Site icon Writers Club Pakistan

کراچی یونیورسٹی کے کھانے

تحریر: رمیصاء بنت محمد اسحاق

“جامعہ کراچی” یہ کراچی کی مشہور ترین یونیورسٹی ہے لیکن اگر آپ یہاں سے پڑھ چکے ہیں تو آپ اس بات کو بلا چوں چراں مانیں گے کہ یہاں صرف ڈگری ہی نہیں ملتی بلکہ ڈگری کے ساتھ بے تحاشہ صلاحیتیں اور بے شمار یادوں کے خزانے ہیں جو آپ اپنے ساتھ لے کر جاتے ہیں، اپنا ڈیپارٹمنٹ، وہاں کے اساتذہ، دوست، ان کا پیار، پریم گلی، ٹرمنل، پوائنٹس، اسائنمنٹ اور پریزنٹیشن کی خواریاں، کیمسٹری کی تکہ بریانی، نیلم کے پراٹھے، صوفی کا ناشتہ، خلیل کی چائے، آپ یہ کہہ سکتے ہیں کہ جامعہ کراچی صرف تعلیمی ادارہ ہی نہیں بلکہ یہاں کے طلبہ کا سیکنڈ ہوم بلکہ نانی کا گھر ہے اور یہ دعویٰ کرنے میں مجھے کسی تردد کا سامنا نہیں ہو گا کہ کراچی میں رہنے والا ہر خاص و عام کم از کم اس کے نام سے تو ضرور واقف ہے، ہر سال ہزاروں طلبہ یہاں تعلیم سے فراغت پاتے ہیں۔
اگر تو آپ ایک فوڈی انسان ہیں اور آپ کا داخلہ جامعہ کراچی میں ہوگیا ہے تو آپ دنیا کے لکی ترین لوگوں میں سے ایک ہیں۔
بھئی صاف سی بات ہے اگر آپ پڑھ رہے ہیں کلاسز  لے رہے ہیں۔ ایک کے بعد ایک لیکچر اٹنینڈ کر رہے ہیں، تو جتنا پڑھیں گے اتنا کھائیں گے بھی تو ناں۔۔
تو کھانے کے لیے رخ کرنا پڑے گا کینٹینز کا اور مزے کی بات یہ ہے کہ یہاں ایک دو نہیں بلکہ پچیس پلس کینٹینز موجود ہیں ۔ہم یوں کہہ سکتے ہیں جامعہ کراچی کی رونقوں کو چار چاند لگانے میں ان کینٹینز کا بہت اہم کردار ہے۔مجھے تو ایسا لگتا ہے کہ اگر یہاں کے کنٹینز کا خاتمہ کر دیا جائے تو دم ہی نہ رہے سب رونقیں ہی مانند پڑ جائیں۔
تو بس پھر ریڈی ہو جائیں دل تھام لیں۔۔۔ میں آج آپ کو اپنی جامعہ کے کینٹینز کی سیر کرواؤں گی اور بتاؤں گی کہ کون سا کینٹین کس خاص ڈش کی وجہ سے مشہور ہے ،اور کیوں طلبہ اپنے ڈیپارٹمنٹ کے کینٹینز کو چھوڑ کر دور دراز کے کینٹینز کی جانب رخ کرتے ہیں تو آئیے سب سے پہلے ہم چلتے ہیں یہاں کے مشہور زمانہ کینٹین پی جی کی جانب۔۔۔
کراچی یونیورسٹی اور پی جی کا سنگم ایسا ہے جیسا کہ آسمان پر چاند اور ستاروں کا،زمین پر مٹی اور گھانس کا ،سمندر میں پانی اور مچھلی کا (اور اس سے ملتی جلتی جو بھی مثالیں ہیں وہ بھی آپ اس میں شامل کر سکتے ہیں)
