان اپنی انا کی تسکین کے لیے مجھے دکھ پہنچا رہا تھا مجھے اس سے کوئی بات کرنی ہی نہیں تھی۔ میں ناراضگی سے نیند کی گولی لیے سو گئی۔
جب میری آنکھ کھلی تو میرا دل زور زور سے دھڑک رہا تھا۔ میرے دل سے خود بخود الفاظ نکلنے لگے۔ اذیت کم کرنے کو میں نے انہیں لکھنا شروع کر دیا۔
”میں اِس نئے ثمر کو نہیں جانتی جس کے سینے میں پتھر کا دل ہے اور دماغ پر اپنی ہی انا سوار رہتی ہے۔
میں تو اس ثمر کی یاد میں تم تک آئی جو صرف محبت کرنا جانتا تھا، جس کا میٹھا سلوک مجھے اعتبار اور یقین کے خوبصورت احساس سے ہمکنار کرواتا تھا۔ جس کے ملنے کے بعد مجھے کوئی دوسرا مرد میرے دل میں نہ آ سکا۔ جس کی خوبصورت دوستی کو میں کبھی بھلا نہ پائی۔
میں نے تمھیں کبھی نہیں بتایا کہ مجھے تمھاری ناک جو مسکراتے ہوئے پھیل جاتی ہے بہت پیاری لگتی ہے اور۔۔ تمھارا غصہ کرنا بہت اپنا اپنا سا لگتا ہے۔ میرے باپ کے بعد کبھی کسی مرد نے مجھ پر یوں غصہ نہیں کیا تھا۔۔ پر تمھیں حق دیا تھا۔۔
تم وہ پہلے والے ثمر نہیں ہو جو اپنے دل میں غصہ اور ناراضگیاں نہیں پالتا تھا۔ جس کی باتیں مجھے نیند سے زیادہ سکون دیتی تھیں۔۔ جس کا دل بہت خوبصورت تھا۔ اور وہ درگزر کرنا جانتا تھا۔ غلطی تو مشین سے بھی ہو جاتی ہے ہم تو پھر بھی انسان ہیں۔ کیا تم سے کبھی کوئی غلطی نہیں ہوئی جو دوسروں کو معاف کرنا مشکل لگتا ہے؟
تم اب صرف اپنے پیشے کو فالو کرتے ہو جو تمھیں ہر کسی کو شک کی نگاہ سے دیکھنا سیکھاتا ہے اور صرف سزا دینا ہی جانتا ہے۔
کبھی خود کو غور سے آئینے میں دیکھو تو تمھیں پتہ چلے کہ تم ویسے نہیں ہو جیسا خود کو بنانا چاہتے ہو۔
ٹھیک ہے میں نے تم سے کچھ باتیں چھپائیں، میں بتانا چاہتی تھی مگر مجھے تم سے ڈر لگتا تھا۔ میری جنونی محبت نے مجھے ڈرپوک بنا دیا۔ مجھے موت سے ڈر نہیں لگتا پر تمہاری ناراضگی سے بہت ڈر لگتا تھا۔ پھر تم نے بار بار اس ڈر سے میرا سامنا کروایا۔
تمھیں تو ٹھیک سے محبت کا مفہوم بھی معلوم نہیں مگر میری محبت اتنی خالص اور شدید ہے کہ مجھے تمھارے لیے سو بار زندہ ہو کر مرنا پڑتا تب بھی کوئی غم نہ ہوتا، پر تمھیں تو صرف اپنی انا سے پیار ہے۔ تمھیں کسی کے جذبات کی کوئی قدر نہیں۔
تم بہت بے رحم ہو۔۔ میرا دل توڑ کر چلے گئے نا!
میں نے تمھیں کبھی نہیں بتایا کہ جب سے مجھے تم سے جنونی محبت ہوئی ہے تب سے میں کتنی اذیت میں ہوں۔ ہاں یہ محبت اذیت در اذیت ہے۔ تمھارے روٹھ جانے کی اذیت، تمھیں کبھی نہ پا سکنے کی اذیت، تمھارے بدل جانے کی اذیت اور ہر اس بات کی جو تمھیں نا پسند ہے اور جو مجھے ناچاہتے ہوئے بھی کرنا پڑتا ہے۔
میں تمھارے رویے سے سمجھ گئی تھی کہ میری محبت یکطرفہ ہے پھر بھی میں نے تمھیں چاہا۔ حالانکہ میری ضرورت چاہنے کی نہیں چاہے جانے کے تھی۔
اب تمھیں بھلانے کے لیے نجانے مجھے کیا کچھ کرنا پڑتا ہے، پر تمھاری یاد بھی تمھاری طرح بہت ضدی ہے۔
مگر اب میں خود کو بدل کر رہوں گی کیونکہ تم بدل چکے ہو۔ تمھیں میری کوئی پرواہ نہیں تو میں اس خود غرض ثمر کی کب تک پرواہ کرتی رہوں۔
اس پرانے ثمر کو میں ہمیشہ چاہ سکتی ہوں جو میرے دل میں ہمیشہ رہے گا۔
اس نئے ثمر کو میں نہیں جانتی جو اپنے خاندان کی اکڑ پر مان کرتا ہے دوسروں کو دکھ پہنچا کر سکون محسوس کرتا ہے۔
تم ہی وہ انسان تھے جس پر میں نے سب سے زیادہ بھروسہ کیا اور تم ہی اسے توڑ کر چلے گئے۔
اب تو مجھے اپنے سائے پر بھی یقین نہیں آتا۔“
میں نے اداسی سے قلم رکھا اور ڈاکٹر کی ٹکنیک پر عمل کرتے ہوئے سب جلا ڈالا۔
اب میں آزاد ہو چکی تھی۔ میں نے خود کو یقین دلایا کہ میرا ماضی مٹ چکا ہے۔ میرا اپنے ماضی سے اب کوئی واسطہ نہیں۔
———-
دو گھنٹے جم اور یوگا کرنے کے بعد میں مزید دو گھنٹے کی میڈیٹیشن لینے کے بعد خود کو بہت پرسکون محسوس کرنے لگی۔ اب میری کئی دنوں سے یہی روٹین تھی۔ جم، یوگا اور میڈیٹیشن۔
کافی عرصے بعد مجھے جسمانی اور روحانی سکون سے شناسائی ملی تھی۔ کبھی کوئی یاد بھول بھٹک کر آنے بھی لگتی تو اب اس میں وہ درد اور اذیت باقی نہیں تھی، اس میں راحت اور سکون تھا۔ البتہ میری نیند میں کمی آ چکی تھی۔
اس سب کے ساتھ مزید بزنس کی مصروفیات کی وجہ سے میں ڈاکٹر اذان کے بار بار بلانے پر آج وقت نکال کر چلی آئی۔
اس نے مجھے بہتر محسوس کرتے ہوئے کچھ ذاتی سوالات کرنے کی اجازت مانگی۔ مجھے کچھ حیرانی ہوئی کیونکہ یہ چھ ماہ پہلے کا ان کا پرانا انداز تھا۔
میں نے اجازت دی تو وہ تمہید باندھتے ہوئے پوچھنے لگا۔ ”آپ کی طلاق کو کتنا عرصہ ہوا ہے؟“
میں بلا تکلف بتانے لگی۔
