”میں واپس لوٹ کرکبھی بھی نہیں آوں گا۔ کبھی بھی نہیں چاہیے کچھ بھی ہو جائے۔“ شاہ میر نے اٹل لہجے میں کہا۔”تم مجھ سے محبت نہیں کرتے ؟“ ثنا نے اِک آس سے پوچھا۔
”کیا تمہیں ابھی بھی اندازہ نہیں ہو اکہ میں تم سے کتنی محبت کرتا ہوں۔“ اُس نے خفگی بھرے انداز میں الٹا اُس سے ہی سوال کر ڈالا۔
”تو پھر یہ کیسی محبت ہے ، جو تمہاری مجبوریوں ، تمہاری خود ساختہ مظلومیت کی سوچ سے زیادہ اہم ہی نہیں ، تمہارے لیے ۔“ ثنا نے ایک اور کوشش کی ، شاید وہ واپس آنے کے لیے مان جائے۔
”تم سب جانتی ہو، میں نے تم سے کبھی کچھ نہیں چھپایا ۔ یوں بار بار مجھے وہ سب یاددِلا کر ایک نئی اذیت سے دوچار مت کیا کرو۔“
”تم سوچ لو اچھے سے ، یہ نہ ہو کہ جب تم لوٹ کر آو تو تمہیں یہاں کوئی بھی نہ ملے ۔“کہتے ساتھ ہی ثنا نے لائن ڈسکنکٹ کر دی اور آکر بستر پر لیٹ گئی۔
رات کے دو بج رہے تھے ، لیکن نیند آنکھوں سے کوسوں دور تھی ۔جس کے لیے وہ سب رسک لینے کو تیار تھی ، وہ اُس کے لیے صرف اپنے ماضی کی تلخ یادوں کو نہیں بھولنا چاہتا تھا۔ کتنے خواب تھے ،جو آج اُس کی آنکھوں میں کرچیوں کی مانند چبھ رہے تھے۔
اُس کی زندگی میں سوائے درد کے کچھ بھی نہ تھا ۔ وہ چاہ کر بھی ایک نارمل زندگی نہیں گزار سکتا تھا ، اور یہ وہ بات تھی جو شاہ میر اُسے پچھلے ایک سال سے سمجھا رہا تھا ، مگر وہ کچھ سمجھنے کو تیار ہی کہاں تھی۔وہ اُسے اُس اذیت سے بچانا چاہتا تھا، جس کا شکار وہ خود تھا ، مگر پتہ نہیں کب اور کیسے وہ اُس کا ہاتھ پکڑ کر اپنے ساتھ ساتھ اُس دنیا میں لے آیا ، جسے لوگ محبت کی دنیا کہتے ہیں۔ وہ تو پھر بھی سب سہہ جاتا، لیکن وہ جانتا تھا کہ ثنا کبھی بھی سہہ نہ پائے گی، وہ کچھ نہیں کہتی تھی مگر وہ جانتا تھا اور پھر بھی پتہ نہیں کیوں وہ اِس حقیقت کو تسلیم کرنے سے انکاری تھا کہ وہ بھی اُس کے بغیر زندہ نہیں رہ پائے گا۔
………………..
