امی مجھے دیر ہو رہی ہے علی سے کہیں مجھے کالج چھوڑ آئے فاطمہ نے امی کو آواز لگائی، ”ارے تم کہاں جارہی ہو آج کالج نہیں جاؤ گھر میں کام ہے” امی بولیں۔
کیوں امی؟ خیریت
ہاں آج تمہیں دیکھنے کچھ لوگ آرہے ہیں: ارے امی آج تو بہت ضروری لیکچر ہے اچھا ایسا کریں میں جلدی آجاؤں گی، آپ زیادہ کام نہیں کیجیے گا، میں آکر سب کام کر لوں گی۔
اچھا ٹھیک ہے جلد سے جلد آنے کی کوشش کرنا، جاؤ بیٹا علی بہن کو چھوڑ کر آؤ امی نے علی سے کہا۔
فاطمہ نے اپنا اسکارف سر پر لیا اور چہرے پر نقاب کر کے بھائی کے پیچھے باہر نکل گئی۔
دوپہر میں فاطمہ گھر پہنچی تو امی کو کچن میں مصروف پایا ”امی میں نے کہا تھا میں آکر سب کر لوں گی مگر آپ بھی ناں۔۔۔۔ بس کام کرنے کا بہانہ چاہیے”۔ فاطمہ نے ایک ہی سانس میں سب کہہ ڈالا۔
”ارے میری بیٹی تم بھی تو تھکی ہوئی آئی ہو، چلو کھانا کھا لو پھر شام کی چائے پر وہ لوگ آجائیں گے۔
جی امی فاطمہ نے اپنے اور امی کے لیے کھانا نکالا اور لوؤنج میں رکھی میز پر آگئی، دونوں ماں بیٹی کھانے کے دوران شام کی تیاری پر باتیں کرتی رہیں۔
کھانا کھا کر فاطمہ اپنے کمرے میں آگئی اور بیڈ پر بیٹھ کر سوچنے لگی پتا نہہیں کیسے لوگ ہوں گے لڑکا بھی ساتھ آرہا ہے میں تو سامنے نہیں جاؤں گی پتا نہیں انہیں اعتراض ہوگا میرے سامنے نہ آنے سے کیونکہ ایک رشتہ پہلے بھی اسی لیے انکار ہوگیا تھا کہ لڑکی پردہ کرتی ہے سوچتے سوچتے فاطمہ کی آنکھ لگ گئی اور پھر امی کی آواز پر ہی اس کی آنکھ کھلی۔
آجاؤ فاطمہ عصر کی اذان ہوگئی نماز پڑھ لیں پھر تم تیار ہوجانا۔ دونوں ماں بیٹی نے نماز پڑھی اسی دوران علی اور فاطمہ کے ابو بھی آگئے مہمان بھی آنے والے تھے ڈرائنگ روم میں مردوں کے بیٹھنے کا انتظام کیا گیا اور خواتیں کو فاطمہ کی امی کے کمرے میں بٹھایا گیا۔
مہمان خواتین کو فاطمہ پسند آگئی اور انہوں نے اپنی پسندیدگی کا اظہار بھی کر دیا اسی طرح فاطمہ کے گھر والوں کو بھی لڑکا پسند أگیا اور آگے کے مراحل تیزی سے طے پاتے چلے گئے۔ شادی فاطمہ کے فائنل پیپرز کے بعد طے پاگئی جو تین مہینے بعد تھے۔
دونوں گھروں میں شادی کی تیاریاں جاری تھیں اور پھر وہ دن بھی آگیا جس دن فاطمہ کا نکاح تھا۔
فاطمہ حجاب کر کے اسٹیج پر پہنچی تو مہمانوں میں چہ منگوئیاں ہونے لگیں یہ کیا کارٹون پن ہۓ شادی والے دن کون لڑکی حجاب کرتی ہے لڑکے کی رشتے کی خالہ نے تو برملا فاطمہ کے سامنے ہی اپنی ناگواری کا اظہار بھی کر دیا، آئے یہ کیا منہ پر ڈھاٹا لپیٹ کر آگئیں تم کیا تصویریں اور مووی وغیرہ منہ چھپا کر بنواؤگی آج تمہاری شادی ہے یہ دن کوئی روز روز تھوڑی نہ آتا ہے ہٹاؤ اس نقاب کو اور اپنا آج کا فنکشن انجوائے کرو، باقی کی رشتے دار خواتین بھی فاطمہ سے اصرار کرنے لگیں کہ وہ اپنے چہرے سے نقاب ہٹا دے۔
فاطمہ نے رسانیت اور دھیمے لہجے میں خالہ کو مخاطب کیا، خالہ جان مجھے پتا ہے آج میری زندگی کا بہت بڑا دن ہے اور مجھے معلوم ہے کہ نکاح ایک مقدس فریضہ ہے مگر أپ مجھے یہ بتائیں کہ کیا یہ بھی فرض ہے کہ میں آج کے دن کے لیے بے پردہ ہوجاؤں کیمرے اور مووی بنانے والے میرے لیے نا محرم ہیں میں کیسے ان کے سامنے بے حجاب ہو جاؤں نکاح سے چند منٹ پہلے تک تو میں اپنے ہونے والے شوہر کے لۓ بھی نا محرم ہی رہوں گی تو یہ مووی والے میرے لۓ کیسے محرم ہو سکتے ہیں جو میں ان کے سامنے بے نقاب ہو جاؤں۔
برائے مہربانی میرے نکاح کو میرے لیے ایک مقدس دن کے طور پر یادگار بننے دیں نہ کہ مجھے ماڈل بنا کر کیمرے والوں کے سامنے فیشن کے نام پر بے ہودہ فوٹو شوٹ کے لۓ پیش کر دیں میں اتنی بھی مجبور نہیں ہوں کہ اپنے اللہ کی نافرمانی کر کے أپ کے نام نہاد ماڈرن ازم کی خاطر بے حجاب ہوجاؤں۔
فاطمہ کی ہونے والی ساس نے آگے بڑھ کر فاطمہ کے سر پر ہاتھ رکھا اور بولیں جیتی رہو بیٹی آج مجھے اپنے انتخاب پر فخر ہو رہا ہے میں نے واقعی اپنے بیٹے کے لیے ایک ہیرے کا انتخاب کیا ہے جو ہماری آنے والی نسل کے لیے بھی اپنے جیسے ہیرے تیار کرے گی اور فاطمہ نے اطمینان سے سر جھکا دیا۔