”ایک سال پہلے صارم سے میں نے طلاق لی تھی۔ ہماری ایک ہی طلاق ہوئی تھی جو بائن ٹھہری ہوئی ہے۔ اگر ہم چاہیں تو واپس صلح کر سکتے ہیں اور اگر میں چاہوں تو کہیں اور نکاح کر سکتی ہوں۔۔ میں ہر فیصلے میں آزاد ہوں۔“
اب وہ مدعہ پر آیا۔
”آپ نے میرے پروپوزل کا کوئی جواب نہیں دیا تھا۔۔ اگر میں دوبارہ اس پر غور کرنے کو کہوں تو؟“
میں نا چاہتے ہوئے مسکرائی۔ ”چھے ماہ پہلے اور اب میں سب بہت بدل چکا ہے۔ تب میں کسی کے عشق میں برباد نہیں تھی۔ آج میں خود کو بھی ٹھیک سے نہیں جانتی ہوں۔ آپ کی کروائی ہوئی سرگرمیوں نے مجھے خود سے دوبارہ ملوایا ہے مگر میں سچ کہوں تو ابھی میں کسی کو اپنی زندگی میں شامل کرنے کا سوچ بھی نہیں سکتی۔“
ڈاکٹر نے مصنوعی مسکراہٹ بھرا اطمینان ظاہر کرتے ہوئے موضوع تبدیل کر ڈالا۔
”اب نیند تو سکون سے آ رہی ہے نا!..“
میں نے الجھے ہوئے بتایا۔ ”میری نیند اب پہلے جیسی نہیں رہی۔۔ کچھ خلا اور کمی سی اب بھی مجھے بے چین کیے دیتی ہے۔“
اس نے سوچتے ہوئے پوچھا۔ ”آپ کو تیرنا کیسا لگتا ہے؟“ میں کچھ گھبرا گئی۔ اس کا سوال خطرناک تھا۔
”مجھے پانی سے خوف آتا ہے۔“
اس نے مسکراتے ہوئے یقین سے کہا۔ ”اب آپ کو اپنے ڈر پر قابو پانے کی مشق کرنی ہے۔ آج سے آپ تیراکی کی مشق کریں گی۔“ میں پھیلی ہوئی آنکھوں سے اسے دیکھنے لگی۔ ”نہیں۔۔ نہیں۔۔ ڈاکٹر کچھ اور۔۔“
اس نے میری بات کاٹی ”آپ کو تیرنا سیکھنا ہے اور یہی آپ کے سکون کو واپس لائے گا۔ آپ سکون کی نیند کا مزہ اسی سے لے پائیں گی۔“
میں الجھی ہوئی ناراض سی وہاں سے اٹھ کر گھر چلی آئی۔
یہ سچ تھا کہ مجھے نیند کا پہلے جیسا سکون میسر نہ تھا۔ دو دن بے سکونی سے کروٹیں بدلنے کے بعد مجھے خیال آیا کہ مجھے ڈاکٹر کی بات مان لینی چاہیے۔ میں نے تیراکی کی کلاس کے لیے اپنی بہن شائقہ سے رابطہ کیا تو اس نے مجھے ایک جگہ بات کر کے لوکیشن بھیج دی۔
اگلے دن میں وقت پر وہاں پہنچ گئی۔ وہ شہر کا بہترین تیراکی کلب تھا اور میں نے خاص طور سے ایسا وقت منتخب کیا جب کم سے کم سیکھنے والوں کا رش ہو تاکہ میں سیکھنے میں آسانی محسوس کر سکوں۔
مجھے وہاں پہنچ کر جھٹکا لگا جب پتہ چلا کہ تیراکی سیکھانا والا ایک مرد ہے۔ پہلے میں پانی سے خوفزدہ تھی پھر مرد کو دیکھ کر میرا موڈ خراب ہونے لگا۔
میں لاشعوری طور پر اسے دیکھ کر بیزاری اور اکتاہٹ کا اظہار کرنے لگی۔
جب تک مجھے معلوم نہیں تھا کہ وہ ہی ہمارا ٹرینر ہے میں اسے ایک عام انسان کی نظر سے دیکھ سکتی تھی۔ وہ بڑی بڑی خوبصورت آنکھوں اور مضبوط جسامت والا دیدہ ذیب مرد تھا۔ میرے علاوہ موجود باقی دو لڑکیاں اشتیاق سے تیراکی سیکھ رہی تھیں۔
مگر وہ مجھے سیکھانے کا منتظر تھا اور میں واپس گھر لوٹ جانے کے بہانے کر رہی تھی۔
میں دل ہی دل میں اپنی بہن کو کوس رہی تھی کہ اس نے مجھے کہاں پھنسا دیا۔ میں نے کپڑے بدلنے کے بہانے جا کر اسے فون لگایا اور خوب صلواتیں سنائیں۔
آخر اس نے اگل دیا کہ اس نے جان بوجھ کر مجھے یہاں بھیجا ہے اور وہ ٹرینر کوئی عام شخص نہیں بلکہ فوج کا ریٹائرڈ میجر ہے اور بہت امیر کبیر گھرانے سے ہے۔ وہ اپنے ذاتی تین بزنس سنبھال رہا ہے اور یہ تیراکی کلب بھی اسی کا اپنا ہے۔ وہ شوقیہ یہاں وقت دیتا ہے۔
میں نے غصہ کرتے ہوئے کہا۔ ”تم مجھے مزید پاگل نہیں بنا سکتی۔۔ وہ مرد اتنی عمر کا نہیں ہے۔“
شائقہ نے صفائی میں کہا۔ ”وہ نبیل کے سب دوستوں میں سب سے اونچے گھرانے سے ہے اور عمر میں بھی چالیس کا ہے۔۔ بس اس نے جلدی ریٹائرمنٹ لے لی کیونکہ اسے بزنس کا شوق تھا تو اس نے یہاں سوئچ کر لیا۔“
میں ان باتوں سے بیزار ہونے لگی کیونکہ میرے لیے پیسہ نہیں بلکہ انسانیت کا اہم مقام تھا۔ ”اگر وہ دنیا کا امیر ترین شخص ہو تب بھی مجھے اس میں کوئی دلچسپی نہیں۔“ میں فون بند کرنے والی تھی کہ شائقہ نے کہا۔
”پاگل آج کر کے دیکھ لے۔۔ اگر تم ایک دوسرے کو پسند کر لیتے ہو تو شادی کی بات آگے بڑھائی جا سکتی ہے۔ اگر تجھے اس کی سمجھ نہ آئی تو چھوڑ دینا۔۔“
میں غصے سے جھنجھلائی۔
”اچھا یعنی تم لوگوں نے میرے کام میں اپنا بھی فائدہ ڈھونڈ لیا۔ نہیں کرنی مجھے ابھی شادی۔۔“ میں ناراضگی سے فون بند کر کے پول کی جانب واپس چلی آئی۔
میجر زاویار نے مجھے دیکھ کر کہا۔
”آئیے مس۔۔! اب آپ تیراکی سیکھیں گی۔“
میں نے ناراضگی سے یہاں وہاں دیکھتے ہوئے کہا۔
”مجھے پہلے سے تیراکی آتی ہے اور میں بس پریکٹس کے لیے آئی ہوں تو وہ میں خود سے کر لوں گی۔۔ آپ اپنے باقی شکاروں پر۔۔ میرا مطلب شاگردوں پر دھیان دیں۔۔“
وہ زیر لب مسکرایا جیسے سمجھ گیا کہ میں اس سے سیکھنے پر آمادہ نہیں ہوں۔
اس نے اخلاقًا کہا۔ ”چلیں آپ پھر پریکٹس اسٹارٹ کریں۔ ہم ادھر ہی ہیں۔۔ اگر کوئی مسئلہ ہوا دیکھ لیں گے۔“
