”میں بہت برا ہوں۔۔ مجھے معاف کر دو نا!“
میں مسکرائی۔ ”نہیں تم برے نہیں ہو۔۔ تم نے صحیح فیصلہ کیا تھا۔ ہر کسی کو سب سے پہلے اپنا ہی سوچنا چاہیے۔“ وہ میری باتوں سے شرمندہ ہو رہا تھا حالانکہ میں اسے صحیح کہہ رہی تھی۔
”مجھے آپ سے محبت ہو گئی تھی اور میں آپ کو لے کر سنجیدہ ہو گیا تھا۔۔ میں کوئی ڈرامہ نہیں کرنا چاہتا تھا۔۔ مگر میں نے آپ کو منع کر کے کھو دیا۔۔“
میں بے فکری سے مسکرا رہی تھی۔ ”سبحان وہ بات اب پرانی ہو گئی۔۔ مجھے کوئی ڈرامہ نہیں کرنا۔ میں تنہا ہی بہت خوش ہوں۔“
وہ میری زندگی میں آنے کے بہانے ڈھونڈنے لگا۔ اس کی سخصیت کو جھکنا نہیں جچتا تھا۔ وہ مردوں میں سب سے الگ تھا۔ اسے میں نے کئی مردوں میں سے چنا تھا۔ وہ کسی بھی دولت کے بغیر ہی بہت قیمتی تھا مگر اب اس کی قدر میرے ہاں ویسی نہیں تھی جس کا وہ حق دار تھا۔ اس کو مجھ سے بہت بہتر بیوی مل سکتی تھی۔
میں اسے منع کرتی رہی مگر جب وہ گڑگڑانے لگا تو مجھے لگا وہ محبت کے جذبے سے مجبور ہے۔
میں اس دور سے بہت آگے نکل چکی تھی جس میں ابھی اسے تڑپنا تھا۔
میں خود میں ہی مگن زندگی گزار رہی تھی۔ مجھے کسی کی ضرورت نہیں تھی۔ میں نے اسے محبت سے ٹال دیا تاکہ وہ اس لمحے کی اذیت سے باہر نکل سکے۔
کچھ عرصہ پہلے میں جس محبت کی تلاش میں ماری ماری پھر رہی تھی اب مجھے وہ ایک بیکار سی خواہش لگ رہی تھی۔
مجھے پہلی بار احساس ہوا زندگی محبت کے بغیر بھی بہت اچھی گزاری جا سکتی ہے۔ میرے لیے آج ہر اس چیز کی اہمیت تھی جو پہلے میرے لیے ثانوی حیثیت رکھتی تھی۔
برسات کے موسم سے میری کبھی نہ بنی تھی مگر اب میری اس سے بھی دوستی ہو چکی تھی۔ میں بارش کا لطف لینے لگی تھی۔
اب مجھے ہر بارش کے تھم جانے کے بعد اس اگلی بارش کا انتظار رہتا جس میں سارا دن بھیگتا رہے اور شام ہواؤں سے جھومتی رہے۔ میں نے ہر ایک لمحے کو جینے کا فن سیکھ لیا تھا۔ ہر لمحہ میرا تھا۔ میں ہر اس چھوٹی سے چھوٹی خوشی کو محسوس کر سکتی تھی جس کا پہلے کبھی مجھے احساس تک نہ ہو پایا تھا۔
سبحان سے بات کرنے کے بعد میں لان کی طرف نکل آئی۔ شام ہو چکی تھی اور پھر سے بارش کا موسم ہو رہا تھا۔ میں آسمان کو تکتی ہوئی ان حسین یادوں میں کھو گئی جب بچپن میں میں اس موسم میں جھولا جھولتے ہوئے خود کو آسمان میں اڑتا ہوا محسوس کر لیا کرتی تھی۔
اچانک سے ہلکی ہلکی بوندا باندی نے شام کو سہانا بنا دیا۔ میں نے کار نکالی اور اپنی پسندیدہ جگہ کا رخ کیا جہاں سے چائے کے ساتھ سموسے کھانا مجھے بہت پسند تھا۔ خوبصورت موسم کے ساتھ مزیدار سموسے اور چائے میرا موڈ بہت اچھا کرنے لگے۔
میں سمومے کی ہر ایک بائٹ کے ساتھ اور چائے کے ایک ایک سپ کے ساتھ موسم کی خوشگواری کو محسوس کر رہی تھی۔ ہر اچھی یاد مجھے مسکرانے پر مجبور کرنے لگی۔ سڑک کی اطراف میں لگے درختوں کی شاخیں ہواؤں کے ساتھ مل کر جھوم رہی تھیں۔
بچپن کی بارش میں کھیلنا۔۔ اور کشتیاں بنا کر پانی میں چھوڑنا۔۔ سب مجھے یاد آنے لگا۔
واپسی پر میں اپنی مام سے ملنے چلی آئی۔ یہاں میری دو بہنیں شائقہ اور سریحہ پہلے سے موجود تھیں۔ پھر ہم سب مل کر لانگ ڈرائیو پر نکل گئیں۔ کافی فن کرنے کے بعد میں کچھ دیر سے گھر پہنچی اور تھکی ہوئی سونے کو لیٹ گئی۔
اگلے دن صبح میری آنکھ کھلی تو پچھلی رات کے خواب نے یاد آتے ہی مجھے بے چین کر ڈالا۔ میں ابھی مکمل ہوش میں نہیں آئی تھی کہ وہ الفاظ بار بار میں ذہن میں گونجنے لگے۔
”میں تمھاری قسمت ہوں۔۔ تم مجھے کیسے بھلا سکتی ہو..؟“
میری آنکھیں بند تھیں۔ جب اس کی آواز کے ساتھ اس کی صورت بھی میرے سامنے جم گئی۔
میں آئینے میں خود کو دیکھتے ہوئے اپنے بال سنوار رہی تھی جب وہ پیچھے سے چلا آیا۔ اس کے ہاتھ میں گلابی گلاب کا پھول تھا جسے اس نے میرے بالوں میں سجا دیا۔
”تم جتنا بھی بھاگ لو، آخر تمھیں میرے پاس ہی واپس آنا ہے۔ میں تمھاری قسمت ہوں۔“
وہ مجھے جتا رہا تھا۔
میں خواب کے مناظر یاد کرتے ہوئے اشتعال سے چلائی اور میں نے اپنی آنکھیں کھول دیں۔
میں ناراضگی سے بستر سے اٹھی اور خود سے سوال کرتے ہوئے چکر کاٹنے لگی۔
”میں نے سب کچھ کر لیا مگر وہ میری زندگی سے نہیں جا رہا۔“ اضطراب اور غصے سے میرا دماغ پھٹ رہا تھا۔
ان سوچوں سے نکلنے کو میں نے جلدی جلدی اپنی ڈائری نکالی اور کچھ ہیلنگ ایفرمیشنز تلاش کرنی شروع کر دیں۔ جلد ہی وہ میرے سامنے تھیں۔
میں آئینے کے سامنے بیٹھ کر کچھ ایفرمیشنز دہرانے لگی۔ کچھ ہی دیر میں میں پرسکون ہو گئی۔ میں سب بھول کر تیار ہوئی اور کام پر نکل گئی۔
دن بھر کی مصروفیات کے دوران مجھے دو بار وہ خواب یاد آیا مگر میں نے ذہن کو جھٹک دیا اور روزمرہ کی روٹین میں مصروف ہو گئی۔
دن سے رات ہوئی اور پھر میں سب بھلا کر سو گئی۔
اگلے دن اٹھتے ساتھ مجھے اسی خواب کے مناظر یاد آنے لگے اور اس کے الفاظ مجھے بےچین کرنے لگے۔
میں نے اپنے اسٹریس سے نکلنے کے لیے ڈاکڑ اذان کو کال کی۔ اس نے مجھے ایک لوکیشن بھیج کر وہیں بلا لیا۔ اس نے مجھے خاص ہدایت کی کہ ٹریک سوٹ پہن کر آئیے گا۔
جب میں لوکیشن پر پہنچی تو وہ ایک بڑا سا پارک تھا جہاں لوگ ورزش اور جوگنک میں مصروف تھے۔ میں نے ڈاکٹر کو تلاش کرنا شروع کیا تو وہ مجھے دور سے عجیب سے انداز میں بیٹھا نظر آیا۔