پی جی یعنی کے پریم گلی ،اب آپ کہیں گے کہ یہ کیسا نام ہوا بھلا۔۔۔ تو جناب اس نام کے پیچھے یہاں مختلف طرح کے بڑے دل چسپ قصے مشہور ہیں وہ پھر کبھی سہی، فی الحال ہم پئیں گے “خلیل بھائی کی چائے” خلیل بھائی کی مقبولیت کی وجہ ان کی مختلف اقسام کی مزیدار چائے ہیں، یہاں کافی، قہوہ، کشمیری چائے، ادرک والی چائے اور اگر آپ فرمائش کریں گے تو گرم مسالے اور ملائی والی اسپیشل چائے بھی ملے گی، سردی ہو یا گرمی ان کے پاس طلبہ کا رش اور ہر انواع کی چائے ہی چائے ملے گی، خلیل بھائی کے بقول وہ 2007ء سے یہاں پر یہ خدمت انجام دے رہے ہیں۔
اب یہاں سے دو قدم آگے آجائیے۔ یہ دیکھیں شیکس۔۔۔۔
پی جی کی شیکس بھی بہت مشہور ہیں۔ بنانا، مینگو، چاکلیٹ، کولڈ کافی، اسٹرابری، بلو بیری، پائن ایپل، پیچ، انار، فالسہ کوکٹیل وغیرہ وغیرہ یعنی کہ یہاں ہر فلیور میں شیک موجود ہے آپ پینے والے بنیں بس
اب ہم آگئے ہیں یہاں کے رول والے بھائی کے پاس، افففف یہاں بہت زبردست قسم کی خوشبو مہک رہی ہے کوئلوں سے اٹھتا دھواں ان پر رکھے تکے ایک الگ ہی سماں باندھ رہے ہیں اور منہ میں پانی آرہا ہے، (آئیے ان کا انٹرویو لیتے ہیں)
“تو بھائی صاحب ذرا بتائیں تو آپ کے پاس کون کون سی اقسام کے رول بنائے جارہے ہیں”
(انہوں نے تو فہرست ہی سامنے کردی) اس میں موجود ہے، چکن چٹنی، مایو، ملائی بوٹی، ڈبل رول، چیز رول اور ان کا کہنا ہے کہ سب سے زیادہ رننگ میں چکن چٹنی رول رہتا ہے۔
ان کے برابر میں ہی ایک اور کنٹین ہے یہاں خان بھائی موجود ہیں، جو برگر بناتے ہیں ان کے پاس بند کباب ہے، انڈے والا برگر ہے، رول پراٹھا ہے، فرائز ہیں، پیزا فرائز ہیں، کولڈ ڈرنکس اور دیگر بھی بہت سی اشیاء موجود ہیں، ان سے ہم نے انڈے والے برگر کی قیمت پوچھی۔۔۔ جو کہ صرف اسی روپے ہے یعنی کے بالکل مناسب قیمت ہے۔
یہ صاحب پیزا فرائز بنا رہے ہیں اس کو دیکھ کر ہی منہ میں پانی آرہا ہے۔ اور اب بس۔۔۔ ہماری تو صبر کی انتہا ختم ہو گئی ہے اور ہم نے آڈر کر دیا ہے “پیزا فرائز” کا۔
واہ مزہ آگیا۔۔۔۔ یہ تو بے انتہا لذیذ ہیں اور مقدار بھی کافی زیادہ ہے قیمت ہے صرف دو سو بیس روپے۔
پی جی کے ون بائٹ بھی بہت مشہور ہیں ایک ہجوم ہی ملتا ہے ان کے پاس خریداروں کا،اور خاص کر گرلز میں بہت پسند کیے جاتے ہیں ۔
المختصر کیا چیز ہے جو یہاں نہیں ہے۔