میں نے منہ بناتے ہوئے کہا۔ ”اس کی بھی ضرورت نہیں ہے۔“
میں کچھ ڈر پر قابو پاتے ہوئے پول کی سیڑھیوں میں دھیرے دھیرے سے اترنے لگی۔ پانی میں آدھا جسم داخل ہوتے ہی میرا سانس اکھڑنے لگا۔
میری حالت دیکھ کر میجر پول کے قریب پنجوں کے بل آ بیٹھا۔ ”کیا آپ کو ایستھما پرابلم ہے؟“
میں نے تعجب سے کہا۔ ”نہیں مگر کبھی کبھی مجھے خوف اور گھبراہٹ کی انتہا پر سانس کا مسئلہ ہو جاتا ہے۔“ میں خوف میں سچ بول چکی تھی۔
میجر نے اطمینان سے کہا۔ ”پھر اس پر قابو پا لیں تو ہی پانی میں اتریں ورنہ بہتر ہے میرے ہاتھ پکڑ کر دھیرے دھیرے اترنے کی پریکٹس کر لیں۔“
میں نے خوف پر قابو پاتے ہوئے نفی میں سر ہلایا۔
”نہیں میں کر لوں گی۔“ میں نے اس کا ہاتھ پکڑنے سے انکار کر دیا اور کچھ دیر اوپری سیڑھی کے اسٹیپ میں بیٹھے رہنے کے بعد ہمت کر کے دوبارہ آگے بڑھی۔
دھیرے دھیرے سیڑھیوں میں اترتے ہوئے میرا آدھے سے زیادہ جسم پانی میں ڈوب چکا تھا۔ آہستہ آہستہ میری سانسیں معمول پر آرہی تھیں۔ کچھ دیر اطمینان کرنے کے بعد میں پانی میں مکمل اتر گئی۔ میں نے کچھ لڑکیوں کو تیرتے ہوئے دیکھ لیا تھا اب میں ان کی طرح تیرنے کی کوشش کر رہی تھی۔
اچانک سے میرا خوف پھر سے مجھ پر حاوی ہونے لگا اور توازن بگڑنے سے میں پانی میں ڈوبنے لگی۔ میرے ہاتھ پاؤں مارنے کے دوران میجر پانی میں کودا اور مجھے پانی سے اوپر لایا۔
میں نفرت سے اس سے دور ہوتے ہوئے ایک جگہ پر بیٹھ گئی۔
سانس بحال کرتے ہوئے میں اردگرد دیکھ رہی تھی۔ باقی لڑکیاں پانی میں تیر رہی تھیں۔ میجر انہیں گائیڈ کرتے ہوئے مجھے بار بار دیکھ رہا تھا کہ شاید میں اس سے سیکھنے پر آمادہ ہو جاؤں گی۔ مگر وہ میری نظروں سے جان چکا تھا کہ میں بہت ضدی ہوں۔
کچھ ہی دیر بعد میں اپنے ڈر پر قابو پاتے ہوئے پھر سے پانی میں اتر گئی۔ مجھے پانی میں وہ سکون مل رہا تھا جو زمین پر نہیں مل پایا تھا۔ میں اس سکون کے لیے پھر سے پانی میں چلی گئی۔ میجر دوسری لڑکیوں سے کہہ رہا تھا۔
”میں حیران ہوں.. کوئی اتنے خوف کے باوجود پہلے دن اتنی ہمت کیسے دکھا سکتا ہے اور وہ بھی بغیر کسی کی مدد کے۔“
وہ اور باقی لڑکیاں مجھ سے بہت متاثر نظر آ رہی تھیں مگر مجھے وہ سب کیڑے مکوڑے لگ رہے تھے۔ مجھے تو ابھی اپنے ہر خوف کو چیر کر بہت آگے نکلنا تھا۔
ڈاکٹر نے مجھے بالکل صحیح سمجھا تھا۔ مجھے پانی سے دوستی کرنی تھی۔
میں پانی میں تیرنے کی کوشش کر رہی تھی تو میری کوشش کو دیکھ کر میجر نے مجھے سمجھایا کہ مجھے اپنی سانس روک کر چند منٹ پانی کے بیچ رہنے کی مشق کرنی چاہیے اور ابھی اگلے حصے میں جانے سے پرہیز کرنا ہوگا۔
پول بہت بڑا تھا اور اسے یوں بنایا گیا تھا کہ شروع کے حصے میں نئے تیرنے والے مشق کر سکتے ہیں۔ وہاں ڈوبنے کا خطرہ کم تھا مگر آگے جاتے جاتے وہ بہت گہرا ہو جاتا تھا۔
میں کچھ دیر پانی میں رہی اور پھر کنارے پر چلی آئی۔ ایسا لگتا تھا باقی سب کسی الگ منظر کا حصہ تھے اور میں سب سے الگ تھی۔
پانی میں ملنے والا سکون مجھے پھر سے اس میں کھینچ کر لے گیا۔ شام ہونے لگی تو میجر نے کہا۔
”پانی ٹھنڈا ہو رہا ہے.. آج کے لیے اتنا کافی ہے۔“
میں نے اس کی نہیں سنی اور اپنا جی بھرنے تک پانی میں رہنے کے بعد چپ چاپ وہاں سے لباس تبدیل کرنے چل پڑی۔ شائقہ کی کال آئی تو وہ منتیں کرنے لگی۔
”میجر تمھارے ساتھ ڈنر پر چلنے کی ضد کر رہا ہے۔ تم ایک بار چلی جاؤ پھر چاہے کبھی نا ملنا۔۔ بس ایک بار۔۔“ میں نے تنگ ہوتے ہوئے فون کاٹ دیا۔ جب میں اپنا پرس لے کر وہاں سے نکلنے لگی تو میجر نے مجھے روک لیا۔
”آپ میری ساتھ کھانے پر چل رہی ہیں۔“ میں نے تعجب سے دیکھا۔ ”میرا ایسا کوئی ارادہ نہیں۔“
”نہیں یہ میری ریکویسٹ ہے۔۔ آپ چلیں گی تو مجھے خوشی ہوگی۔“
میں نے لاپرواہی سے کہا۔ ”سب کو خوش رکھنا میری ذمےداری نہیں ہے۔“ وہ فراخ دلی سے مسکرایا۔
”خوشی ایسا صدقہ ہے جو جتنی بانٹوں اتنی بڑھتی جاتی ہے۔ ہو سکتا ہے اسکے بدلے آپ کی کوئی خوشی پوری ہو جائے۔“
میرا دل مجھ سے پوچھنے لگا کہ مجھے تو بس ایک ہی خوشی چاہیے کیا وہ پوری ہو جائے گی۔۔ میرے دل نے مجھے امید دلائی کہ شاید سچ میں مل جائے۔
میں ناچاہتے ہوئے بھی جانے کے لیے مان گئی۔ میرے دل نے کہا کسی سوال کا جواب ملنے والا ہے۔
میں اس کی پراڈا میں بیٹھی تو مجھے احساس ہوا یہ شخص دنیا کا غریب ترین انسان ہے اس کے پاس کوئی چاہنے والا نہیں ہے۔ وہ چاہت کی تلاش میں بھٹک رہا ہے۔
میں نے اس کی آنکھوں میں دنیا کا تھکا ہوا انسان دیکھ لیا تھا جو سچے جذبوں کا متلاشی تھا۔