میں ہنستی ہوئی اس کے پاس پہنچی۔
”یہ کیا ڈاکٹر..! آپ یہ جانوروں کی طرح کیوں بیٹھے ہوئے ہو؟“
وہ سیدھا ہوا اور مسکرانے لگا۔
”عشق نے آخر کتا ہی بنا ڈالا
وفا کچھ کم تھی انسانوں میں۔۔“
میں نہ سمجھتے ہوئے مسکرائی۔
”آئیں آپ بھی اینیمل واک کیجئے۔“ اس نے مجھے دعوت دی۔
کچھ دیر بعد ہم دونوں سر سبز گھاس پر جانوروں کی طرح چل رہے تھے۔
”میں نے سب کچھ کر کے دیکھ لیا مگر وہ شخص کسی نہ کسی بہانے میرے اردگرد رہتا ہی ہے۔“ میں نے نئے واقعات بتاتے ہوئے کہہ ڈالا۔
”معلوم پڑتا ہے وہ شخص کوئی جادوگر ہے؟“ میں سوچ میں پڑ گئی۔
”میں نہیں جانتی۔۔“
ڈاکٹر مسکرایا۔ ”نہ بھی ہوا تو عشق نے بنا ڈالا ہو گا۔“
میں سوچ میں پڑ گئی۔ ”وہ ایسا نہیں ہے۔“
”پھر کیسا ہے۔“ ہم دونوں اب گھٹنوں اور کہنیوں کے بل رینگ رہے تھے۔
”وہ بہت اچھا انسان تھا۔“
ڈاکٹر اخلاقًا مسکرا دیا۔
”اچھے انسان دوسروں کو معاف کر دیتے ہیں، بدلہ نہیں لیتے اور کسی کا دل بھی نہیں دکھاتے۔“
میں بمشکل رینگتے ہوئے اس کی صفائی میں کچھ ڈھونڈنے لگی۔ ”وہ عام انسانوں سے بہت اچھا ہے۔ ہو سکتا ہے میری کسی بات سے بہت زیادہ ہرٹ ہوا ہو۔۔ میرا ہی قصور ہو گا ورنہ وہ تو بہت احساس کرنے والا نرم دل انسان ہے۔“
ڈاکٹر میری بات سن کر سوچ میں پڑ گیا۔
”شاید آپ کی اس بات میں ہی آپ کے پہلے سوال کا جواب ہے۔“ میں غور کرتے ہوئے وہیں تھک کر گر گئی۔
”کیا مجھے اس سے معافی مانگ لینی چاہیے۔“ وہ وہیں چوکڑی لگائے بیٹھ گیا تھا۔ ”میں نے ایسا تو نہیں کہا۔“ میں بھی اب اٹھ کر چوکڑی لگائے بیٹھ گئی۔
”پھر کیا کہنا چاہتے ہیں آپ؟“
وہ سادگی سے ایک جانب دیکھ کر کچھ سوچنے لگا۔
”کیا آپ نے ایسا کچھ کیا ہے جس کی معافی مانگنا ضروری ہے؟“
میں نے یاد کرتے ہوئے نفی میں سر ہلا دیا۔ ”جب بھی مجھے لگا مجھ سے کچھ غلط ہوا ہے تو میں نے احساس ہوتے ہی اس سے معافی مانگ لی۔ مگر اسے کبھی اپنی کسی غلطی کا احساس نہیں ہوتا۔“
”جسے اپنی غلطی کا احساس نہ ہو وہ انتہائی بےحس انسان ہے۔۔ اس نے آپ کو صدمہ دے کر تنہا چھوڑ دیا۔ اور آپ ہمت سے سب جھیل کر جینے کی کوشش کر رہی ہیں۔“
میرے پاس اس کی بات کا جواب نہیں تھا۔
”ُآپ اسے بھلا کر آگے بڑھ سکتیں ہیں مگر آپ کی وفاداری آپ کو کسی اور کی طرف بڑھنے نہیں دے رہی۔“
میں الجھ گئی۔ ”میں اکیلی خوش ہوں۔ مجھے کسی کی ضرورت نہیں۔“
”اگر ایسا ہوتا تو وہ دوبارہ آپ کو تنگ نہ کرتا۔“
میں حیرانی سے خود کو ٹٹولنے لگی۔ ”مجھے کیا کرنا چاہیے؟“
”پسندیدہ لوگوں کی کمپنی انجوائے کریں اور خود کو یقین دلائیں کہ اس سے زیادہ اچھے لوگ اس دنیا میں ہی بستے ہیں۔“
میں اب اس کی بات سمجھ چکی تھی۔ ہم نے مل کر ڈک واک اور کراکوڈائل واک کی اور لافٹر تھیراپی لیتے ہوئے کار کی جانب چل پڑے۔
”ویسے ہم یہ تھیراپی کیوں لے رہے ہیں؟“ میں نے تعجب سے دریافت کیا۔
”یہ آپ کو خوش کرنے کے لیے ہے۔ ابھی آپ اپنے دل سے اس کی اچھائی کا بھوت نکال رہی ہیں نا! تو آپ کو اپنی دلی اذیت کم کرنے کے لیے اس کی ضرورت ہے۔“
میں اسے یوں ناراضگی سے تکتی رہ گئی جیسے اس نے میری چوری پکڑ لی ہو۔
ہم نے ایک ہوٹل سے اکٹھے ناشتہ کیا تو اٹھتے ہوئے اچانک میرے ذہن میں ایک سوال آیا۔
”آپ کو کس بات کا اسٹریس ہے جو ایسی ایکسرسائز اور تھیراپی لے رہے ہیں؟“
وہ یہ سن کر کچھ بوکھلا گیا۔
”ڈاکٹر ہونے کا یہ مطلب تو نہیں کہ ہمارے جذبات ہی نہیں۔۔ درد ہمیں بھی ہو سکتا ہے۔“
میں نے اس کے عجیب سے جواب پر اسے کریدنے کی کوشش کی تو وہ اجازت لے کر وہاں سے اٹھ گیا۔
میں گھر لوٹ آئی اور کچھ کاموں میں مصروف ہو گئی۔ آج میں نے سبحان کے ساتھ مووی دیکھنے کا ارادہ بنا لیا۔
میں نے اسے فون کر کے اپنا ارادہ بتایا تو وہ یہ سن کر بہت پرجوش ہو گیا۔ ہم نے مووی منتخب کر کے ملنے کا وقت طے کر لیا۔
دوسرے کاموں میں مصروف رہنے کے بعد جب اس کے ساتھ جانے کا وقت ہونے لگا تو میں بے دلی سے تیار ہونے لگی۔
اس کا فون آیا اور اس نے بتایا وہ مجھے لینے کو نکل رہا ہے۔ اچانک سے میرا دل گھبرانے لگا اور مجھے سب کچھ برا لگنے لگا۔ میں گھر سے نکلنے لگی تو مجھے اس کی کسی بات پر شدید غصہ آگیا۔
میں نے فون لگا کر اسے برا بھلا کہنا شروع کر دیا اور اسے کہا وہ واپس چلا جائے میں اس کے ساتھ کہیں نہیں جا رہی۔ میں نے فون بند کیا تو بار بار اس کے فون آنے لگے ۔ وہ معافیاں مانگ کر جانے کے لیے مجھے منانے لگا مگر میں نے ماننے کی بجائے اپنا فون بند کر دیا اور اپنے دل سے پوچھنے لگی کہ وہ کیوں اس کے ساتھ جانے کو تیار نہیں ہوا۔ دل نے ناراضگی سے کہا اسے اب کسی کے ساتھ بھی نہیں جانا۔
میں نے اپنا موڈ بہتر کرنے کو وہی مووی لیپ ٹاپ پر لگا لی اور اکیلی بیٹھ کر دیکھنے لگی۔
مووی دیکھنے کے بعد مجھے خیال آیا بات تو کچھ بھی نہ تھی۔۔ میں نے یونہی اس پر اتنا غصہ کیا۔
————*
”تم جتنا بھی بھاگ لو، آخر تمھیں میرے پاس ہی واپس آنا ہے۔ میں تمھاری قسمت ہوں۔“
اس کے الفاظ بار بار مجھے یاد آتے رہے تو ناچاہتے ہوئے مجھے پھر سے ڈاکٹر اذان سے بات کرنی پڑی۔
”کیا ایسا کوئی طریقہ نہیں جس سے میں اسے مکمل بھول جاؤں اور مجھے کبھی یاد بھی نہ رہے کہ وہ کون تھا، کیسا تھا۔۔ مجھے کبھی یاد کرنے پر بھی اس کی صورت یاد نہ آئے۔۔ اور اس کے خواب بھی نہیں آئیں۔۔“
