تحریر: سردار نوید محمود
لندن سے فلائٹ کے ذریعے جب میں کینیڈا کے خوبصورت اور تاریخی شہر مونٹریال پہنچا تو ہمیشہ کی طرح یہی خیال تھا کہ امیگریشن کا مرحلہ بآسانی طے ہو جائے گا۔ مگر اس بار قسمت کو کچھ اور ہی منظور تھا۔ خودکار مشین پر تمام معلومات درج کرنے کے بعد جب امیگریشن کاؤنٹر پر پہنچا تو وہاں موجود افسر نے بغیر کوئی سوال کیے مجھے ایک مخصوص کمرے کی طرف بھیج دیا۔ اس کمرے میں داخل ہوتے ہی اندازہ ہوا کہ یہ ایک طرح کا “خاص مہمان خانہ” ہے جہاں زیادہ تر مسافر جنوبی ایشیا سے تعلق رکھتے تھے۔ وہاں ایک مرحلہ وار تفتیش جاری تھی، مگر خوش قسمتی سے میری سابقہ سفری تاریخ اور پاسپورٹ کو دیکھ کر ایک افسر نے مجھے بنا کسی سوال و جواب کے اگلے مرحلے میں بھیج دیا۔
اگلا کمرہ قدرے زیادہ سنجیدہ ماحول کا حامل تھا۔ وہاں مسافروں کے بیگز کھلوائے جا رہے تھے اور سامان کی چھان بین بڑے باریک انداز سے کی جا رہی تھی۔ ایک لمحے کو گھبراہٹ تو ہوئی، مگر ایک بار پھر افسر نے میرا پاسپورٹ دیکھ کر مسکرا کر اجازت دے دی اور یوں میں بغیر بیگ کھلوائے ایئرپورٹ سے باہر آ گیا۔ ایئرپورٹ سے نکلتے ہی دو چیزوں نے فوری طور پر توجہ کھینچی — ایک تو یہ کہ یہاں توقع سے کہیں زیادہ رش تھا، حالانکہ مونٹریال کو عموماً ایک درمیانے درجے کا شہر سمجھا جاتا ہے، دوسرا یہ کہ ہر سمت فرانسیسی زبان کا غلبہ محسوس ہوا۔ سائن بورڈز، اعلانات، عملے کی گفتگو — سب کچھ فرانسیسی میں۔ ایک لمحے کو گمان ہوا کہ شاید میں یورپ کے کسی شہر میں آ گیا ہوں۔
جلد ہی معلوم ہوا کہ مونٹریال میں فرانسیسی بولنے والوں کی اکثریت ہے، اور یہ زبان نہ صرف روزمرہ زندگی بلکہ سرکاری معاملات میں بھی مرکزی حیثیت رکھتی ہے۔ تاریخی طور پر یہ شہر طویل عرصہ فرانس کے زیر تسلط رہا، اور اس کے حصول کے لیے ماضی میں فرانسیسی و برطانوی افواج میں شدید جنگیں بھی ہو چکی ہیں۔ ایئرپورٹ سے باہر نکلا تو میرا پرانا شاگرد علی حیدر چیمہ استقبال کے لیے موجود تھا۔ ہم نے شہر کا رخ کیا اور ہوٹل پہنچے، مگر وہاں ایک دلچسپ اور سبق آموز واقعہ پیش آیا۔
میں ہمیشہ Booking.com کے ذریعے ہوٹل بُک کرتا ہوں اور چونکہ میں لیول 3 جینیئس ممبر ہوں، اس لیے اکثر فری بریک فاسٹ اور ڈسکاؤنٹس کا فائدہ اٹھاتا ہوں۔ میں ہمیشہ درجہ بندی اور ریویوز کو مدنظر رکھ کر انتخاب کرتا ہوں، لیکن اس بار جانے کیا ہوا کہ ایک کم ریویو اور غیر معمولی طور پر سستے نرخ والے ہوٹل کو چُن بیٹھا۔ جب ہم بتائے گئے پتے پر پہنچے تو وہاں ایک عام سی رہائشی عمارت کھڑی تھی جو تصاویر سے بالکل مختلف تھی۔ دروازہ بجانے پر ایک مقامی شخص باہر آیا اور اس نے بتایا کہ یہاں کوئی ہوٹل نہیں ہے، بلکہ روزانہ کئی لوگ اسی جعلی ایڈریس کی تلاش میں یہاں آتے ہیں۔ وہ اس پتے سے متعلق فراڈ کی اطلاع دو مرتبہ پولیس کو بھی دے چکا تھا۔