خیر مجھے اس سے کوئی ہمدردی نہیں تھی۔ ہمارا ڈنر تک کا ساتھ تھا۔ اس کے بعد میں اس سے کبھی نہیں ملنے والی تھی اور یہ دل کا فیصلہ تھا۔ جبکہ دماغ تو بار بار یہ کہہ رہا تھا کہ یہی وہ انسان ہے جو مرتے دم تک بھی تیرا ساتھ نہیں چھوڑے گا۔ میں نے اس سے اٹھتی وفاداری کی بو سونگھ لی تھی۔ میری زندگی میں آنے والے سب مردوں میں اسی کی کمی تھی۔
اچانک سے مجھے ثمر کی یاد آنے لگی۔ میرا دل کہنے لگا وہ نہیں ہے تو اب اس دنیا سے مجھے کچھ بھی نہیں چاہیے۔ میرا دل غم سے بوجھل ہونے لگا۔
ہم ہوٹل میں داخل ہوئے اور ایک جگہ منتخب کر کے بیٹھ گئے۔ اس نے مجھے کھانا آرڈر کرنے پر فورس کیا تو میں نے بیزاری سے کہا۔ ”آپ آرڈر کر لیں۔۔ کیونکہ مجھے کچھ خاص بھوک نہیں ہے۔“
اس نے تعجب کا اظہار کیا۔ ” کمال ہے اتنی دیر پانی میں رہنے کے بعد تو ہر کسی کو خوب بھوک لگتی ہے۔“ میں اسے کیا بتاتی ٹوٹے دل نے میری بھوک مٹا ڈالی ہے۔ میں نے اس کا جواب دینے سے گریز کیا۔
اس نے میرے انکار پر آخر خود کھانا آرڈر کر دیا۔ میں اپنے دھیان میں تھی کہ اچانک اس نے میرا ہاتھ پکڑ لیا۔ میں تعجب سے اسے دیکھنے لگی۔ کچھ دیر بعد مجھے سمجھ آئی وہ میرے ہاتھ کی لکیریں دیکھ رہا تھا۔
میں اس کا منہ دیکھنے لگی۔ مجھے تجسس ہونے لگا کہ آخر اسے میرے ہاتھ میں ایسا کیا نظر آیا ہے جسے وہ اتنے منہمک انداز میں گھور رہا ہے۔
”آپ کی قسمت بہت اچھی ہے۔“ میں بے دلی سے مسکرائی۔ ”مجھے تو ایسا نہیں لگتا۔“
وہ میرے ہاتھوں کی لکیروں میں الجھا ہوا تھا۔ اس کی آنکھوں میں یقین ہی یقین تھا۔
”آپ جو بھی سمجھیں.. مگر آپ کی قسمت بہت اچھی ہے اور ایسی قسمت عام لوگوں کی نہیں ہوتی۔“
”آپ کو ہاتھ دیکھنا کیسے آتا ہے؟“ میں نے اسے یوں دیکھا جیسے مجھے اس پر یقین نہ ہو۔
وہ اطمینان سے بتانے لگا۔ ”میں نے سیکھا ہے۔ ہاتھوں کی لکیریں دعاؤں سے نئے راستے بھی بنا لیتی ہیں۔ آپ کی زندگی کا برا وقت گزر چکا ہے اور اب راحت ہی راحت ہے۔“ میں حیران ہوئی کیونکہ وہ سچ کہہ رہا تھا۔ اس کا دیکھنے کا انداز بتاتا تھا کہ وہ اس کام میں کافی ماہر تھا۔
میں دلچسپی لینے لگی۔
”آپ بہت رحم دل اور مخلص جذبات کی مالک ہیں۔۔“ میں ایک گال کو حرکت دیے بے دلی سے مسکرائی۔
”اس لیے مجھے زندگی میں زیادہ دکھ ملتے ہیں۔“
”آپ جس سے بھی محبت کریں گی وہ بہت خوش نصیب ہو گا کیونکہ آپ اسے اپنا خالص دل دیں گی اور اس کے ساتھ ہمیشہ وفا نبھائیں گی۔“
اس کی بات پر میرے دماغ نے دل سے انتہائی افسوس کا اظہار کیا۔ ”جا عالی..! تو نے غلط جگہ محبت کی، تیری وفا کسی کام کی نہیں۔۔“
مجھے اس کے علم پر جو پہلے شک تھا اب وہ بھی ختم ہو گیا۔ وہ میرے بارے میں صحیح بتا رہا تھا۔
”آپ رانیوں کی سی قسمت لے کر پیدا ہوئی ہیں۔۔ جو آپ کے ساتھ جڑے گا اس کی بھی قسمت بدل جائے گی۔“
وہ مجھے یوں دیکھنے لگا جیسے ابھی ابھی میری ایسی اہمیت جانی ہو جو پہلے سے بھی بڑھ کر ہو۔ اس کی آنکھیں یوں کھلی تھیں جیسے دنیا کا سب سے قیمتی ہیرا دیکھ لیا ہو۔ میں اس کی باتوں پر یقین نہیں کرنا چاہتی تھی مگر اس کی آنکھیں مجھے یقین دلا رہی تھیں۔
”آپ کے خیال سے اچھی قسمت کسے کہتے ہیں؟“
وہ تحمل سے مسکرایا۔ ”زندگی کی ہر خوشی اور آسائش جس کو میسر ہو، جسے اتنے چاہنے والے میسر ہوں اور جس پر زمین و آسمان سے رحمتیں اور محبتیں برس رہی ہوں اسے اور کیا چاہیے؟“
میں خود پر تعجب کرنے لگی۔ کیا واقعی یہ سب میرے پاس ہے؟ پھر مجھے لگا وہ سچ کہہ رہا ہے میں تنہا بھی خوش ہوں۔
دل ناراضگی سے کہنے لگا۔ مگر مجھے تو وہی چاہیے۔۔
میں اب اس کی باتوں میں خود کو منہمک کر کے ثمر کو بھلانے لگی۔
”آپ کی قسمت آپ کو بہت آگے لے کر جا رہی ہے۔“
میں دل کو آسرا دینے لگی کہ میں اچھا جی رہی ہوں اور سب کچھ تو ہے میرے پاس، یہ الگ بات ہے کہ دل چوٹ کھایا ہوا ہے۔
”معلوم پڑتا ہے محبت کے معاملے میں بہت غم اٹھائے ہیں آپ نے!“ میں اسے دیکھتی رہ گئی۔
”اور کتنے غم ہیں قسمت میں! یہ بھی بتا دیں؟“
وہ مسکرایا۔ ”اب تو سب اچھا ہی نظر آ رہا ہے۔۔ غم اور خوشی کا کیا ہے جسے جتنا محسوس کریں گی وہ اتنا ہی زیادہ لگے گی۔۔ بظاہر تو کوئی غم نہیں ہے۔۔ آپ کو خود کو یقین دلانے کی ضرورت ہے کہ سب بہت اچھا چل رہا ہے پھر سب اچھا نظر آئے گا۔۔ “
مجھے لگا کسی نے مجھے خوش رہنے کی کنجی تھما دی تھی۔ میں خود کو بہت مطمئن محسوس کرنے لگی۔
کھانے آتے ہی وہ مجھے ڈال کر پیش کرنے لگا۔
میں نے اسے منع کیا اور اپنی پلیٹ سے کھانا کم کرنے لگی۔ کم کرتے کرتے دو سے تین نوالے رہ گئے۔ وہ کچھ کہنے کو تھا پھر چپ سا اپنا کھانا کھانے لگا۔ میں اتنا سا کھا کر جانے کی منتظر ہو گئی۔
میجر نے میرا خیال کرتے ہوئے کھانا جلدی ختم کیا اور بل کے لیے ویٹر کو بلانے لگا۔