ڈاکٹر اذان نے سوچ کر کہا۔
”ہم جس سے سچا پیار کرتے ہیں اسے مکمل بھلانا ممکن نہیں۔ البتہ جتنا ممکن تھا وہ سب میں نے ہپناٹزم سے کام لیا، پھر آپ نے بھی تو جو ہو سکتا تھا سب کر لیا۔ اب تو یہی آخری علاج ہے کہ میں آپ کو دوائی پر لگا دوں جو بلکل بھی صحیح نہیں ہو گا۔ آپ ایک خودغرض انسان کی وجہ خود کو دوائیوں کا عادی بنانا چاہتی ہیں۔ میں شروع سے آپ کو اس سب سے بچا رہا تھا۔۔ آخر آپ نے ہار مان لی۔“
میں سر جھکا کر سوچوں میں الجھ گئی۔
”نہیں ایسا نہیں ہے۔۔ میں نے سب کچھ کر کے دیکھ لیا مگر کسی نہ کسی لمحے بھول کر مجھے اس کی یاد آ جاتی ہے۔ اگر یاد نہ آئے تو اس کے خواب مجھے پریشان کرتے ہیں۔ وہ کسی طرح بھی مجھے خود کو بھولنے نہیں دیتا۔“
ڈاکٹر انتہائی سنجیدگی سے ایک ایک لفظ پر زور دے کر کہنے لگا۔
”آپ اپنے ذہن میں بٹھا لیں۔۔ نا ہی آپ نے اسے بھولنے کے لیے خود پر جبر کرنا ہے اور نہ اسے یاد کرنے کی خود کو اجازت دینی ہے۔
اگر ابھی بھی آپ کو اس کے خواب آرہے ہیں اور اس کی باتیں ذہن سے نہیں جا رہیں تو آپ انہیں اتنی اہمیت نہ دیں۔ ہم جس چیز کو اہمیت دیتے ہیں وہ ہمارے ذہن میں رہتی ہے۔
ابھی نیا صدمہ ہے آپ کو خود کو تھوڑا وقت دینا چاہیے اسے نکلنے کے لیے۔“
آخری جملہ قدرے نرمی اور ہمدردی سے کہا گیا تھا۔
میں سر جھکائے خاموشی سے اس درد سے گزرنے لگی جو مجھے ہمیشہ اسے یاد کرنے پر ہوتا تھا۔
”جب تک ایسی جگہ پہ رہیں گی جہاں سے اس کی یادیں جڑی ہیں تو آپ اسے ذہن سے کیسے نکال پائیں گی؟ آپ کو کچھ عرصے کے لیے اپنی جگہ بدلنی ہو گی۔“
اس نے مجھے اداس دیکھ کر مخلصانہ مشورہ دیا۔
”مجھے اپنے گھر سے بہت پیار ہے۔ میں کچھ بھی کر سکتی ہوں مگر اس سے دور جانا میرے لیے ممکن نہیں۔“ میں نے بے چینی سے اپنا اصل مسئلہ بتایا۔
وہ خاموشی ایک جانب تکتے ہوئے کچھ سوچنے لگا۔
”تو اب آپ کو اسے ممکن کرنا ہے۔۔ آپ کو یہی سیکھایا تھا نہ کہ آپ بہت بہادر لڑکی ہیں کچھ بھی کر سکتی ہیں۔۔ ضرورت پڑنے پر خود کو بدل سکتی ہیں۔۔ اپنے خوف سے لڑ سکتی ہیں۔۔ اب اس ناممکن کو ممکن کرنا بھی ضروری ہے۔۔“
میں نے سمجھتے ہوئے اثبات میں سر ہلا دیا اور چپ چاپ وہاں سے اٹھ کر آ گئی۔
میں خود کو آمادہ کرنے لگی اور خوبصورت مقامات میں سے ایک کو چننے لگی۔ مجھے ہمیشہ سے افریقہ کے جنگلات دیکھنے کا بہت شوق تھا۔ میں وہاں جانے کا پروگرام بنانے لگی۔
اسی شام مجھے میجر کا پیغام ملا۔
”اگر آپ ابھی اس متعلق سوچنا نہیں چاہتیں تو بھی میں کہیں نہیں جا رہا۔۔ میں ادھر ہی ہوں۔۔ جب کبھی آپ کو لگے آپ اس سلسلے میں سوچ سکتی ہیں تو مجھ سے رابطہ کر سکتی ہیں۔“
اس نے میرے انکار کا برا نہیں مانا تھا۔ میں اس کی عاجزی اور استقامت سے مرعوب ہوئی تھی۔
میں نے پہلی بار اتنے اچھے گھرانے سے تعلق رکھنے والے ایک کامیاب انسان کو اتنا متحمل اور عاجز پایا تھا۔ میرے دل میں اس کے لیے اچھا امیج بن چکا تھا۔
مجھے محسوس ہوا میں جس انسان سے محبت کر رہی ہوں اس میں انتہا درجے کی اکڑ اور غرور ہے۔ اس کے سامنے اپنے علاوہ کسی دوسرے کے جذبات کی کوئی اہمیت نہیں۔ مگر محبت میں اکڑ اور غرور کا کوئی کام نہیں۔ جس انسان کے لیے محبوب سے پہلے اپنی ذات ہو وہ کسی کا بھی نہیں ہو سکتا۔
اگر میں نے کسی سے محبت کی اس کا یہ مطلب نہیں کہ میں اس کے آگے خود کو گرا لوں گی پھر بھی میں نے اس کی محبت میں اپنی انا کو روند کر کئی بار اس سے رابطہ کیا مگر وہ مجھے بھکاری سمجھ کر دھتکارتا رہا تھا۔ اب دوبارہ میری انا مجھے اس کے آگے گرنے کی اجازت نہیں دیے سکتی۔
میں بذات خود بہت انا پرست تھی، جب کسی کی نظر میں میری محبت کی اہمیت نہیں تو میری انا کے سامنے بھی کسی کی کوئی اہمیت نہیں۔
میں خود محبت ہوں، میں خوشی ہوں۔ میں یقین ہوں اور مجھے محبت کے علاوہ کچھ بھی مرعوب نہیں کر سکتا۔ اس وقت تو میرا اپنا دل محبت کدہ تھا اور اب مجھے کسی کی بھی محبت نہیں چاہیے تھی۔
ڈاکٹر کی بات مجھے سمجھ آ چکی تھی۔
اچانک سے اس کی خوشبو کہیں کھو گئی تھی۔ اب ہر جانب میری خوشبو تھی۔ اب اس کی موجودگی کا احساس نہیں رہا تھا اور نہ اس کے خواب مجھے یاد رہے تھے۔
ڈاکٹر کا فون آیا تو اس نے دریافت کیا۔
”کیا سوچا پھر؟ کہاں جا رہی ہیں؟“
میں نے افریقہ کے جنگلات دیکھنے کا ارادہ بتایا تو اس نے مشورہ دیا کہ پہلے مجھے اپنے ملک سے شروعات کرنی چاہیے۔ اس کی یہ بات میرے دل کو جا لگی۔ میں نے اپنے ملک کے شمالی علاقہ جات سے شروعات کا فیصلہ کیا اور سکردو کا ٹور پلان کر لیا۔
میں جانے کے لیے تیاریاں کرنے لگی۔ ایک عرصے بعد میں نے خود کو اتنا خوش پایا تھا۔ میں خریداری کے لیے مال کو نکلنے لگی تو میں نے حسن کو ساتھ لے لیا وہ ایسے مواقعوں پر سامان پکڑنے اور مجھے کمپنی دینے کے کام آ جاتا تھا۔
چھٹی کا دن تھا جس کی وجہ سے مال میں بہت رش تھا۔ ہم مال میں کپڑے دیکھنے لگے۔
میں جو بھی جوڑا اٹھا کر اشتیاق سے دیکھتی حسن اس پر تبصرہ کرتا کہ یہ آپ پر ایسا لگے گا اور لینا چاہیے یا نہیں۔ یونہی ہنسی مذاق چلتا رہا اور خریداری ہوتی رہی۔