شاہ میر چار سال کا تھا، جب اُس کے والدین نے ڈیورس کا فیصلہ کیا۔ اُس کا سارا بچپن اُس کے ننھیال میں گزرا میں گزرا تھا۔ جب وہ کالج جانے لگا تب اُس نے اپنے بابا سے ملنا شروع کیا ۔ شاہ میراُس دِن بہت حیران ہوا تھا جب اُسے معلوم ہوا کہ اُس کے والدین کی لو میرج تھی لیکن افسوس کہ وہ ایک دوسرے کے ساتھ نبھا نہ سکے۔ اور سب سے حیرت کی بات تو یہ تھی کہ تب سے لے کر آج تک اُنہوں نے شادی نہیں کی تھی ۔شاہ میر نے گریجویشن مکمل کی تو اُس نے ہائیر اسٹڈیز کے لیے ملک سے باہر جانے کا سوچا اور اپنی تعلیم مکمل کرنے کے بعد بھی اُ س نے پاکستان واپس آنے کا نہ سوچااور وہیں جاب کرنے لگا۔ اُس نے سوچ لیا تھا کہ وہ کبھی پسند کی شادی نہیں کرے گا، کیوں کہ وہ نہیں چاہتا تھا کہ وہ بھی اپنے والدین کی طرح کی زندگی گزارے۔ یہی وجہ تھی کہ اُس نے کبھی بھی نہ اِس بارے میں سوچا اور نہ ہی کسی کو اپنے اتنے قریب آنے دیا۔ لیکن وہ کہتے ہیں نا انسان جس چیز سے بھاگتا ہے وہی چیز اُس کے پاس خود بخود پہنچ جاتی ہے، اور شاہ میر کے ساتھ بھی ایسا ہی ہوا تھا۔ ثنا سے نجانے کیسے دوستی ہوئی اور جب معلوم ہوا کہ وہ ایک ہی شہر اور ایک ہی علاقے کے رہنے والے ہیں تو اُن کی دوستی اور بھی مضبوط ہو گئی۔اِس آن لائن دوستی کا انجام کیا ہوگا انہوں نے کبھی اِس بارے میں سوچا نہیں تھا۔
……………………
دو دِن اُس نے کس اذیت میں گزارے صرف وہ ہی جانتی تھی اور وہ خود پہ حیران بھی تھی کہ آخر ہو کیا رہا ہے۔ دودِن کے بعد وہ اُسے آن لائن نظر آہی گیا ۔اُس کے آتے ہی اُس نے سوالات کی بوچھاڑ کر دی۔
کہاں تھے؟
آئے کیوں نہیں؟
سب خیریت تھی ؟
میں بہت پریشان تھی ، تمہارے لیے ۔۔۔۔ اور اِس ہی طرح کے ڈھیروں سوال وہ اُس سے ایک منٹ میں کر چکی تھی۔
”ارے ، ارے ۔۔۔سانس تو لے لو لڑکی ۔ تم سوال پوچھنا ختم کرو گی تو میں جواب دے سکوں گا نا۔“اُس نے مسکراہٹ والا ایموجی بھیجا اور پھر لکھنے لگا۔” کچھ مصروفیت تھی جس کی بنا پر اتنی فرصت ہی نہ ملی کہ آن لائن آسکوں ۔مجھے اندازہ نہیں تھا کہ تم اتنی پریشان ہو جاو¿ گی، نہیں تو ضرور تمہیں آگاہ کر دیتا۔“ اُس نے بالکل اُسی طرح سے اُسے جواب دیا، جیسا کہ وہ پہلے کیا کرتا تھا۔اُسے تو ایسے لگتا جیسے وہ اُس کے سامنے بیٹھا اُس سے گفتگو کر رہا ہو، وہ اُس کے لکھے میسج سے ہی اُس کی ٹون کا اندازہ کر لیتی تھی ۔زیادہ تر وہ سنجیدہ رہتا تھا۔نجانے ایسا کیا تھا ، جو وہ اُس سے تو کیا ساری دنیا سے چھپانا چاہتا تھا ۔وہ کسی کو اپنے قریب نہیں آنے دیتا تھا اُسے لگتا تھا کہ وہ اُن سب کو ہرٹ کر دے گا ۔ دوست تو ویسے بھی نہیں بناتا تھا ، چند ایک رشتے دار تھے ، جنہیں وہ کسی کھاتے میں نہ لاتا تھا اور اپنی فیملی کے بارے میں اُسے بات کرنا بالکل پسند نہیں تھا ۔
……………………