”اگر آپ کا شادی کا ارادہ ہو تو ضرور بتائیے گا۔ مجھے آپ بہت پسند آئی ہیں۔“ ہوٹل سے باہر کے راستے پر چلتے ہوئے وہ خلوص اور سچائی سے کہہ رہا تھا۔
”جب میں نے آپ کو داخل ہوتے دیکھا مجھے لگا، کسی ملک کی رانی چلی آ رہی ہو۔ آج کے دور میں آپ جیسی لڑکیاں کہاں ملتی ہیں۔۔“
میں بے دلی سے اس کی باتیں سن رہی تھی۔
”آپ کی آنکھیں بہت پر کشش ہیں اور آپ اتنی نازک اور معصوم لگتی ہیں کہ لگتا ہے آپ کو کبھی کوئی آنچ چھو کر بھی نہیں گزری۔
وہ یوں عورتوں کی تعریفوں میں زمین و آسمان سے قلابیں ملانے والا شخص نہیں تھا مگر کسی کیفیت میں وہ ایمانداری سے سب بولتا جا رہا تھا۔
آپ کو دیکھ کر پہلی نظر میں میرے دل نے کہا ایسے چہرے کو تو میں ہمیشہ اپنے گھر میں دیکھنا چاہوں گا۔۔ آپ بہت زندہ دل اور متحرک مزاج ہیں۔ جہاں جائیں وہیں رونق بکھر جائے، گویا ہر محفل میں آپ کے ہونے سے ہی جان آ جائے۔۔“
میرے دل میں غموں کا شور و غوغا سا مچ گیا۔ میں اس کی باتوں سے زیادہ اپنے اندر کے شور سے متاثر ہونے لگی مجھے سب کچھ بکھرا بکھرا سا نظر آ رہا تھا۔ اچانک سے ثمر پھر میرے دماغ میں چلنے لگا۔
میں نے اپنی سوچ پر قابو پانے کے لیے میجر کی باتوں پر غور کرنا شروع کر دیا۔
”آپ جیسے چہرے لوگوں کے دلوں پر راج کرتے ہیں۔۔ ان کے درد بانٹ لیتے ہیں اور کسی کا بھی غم دور کر سکتے ہیں۔۔ آپ سے گھنٹوں بیٹھ کر باتیں کی جا سکتی ہیں۔“
میں کلائی کی گھڑی سے وقت دیکھنے لگی۔
”مجھے دیر ہو رہی ہے۔ مجھے ابھی جانا ہے۔“ اس نے کسی کیفیت سے ہوش میں آتے ہوئے وقت دیکھا۔
اس نے بل ادا کیا اور ہم وہاں سے اٹھ گئے۔
اس نے اپنے نمبر پر کال کرنے کو کہا اور میرا نمبر لے کر کہنے لگا۔ ”کبھی بھی ضرورت ہو تو مجھے یاد کر لینا۔“
پراڈا میں سفر کرتے ہوئے وہ پھر سے زور دینے لگا۔
”آپ شادی کے لیے سوچیں تو میرا ضرور سوچیے گا۔“
آج کا دن بہت الگ سا تھا۔ میرے من میں اداس سا ساز بج رہا تھا اور میں ذہنی طور پر کسی اور دنیا میں سفر کر رہی تھی۔ اس کی باتیں مجھے سنائی نہیں دے رہی تھیں۔ وہ بھی میری کیفیت کو سمجھ کر مزید کچھ بولنے سے گریز کرنے لگا تھا۔
میں وہاں سے گھر لوٹی تو مجھے حیرانی ہونے لگی۔
دو دن سے حسن کہیں غائب تھا اور اس نے فون کر کے تنگ نہیں کیا تھا۔ ابھی میں سوچ ہی رہی تھی کہ اس کی کال آنے لگی۔ میں نے تعجب سے پوچھا۔ ”خیریت ہے! سب ٹھیک ہے؟“
اس نے گلہ کیا۔ ”بڑے نخرے ہو گئے ہیں۔۔ بھئی اب بات ہی نہیں کرتی آپ۔۔!“ میں نے ہنس کر ٹال دیا۔ ”اصل بات کرؤ..! جس کے لیے فون کیا ہے۔“ میں نے اس پر طنز کیا۔
”نہیں بلکہ آپ ہی مجھ سے اب بات کرنا پسند نہیں کرتی۔“
میں کچھ حیران ہوئی۔ ”اور تمھیں کب سے فکر ہونے لگی کہ ہماری بات ہونا ضروری ہے..! تم ردا کے ساتھ خوش تو ہو۔“
اس نے منہ بنا کر کہا۔ ”اس کا اور آپ کا کوئی مقابلہ تھوڑی ہے۔۔ اس کے ساتھ تو کبھی کبھی وقت گزاری کر لیتا ہوں۔۔ مگر اس کا مطلب یہ تو نہیں کہ آپ کی اہمیت کم ہو گئی ہے۔“ میں حیرانی سے ہنسنے لگی۔
”میں نے اپنی بات کب کی ہے۔۔ میں تو یہ کہہ رہی ہوں کہ ردا کو وقت دو۔ وہ تمھیں پسند کرتی ہے۔“
وہ اداسی سے بولا۔ ”اور میں آپ کو۔۔ تو ہم۔۔
وہ بات پوری کرنے سے پہلے گھبرا کر چپ کر گیا کہ میں غصہ نہ کر لوں۔
”حسن تمھیں پتہ ہے.. کچھ بھی ہو سکتا ہے پر ہم نہیں۔۔“ وہ شرمندہ سا کہنے لگا۔ ”غلطی سے منہ سے نکل گیا تھا۔۔ میں تو بس کہہ رہا ہوں۔۔ بندہ بات تو کر ہی لیتا ہے۔“
”کر رہی ہوں۔۔ بولو!“
میرا دل کیا اس کو صاف سنا دوں کیونکہ میرے دل میں اس کے لیے کچھ بھی نہیں تھا مگر میرے دماغ میں وہ لمحات گھومنے لگے جو میں نے دل ٹوٹنے کے بعد سہے تھے۔ میں نے اس کی آواز سے محسوس کیا وہ بھی کسی ایسے دور سے گزر رہا تھا جب وہ دل کا ٹوٹنا سہہ نہ پائے گا۔
میں نے ارادہ ابھی کے لیے ملتوی کر دیا اور اسے بتانے لگی کہ کیسے تیراکی سیکھنے گئی اور ایک میجر پیچھے پڑ گیا۔ یہ سن کر وہ جلنے لگا اور بات بدلنے لگا۔ میں نے اسے بتایا میں بہت تھکی ہوئی ہوں اور بس سونے کی تیاری کر رہی ہوں۔ اس نے اداسی سے فون بند کر دیا۔
میں سوچنے لگی وہ کب سے مجھے لے کر سنجیدہ ہونے لگا۔ مجھے تو کبھی اس کی باتوں پر یقین نہیں آتا تھا۔ وہ ہر وقت ہنستا مسکراتا اور تماشے کرتا رہتا تھا۔ مجھے ہمیشہ لگتا وہ میرے پیسے کی وجہ سے میرے پیچھے پھرتا ہے ورنہ اسے میری اور اپنی عمر کا فرق ضرور نظر آ جاتا۔ ٹھیک ہے وہ دیکھنے میں مجھ سے بڑا لگتا ہے مگر وہ مجھ سے عمر میں سات سال چھوٹا ہے۔ پھر مجھے یاد آیا یہ بات میں اسے ہزار بار سمجھا بھی چکی ہوں مگر وہ ہر بار کہتا ہے مجھے اس سے کوئی فرق نہیں پڑتا۔