سموسے، برگر، کولڈرنکس، بریانی، حلیم، گول گپے، شیکس، رولز، بسکٹس، پراٹھے، چاٹ، چپس اس کے علاوہ اور بھی بے تحاشہ چیزیں۔۔۔۔ یہ کہہ لیں کہ یہاں پر ایک کینٹین نہیں ہے بلکہ ایک کے ساتھ ایک کینٹین جڑا ہوا ہے اور پرائز بھی ریزن ایبل ہیں، مزے کی چیز یہ ہے کہ یہاں پر بیٹھنے کی جگہ بھی بہترین ہے۔ (ہاں بعض اوقات درختوں پر بیٹھے پرندے مفت رائتہ پھیلا کر مزہ کرکرا بھی کر دیتے ہیں) اس کے لیے ذہنی اور جسمانی طور پر الرٹ رہیں۔
اب ہم جا رہے ہیں میرے پسندیدہ کینٹین کی جانب جو کہ وی ایس کے نام سے جانا جاتا ہے یعنی ورچوئل اسٹڈیز۔
میں 4 سالوں میں وہ ایک وجہ نہیں تلاش کر پائی جو مجھے روز یہاں جانے پر مجبور کرتی تھی قدم ہیں کے آفٹر کلاس خود بخود اس جانب چل پڑتے ہیں یہاں کی ہریالی ، بڑے بڑے گھنے درخت، جو کے ایک چھت کی سی صورت اختیار کر چکے ہیں اور گرمی کی تمازت کو روک کر ٹھنڈی ہوا فراہم کر رہے ہیں یوں لگ رہا ہے ہم شہر سے دور کسی گاوں کے ڈھابے پر موجود ہیں، شور شرابے سے دور سناٹے میں، ہم یہ کہہ سکتے ہیں کہ یہاں کا انوائرمنٹ سکون سے بھر پور ہے، عام طور پر طلبہ یہاں کی الائچی کی چاے اور فرائز کو پسند کرتے ہیں مگر مجھے یہاں کی اسپیگھٹی بہت پسند ہے ڈھائی سو روپے میں پلیٹ بھر کر اور میرا مشورہ ہے کہ یہاں کی اسپیگھٹی آپ کو بھی ایک بار ضرور ٹرائے کرنا چاہیے۔
اس کینٹین سے کچھ آگے ہی رینجرز کینٹین ہے گرمی سے بوکھلائے طلبہ اسپیشلی یہاں کا گولا گنڈا کھانے آتے ہیں ۔
اب اگر ہم بات کریں “فارمیسی کینٹین” کی تو یہاں کی کچوریاں ،کرسپی پیزا اور ڈونٹس اپنی ہی شان رکھتے ہیں ۔
اور یہ ہے “صوفی ہوٹل” یہ دال چاول کی وجہ سے مشہور ہے۔یہاں پراٹھے اور انڈا گوٹالا اپنی خاص شناخت رکھتے ہیں ۔
“مجید ہوٹل”یہاں کی بریانی ،
“نیلم کینٹین” کی آئس کریم ،شیکس،چنا چاول ،
“کے یو بی ایس” کا گولا گنڈا، موموز،مٹکا فرائز ،پاستہ،چکن چلی ڈرائے،
“ڈی پی اے ” کی چاؤمن
“ڈی ایم ایس کیفے ٹیریا “کی چاے
اور بیٹھنے کی بہترین جگہ وجہ شہرت ہیں۔
اور تحریر کو سمیٹنے کی کوشش میں اگر میں کمیسٹری کینٹین کو نظر انداز کردوں تو یہ تو کھلی نا انصافی ہو گی،یہ ایک بے انتہا مشہور ترین کینٹین ہے اور میرا ذاتی خیال ہے بلکہ غالب گمان ہے کہ جامعہ کراچی میں داخلہ لینے والا ہر طالب علم کم سے کم ایک بار تو لازمی یہاں آیا ہوگا۔ دور دراز کے ڈپارٹمنٹ کے طلبہ کو بھی یہاں کی تکہ بریانی ہی کی خوشبو ہے جو اپنی جانب کھینچ لاتی ہے۔
یہ سب پڑھ کر یقیناً آپ کے پیٹ میں بھی چوہے دوڑنے لگے ہوں گے۔