ایک دوکان میں مجھے ایک چھوٹی بچی نظر آئی تو میں اشتیاق سے اسے تکتی رہ گئی۔ اچانک مجھے ثمر کی یاد آ گئی وہ بچوں سے بہت پیار کرتا تھا۔ میں نے ذہن کو جھٹک کر خود کو شاپنگ میں مگن کر لیا۔
ناچاہتے ہوئے بھی میرا دھیان اس دو سالہ بچی کی جانب جاتا رہا۔
میرا دل اب ہر چیز سے اچاٹ ہونے لگا۔
میں نے ذہن کو جھٹکا اور کچھ ایفرمیشنز کا استعمال کر کے اپنا دھیان بٹایا مگر اب جو بھی لینا باقی تھا وہ سب بھول کر میں نے حسن سے واپس چلنے کا بہانہ کیا۔ وہ میرے عجیب سے رویے سے حیران ہونے لگا۔ میں نے سوچا ایک بار اسے دیکھ لینے میں کیا حرج ہے شاید وہ میرے ذہن سے نکل جائے۔ میں نے فیس بک سے اس کی تصاویر دیکھنی شروع کیں تو مجھے اس کی مٹی ہوئی یادیں مزید تنگ کرنے لگیں۔
مجھے خود پر غصہ آنے لگا کہ میں ایسا کیوں کر رہی ہوں۔ حسن کار چلا رہا تھا اور میں پیچھے بیٹھی شیشے سے باہر دیکھ رہی تھی۔
وہ میرا اترا ہوا چہرہ دیکھ کر تھوڑا پریشان تھا اور کچھ نہ کچھ بول کر میرا دھیان بٹا رہا تھا۔ جب اس نے میرے سسکنے کی آواز سنی تو سائیڈ پر کار روک کر فکرمندی سے مجھے دیکھنے لگا۔
”میں نے سب کچھ کر کے دیکھ لیا مگر مجھے اب بھی اس کی یاد آتی ہے۔“
میں بے بسی سے کہہ رہی تھی۔
حسن کے چہرے پر غصہ سے لالی آ گئی۔ ”میں اسے قتل کر دوں گا جس نے آپ کا جینا حرام کیا ہوا ہے۔“
میں تعجب سے اسے دیکھنے لگی۔ ”تم اسے قتل کرؤ گے تو میں تمھیں ایسے ہی چھوڑ دوں گی۔“
وہ حیرانی سے مجھے دیکھنے لگا۔ ”آپ ابھی بھی اس کی طرف ہیں۔“
اچانک سے مجھے غصہ آ گیا۔ ”تم نے کب سے سوچ لیا کہ میں تمھاری طرف ہوں؟ تمھیں لگا اس کے بعد میں دوبارہ اپنے دل میں کسی اور کو جگہ دوں گی۔ تم نے اس کی امید بھی کیسے کر لی..!“
”اس نے آپ پر جادو کروا کر آپ کو پاگل کر رکھا ہے۔ میں اسے چھوڑوں گا نہیں۔۔ ابھی اسے میرا پتہ نہیں کہ میں کیسا انسان ہوں۔“
”ابھی تمھیں یہ معلوم نہیں کہ وہ کون ہے۔۔ بہتر ہو گا تم یہ جاننے کی کوشش بھی نا کرنا۔“ میں غصے سے کار سے باہر نکلی اور ٹیکسی لے کر گھر لوٹ آئی۔
اس کے فون آتے رہے تو میں نے تنگ آ کر اسے بلاک کیا اور سب بھول کر بیگ پیک کرنے لگی۔
شام میں میں کچھ وقت نکال کر اپنے قریبی رشتوں سے مل کر جلد ہی گھر لوٹ آئی۔۔ میرا دل بے سبب اداس تھا۔
کل میری فلائٹ تھی اور میں گھر کی سب چیزوں کو کور کر چکی تھی۔
رات کو آنکھ لگاتے ہوئے میرے دل میں غم سا اٹھا۔ بیکار کی محبت میں مجھے اپنا پیارا گھر بھی چھوڑنا پڑ رہا ہے۔
————–
خوبصورت مناظر آنکھوں کو سکون دیتے ہیں مگر دل کو کیا دیتے ہیں کیا کبھی کسی نے سوچا..!
یہاں آنے کے دو ہی دن بعد مجھے احساس ہوا اپنا پرانا دل لے کر آپ کہیں بھی چلیں جائیں یہ آپ کو کچھ نیا تو نہیں دینے والا۔
میں نے خود کو یہاں خوش اور مصروف رکھنے کو کوئی نا کوئی بہانہ ڈھونڈ لیا۔ یہاں بھی جم، یوگا اور میڈیٹیشن کی روٹین بنا کر میں نے خود کو پر سکون کر لیا اور خود کو یقین دلایا کہ اب نہ ہی وہ اور نہ اس جیسا کوئی دوسرا میری زندگی میں آئے گا۔ عالی دوبارہ کسی کو اپنے دل سے کھیلنے کی اجازت نہیں دے گی۔
کسی کہنے والے سے سنا تھا کہ مخلوقات میں مرد سب سے بے وفا ذات ہے تو مجھے اس وقت یقین نہیں آیا تھا۔
میں ہمیشہ سوچا کرتی تھی کہ سب مرد ایک جیسے نہیں ہوتے مگر آج میں سب کو ایک ہی صف کھڑا دیکھ سکتی تھی۔
ایک ایسا انسان جس کو میں اتنے اچھے سے جانتی تھی اور جس کے بارے میں کبھی تصور بھی نہیں کر سکتی کہ وہ کبھی مجھے چھوڑ کر جا سکتا ہے۔ وہ دل جو کبھی پیار ہی پیار تھا وہ نفرت و عداوت کی آماجگاہ بن چکا تھا۔ سب بدل چکا تھا۔
میرے دل اور دماغ کی اب دوستی ہو چکی تھی وہ دونوں مل کر ایک جیسا سوچنے لگے تھے۔
”مشینوں کو صحیح کرنے کے لیے لوگ انجینیئر بنتے ہیں لیکن انسانوں کی غلطیوں کو ٹھیک کرنے کے لیے ہم انسان بھی نہیں بن سکتے۔۔
ہم انسانیت کے درجات بھول چکے ہیں۔
ہم کسی کی چھوٹی سی غلطی پر اسے چھوڑ جاتے ہیں جیسے ہم خود فرشتہ ہیں اور ان سے یوں بیگانے بن جاتے ہیں جیسے وہ کوئی ایکسپائر چیز یا فالتو مشینری ہو۔
دراصل لوگ ہماری غلطیاں تلاش کرتے ہیں ہمیں چھوڑنے کے لیے۔“
کبھی کبھی کسی ایک کی بیوفائی کا بدلہ دوسروں سے لینا ہمیں بہت سکون دیتا ہے۔
میں سبحان اور حسن سے جان چھڑا کر بہت سکون محسوس کر رہی تھی۔ مجھے احساس ہوا انسان جتنا تنہا رہے اتنا ہی خوشی اور سکون کو انجوائے کر سکتا ہے۔
شام کا وقت تھا۔ میں اپنے رہائشی ہوٹل سے نکل کر پیدل واک کرتے ہوئے سڑک کی ایک جانب چلنے لگی۔ یہ بہت خوبصورت اور پرسکون جگہ تھی۔ میں خوبصورت نظاروں سے لطف اندوز ہوتے ہوئے کچھ آگے کو نکل آئی۔
میرا گزر ایک شاندار ہوٹل کے قریب سے ہوا۔ مجھے چائے کی طلب اس ہوٹل میں جانے پر مجبور کرنے لگی۔ یہ ہوٹل میرے رہائشی ہوٹل کے قریب ہی واقع تھا۔ دور سے دیکھ کر پتہ چلتا تھا وہ باہر کی طرح اندر سے بھی بہت حسین تھا۔
میں اس کے کیفے ٹیریا والے حصے میں چلی آئی اور اپنے گردونواح کا جائزہ لیتے ہوئے میں نے ایک میز منتخب کر لی۔
ویٹر کو تلاش کرتے ہوئے میری نگاہیں اپنے سامنے ایک ٹیبل پہ اٹھ گئیں۔