ان آنکھوں نے جب سے ثمر کو دیکھا تھا اس کے بعد دنیا میں کچھ بھی ٹھیک سے نظر ہی نہ آتا تھا۔ اپنی صورت بھی مجھے کہاں نظر آنے والی تھی۔
میں نے خود کو آئینے میں غور سے دیکھا۔ کیا میں واقعی قابلِ چاہت ہوں یا سب کا دماغ خراب ہو چلا ہے۔
میں نے سوچا مجھے تو زیادہ میک آپ کا شوق بھی نہیں ہے۔ ایسے ہی میرے پیچھے پڑا ہوا ہے۔
میں سونے کے لیے لیٹی تو مجھے میجر کی کچھ باتوں نے الجھائے رکھا۔ مجھے اپنے کچھ سوالوں کے جواب بھی مل چکے تھے۔ میں جلد ہی تھک کر سو گئی۔
————*
میں نے خود کو ایک بڑے سے کمرے میں شاہی پلنگ پر لیٹے پایا تھا۔ میری آنکھیں کھلیں تو مجھے احساس ہوا میں کسی اور زمانے میں ہوں۔ میں نے اپنے لمبے سے نیلے ریشمی گاؤن کو دیکھا تو مجھے احساس ہوا جیسے وہ کسی ملکہ کا لباس ہو۔
میں سوچنے لگی میں کہاں ہوں۔ میری نظر اپنے اردگرد گھومنے لگی تو مجھے اپنے ہی پلنگ پر راجا کے لباس میں ملبوس سویا ہوا ایک مرد نظر آیا۔
میں نے اس کی مانوس صورت دیکھی تو میرا دل حیران پریشان سا مجھ سے پوچھنے لگا۔
کیا یہ کوئی طلسماتی دنیا ہے؟ کیا میں نے ایسا کبھی سوچا تھا کہ دوبارہ اسے دیکھوں گی؟
میں حیرت اور بے چینی سے اٹھ کر بیٹھ گئی۔ میرے دماغ نے اس صورتحال کو ابھی قبول نہ کیا تھا کہ میں اسے ہلا کر جگانے لگی۔ اس نے اطمینان سے آنکھیں کھول کر مجھے دیکھا۔
”ابھی جاگنے کی کیا ضرورت ہے۔۔ صدیوں کی نیند پوری کرنے کے لیے سو جاؤ۔“
میں چپ چاپ بیٹھی کچھ سوچتی رہی۔ وہ دوبارہ آنکھیں بند کیے سونے لگا۔
میں اس کے سوتے ہی دھیرے سے پلنگ سے اتر گئی۔ میں اس بڑے سے بیڈ روم میں چلتے ہوئے آئینے کے سامنے آ کھڑی ہوئی۔
میرے سامنے ایک مانوس چہرے کا عکس تھا۔ مجھے یاد آیا اسے میں ہمیشہ آئینے میں دیکھتی رہی تھی۔
میں نے چہرہ موڑ کر سفید گاؤن میں ملبوس وجود کو سوئے ہوئے دیکھا پھر میری نظریں قد آدم کھڑکی سے باہر کے منظر کو تکنے لگیں۔ میں تجسس سے کمرے سے باہر نکل آئی۔ میرے دل میں اداسی اور غم قید تھا۔ میں نے اس محل سے قدم باہر نکالے تو میری چاروں جانب سبزہ ہی سبزہ تھا۔ میں چلتی رہی، آگے سے آگے بڑھتی رہی اور کھوجنے لگی کہ میں کہاں ہوں۔
دور دور تک سوائے ہریالی کے اور کوئی منظر نہیں تھا۔ مجھے احساس ہونے لگا اس قطعے پر سوائے میرے اور اس کے اور کوئی دوسری ذی روح کا نام و نشان بھی موجود نہیں تھا۔ میرا دل غم سے بوجھل ہونے لگا۔
مجھے لگا میں نے ہمیشہ سے یہی مانگا تھا کہ ایک دنیا میں میرے اور اس کے سوا کوئی تیسرا نہ ہو۔ اب میں اسی خاموش دنیا میں شور تلاش کر رہی تھی۔
مجھے احساس ہوا میں بہت دیر سے کچھ تلاش کرتے ہوئے بہت آگے نکل آئی تھی۔
مجھے سوئے ہوئے شخص کا خیال آیا تو میں نے قدم موڑ لیے۔ جلد ہی مجھے اندازہ ہوا کہ میں اس بڑے سے باغ نما جنگل میں کھو چکی ہوں۔ مجھے لگنے لگا اب میں کبھی اس تک نہیں پہنچ پاؤں گی۔ میرے دل کی دھڑکن رک رک جا رہی تھی۔ میں کسی امید سے چلتی رہی۔
چلتے چلتے کئی گھنٹوں بعد مجھے دور سے وہی محل نظر آنے لگا۔
مجھے اندازہ ہوا کہ اس پورے قطعے پر صرف ایک ہی گھر تھا اور دو ہی انسان تھے۔ دور سے محل کو دیکھ کر میرا دل گھبرانے لگا۔ اس محل پر قیمتی ہیرے جڑے تھے مگر وہ بے حسی کا تاثر دے رہا تھا۔
اپنے دل پر ہاتھ رکھ کر میں نے اپنی دھڑکن کو محسوس کیا تو فکرمندی سے بھاگتی ہوئی محل کے اندر لوٹ آئی۔
وہ نیند سے ابھی ابھی جاگا تھا اور مجھے تعجب سے دیکھ رہا تھا۔ ”آپ کہاں چلی گئی تھیں؟“
میں نے اداسی سے اسے دیکھا اور چپ چاپ بستر پر آبیٹھی۔ اس نے اپنا رخ اب میری جانب کر لیا۔
نجانے وہ مجھے دھیمی آواز میں کیا سمجھاتا رہا۔ میں چپ چاپ اسے تکتے ہوئے اس کی باتیں سنتی رہی۔ ہم دونوں میں بات چیت ہوتی رہی۔ کچھ دیر بعد میں سرہانے پر سر رکھے سو چکی تھی۔
میری آنکھ کھلی تو مجھے اپنے اردگرد اس کی خوشبو محسوس ہونے لگی۔ پہلے مجھے یہ اپنا وہم لگا مگر جب غور کیا تو سچ میں اس کی خوشبو آ رہی تھی۔
ابھی میرا ذہن اس خواب سے باہر نہیں آ پایا تھا کہ اس کی خوشبو نے مجھے الجھا دیا۔
میں نے اپنے ذہنی سکون کو برقرار رکھنے کو آنکھیں موند لیں۔
ایک عرصے کے بعد میں نے کوئی ایسا خواب دیکھا تھا جو مجھے ہر ایک منظر کے ساتھ یاد تھا اور اس سے بچھڑنے کے بعد یہ پہلی صبح تھی جب میں نے کوئی ایسا خواب دیکھا تھا جس کے بعد میں اداس نہیں ہوئی تھی۔
میں نے ڈاکٹر اذان سے علاج ختم ہونے کے کچھ دنوں بعد پھر سے خود کو کسی لمحے اس کی سوچوں میں الجھا ہوا پایا تو بے چینی میں میں نے ایک ہیلنگ ورکشاپ جوائن کر لی تھی۔ اب میں ہر وہ عملی مشق کر رہی تھی جس سے خود کو ہر الجھن سے دور رکھ کر سکون محسوس کیا جا سکتا تھا۔ مجھے اب سب کچھ بہت الگ اور اچھا لگنے لگا تھا۔ کچھ عملی سرگرمیوں نے میرے دیکھنے اور جینے کا نظریہ ہی بدل کر رکھ دیا تھا۔