لمحے بھر کے لیے حیرت ہوئی، لیکن پریشانی کے بجائے ہم نے اس واقعے پر ہنسنا بہتر سمجھا۔ فوری طور پر ایک نیا ہوٹل بُک کیا، اپنا سامان اٹھایا اور وہاں پہنچ گئے۔ میں نے Booking.com پر شکایت درج کی اور تمام ثبوت فراہم کیے، جس کے بعد انہوں نے معذرت کے ساتھ مکمل ادائیگی واپس کر دی۔ میری تمام سیاحتوں میں یہ پہلا موقع تھا جب مجھے کسی ہوٹل فراڈ کا سامنا ہوا، اور اس سے نہایت اہم سبق حاصل ہوا۔
مونٹریال میں چند دن کے قیام کے دوران شہر کے باسیوں کا رویہ نہایت خوش اخلاق، مہذب اور مددگار پایا۔ اگرچہ فرنچ زبان غالب ہے، لیکن انگریزی بولنے پر بھی لوگوں نے خوش دلی سے بات کی۔ موسم کی خوشگواری نے سفر کو مزید سہل بنا دیا — نہ زیادہ سردی تھی نہ گرمی، ہلکی سی خنکی اور نرم دھوپ کا امتزاج تھا۔ شہر کا ٹرانسپورٹ سسٹم نہایت منظم اور وقت کا پابند ہے۔ میٹرو، بس، اور سائیکل رینٹل جیسی سہولیات عام ہیں اور صفائی و رہنمائی کا نظام بھی مثالی ہے۔
ایک صبح تازہ دم ہو کر میٹرو کا ڈے پاس خریدا اور شہر کی سیر پر نکل کھڑا ہوا۔ اس دوران ایک بات نے مجھے خاصا متاثر کیا — وہ تھی موبائل انٹرنیٹ کی بے مثال رفتار۔ حیرت ہوتی ہے کہ یو کے جیسے ترقی یافتہ ملک میں بھی اکثر انٹرنیٹ کا معیار کمزور ہوتا ہے، جب کہ کینیڈا میں یہ سہولت بہت عمدہ پائی۔
اس سفر میں ایک اور خاص بات وہ رویہ تھا جو مجھے بھارتی شہریوں کی جانب سے محسوس ہوا۔ گزشتہ چند برسوں میں، جب بھی بیرونِ ملک بھارتی افراد سے ملاقات ہوئی، ان کا رویہ عموماً تکبر اور پاکستان پر تنقید سے بھرپور ہوتا تھا۔ لیکن اس بار، “آپریشن سندور” کے بعد مونٹریال میں ماحول بالکل مختلف تھا۔ وہی افراد جو پہلے فخر سے بات کرتے تھے، اب شرمندہ اور خاموش دکھائی دیے۔ شاید اس بار ہمیں ان سے زیادہ اعتماد حاصل تھا۔ یہ ایک خوشگوار تبدیلی تھی۔
ایک اور دلچسپ مشاہدہ یہ رہا کہ اگرچہ عمومی خیال ہے کہ کینیڈا میں سکھ کمیونٹی بڑی تعداد میں آباد ہے، لیکن مونٹریال میں تین دن کے قیام کے دوران صرف دو سکھ افراد سے ملاقات ہوئی۔ مقامی لوگوں سے بات کرنے پر معلوم ہوا کہ چونکہ یہاں فرانسیسی زبان ضروری سمجھی جاتی ہے، اس لیے بہت سی سکھ فیملیز مونٹریال کے بجائے ٹورنٹو یا دیگر انگلش بولنے والے شہروں میں سکونت اختیار کرتی ہیں۔
اس سفر کی سب سے خوشگوار بات یہ تھی کہ کئی سال بعد اپنے ایک پرانے شاگرد ہاشم سے ملاقات ہوئی۔ وہی ہاشم جو کبھی نہایت لاپرواہ اور کمزور طالبعلم ہوا کرتا تھا — خاص طور پر اردو میں! — اب ماشاءاللہ ایک ذمہ دار، سنجیدہ اور آگے بڑھتا ہوا نوجوان بن چکا ہے۔ اس سے مل کر بے حد خوشی ہوئی۔
مجموعی طور پر مونٹریال کا یہ سفر نہایت خوشگوار، معلومات افزا اور حیرتوں سے بھرپور رہا۔ اس شہر کی ترتیب، تہذیب، اور رہائشیوں کا دوستانہ مزاج دل کو چھو گیا۔ ان شاء اللہ، آئندہ بھی دوبارہ اس شہر کی جانب سفر کا ارادہ رکھتا ہوں۔

