دعا دیجیے، دعا کیجیے، دعا لیجیے، تعمیر کیجیے۔ زندگی کیا ہے، زندگی کائنات کا وہ حسن ہے جس کو صبح اٹھتے ہی سب سے پہلے اپنی آنکھ سے دیکھتے ہیں۔ خوبصورت زندگی کا آغاز ہمارے دل اور دماغ کی روشنی سے شروع ہوتا ہے۔ آنکھ کی روشنی ہے زندگی، خون کی گرمی ہے زندگی، ہاتھ کی جنبش ہے زندگی، قدموں کا چلنا ہے زندگی، آواز کی لے ہے زندگی، خوشبو کا احساس ہے زندگی، وقت کا گذرنا ہے زندگی، رشتوں کا احساس ہے زندگی، جذبوں کی رفاقت ہے زندگی۔ جب یہ سب احساس زندہ ہوں تو ہم زندہ ہوتے ہیں۔ کیا جب ہم زندگی کو اپنے اندر محسوس کرتے ہیں تو ہم صبح کو اللہ کا شکر ادا کرتے ہیں کہ اس تندرستی والی زندگی کے ساتھ ایک نئی صبح عطا کی۔ جب ہم رات کو سوتے ہیں تو زندگی سے دور ایک بے خبری کے احساس میں؟ جاتے ہیں اور جب ہماری آنکھ کھلتی ہے تو ہمیں اپنے رب کا شکر سب سے پہلے ادا کرنا چاہیے کہ وہ دوبارہ ہمیں زندگی میں واپس لایا۔
ہمیں اپنی زندگی کیلئے بہترین دعائیں کرنی چاہئیں اور روزانہ کی زندگی روزانہ کی دعا¶ں پر تعمیر کرنی چاہئیں۔ اللہ نے تو زندگی انسان کو ایک نعمت کی طرح عطا کی ہے مگر یہ انسان ہی ہے کہ وہ زندگی کی قدر نہیں کرتا اور اپنی خواہشوں کے پیچھے بھاگتے بھاگتے اس خوبصورت نعمت کی اہمیت کھو دیتا ہے اور اکثر پریشانی اور الجھنوں میں حادثات کا شکار ہو جاتا ہے۔ زندگی کی قدر کیجئے، زندگی سے پیار کیجیے، خوبصورت زندگی کے لیے دعا کیجیے۔
بے شک حادثات بھی زندگی کا ایک حصہ ہیں؟؟ یہ وہاں ہوتے ہیں جہاں ہماری سوچیں اور حالات خراب ہوتے ہیں۔ ہمارے جسم میں بیماریاں جنم لیتی ہیں جو ہمیں زندگی میں توڑ پھوڑ دیتی ہیں اور پھر آہستہ آہستہ زندگی ؟؟ ہو جاتی ہے۔ روڈ ایکسیڈنٹ بھی اسی زندگی کا ایک ؟؟ ہیں۔ روزانہ سڑکوں پر بے شمار حادثات ہوتے ہیں جن میں خئی لوگ جان سے ہاتھ دھو بیٹھتے ہیں، کئی اپاہج ہو جاتے ہیں، کئی مالی نقصانات کا شکار ہوتے ہیں۔ پاکسان میں یہ ایک عام بات ہے کہ ہر سڑک کوئی نہ کوئی حادثہ ہوتا ہے۔ ہم لوگ ہر وقت کسی نہ کسی ذہنی پریشانی میں الجھے ہوتے ہیں۔ ایک دوسرے کیلئے بغض اور کینہ رکھتے ہیں، رشتے غیر اہم ہیں، بے حسی نے ہمیں اندر ہی اندر سے توڑ پھوڑ دیا ہے۔ حسد، لالچ اور خود غرضی کی دوڑ نے ہمیں بے تحاشا پاگل کیا ہوا ہے۔ نفسا نفسی کا عالم ہے، ہر کوئی دوسرے سے آگے نکلنے کیلئے بے چین ہے۔
دنیا بہت وسیع ہے، زندگی بہت چھوٹی ہے، وقت گذرتا جاتا ہے، روز آج کل بنتا ہے اور کل ماضی زندگی کے صبح شام یونہی گذر جاتے ہیں۔ شاید انسان ہی زندگی کی قدر نہیں کرتا۔ اسی لیے اپنے لیے مسائل کا انبار اکٹھا کیا ہوتا ہے۔ حادثات زندگی کو ہلا کر رکھ دیتے ہیں بلکہ زندگی کی سطح ہی بدل دیتے ہیں۔ کہیں پیسے کی لڑائی، کہیں محبت کی کمی، کہیں احساس نہ ہونا، یہ سب پریشانیاں مل کر حادثات کا باعث ہیں۔ ہم خود سے لڑتے ہیں ایک دوسرے سے لڑتے ہیں اور سکون کی تلاش میں کچھ نہ کچھ ایسا کر گذر؟ جو ہمارے لیے وبال جا ن بن جاتا ہے یا کوئی؟ حادثہ زندگی میں جنم لے لیتا ہے۔ شاید اگر انسانوں میں مھبت بے شمار پائی جاتی تو یہ دنیا جنت کی نمونہ ہوتی اور یہاں سے جانے کو کسی کا دل کرتا مگر ہم بے حس ہو چکے ہیں۔ آج تو زندگی کا یہ عالم ہے کہ کوئی مر بھی جائے تو دوسرے دن سب بھول جاتے ہیں۔ حادثآت جب جنم لیتے ہیں تو زندگی میں ایک نیا سبق دیتے ہیں۔ زندگی کا رخ بدل دیتے ہیں۔ اپنے لیے محتاط ہونے کا سبق دیتے ہیں۔
دعا کیجیے کہ ہم اپنی اپنی زندگیوں کو سنبھال کر چلیں۔ روز اللہ کا شکر ادا کریں اور اپنے لیے اور دوسروں کیلئے دعا کریں۔ یہ دعائیں ہی ہماری زندگیوں میں روز کی روشنی بھرتی ہیں اور ہمیں ہر قسم کے حادثات سے بچاتی ہیں اور جب بھی زندگی کی ایک نئی صبح طلوع ہو تو اللہ کا شکر ادا کیجیے کہ اس نے نور بھری ایک اور صبح عطا کی۔ خدا ہم سب کو اپنی حفظ و امان میں رکھے۔ آمین