شاید اس کا ہی اثر تھا یا پھر میری مصروفیات بھی کچھ ایسی رہی تھیں کہ میں اسے یاد نہیں کر سکتی تھی۔ شائقہ کے مجھے بار بار فون آتے رہے اور میجر بھی بار بار مجھ سے بات کرنے کی کوشش کرتا رہا۔ وہ مجھے لے کر کافی سنجیدہ تھا مگر میں سنجیدہ نہیں تھی۔
پھر میں اپنے دل کو بار بار ٹٹولنے لگی کہ کیا میں کسی کے لیے بھی خود کو شادی کے لیے راضی کر سکتی ہوں؟حقیقت یہ تھی کہ میرا دل کسی کے ساتھ بھی شادی پر آمادہ نہ تھا۔
مجھے ہمیشہ سے لگاتا تھا مجھے محبت کی ضرورت ہے، اب اتنے چاہنے والے مل رہے تھے اور میں ایک ایک کر کے سب کو ٹھکراتی چلی جا رہی تھی۔
اپنے چاہنے والوں کو بار بار ٹھکرانا مجھے ایک برا احساس دے رہا تھا۔ کسی کا دل دکھانا میرا مقصد نہیں تھا۔ میں نے یہی چاہا تھا کہ اس کے بغیر تنہا ہی اپنی زندگی میں خوش رہنا سیکھ لوں اور اسے بھلا کر آگے بڑھ جاؤں۔ میں اس میں کامیاب ہو بھی چکی تھی کہ میرا آج کا خواب مجھے نئی سوچوں میں الجھانے لگا۔
میں نے اپنے خواب میں دیکھے ہمسفر کی صورت کو بدل کر اس کی جگہ صارم کو فٹ کرنے کی کوشش کی تاکہ میں اسے اپنی پرانی بدقسمتی کہہ کر بھلا سکوں یا کوئی خود ہی کی سوچی ہوئی سوچ جو خواب بن کر میرے سامنے آگئی تھی۔ پر مجھے یاد نہیں آ سکا کہ دو ہفتوں میں ایک بار بھی میں نے اپنے علاوہ کسی دوسرے کے متعلق سوچا تھا۔
ان دو ہفتوں میں میں نے صرف خود سے پیار کیا تھا۔ صرف خود کو بار بار دیکھا تھا۔ خود سے دوستی کی تھی اور خود کو مزید گہرائی سے جانا تھا۔
مجھے کبھی امید نہیں تھی کہ اب دوبارہ کبھی میں ثمر کو اپنے خیالات میں پاؤں گی۔ اس کو اپنے خواب میں یوں دیکھنا میرے لیے حیران کن تھا۔ جب میں خواب کو جھٹلا نہیں پائی تو دھیان بٹانے کو سوچوں کا موضوع بدل لیا اور اپنے بستر سے اٹھنے کا ارادہ کرنے لگی۔
اچانک سے مجھے اس کے ہاتھوں کی خوشبو آنے لگی۔ مجھے خود پر تعجب ہونے لگا۔ کیونکہ میں نے کبھی اس کے ہاتھوں کی خوشبو نہیں سونگھی تھی۔ میں نے خود کو دلیل پیش کی اور نتھنوں کے قریب سے آتی انسانی جسم کی مہک کو اپنا وہم خیال کر کے جھٹلا دیا۔
میں فریش ہو کر آئی اور کام کے سلسلے میں میٹنگز پر نکل گئی۔ کہیں نہ کہیں وہ پھر سے میرے ذہن میں چلنے لگا۔
اس دن میں نے خود کو مصروف کر لیا اور خواب کو بھلا کر اسے ذہن سے نکالنے کی مشق شروع کر دی۔ جب کبھی مجھے وہ خواب یاد آتا تو یوں لگتا جیسے وہ خواب نہیں تھا بلکہ سچ میں میں اس دور سے گزر رہی تھی۔
میں نے دوسرے دن بھی خود کو مصروف کیے رکھا اور وہ دن بھی گزر گیا۔
اگلے دن صبح اٹھتے ہی مجھے اپنے گردونواح سے آتی اس کی مہک نے الجھا دیا۔ میں نے اسے وہم سمجھ کر ذہن کو جھٹکا اور بستر سے اٹھنے کا اراہ کرنے لگی۔ اسی لمحے مجھے اس کے ہاتھوں کی مہک آنے لگی۔
مجھے خیال آیا اچھا خاصا اسے بھول چکی تھی اور خواب کو بھی خواب سمجھ لیا مگر اب اس کے ہاتھوں کی مہک کہاں سے آ گئی۔
میں نے خود کو مزید مصروف کر لیا۔ سارا دن تھکنے کے بعد جب میں نے بستر پر لیٹ کر آنکھیں بند کیں تو مجھے پھر سے اس کے ہاتھوں کی مہک آنے لگی۔
اگلے دن میں ڈاکٹر اذان کے پاس چلی آئی اور اسے کچھ واقعات بتانے لگی۔
اس نے تحمل سے میری بات سنی اور کہنے لگے۔
”سچے پیار میں سب سے بڑا مسئلہ یہی ہے کہ انسان محبوب کی ہزار غلطیوں کے بعد بھی اس سے آگے نہیں بڑھ پاتا۔۔ آپ کی فطری وفاداری آپ کو ایسا کرنے سے روک رہی ہے۔ آپ ایک بار اس سے بات کر کے دیکھ لیں۔۔
ہو سکتا ہے وہ بھی آپ کو یاد کر کے اذیت میں ہو۔۔“
پہلے تو مجھے ڈاکٹر کی بات کچھ پسند نہیں آئی پھر میں نے سوچا شاید وہ صحیح کہہ رہا ہے۔
”اگر کچھ نہ بھی ہوا تو کم از کم آپ کے دل کو تسلی مل جائے گی کہ آپ نے اپنی جانب سے کوشش کی تھی۔ آپ کو کبھی کوئی پچھتاوا نہیں ہوگا۔“
میں اب اس کام کی ہمت کھو چکی تھی۔
”بات کیسے کرنی ہے؟“
ڈاکٹر نے سوچتےہوئے پوچھا۔
”کیا آپ ٹھیک سے بتانا پسند کریں گی کہ آخر اصل لڑائی کیا بنی تاکہ میں آپ کو بتا پاؤں کہ آپ کو کیسے بات کرنی ہے؟“
جب میں نے غلط فہمی کی اصل وجہ بتائی تو ڈاکٹر پریشان ہو گیا۔
”اس کی ناراضگی کی سب سے بڑی وجہ یہی لگتی ہے کہ آپ نے اس سے اپنی وہ باتیں چھپائیں جو اسے اذیتدے ری تھیں، محبت میں ہم ایک دوسرے کی غلطیاں معاف کر دیتے ہیں لیکن اگر وہ ہم سے اپنی باتیں چھپا رہا ہو تو ہم اسے دھوکے باز سمجھ لیتے ہیں۔ وہ بھی ایسا ہی سمجھ رہا ہوگا نا!
