Site icon Writers Club Pakistan

لہو رسم کی نذر

تحریر: شبانہ اشفاق، کراچی
منیزہ منیزہ۔۔۔۔ امی آواز دیتی ہوئی کمرے تک آئیں اور پھر رکیں دروازے پر دستک دیے بغیر ہی واپس چلی گئیں اور ٹی وی لاؤنچ میں صوفے پر بیٹھ کر گہری سوچ میں گم ہوگئیں۔
سوچوں کا ایک ٹھاٹھیں مارتا سمندر گزرتے وقت کے ساتھ گہرا ہوتا گیا۔ وہ ماضی کی یادوں میں کہیں کھو سی گئیں۔
مسز نعمان کے 2 بچے تھے، سعد اور منیزہ دونوں کی عمر میں ایک سال کا وقفہ تھا۔ وہ دونوں ہم عمر ہی لگتے تھے۔ ایک ساتھ اسکول جانا کھیلنا ہر جگہ ساتھ ساتھ ہی رہتے۔
وقت پر لگا کر گزر گیا اور ان دونوں نے میٹرک پاس کرلیا۔
عمر کے لحاظ سے دیگر نوجوانوں کی طرح سعد کو بھی 31 دسمبر کی رات کا بڑی بے صبری سے انتظار تھا۔ مینزہ بھی اس کے ساتھ تھیں۔ 31 دسمبر کا سورج غروب ہوا تو ان دونوں نے ضد کی کہ آج وہ بھی نئے سال کی رونقیں دیکھنے جائیں گیں۔ نئے سال پر محلے بھر میں خوب ہلہ غلہ مچا ہوا ہے۔ ہر طرف تیاریاں جاری تھیں، آتش بازی کا سامان بھی جمع کیا تھا گویا جشن کا سماں تھا۔ ایک طرف بچوں کی ضد دوسری جانب ایک عجیب سے خوف نے مسز نعمان کو پریشاں کردیا تھا۔ ہر سال نیو ایئر پر ہوائی فائرنگ کے دوران حادثات رونما ہوچکے تھے۔ وہ بھی منع کرنا چاہتیں تھیں مگر ماں کے لاکھ منع کرنے کے باوجود سعد بائیک کی طرف بڑھا اور منیزہ کو آواز دی۔ آؤ نئے سال کی رونق دیکھنے چلتے ہیں اور پھر کچھ سنے بغیر ہی گھر سے نکل گئے۔
وہ سڑک پر بائیک گھوما رہے
تھے اور نئے سال کی رونقیں دیکھ رہے تھے کہ 12 بجتے ہی پٹاخوں کی آواز گونجی اور ہوائی فائرنگ بھی شروع ہوگئی۔
نہ جانے کہاں سے گولی سنسناتی ہوئی سعد کا سینہ چیرتی ہوئی نکل گئی۔ سعد زمین پر گرا اور ہرطرف خون پھیل گیا۔
منیزہ سڑک پر دوڑتی رہی لوگوں کو پکارتی رہی مگر سب اپنی خوشیوں میں مگن کسی نے بھی اسکی اواز نہ سنی بلاخر سعد کی سائس کی ڈور ٹوٹ گئی.
اس واقعہ کو پانچ سال گذر چکےہیں لیکن جب بھی” ۳۱ دسمبر اتاہے منیزہ اسی طرح اپنے کمرہ کا دروازہ بند کرلیتی ہے.”
ادھر منزہ سوچ رہی ہے کہ ہمارے دین میں اسی وجہ سے” فضولیات قسم کے رسم ورواج نہیں ہیں “
ہماری عافیت اس ہی طریقے زندگی میں ہے جو محمد صلی الله علیہ وسلم لے کر ائے ہیں۔
Exit mobile version