”تمہیں لگتا ہے کہ تم بہت اسمارٹ اور ذہین ہو ؟“ ٹک کی آواز کے ساتھ اُسے میسج موصول ہوا ۔ وہ اتنا مصروف تھا کہ اُسے سر کھجانے کی فرصت نہ تھی مگر پھر بھی نجانے کس جذبے کے تحت ، اُس نے میسج کھولا۔ جیسے اُسے پورا یقین تھا کہ میسج اُسی کا ہوگا ۔اُس کے منہ کا زاویہ میسج کے لفظوں کے ساتھ بدل رہا تھا ۔
”بات سمجھنے کی نہیں ہے، جو بات ہے اُسے ماننا تو پڑے گا ۔“اُس نے تیزی سے کی پیڈ پر انگلیاں چلائیں، جوابی میسج لکھا اور سینڈ کرنے کے بعد واپس اپنے کام میں مشغول ہو گیا ۔ تھوڑی دیر بعد ہی اُس کا موبائل پھر سے بج اٹھا ۔ اِس سے پہلے کہ وہ موبائل اٹھا تا اُس کے باس نے اُسے کیبن میں بلایا اور پھر وہ کام میں ایسا مصروف ہوا کہ بھول ہی گیا کہ کوئی اُس کے ریپلائی کا کتنی بے صبری سے انتظار کر رہا ہو گا۔
دِن آہستہ آہستہ گزرتے جا رہے تھے لیکن وہ اُس کا نکار اقرار میں بدلنے میں کامیاب نہ ہوسکی تھی۔ رات ہی ثنا نے اُسے کہا کہ اُس کے گھر والے اُس کی شادی کرنا چاہ رہے ہیں ۔ کچھ لمحوں کے لیے وہ کچھ ریپلائی ہی نہ کر سکا۔
”اچھا تو یہ بات ہے ، یہ تو بہت خوشی کی بات ہے ۔ تمہارا پورا حق بنتا ہے کہ تم اپنی زندگی نارمل طریقے سے گزارو۔“اُس نے کچھ بے ربط سے انداز میں میسج لکھا۔
”تو تم کیوں پریشان ہوتے جا رہے ہو ؟“ ثنا نے اپنی مطلب کی بات نکال کر اُس ے سوال کیا ۔
”میں جیسا ہوں، مجھے ویسا رہنے دو ۔ میں نہیں چاہتا کہ تم بھی میری طرح بے حس ہو جاو۔“ یہ کہتے ساتھ ہی وہ آ ف لائن ہو گیا ۔کئی دِن گزر گئے وہ آن لائن نہ آیا ۔ثنا نے اِ س بار بھی میسجز کا ڈھیر لگا دیا ۔ بالآخر پانچ دِن بعد وہ آن لائن آہی گیا ۔
”کیسے ہو ؟“
’ٹھیک ہوں، تم کیسی ہو؟“
”کہاں تھے اتنے دِن؟“ اُس نے شاہ میر کے سوال کو نظر انداز کرتے ہوئے ایک سوال پوچھا۔
”کچھ مصروف تھا ، اور تم بتاو¿ کیسا چل رہا ہے سب۔“ اُس نے سرسری سا پوچھا۔
”میرا رشتہ پکا ہو گیا ہے، اگلے مہینے نکاح ہے میرا۔ امید ہے تم ضرور آو¿ گے۔“ابھی تو صرف رشتہ آیا تھا اور امی نے اُسے کہا تھا وہ سوچ کر اُنہیں جواب دے تاکہ وہ آگے بات بڑھائیں، لیکن نجانے کیا سوچ کر اُس نے شاہ میر کو کہہ دیا کہ اگلے ماہ اُس کا نکاح ہے، شاید وہ جاننا چاہتی تھی کہ وہ اُس کی زندگی میں کتنی اہم ہے۔
”ارے واہ ، مبارک ہو ۔ میرا آنا تو مشکل ہے ۔“
”مگر تمہیں آنا ہوگا ۔“ اُس نے اصرار کیا۔
”اچھا میں کوشش کروں گا ۔“
” ہاں ، تم ضرور آنا شاہ میر۔“وہ ایک لمحے کو چپ ہوئی ، پھر دوبارہ لکھنے لگی۔”تاکہ مجھے یہ نہ لگے کہ تمہیں مجھ سے محبت ہوگئی تھی۔“
”ھمم۔“وہ صرف اتنا ہی لکھ پایا تھا۔ محبت تو ہو گئی تھی، مگر وہ اقرار کیسے کرتا۔
”بس آگئے ھمم پر؟ کیوں ختم ہو گئے سارے الفاظ؟ یا اب تم بات ہی نہیں کرنا چاہتے؟ “
تم اتنی rudeکیوں ہو رہی ہو؟“اُس نے پوچھا تھا ، جیسے وہ اُسے جانتا نہ تھا، جیسے وہ آج پہلی بار اُس سے بات کر رہا تھا۔