ایک انگریز لڑکا کھلکھلا کر مسکرا رہا تھا۔ اسے مسکراتا دیکھ کر میری نظریں وہیں جا رکیں۔ ناصرف اس کے مسکرانے کا انداز ثمر جیسا تھا بلکہ اس کی صورت بھی بلکل ثمر جیسی تھی۔ ایک پل کو میں اسے دیکھ کر نخوت اور ناراضگی سے نظریں موڑ کر دوسری جانب تکنے لگی یہانتکہ میرے دماغ نے مجھے دوبارہ اس جانب چہرہ کرنے سے سختی سے روک ڈالا۔
میں نے ویٹر کو دیکھ کر اشارہ کیا تو وہ آرڈر لینے میری جانب چلا آیا۔ آرڈر دینے کے بعد نجانے میرا دل کیوں مجھے دوبارہ وہاں دیکھنے پر مجبور کرنے لگا۔ جب میرا دماغ راضی نہ ہوا تو دل نے تجسس پیدا کیا کہ ہمارے ملک میں انگریز مرد تو شاز و نادر ہی نظر آتے ہیں شاید یہ میرا وہم ہو۔ اور میں اسے اپنا وہم قرار دینے کو دوبارہ وہاں دیکھنے پر مجبور ہو گئی۔
میں نے نظر اٹھا کر سامنے کی میز پر نگاہ ڈالی۔ مجھے وہاں دو لڑکے اور ایک لڑکی بیٹھے نظر آئے جن میں ایک یورپی لڑکا اپنے افریقی دوست کی باتوں پر بہت پیارے انداز میں مسکرا رہا تھا۔ اسے دیکھ کر میری نگاہیں وہیں جم گئیں اور میرے دل نے چلانا شروع کر دیا کہ یہ تو بلکل ویسا ہی ہے۔
یہ میرے لیے واقعی حیران کن ہی تھا کہ وہ انگریز ثمر جیسی صورت رکھتا تھا۔
اچانک سے مجھے خیال آیا میں خوامخوہ اس بات سے خوش ہو رہی تھی کہ میں ثمر کو بھول چکی ہوں۔۔ اب کبھی وہ میرے سامنے نہیں آئے گا اور کبھی عالی اس سے محبت نہیں کرے گی۔ مگر اس کے جیسا چہرہ دیکھ کر ہی مجھے کچھ ہونے لگا۔
ہم کھانا کھانے لگے تو میں بار بار نظریں چرا کر اس کی جانب دیکھنے لگی۔
اس کی خوبصورت مسکراہٹ دیکھنے کو میری نظریں ترسنے لگیں۔ دل کہنے لگا کیا معلوم وہ شخص دوبارہ مسکرا رہا ہو۔
دل بار بار مجھے اس کی جانب دیکھنے پر مجبور کرنے لگا۔ افریقی اپنی گرل فرینڈ سے باتوں میں مصروف تھا جبکہ گورا لڑکا خاموشی سے اب اپنے موبائل میں مگن تھا۔ معلوم پڑتا تھا وہ کم بولنے کا عادی تھا۔
میں نے کبھی سوچا ہی نہ تھا کہ مجھے ثمر جیسا کبھی کوئی اور نظر آ سکتا ہے۔
اچانک سے میرے دل میں خیال آیا وہ طوطا چشم مرد تھا، اس نے میری محبت کو بھلا کر مجھ سے یوں نظریں بدل لیں جیسے کبھی جانتا ہی نہ ہو۔۔
ضروری تو نہیں اس جیسا نظر آنے والا ہر مرد ہی بے وفا ہو۔
کچھ لوگوں پر ان کی ذات اور تربیت کا گہرا اثر ہوتا ہے۔
ہم مسلمان ضرورت سے زیادہ ہی ذات برادری کی فکر اور اکڑ میں رہتے ہیں۔ ہر طبقے میں ایسی برائیاں ہوں یہ لازمی نہیں۔
میرا دل بار بار مجھے اس کی جانب لے جانے پر آمادہ کرنے لگا۔ غیرارادی طور پر میں وہاں سے اٹھی اور ان کی میز کے پاس جا پہنچی۔
اس نے نظر اٹھا کر میری جانب دیکھا تو میں نے سادگی سے اس لڑکے کو مخاطب کر ڈالا۔
”آپ بہت خوبصورت ہیں۔۔ اور آپ کا مسکرانا تو اس سے بھی زیادہ خوبصورت ہے۔۔“
یہ سن کر وہ مسکرا دیا۔ یہانتکہ اس کی صورت بھی لال ہونے لگی۔
”ویسے مجھے آج تک کسی نے یہ نہیں بتایا تھا۔“
میں اس کی سادگی پر مسکرا دی اور واپس اپنے ٹیبل کی جانب لوٹ آئی۔
میں چائے کیساتھ پکوڑوں سے لطف اندوز ہو رہی تھی اور وہ لڑکا بار بار مجھے کسی انتہائی امید اور محبت سے دیکھ رہا تھا۔
میں دل میں خود کو کوسنے لگی کہ میں جتنا محبت سے دور بھاگ رہی ہوں اتنا ہی ان کاموں میں خود کو ڈال رہی ہوں۔
اس لڑکے کا بار بار میری جانب دیکھنا مجھے متوجہ کرنے لگا۔ بدلے میں میں اس کو دیکھ کر اخلاقًا مسکرا دیتی۔
میرے بل ادا کرنے سے پہلے وہ تینوں دوست اٹھ کر جانے لے تو وہ ان میں سے الگ ہو کر میری جانب چلا آیا۔
”کیا ہماری دوستی ہو سکتی ہے؟“
اس کا یہ انداز دیکھ کر میں الجھنے لگی۔
”میں آپ کو نہیں جانتی۔۔ شاید آپ کو دیکھ کر مجھے کسی کی یاد آگئی تو میں نے ایسے ہی بول دیا ورنہ میں آپ کو کبھی مخاطب نہ کرتی۔“
ہم انگریزی میں ہی ایک دوسرے سے مخاطب تھے۔
”میرا نام آرتھر ہے اور میں اسی ہوٹل میں ٹھہرا ہوا ہوں۔ میرا تعلق برازیل سے ہے اور میں پیشے سے سیاح ہوں۔۔ مجھ سے دوستی کر کے آپ کو بور نہیں ہونا پڑے گا۔۔“ میں سوچوں میں الجھ گئی۔
میں نے اس متعلق سوچنے کے لیے وقت مانگا۔ وہ مسکرانے لگا۔
”میں آپ کا انتظار کر سکتا ہوں۔۔ اچھی چیزیں ہمیشہ انتظار کے بعد ہی ملا کرتی ہیں۔“
وہ اپنے دوست اور اس کی گرل فرینڈ کے ساتھ جا ملا اور وہ تینوں باہر کو نکل گئے۔ میں نے بل ادا کیا اور باہر کی جانب چل پڑی۔
جب میں باہر نکلی تو وہ مجھے اکیلا کھڑا سوچوں میں گم نظر آیا۔
نجانے کوئی اور وجہ تھی یا وہ میرے انتظار میں کھڑا تھا۔ میں نے تعجب سے اسے مڑ کر دیکھا تو وہ مجھے دیکھ کر اخلاقا مسکرانے لگا۔
میں اب اس مسکراہٹ کو بھولنا چاہتی تھی۔ مجھے پھر سے ثمر کی یاد آنے لگی اور میری آنکھیں جلنے لگیں۔
میرا دماغ دل کو کوسنے لگا۔
ثمر کو بھلانے کے لیے اتنی دور آگئی، اپنا گھر چھوڑ دیا اور ایسی جگہ رہنے چلی آئی جہاں میں کبھی خواب میں بھی رکنا پسند نہیں کر سکتی تھی اور یہاں پر بھی مجھے ثمر کی صورت نظر آ رہی ہے۔
مجھے خود پر غصہ آنے لگا کہ میں اسے بھلانے کی بجائے اس جیسے کسی دوسرے سے جان پہچان بڑھانے لگی ہوں۔
میں خود سے لڑتے ہوئے چپ چاپ چلتی رہی۔
کیا مجھے اس جیسا کوئی دوسرا مل جائے گا تو اس کی کمی پوری ہو جائے گی؟
میں سڑک کی ایک جانب چلتے ہوئے سارا راستہ یہی سوچتی رہی۔