کھانوں کی بات چل رہی تھی دو کھانوں کا ذکر تو اب اچانک سے یاد آیا جو کے جامعہ میں لازم و ملزوم ہیں، ایک “دھکے” جو جامعہ کراچی کے طالب علم جب تک فارغ التحصیل نہیں ہوجاتے، روز کھاتے ہیں اور بے حساب کھاتے ہیں ،اتنے دھکے انھوں نے اپنی ساری زندگی میں نہیں کھائے ہوتے، نہ بس میں نہ پیٹرول پمپ میں، نہ گیس بجلی بل کی لائن میں ،نہ یوٹیلیٹی اسٹورز کی لائن میں ،نہ ٹریفک جام میں ،نہ کرونا ویکسین لگوانے کےلیے، اور نہ عدالتوں میں، جتنے دھکے ایک طالب علم جامعہ کراچی آکر کھاتا ہے ،
اور جو بڑی مشکلوں سے یہاں تک پہنچا ہو وہ ایماندار اور محنتی طالب علم تو ہر لمحہ ہر پل کھاتا ہے،
دوسرا “دھوکہ” وہاں زیر تعلیم شاطر مکار گھاگ اور اپنی منزلِ مقصود تک جلد از جلد پہنچنے کے لیے بے چین طالب طلبہ وطالبات سے، جوکہ محض چند نوٹس، ذاتی فائدے مقاصد کے حصول اور کامیابی کے لیے دوسروں کے دل،نفسیات اور احساسات و جذبات سے بڑی مہارت سے کھیل جاتے ہیں اور اس میں کوئی عار یا جھجھک محسوس نہیں کرتے،غرض ہوتی ہے تو محض اپنے ذاتی منفعت سے جسے عام لفظوں میں اپنا الو سیدھا کرنا کہتے ہیں۔
اور ہاں ٹرمینل کا ذکر۔۔۔۔۔ جہاں پوائنٹس کے چلنے کے وقت میلے کا سا سماں لگا ہوتا ہے اور حال سے بے حال طالبات مٹے ہوئے میک اپ والے رخ روشن پر پوائنٹس کے چلنے کاخوف اور پسینہ سجائے ایک دوسرے کو دھکے دے کر وہاں کے کینٹین سے فاتح عالم کی طرح حاصل کیے گئے فرائز اور جوسز کے پیکٹس ہاتھوں میں اٹھائے اوسان خطا کیے بھاگتی گرتی پڑتی لڑھکتی ہوئی اپنے مطلوبہ پوائنٹ کی جانب آرہی ہوتی ہیں وہاں کا منظر دیکھ کر لگتا ہے یونیورسٹی میں ایمرجنسی نافذ ہوگئی ہے ۔ اس عالم بدحواسی میں بھی کھانا ضروری جو ہوتا ہے ۔
کہنے کو تو اور بھی بہت کچھ ہے بہت سے کینٹینز ہیں مگر صفحات کی طوالت کے خوف سے تحریر کا اختتام ان الفاظ پر کروں گی کہ” کےیو ،کےیو ہے یار۔۔۔ یہ تو بس پیار ہے۔۔۔۔۔جس کا متبادل کچھ بھی نہیں۔۔۔۔۔۔۔
اس جیسی کوئی دوسری جگہ بنی ہی نہیں ہے ، یہ ایک الگ ہی جہاں ہے ،حسیں ترین جہان ۔۔۔۔ زندگی کے سنھرے دن ہوتے ہیں جو یہاں گزرتے ہیں۔۔۔۔”
ویسے دیکھا جائے تو اس کا نام بے انتہا مختصر ہے ، ” جامعہ کراچی” جس میں صرف دس حرف ہیں,مگر یہاں سے فراغت کے بعد آپ کے پاس دس ہزار سے زائد بہترین یادیں ہوتی ہیں جو آپ کو بھلاے بھی نہیں بھولیں گی ۔

Exit mobile version