rude اور میں؟ ابھی تم دیکھوں تو سہی کیا کیا ہوتا ہے میں آج تم سے اپنے سب تعلق ختم کررہی ہوں۔ اب سے ہم بات نہیں کریں گے، کیوں کہ میں کسی اور کی امانت ہوں ۔ میں نہیں جانتی کہ تم کیا چاہتے ہو اور ہاں بھولنا مت، اگلے مہینے کی چوبیس تاریخ۔“ اور آج پہلی بار ایسا ہو اتھا کہ وہ میرا جواب سنے بنا ہی ، مجھ سے بھی پہلے آف لائن ہو گئی تھی۔
……………………
جس سے محبت کی ہے اُسے معلوم ہی نہیں کہ میں اُس کے عشق میں مبتلا ہوں۔ لوگ کہتے ہیں مرد تو بہت تیز ہوتے ہیں، وہ تو کسی بھی لڑکی کے بات کرنے کے انداز سے ہی جان لیتے ہیں کہ وہ اُن سے محبت کرتی ہے یا نفرت۔ اور یہ شاہ میر کیسا مرد ہے یار، اُسے کیوں سمجھ نہیں آرہا کہ میں اُسے۔۔۔“ اِس سے آگے وہ سوچنا ہی نہیں چاہتی تھی۔
رات لمبی تھی یا شاید اُسے ایسا محسوس ہورہا تھا، ساری رات ایک ہی خیال اُس کے سر پہ سوار رہا کہ اب کیا ہوگا؟ اب کیا کروں؟ صبح امی جواب پوچھیں گی تو کیا کہوں گی اُن سے۔میں امی سے بات کروں گی ، انہیں کہوں گی کہ مجھے کچھ وقت چاہیے تاکہ میں خود سمجھا سکوں ، وہ سب، جو شاید مجھے بہت پہلے سمجھ لینا چاہیے تھا ۔میرے لیے بہتر یہی ہوگا کہ اگلی بار میں اُنہیں مایوس نہ کرو۔ وہ خود کو سمجھا رہی تھی۔ سچ ہے کبھی کبھی انسان کو خود کو سمجھانے کی ضرورت ہوتی تاکہ وہ خود کو جان سکے۔ صبح جب امی نے جواب مانگا تو اُس نے وہی کہا جو وہ سوچ چکی تھی۔امی ایک لمحے کے لیے خاموش ہوئی تھیں، پھر بولیں ۔
”ٹھیک ہے ، تم سوچ سمجھ کر ہی فیصلہ کرنا بیٹا۔ اچھا سنو ، تمہاری خالہ کا فون آیا تھا وہ تمہیں بلا رہی ہیں ، انصر کی شادی کی تیاریاں شروع ہو چکی ہیں اور اُنہیں تمہاری مدد چاہیے۔تمہارے ابا سے میں بات کر چکی ہوں ، اِس لیے تم چند دِن پہلے ہی وہاں رہنے چلی جاو¿۔“
”جی امی ٹھیک ہے ، میں تیاری کرتی ہوں۔“ شام کو وہ خالہ کی طرف آگئی اور جو کام وہ کرنا نہیں بھولی تھی وہ تھا اُس کا موبائل ساتھ نہ لانا، جسے وہ اپنی سائیڈ ٹیبل کی دراز میں آف کر کے رکھ آئی تھی ۔کچھ دِن کا دورانیہ جانے کیسے بڑھتے ہوئے دو ہفتوں پر مشتمل ہو گئے تھے۔ دِن بھر وہ مارکیٹ کی خاک چھانتی اور پھر ٹیلرکے ہاں چکر لگتے۔ رات کو ساری کزنز وہاں آدھمکتیں اور خوب ہلا گلا ہوتا۔ اِن سب میں اُسے اپنا غم بھولنے لگا تھا یا شاید یہ کہنا بجا ہوگا کہ اتنی مصروف زندگی میں اُس کا خیال آتا ہی نہ تھا۔ رات گئے تھکان اتنی ہوتی کہ بستر پر پڑتے ہی وہ نیند کی آغوش میں چلی جاتی اور صبح پھر سے وہی معمول۔ وہ شاہ میر کو بھولی نہیں تھی، وہ اُسے یاد رہتا تھا بس وہ کوشش کر رہی تھی کہ وہ اُس کی یاد کو اپنی زندگی بھر کا روگ نہ بنا لے ۔