اور پھر میرے دل نے کہا کہ میں تو صرف اس پرانے ثمر کی یاد میں اس تک گئی تھی جبکہ نیا ثمر تو مجھے ٹھیک سے جانتا بھی نہیں ہے۔۔ پرانا ثمر اب کبھی بھی لوٹ کر نہیں آ سکتا کیونکہ اس پرانے محبت بھرے دل کی جگہ ایک کڑواہٹ بھرا نیا دل لے چکا ہے۔۔
اگر پرانا ثمر نہیں تو اس جیسا کوئی دوسرا انسان اس کی جگہ ضرور لے سکتا ہے۔ جس کے دل میں محبت ہی محبت ہو۔
اور اس خیال کے آتے ہی میں نے ارادہ کیا جب تک میں یہاں ہوں اس شخص سے وقتی دوستی رکھ سکتی ہوں تاکہ مجھے وہ یاد نہ آئے۔
————*
وہ جو بھی تھا میرے لیے مرہم بنتا جا رہا تھا۔ اس کا خیال ثمر کو بھلانے کا کام کرنے لگا۔ میرا دل کہنے لگا وہ ثمر کو بھلانے کو ہی مجھے ملا ہے۔
اس نے اس دن میرا پیچھا کر کے میرا رہائشی ہوٹل دیکھ لیا تھا۔ اگلی صبح ناشتہ کے وقت وہ مجھے میری میز کے سامنے والی میز پر نظر آیا تو مجھے بلاوجہ مسکرانے کا موقع مل گیا۔ وہ بہانے سے اٹھ کر میری جانب چلا آیا۔
”اوہ۔۔ تو آپ یہاں رکی ہوئی ہیں..! میں تو یہاں اپنے دوست سے ملنے آیا تھا۔“ وہ بہانہ کرنے لگا۔
”ویسے آپ کا دوست مجھے کہیں نظر نہیں آ رہا۔“ میں اپنی ہنسی پر قابو پانے کی کوشش کر رہی تھی۔
وہ نئے بہانے کے لیے اپنے ذہن پر زور دینے لگا۔ ”آئرس اور عطارہ یہیں رکے ہوئے ہیں۔ ابھی وہ مجھے جوائن کر لیں گے۔“ میں سر ہلا کر رہ گئی۔
پھر وہ کسی کو میسج کرنے لگا۔ ”کیا آپ میرے ساتھ ناشتہ کرنا چاہیں گے؟“
میں نے اخلاقًا پوچھ لیا۔ وہ کچھ کنفیوز ہونے لگا۔ مجھے لگا شاید میری پرسنیلٹی ہی ایسی ہے کہ میرے ساتھ بیٹھ کر اچھے بھلے پراعتماد لوگ کنفیوز ہونے لگتے ہیں۔
”لگتا ہے وہ ابھی سو رہے ہوں گے۔ شاید میں ہی جلدی آگیا ہوں۔“
”لگتا ہے آپ کو بھی میری طرح صبح جلدی بھوک لگ جاتی ہے۔“ وہ میری بات سے اتفاق کرنے لگا۔
میں نے ناشتہ آرڈر کیا تو اس کے لیے بھی منگوا لیا۔
اس نے بتایا اسے یہاں کے کھانے بہت پسند آئے ہیں۔ ناشتے کے دوران ہم ایک دوسرے کو کافی جان گئے۔ اس نے بل ادا کرنا چاہا تو میں نے اسے بتایا کہ ابھی وہ میرا مہمان ہے اور یہ میری طرف سے ہے۔ پہلے اس نے منع کیا مگر پھر میرے اصرار پر خوش دلی سے مسکراتے ہوئے خاموش ہو گیا۔ وہ جب بھی مسکراتا میں اسے حیرانی سے دیکھتی رہ جاتی۔ اس کے ہر انداز میں ثمر کی جھلک تھی۔
”مگر اس جیسی ناک نہیں ہے جو اس کے مسکرانے سے گالوں کے بیچ پھیل جاتی ہے۔۔ اور نہ بلکل اس کے جیسے ہاتھ ہیں۔“ میرے دل نے بین شروع کر دیا۔
میں نے اپنے دل کو کوسا کہ مجھے اس سے محبت تھی تبھی وہ میرے لیے دنیا کا حسین ترین شخص تھا۔ سامنے بیٹھے شخص سے مجھے محبت نہیں ہے مگر وہ حسن میں اس سے کسی طرح کم نہیں ہے۔ میں اس کی آنکھوں میں دیکھ کر بتا سکتی تھی کہ وہ بےپناہ محبت کرنے والا انسان ہے اور بیچ راہ میں چھوڑ کر جانے والوں میں سے نہیں ہے۔
”پھر بھی وہ میرے لیے اہم نہیں ہے۔“ میرے دل نے مجھے ناراضگی سے بتایا۔
میں ثمر کی یادوں سے نکل کر اب اسے دیکھنے لگی۔ مجھے احساس ہوا وہ بہت خوبصورت ہے۔ خاص کر اس کی مسکراہٹ کا نظارہ بہت نایاب ہے۔
شام کو میں پھر سے واک کرتے ہوئے اسی ہوٹل کی جانب نکل آئی۔ جب میں نے چائے آرڈر کی تو وہ مجھے اپنے سامنے سے آتا نظر آیا۔
”اوہ۔۔ مجھے یقین نہیں آ رہا کہ آپ سے آج دوبارہ ملاقات ہو رہی ہے۔“ وہ میری میز کے قریب چلا آیا اور اسے اتفاق پر خوشی کا اظہار کرنے لگا۔
میں بھی بدلے میں مسکرانے لگی۔
”کیا آپ بھی چائے لینا پسند کریں گے..!“ میں نے اسے دعوت دی۔
اسے بیٹھنے کے لیے بہانا مل چکا تھا۔ اس نے خوشی سے اثبات میں سر ہلا دیا اور سامنے والی کرسی پر آ بیٹھا۔
میں نے اس کے لیے بھی چائے آرڈر کی اور پھر ہم میں باتیں ہونے لگیں۔
جب بھی وہ کسی بات پر مسکراتا تو میں اسے دیکھتی رہ جاتی۔ اس سارے علاقے کی خوبصورتی ایک طرف تھی اور اس کے کھکھلاتے چہرے کا حسن ایک طرف۔
میں اس کی حسین مسکراہٹ کو دیکھنے کو باتوں سے باتیں بڑھاتی رہی تاکہ وہ زیادہ سے زیادہ مسکرائے۔
چائے کے دوران اس نے مجھ سے پوچھا کیا میں کل کہیں جانے کا ارادہ رکھتی ہوں اور میرے منفی جواب پر اس نے مجھے اپنے ساتھ چلنے کی دعوت دی۔
اس نے کل کے دن اس جگہ سے کچھ دور ایک مشہور وادی کو دیکھنے کا ارادہ کر رکھا تھا۔ میرے دماغ نے کہا مجھے اس کے ساتھ چلنا چاہیے۔
ہم نے ساتھ چلنے کا پروگرام بنا لیا اور پھر ہم میں نمبروں کا تبادلہ ہوا۔ اس کے بعد ہم اپنے اپنے کمروں کو لوٹ آئے۔
وہ میرے ذہن سے ثمر کو بھلا کر اپنا اچھا امیج بنانے میں کامیاب ہو رہا تھا۔ میں نے اس سے دوستی کر لی تو پھر ہماری روز ملاقات ہونے لگی۔
اس نے بتایا وہ مزید ایک ہفتہ یہیں رکنے والا ہے۔ وہ اپنے دوستوں سے الگ ہو کر میرے ساتھ وقت گزارنے لگا۔
ہم اب روز ایک ساتھ دور دراز کی سیر پر نکل جاتے۔
اس دوران میں نے اسے بتایا کیسے ایک شخص کو بھلانے کے لیے میں کئی مہینوں سے کیا کچھ جھیل رہی ہوں۔۔ اور کتنے مشکل دور سے گزر کر ہر طرح کی میڈیٹیشن لینے کے بعد بھی میں اسے بھلا نہیں پائی تو آخر مجھے اپنا گھر چھوڑ کر یہاں آنا پڑا۔
میں ناچاہتے ہوئے اس کے سامنے رونے لگی۔
وہ دلگیر عالم میں مجھے تکتا رہا اور اسے اتنا غمگین دیکھ کر میں نے ماحول کو بدلنے کو جلدی سے آنسو صاف کر لیے۔
”میری کم عقلی دیکھو جسے بھلانے آئی تھی اب اس کی صورت جیسے سے دوستی کر بیٹھی ہوں۔“
