Site icon Writers Club Pakistan

خواتین مردوں کے مقابلے میں 35 فیصد کم موبائل فون کی مالک ، رپورٹ

اسلام آباد: ایشیائی ترقیاتی بینک (ADB) کی تازہ ترین رپورٹ “پاکستان کا ڈیجیٹل ماحولیاتی نظام” کے مطابق، پاکستان میں خواتین مردوں کے مقابلے میں اب بھی نمایاں طور پر ڈیجیٹل رسائی سے محروم ہیں۔

رپورٹ میں جی ایس ایم اے کی 2023 موبائل جینڈر گیپ رپورٹ کے حوالے سے بتایا گیا ہے کہ ملک میں خواتین کے موبائل فون کی ملکیت کی شرح 52 فیصد ہے، جبکہ مردوں میں یہ شرح 81 فیصد ہے — یعنی خواتین موبائل فون کی ملکیت میں مردوں کے مقابلے میں 35 فیصد پیچھے ہیں۔

اسی طرح، خواتین کے لیے موبائل انٹرنیٹ کے استعمال کے امکانات بھی 38 فیصد کم ہیں۔ تاہم، ماہرین کا کہنا ہے کہ یہ اعدادوشمار بھی اصل صورتحال کی مکمل تصویر پیش نہیں کرتے، کیونکہ بہت سی خواتین اپنے موبائل فون مرد رشتہ داروں کے نام پر استعمال کرتی ہیں، جس سے حقیقی ڈیجیٹل رسائی کا اندازہ لگانا مشکل ہو جاتا ہے۔

ڈیجیٹل رسائی میں رکاوٹیں: خاندانی دباؤ سے لے کر ہراسانی تک

رپورٹ میں خواتین کو ڈیجیٹل دنیا سے پیچھے رکھنے والے متعدد عوامل کی نشاندہی کی گئی ہے۔ 2019 تک موبائل فون استعمال میں سب سے بڑی رکاوٹ خاندانی اجازت کا نہ ہونا تھا، جو اب بھی اہم مسئلہ ہے۔ اس کے علاوہ، خواتین کو آن لائن ہراسانی، شناختی معلومات کے غلط استعمال کا خوف، اور ڈیجیٹل مہارتوں کی کمی جیسے مسائل کا سامنا ہے۔

اعدادوشمار کے مطابق:

دیہی خواتین کو دوہری مشکلات کا سامنا

رپورٹ میں اس بات پر بھی زور دیا گیا ہے کہ دیہی خواتین کو اضافی رکاوٹوں کا سامنا ہے، جن میں تکنیکی مہارتوں کی کمی، ثقافتی بندشیں، سکیورٹی خدشات اور مہنگے آلات کی قیمتیں شامل ہیں۔ پاکستان کی 60 فیصد سے زائد آبادی دیہی علاقوں میں رہتی ہے، لیکن یہ علاقے انٹرنیٹ کنیکٹیویٹی، نیٹ ورک اسپیڈ اور بنیادی ڈھانچے کے اعتبار سے شہری علاقوں کے مقابلے میں پیچھے ہیں۔

ترقی کے مواقع اور حکمتِ عملی کی ضرورت

اگرچہ پاکستان میں ڈیجیٹل ٹیکنالوجی میں کچھ ترقی ہوئی ہے، جیسے کلاؤڈ کمپیوٹنگ، آٹومیشن، اور ہائبرڈ ورک ماڈلز کا فروغ، لیکن یہ ترقی صرف اُسی صورت میں ثمرآور ہو سکتی ہے جب ٹیکنالوجی تک مساوی رسائی کو یقینی بنایا جائے۔

رپورٹ اس بات پر زور دیتی ہے کہ پاکستان کو اپنی ڈیجیٹل ترقی کو مستحکم اور جامع بنانے کے لیے مندرجہ ذیل پہلوؤں پر فوری توجہ دینی چاہیے:

نتیجتاً، ایک ایسا جامع ڈیجیٹل ماڈل تشکیل دینا وقت کی اہم ضرورت ہے، جو نہ صرف شہری و دیہی تفریق کو ختم کرے، بلکہ خواتین کو ڈیجیٹل معیشت کا فعال اور بااختیار حصہ بھی بنائے۔

Exit mobile version