دو ہفتوں بعد جب وہ گھر واپس آئی تو امی کی طبیعت کچھ ٹھیک نہیںتھی۔ وہ دِل و جان سے اُن کی دیکھ بھال میں لگ گئی۔ کچھ دِن اسی پریشانی میں گزر گئے۔ جب اُن کی صحت بہتر ہونے لگی تو ثنا کی جان میں جان آئی۔ سب کاموں سے فارغ ہو کر وہ اپنے کمرے میں سونے آئی۔ جب اچانک اُسے خیال آیا کہ موبائل کو چارج کر ے ۔ اُس نے موبائل کو چارجنگ پر لگا کر اُسے آن کیا ۔کسی نمبر سے اُسے پچاس کالز آئی ہوئی تھیں۔ اجنبی نمبر دیکھ کر وہ تھوڑی پریشان ہوئی، غورسے دیکھا تو معلوم ہوا کہ وہ شاہ میر کا نمبر تھا، آج سے پہلے اُس نے اُسے کبھی کال نہیں کی تھی۔ڈیٹا آن کرتے ہی اُسے چار میسج ایک ساتھ موصو ل ہوئے۔
”کہاں ہو؟ “
”سب ٹھیک ہے؟“
”سنو ثنا، میں اگلے ہفتے پاکستان آرہا ہوں۔ امی سے بات کرلی ہے وہ بھی مان گئی ہیں۔نکاح کرتے ہی میں واپس چلا جاوں گا۔“
”اپنا خیال رکھنا “ اُس کے تمام میسج پڑھنے کے بھی اُسے کچھ سمجھ نہیں آرہا تھا کہ وہ کہہ کیا رہا ہے۔ نکاح لیکن کس سے؟؟؟تبھی اُسے شاہ میر کے سلام کا میسج آیا ۔
”کہاں تھی؟ اوہ ہاں تم اپنی شادی کی تیاریوں میں مصروف ہوگی۔ہمم۔۔۔اچھی بات ہے، ویسے بھی میرے پاس اتنا وقت نہیں ہوگا۔“ آج تو اُس کا انداز ہی کچھ بدلا ہوا تھا۔
”اور ہاں میں کل صبح پاکستان آرہا ہوں اِس لیے کچھ تیاری کرنی ہے اور وقت بھی کم ہے ۔ تم اپنی امی سے میرے بارے میں بات کرو، اور پھر مجھے میسج کر دینا۔“ وہ آف لائن ہو چکا تھا لیکن وہ سکتے کی کیفیت میں تھی۔
……………………
یہ سب کچھ اتنا آسان نہیں تھا، جتنی آسانی سے ہوگیا تھا۔ امی بابا کو شاہ میرپسند آیا تھا اور میں اُس کے گھر والوں کو، اِس لیے آناً فاناً اُن کے نکاح کی تاریخ رکھ دی گئی تھی۔ آج اُن کا نکاح تھا ، اور شاہ میر کو احساس ہوا کہ اُس نے صحیح وقت پر ایک بہترین فیصلہ کیا تھا ، آج وہ اپنی محبت کو کھونے کے ڈر سے وہ آزاد ہو گیا تھا ۔وہ ثنا ہی تھی جس نے اُس کا محبت پر اعتبار قائم کروایا تھا۔ اُسی کی محبت نے اُسے سمجھایا تھا کہ ضروری نہیں کہ ایک محبت کے ادھورے رہ جانے سے دوسری محبت کو بھی ادھورا چھوڑ دیا جا ئے۔خوشیاں اُس کے در پر دستک دے رہی تھیں اور شاہ میر ناشکرا نہیں بننا چاہتا تھا، اُس نے سارے خدشوں کو بھلا کر ایک نئی زندگی کے آغاز کا سوچا تھا جس میں ثنا جیسی خوبصورت لڑکی اُس کی ہمسفر تھی،اور آج اُس نے اپنی محبت کو مان دیا تھا، اپنا نام دیا تھا۔
کبھی کبھی ہم زندگی میں خود کو اُن غلطیوں کی سزا دینے لگتے ہیں جو ہم سے سر زد ہی نہیں ہوتی ہیں اور یہی وجہ ہے کہ ہم خودکو بہت سی ایسی خوشیوں سے محروم کر لیتے ہیں جو ہماری منتظر ہوتی ہیں یہ سمجھنا بہت ضروری ہے کہ
”یہ زندگی ہے ۔۔۔۔۔۔۔۔۔Please give it a try “
محبت مان ہے

نوٹ: رائٹرز کلب اور اس کی پالیسی کا اس تحریر کے خیالات سے متفق ہونا ضروری نہیں۔ اگر آپ بھی ہمارے لیے اردو بلاگ لکھنا چاہتے ہیں تو قلم اٹھائیے اور تحریر اپنی تصویر، مکمل نام، فون نمبر، فیس بک اور ٹوئٹر آئی ڈیز اور اپنے مختصر مگر جامع تعارف کے ساتھ writerscpk@gmail.com پر ای میل کردیجیے۔