مجھے غمزدہ ماحول کو بدلنے کے لیے مسکرانے کا کوئی تو بہانہ چاہیے تھا۔
اس پر وہ بھی کھلکھلا دیا۔
میں اداسی بھول کر اس کی مسکراہٹ کو دیکھتی چلی گئی۔
”اور مجھے دیکھ کر اسے یاد بھی کرنا پڑ رہا ہے!!“ اس نے موقع پا کر ہلکے پھلکے انداز میں کہہ ڈالا۔
اس وقت مجھے اس میں ثمر نظر آیا۔ پر مجھے خوشی ہوئی اس نے یہ بات دل میں رکھ کر کڑھنے کی بجائے باہر نکال دی۔
”نہیں تم اس کے جیسے بلکل نہیں ہو۔۔ اور میری دعا ہے کبھی ویسے نہ بنو۔“ میں نے محبت سے کہا۔
وہ بذات خود بہت اچھا انسان تھا اور مجھے اس کے ساتھ گھومنا خوشی دے رہا تھا۔
وہ نا صرف اخلاق میں بہت آگے تھا بلکہ فطرتاً ایک وفادار شخص معلوم ہوتا تھا۔
میں نے اس کے ساتھ پورا دن گزار کر بہت اچھا محسوس کیا تھا گویا وہی میرے ہر زخم کی دوا تھا۔
اس نے بتایا کہ وہ یہیں سے آگے سفر کر کے دوسرے شمالی علاقہ جات کی سیر کو نکلنے والا ہے۔ اس نے مجھے اپنے ساتھ چلنے کی دعوت دی تو ساری رات سوچنے کے بعد میں نے فیصلہ کیا کہ مجھے اس کے ساتھ دوسرے شمالی علاقہ جات دیکھنے ضرور جانا چاہیے۔
جب میں نے اسے اپنا فیصلہ سنایا تو اسے بہت خوشی ہوئی۔ ہم اچانک سے ایک دوسرے سے اتنے آشنا ہو گئے کہ مجھے لگا ہم صدیوں سے اچھے دوست رہ چکے ہوں۔
ہم روز اپنے ہوٹل سے اکٹھے نکلتے اور باقی کے خوبصورت مقامات دیکھنے نکل جاتے۔ اس کا ساتھ بہت سکون بخش تھا۔ تین دن اکٹھے گھومنے کے بعد ہم گلگت کے سفر پر نکل گئے۔
ہمارے ساتھ اس کا افریقی دوست اور اس کی بیوی عطارہ بھی گروپ کی صورت میں شامل ہو گئے۔
ہم گلگت پہنچے تو ہم نے رہائش کے لیے وہاں کا سب سے شاندار ہوٹل منتخب کیا۔ جب ہم کمرہ لینے لگے تو زیادہ رش کی وجہ سے ہمیں الگ کمرے ملنے کی بجائے جوڑوں کے ٹھہرنے والے کمرے ہی مل رہے تھے۔
میں نے آرتھر کو پہلے ہی بتا ڈالا تھا کہ میں مسلمان ہوں اور ہم ایک کمرے میں نہیں رہ سکتے۔ اس کے دوست کو تو کمرہ مل گیا مگر ہم پریشانی سے بار بار ایک دوسرے کا منہ دیکھنے لگے۔ اس نے پوری کوشش کر لی کہ ہمیں الگ کمرہ مل جائے مگر جب نہیں بن پایا تھا تو اس نے مجھے مجبور کرنے کی بجائے فیصلہ کیا کہ ہم کسی دوسرے ہوٹل چلتے ہیں۔
معلوم کرنے پر پتہ چلا کہ دوسرے ہوٹل یہاں سے کافی دور ہیں۔ مجھے اندازہ تھا کہ اب کسی دوسرے ہوٹل کی تلاش میں نکلنا ہمارے لیے مزید تھکاوٹ کا باعث بننے والا ہے۔ ایک لمبے سفر کے بعد ہمارے جسم مزید چلنے سے جواب دے چکے تھے۔ پھر مجھے خیال آیا ہوٹلوں کے دور ہونے سے ہم اپنے گروپ سے جدا ہو جائیں گے۔
میں نے اسے منع کر دیا اور کوشش کر کے وہیں ایسا کمرہ لے لیا جس میں دو لوگوں کے لیے بیڈ الگ لگائے گئے تھے۔
ہم سفر کی وجہ سے کافی تھکے ہوئے تھے اور آرام کرنے کو ترسے ہوئے تھے۔ میں نے سامان رکھتے ہی اپنا لباس تبدیل کیا اور سونے کو لیٹ گئی۔
یہ ہوٹل شہر کی اس جگہ واقع تھا جہاں کمروں کی کھڑکیوں سے بہت خوبصورت نظارے دیکھنے کو مل جاتے تھے۔ نیند دماغ پر طاری ضرور تھی مگر ابھی بھی کوئی بات مجھے سونے سے روک رہی تھی۔ ایفرمیشنز کا استعمال کر کے میں نے خود کو سونے پر آمادہ کر لیا۔
————–
”کیا ہم ہمیشہ ایسے ہی ہر سفر میں ساتھ رہ سکتے ہیں؟“ اس نے نجانے کس کیفیت میں پوچھ ڈالا تھا۔
میں اپنی سیٹ کی پشت سے سر لگائے آنکھیں موندے ہوئی تھی۔
”مجھے سفر میں رہنا تھکا دیتا ہے اور اب مجھے اپنے گھر سے دوری بہت بےچین کر رہی ہے۔۔ مجھے جلد ہی اپنے شہر کو لوٹنا ہو گا۔“
میں اس کی صورت نہیں دیکھ سکتی تھی البتہ میں سمجھ سکتی تھی کہ یہ سوال کس دلی کیفیت میں پوچھا گیا ہے۔
ہم جیپ کے ذریعے ایک بلند چوٹی پر واقع حسین جگہ کا نظارہ کرنے جا رہے تھے۔ ہمیں یہاں رکے ہوئے پانچ دن ہو چکے تھے۔ آرتھر نے کسی نا کسی طرح میرا اداس اور بجھا ہوا ناراض دل ان خوبصورت وادیوں میں لگا ہی ڈالا تھا ورنہ مجھے ایسے علاقوں میں رہنے سے ہمیشہ خوف آتا تھا۔ اس کا ساتھ میرے لیے حوصلے کا باعث تھا۔
”ہو سکتا ہے سفر ایک بہانہ ہو۔ مجھے تو ہمیشہ ہمارے یونہی ساتھ رہنے کا خیال آرہا ہے۔ کیا ہم مذہب کی تفریق کو چھوڑ کر شادی کے متعلق سوچ سکتے ہیں؟“
میں نے تھکی ہوئی اداس آنکھیں کھول کر اس کی جانب غور سے دیکھا تھا۔
”مذہب کے علاوہ بھی تو ہم میں کچھ کم فرق نہیں ہیں۔۔ تم مجھ سے کئی سال چھوٹے ہو۔۔ ہماری زبان اور کلچر الگ ہے۔۔ میں تمھارے ملک میں تمھارے ساتھ خوش نہ رہ پائی تو..!“
”محبت میں ہر تفریق کو مٹانے کی طاقت ہوتی ہے اور انسان نئے سرے سے جینا سیکھ سکتا ہے۔۔ آپ میری بن جائیں تو میرا وعدہ ہے میں آپ کو کبھی اداس نہیں ہونے دوں گا۔“
میں نے اس کے ارادے دیکھ کر اپنی تھکی ہوئی روح کو خاموش پایا اور نظریں جھکا لیں۔
میری آنکھوں میں جھانکتے ہوئے وہ مجھ پر رحم کی سی حالت میں دیکھنے لگا۔
”معلوم پڑتا ہے آپ بیمار پڑ رہی ہیں۔“
میں اضطراب کی سی کیفیت میں کوئی جواب دیے بغیر پھر سے سیٹ کی پشت سے سر لگائے بیٹھ گئی۔ میری نظریں کھڑکی سے باہر کے منظر کو گھور رہی تھیں۔
”آپ آرام سے سوچ کر میری بات کا جواب دے سکتی ہیں۔۔ اگر آپ کی طبعیت ٹھیک نہیں تو ہم واپس چلتے ہیں۔“ میں نے اطمینان سے کہا۔ ”میں ٹھیک ہوں۔۔ میرے لیے ایسی جگہوں پر زیادہ دن رہنا مشکل ہے۔“