جہاں تک بات رہی باقی سب واقعات کی تو یہ کچھ لوگوں کی محبت کا انداز ہے۔۔ وہ اپنے محبوب کا پیچھا کرتے ہیں اور اس سے انہیں سکون ملتا ہے۔ آپ پرانی باتوں کو بھلا کر ایک بار اس سے بات کر کے دیکھ لیں۔۔ شاید کچھ ادھورا رہ گیا ہے۔“
میں نے ڈاکٹر کی بات پر غور کیا اور ہمت کرنے کی کوشش کی پر ایسا نہیں کر پائی۔
ایسے ہی دو دن بیت گئے۔ پھر مجھے اس کے متعلق عجیب عجیب سے خواب آنے لگے۔ اسے خواب میں غم ذدہ دیکھ کر مجھ سے رہا نہ گیا اور میرے دل نے مجھے اس سے بات کرنے پر مجبور کر ڈالا۔
میں نے اسے میسج کیے مگر اس نے میرے میسج نہیں دیکھے۔ مجھے اس بات نے دلبرداشتہ کر ڈالا۔
میں نے فیصلہ کیا کہ میں اب کبھی بھی اس سے بات نہیں کروں گی۔
اگلے دن تک میں خود کو سمجھا چکی تھی کہ وہ ایک پتھر دل انسان ہے اور میرے جذبات کو نہیں سمجھنا چاہتا۔ ورنہ ایک بار اسے میری بات سننی تو چاہیے تھی۔
میرے دل میں اس کے لیے بہت زیادہ غصہ اور ناراضگی بھر گئی اور میں نے اس کا نمبر ڈیلیٹ کر دیا۔
دو دن بعد پھر سے مجھے اپنے اردگرد سے اس کی مہک آنے لگی۔ ابھی میں اس سے پریشان تھی کہ مزید کچھ عجیب واقعات پیش آنے لگے۔
میں ٹی وی لاؤنج میں بیٹھی ٹی وی دیکھ رہی تھی جب تھک کر میں نے صوفے کی پشت سے سر لگا کر آنکھیں موند لیں۔ ابھی زیادہ دیر نہیں ہوئی تھی کہ مجھے اپنے بالوں میں کسی کے انگلیاں چلانے کا احساس ہونے لگا۔ پہلے پہل میں کسی کیفیت میں اس پر حیران نہیں ہوئی مگر ہوش آتے ہی میں نے چونک کر اپنے پیچھے دیکھنے کی کوشش کی تو اس کی انگلیوں کا لمس غائب ہو چکا تھا۔ میں بے حد حیرانی کے عالم میں اپنے آگے پیچھے دیکھتی رہ گئی مگر وہ نہیں تھا۔ پھر میں نے اس کو اپنا وہم سمجھنا چاہا اور اس واقعے کو بھلا دیا۔
اگلے دن صبح جب میں سو کر اٹھی تو موسم معمول سے ہٹ کر ٹھنڈا ہو رہا تھا۔
میں نے اٹھ کر کھڑکی سے دیکھا تو باہر بارش ہو رہی تھی۔ میں دوبارہ بستر کے قریب چلی آئی اور چادر اپنی گردن تک لیے لیٹ گئی۔
چند منٹوں بعد مجھے احساس ہوا چادر میرے اوپر سے ہٹائی گئی ہے۔
میں نے تعجب سے آنکھیں کھولیں تو چادر اب میرے صرف آدھے جسم پر تھی۔
مجھے اس واقعے نے کافی دیر الجھائے رکھا۔ آخر میں نے اسے اپنا وہم سمجھ کر آنکھیں موند لیں اور کچھ ہی دیر میں سو گئی۔ جب میری آنکھ کھلی تو صبح کے گیارہ بج رہے تھے۔ میں نے معمول کے مطابق پانچ منٹ مزید آنکھیں موندے لیٹے رہنا چاہا اور پہلو بدل لیا۔
چند منٹوں بعد ایک ہاتھ نے میرے گال کو چھوا اور گزر گیا۔ میں آنکھیں کھولے تعجب سے اپنے آگے پیچھے دیکھنے لگی۔
اب میں پھر سے الجھنے لگی تھی۔ کافی سوچ و بچار کے بعد میں نے ڈاکٹر سے بات کی تو اس نے میرے لیے ایک سیشن ارینج کیا۔
سیشن کے بعد ڈاکٹر نے حتمی انداز میں کہا۔
”آپ کو کوئی ذہنی یا تواہماتی مسئلہ نہیں ہے۔ اب آپ کو روحانی علاج کی طرف جانا چاہیے۔“
کافی تحقیق کے بعد میں نے ایک ریکی سینٹر سے اپنا روحانی علاج کروانے کا فیصلہ کر لیا۔
میں نے ایک سیشن لیا اور پھر سب ٹھیک ہو گیا۔
اب میں وہ پہلے والی عالیانہ نہیں تھی۔ مجھے اس نئی عالیانہ سے مل کر بہت الگ احساس ملا تھا۔ مجھے اب اپنے سوا کوئی بھی بات دلچسپ نہیں لگ رہی تھی۔

تو جو بدل گیا تو تیری یاد داستاں ہو گئی
صبح تھی حسین، اب محبت کی شام ہو گئی

عروج

————*
Exit mobile version