Site icon Writers Club Pakistan

پنجاب میں وائلڈ لائف کی کارروائی: 23 جنگلی جانور برآمد

لاہور: پنجاب وائلڈ لائف رینجرز  نے شیروں، چیتوں اور تیندوں کی خرید و فروخت میں ملوث ایک غیر قانونی نیٹ ورک کو بے نقاب کر دیا ہے۔

متعدد کارروائیوں کے دوران حکام نے 23 جنگلی جانوروں کو برآمد کیا، جن میں سے کئی کو خفیہ طور پر گھروں میں رکھا گیا تھا۔ حکام نے تصدیق کی کہ برآمد شدہ جانوروں میں کئی شیر کے بچے بھی شامل ہیں۔

لاہور میں وائلڈ لائف رینجرز  نے ایک پوش رہائشی علاقے سے پانچ شیر کے بچے بازیاب کرائے، جہاں انہیں خفیہ طور پر رکھا گیا تھا۔

وائلڈ لائف حکام کے مطابق، حالیہ برسوں میں افراد کا نجی بریڈنگ فارموں سے نومولود شیروں اور چیتوں کو بطور شوق خریدنا عام ہو گیا ہے۔

انہوں نے بتایا کہ ایک شیر کے بچے کی قیمت 8 لاکھ سے 10 لاکھ روپے کے درمیان ہوتی ہے۔

اپنی نایاب شکل و صورت کی وجہ سے یہ جانور اکثر گھروں میں رکھے جاتے ہیں، تاہم حکام خبردار کرتے ہیں کہ جب یہ بچے چھ ماہ کے ہو جاتے ہیں تو ان میں جنگلی رویے ظاہر ہونے لگتے ہیں، جو مالکان اور آس پاس کی آبادی کے لیے خطرناک ثابت ہو سکتے ہیں۔

حکام نے انکشاف کیا کہ بعض بریڈنگ فارم مالکان غیر قانونی طور پر اپنے فارموں سے بچے نکال کر بغیر لائسنس چینلز کے ذریعے فروخت کر رہے تھے۔ سلسلہ وار کارروائیوں کے بعد اب حکام کا کہنا ہے کہ اس زیرزمین مارکیٹ کو ختم کر دیا گیا ہے۔

پنجاب وائلڈ لائف رینجرز کے ایڈیشنل ڈائریکٹر جنرل سید کامران بخاری نے کہا کہ اب جنگلی جانوروں کو صرف ورلڈ ایسوسی ایشن آف زُوز اینڈ ایکویریمز (WAZA) کے پروٹوکولز کے تحت قید میں رکھنے کی اجازت دی جائے گی۔ انہوں نے واضح کیا کہ WAZA کے اصولوں کے مطابق خطرناک جنگلی جانوروں کو رہائشی علاقوں میں کسی صورت نہیں رکھا جا سکتا۔

بخاری نے تصدیق کی کہ ایسے افراد کے خلاف کارروائیاں جاری ہیں جو غیر قانونی طور پر شیر اور چیتے رکھے ہوئے ہیں۔

اب تک برآمد کیے گئے 23 جانوروں میں سے 12 لاہور، 4 گوجرانوالہ، 2 فیصل آباد، 3 ملتان، جبکہ راولپنڈی اور دیگر اضلاع سے ایک ایک جانور برآمد ہوا ہے۔ ان کارروائیوں کے نتیجے میں 8 افراد کو گرفتار کیا گیا اور 7 فوجداری مقدمات درج کیے گئے ہیں۔

پنجاب بھر میں اب تک کل 582 بڑے جنگلی جانور نجی ملکیت میں رجسٹرڈ ہیں۔ ان میں سب سے زیادہ لاہور میں 198، ملتان میں 129، راولپنڈی میں 104، گوجرانوالہ میں 86، فیصل آباد میں 20، سالٹ رینج میں 26، گجرات میں 9، بہاولپور میں 6، جبکہ ساہیوال، ڈیرہ غازی خان اور سرگودھا میں ایک ایک جانور شامل ہے۔ وائلڈ لائف حکام کے مطابق، ان جانوروں کی تصدیق کا عمل جاری ہے۔

رجسٹرڈ وائلڈ لائف بریڈنگ فارموں کو اپنی سہولیات میں کمی کو دور کرنے اور قانونی و حفاظتی معیارات پر مکمل عملدرآمد کے لیے تین ماہ کی مہلت دی گئی ہے۔

Exit mobile version