وہ سمجھتے ہوئے سر ہلا کر خاموش رہ گیا۔
میں نے آنکھیں پھر سے موند لیں اور روشنی کے احساس سے بچنے کو بازو آنکھوں پر رکھ لیا۔
”کل تو ویسے بھی ہم اپنے اپنے راستوں پر نکل جائیں گے۔“ اس نے قدرے اداسی سے مجھے یاد دلایا تھا۔
شاید وہ فیصلہ نہیں کر پا رہا تھا کہ اسے مزید اپنے دل کی کوئی بات کرنی چاہیے یا نہیں۔
آج ہمارا یہاں آخری دن تھا کل ہم اپنے اپنے واپسی کے سفر پر نکلنے والے تھے۔
میں اپنے گھر لوٹنے کا سوچ کر کچھ خوش تھی مگر آرتھر کو لے کر پریشان تھی۔ مجھے اپنی قسمت پر افسوس ہو رہا تھا کہ میرا دل ہمیشہ غلط جگہ ہی کیوں لگتا ہے۔ اس کے ساتھ ہوتے ہوئے مجھے کسی اور کی یاد نہیں آتی تھی۔ ثمر کی کمی اور غم مٹ چکا تھا۔ مجھے لگنے لگا اس کے جاتے ہی میں پھر سے اس کمی محسوس کروں گی۔
آج کا دن ہم میں معمول کی نسبت کم بات ہو رہی تھیں۔
دوستی میں کرنے کو بہت سی باتیں مل جاتی ہیں لیکن جہاں محبت آ جائے وہاں خوف وخدشات اور خاموشی کا راج چلنے سے کوئی نہیں روک سکتا۔
وہ چاہ کر بھی زیادہ بول نہیں پا رہا تھا اور میں ناچاہ کر بھی خاموش تھی۔
میں اپنے دل کے غلط فیصلوں کی بدولت خود ہی سے ناراض اور اداس تھی اور وہ اپنے اندر کسی جنگ میں مصروف تھا۔
ہم ایک خوبصورت مقام پر کھڑے اپنے اپنے خیالات میں مصروف تھے جب اچانک سے اس نے میرا ہاتھ پکڑ کر میرا دھیان اپنی طرف کیا۔ میں نے تعجب سے مڑ کر دیکھا۔
”کیا آپ یہاں سے جا کر مجھے یاد کریں گی؟“
اس کے عجیب سے سوال پر میں مسکرائی۔
”ظاہر ہے کسی کے ساتھ اچھا وقت گزرا ہو تو یاد تو آتی ہے۔۔“ وہ کسی امید سے مجھے دیکھ رہا تھا۔
میں پھر سے نظاروں میں کھو گئی۔
”اگر آپ مجھے اس شخص کی نظر سے نہ دیکھیں تو کیا تب بھی میں آپ کو اچھا لگ سکتا ہوں؟“
میں اس کی بات سمجھ گئی تھی۔
”تم میں اس کی صورت ضرور نظر آتی ہے مگر تم اس سے بہت بہتر ہو۔۔ سچ کہوں تو میں نے اتنا محبت کرنے والا صاف دل مرد تم سے پہلے کبھی نہیں دیکھا۔“
وہ اپنی تعریف پر خوش دلی سے مسکرا دیا۔
”سچ تو یہ ہے کہ میں نے بھی آپ جیسی محبت کرنے والی وفادار لڑکی آج سے پہلے کبھی نہیں دیکھی۔۔ آپ کا دل دنیا کے سب سے قیمتی جواہرات سے بھی زیادہ خوبصورت اور قیمتی ہے۔“
”یہ تو کچھ زیادہ ہی ہو گیا۔“
میں نے کھلکھلا کر اسے مصنوعی شک کی نگاہ سے دیکھا۔
وہ سنجیدہ تھا اس نے خاموشی سے مجھے دیکھتے رہنے کے بعد اپنا رخ سامنے کی جانب کر لیا۔ ہم نے باقی کا دن گھومتے پھرتے یونہی گزار دیا۔
رات کو اپنا سامان باندھتے ہوئے مجھے خیال آیا کل کے بعد ہم کبھی نہیں ملیں گے۔ میں اسے کبھی نہیں بتاؤں گی کہ میرے دل میں اس کے لیے کتنی محبت ہے۔ ثمر والا تجربہ مجھے سمجھا چکا تھا کہ جب کسی سے محبت کا اظہار کر دو تو وہ ایک نہ ایک دن لازمی آپ کا دل توڑ کر اور برے دور میں تنہا چھوڑ کر چلا جاتا ہے۔
پھر وہ عیسائی تھا اور مذہب کی یہ دیوار پار کرنا ہم دونوں کے لیے بہت مشکل تھا۔ میں دل کو ساری رات سمجھا سمجھا کر سخت کر چکی تھی۔ یوں بھی ثمر سے دھوکا ملنے کے بعد ابھی میرے دل میں کسی بھی مرد کے لیے اتنی گنجائش نہیں تھی کہ میں دوبارہ کسی سے جنونی محبت کر کے خود کو کھو دوں۔
میں سمجھ چکی تھی کہ اس دور میں کسی عورت کو کسی چاہنے والے مرد کا انتظار نہیں کرنا چاہیے۔ اس دور میں کوئی مرد کسی عورت سے محبت کرنے نہیں آئے گا۔
عشق مشکل پسند لوگوں کا کام ہے اور اس دور میں ہر کوئی آسانیاں تلاش کر رہا ہے تو کوئی کسی کے لیے خود کو کیوں برباد کرے گا۔ وفا کرنا آج بھی صرف عورتوں کی ذمے داری ہے مرد نے کوئی نہ کوئی فلسفہ پیش کر کے خود کو ہمیشہ اس سے آزاد ہی رکھا ہے۔
آرتھر کو میری زندگی میں ثمر کو بھلانے کے لیے بھیجا گیا تھا اس سے زیادہ اس کا میری زندگی میں کوئی کردار نہیں تھا۔
ڈھیروں آسائشوں میں پلنے والے مرد کے لیے محبت سے زیادہ اپنی انا اور ڈھیروں آسائشوں والی آسان زندگی سے زیادہ کچھ اہم نہیں ہوتا۔ میں سمجھتی تھی کہ وہ بھی جب اپنے ملک واپس جائے گا تو مجھے پانے کے راستے میں آتی بہت ساری مشکلات دیکھ کر اپنا ارادہ بدل لے گا اور آسانی سے ملنے والی کسی عورت کو منتخب کر لے گا۔
مجھے مزید اس کی آفر کے متعلق سوچنا بےمعنی لگنے لگا۔
مرد کو خود سے زیادہ اہمیت دینا ہی تو ہم عورتوں کو بیمار کر ڈالتا ہے۔ مجھے وقت نے سمجھا دیا تھا کہ اس دور میں کسی کو محبت نہیں چاہیے۔۔ ہم جیسے جنونی محبت کرنے والوں کے سچے جذبوں کی اس دور میں کسی کو ضرورت نہیں۔ اس لیے دوسروں پر اپنے جذبات ضائع کرنے سے بہتر ہے ہم صرف خود سے پیار کریں۔۔ اپنے پیار کی ہمیں سب سے زیادہ ضرورت ہے۔
ہمیں ہمارے جیسا سچا پیار کرنے والا اس دور میں کبھی کوئی نہیں ملے گا۔
اگلی صبح اٹھتے ہی میں نے اپنے پرس سے وہ چھوٹا پاکٹ مرر نکالا جسے میں نے آخری دو ماہ میں اپنا سب سے زیارہ قریبی دوست پایا تھا۔
”مجھے تم سے ہمیشہ سے زیادہ پیار ہے۔۔ مجھے تم پر پورا یقین ہے۔“
میں نے اپنے پاکٹ مرر میں دیکھ کر اس اداس اور معصوم لڑکی کو مخاطب کیا جسے میں نے ذہنی اور جذباتی موت مرنے کے بعد پھر سے جینا سیکھایا تھا۔
شیشے میں نظر آتے عکس نے کسی امید سے مسکرا دیا تھا۔
————–
ختم شدہ