تحریر: علیشاء محمد خالد، کراچی
“ہر کسی کی زندگی پھولوں کا بستر نہیں ہوتی”اسے اپنی ماں کی بات یاد آئی تھی، لمحے بھر کو اس کی آنکھیں نم ہوئیں اور دوسرے ہی لمحے وہ نمی ہوا میں تحلیل ہوتے محسوس ہوئی۔
“واقع!” وہ اپنی ماں سے متفق تھی۔
سامنے بیٹھی لڑکی نے خالی نظروں سے اسے دیکھا جیسے پوچھنا چاہتی ہو کہ یہ واقع کہنے کی وجہ؟
“وہ مسکرائی، میں ویسی کچھ سوچ رہی تھی۔” اس نے مسکراتے ہوئے کہا۔
سامنے بیٹھی لڑکی نے اپنا چہرہ تھوڑا نیچے کیا لیکن نظریں اسی پر ماخوذ تھیں، سامنے بیٹھے اس وجود کو شاید اور کوئی لمبی وضاحت کی ضرورت تھی۔
اس کی جانب سے صرف خاموشی تھی۔ اپنی دونوں ہاتھوں کے درمیان میں رکھے پیالے کو اپنی طرف سرکایا، چمچ کو تھاما، چمچ کے گہراؤ میں سوپ لیا اور دوسرے ہاتھ سے اپنی نقاب کو نیچے سے تھوڑا اٹھایا اور سوپ سے محظوظ ہونے لگی۔
وہ خالی نگاہوں سے اسی تکتی رہی، وہ جواب کی منتظر بیٹھی تھی اور وہ سوپ سے لطف اندوز ہو رہی تھی۔
“سوپ اچھا ہے نہ یہاں کا؟”اس نے بآلاخر کچھ کہا۔
سامنے بیٹھی امیلیہ نے گردن کو تھوڑی سی جنبش دی اور خود بھی سوپ پینے میں مصروف ہونا چاہا، وہ نقاب نہیں کرتی تھی صرف حجاب لیتی تھی۔ اور سامنے اسے دیکھ کر کہے بغیر نہیں رہ سکی۔
” تمہیں مشکل نہیں ہوتی ایرا؟”
“کس چیز میں؟” سامنے سے جھٹ جواب آیا تھا۔
“ایسے نقاب میں کھاتے پیتے ہوئے؟” اس نے اپنی بات کی وضاحت کی۔
“نہیں! میں اللہ کے لئے کرتی ہوں اور مشقت کے بعد ہی انعام ملا کرتے ہیں۔” ہر بار کی طرح جواب مختصر تھا۔
وہ خالی نگاہوں سے دیکھتے گئی، سوپ لینا تو جیسے بھول گئی تھی۔
“تم کیا دیکھ رہی ہو مجھ میں؟” اس کی نگاہیں خود پر جمی پا کر اس نے پوچھنا مناسب سمجھا۔
“نہیں!۔۔۔ مطلب۔۔۔۔ میں پوچھنا چاہتی تھی تم سے۔۔۔۔کچھ۔۔۔ایرا۔”
اس نے رک رک کر اپنی بات مکمل کی۔
“ہاں پوچھو۔” اس نے اس بے نیازی سے کہا۔
“مطلب تمہیں دنیا کی رنگینیاں نہیں بھاتی؟ تمہیں یہ سب اچھا کیوں نہیں لگتا؟”
ایرا لمحے بھر اس کا چہرہ دیکھتی رہی۔ پھر چمچ کو وہیں پیالہ میں رکھا، اور ترکی بہ ترکی کہا۔
“دنیا میں ایسا کیا ہے جو میں اس میں کھو جاؤں؟ کیا یہ ہمیشہ رہنے والی ہے؟”
جواب کے بدلے سوال آیا تھا۔ سامنے بیٹھی لڑکی لاجواب تھی۔ یہ اس نے پڑھ رکھا تھا کہ دنیا فانی ہے مگر وہ نہ چاہتے ہوئے بھی دنیا میں کھو جاتی تھی، ہر بار دنیا اسے یوں ہی اپنی جانب کھینچتی تھی جیسے دو مقناطیس ایک دوسرے سے کھنچتے ہیں، اور مل کر ہی ان کی کشش اختتام پزیر ہوتی ہے۔
“دیکھو امیلیہ، یہ دنیا اگر ہمیشہ کی ہوتی تو ہمیں اس میں کھونے میں خوف محسوس نہیں ہوتا، مگر یہ تو ختم ہو جانے والی ہے، فقط ایک سراب ہے۔ اس کے پیچھے ہم کیوں خود کو خوار کریں؟”
اس نے جیسے اپنے عمل پر افسوس کیا تھا، ہر انسان کی زندگی میں ایک ایسا موڑ آتا ہے جو انسان کو اتنا توڑ دیتا ہے کہ اسے گناہوں سے نیکی کی طرف ہجرت کرنی پڑتی ہے، اسے اللہ کی جانب پلٹنا پڑتا ہے، اپنے گناہوں کا انبار لیے، یا یوں کہہ لیں کہ اسے اللہ چن لیتا ہے۔
“ایسا نہیں ہے کہ مجھے دنیا پسند نہیں، مجھے اس میں سب اچھا لگتا ہے، اور اچھا کیوں نہ ہو سب اتنا پیارا بنایا ہے اللہ نے۔ میں دنیا میں گھومنے پھرنے سے نہیں بھاگتی بس لوگوں سے بھاگتی ہوں، کچھ لوگ نہ۔۔۔۔۔۔۔ بہت تنگ دل ہوتے ہیں۔”
امیلیہ خاموش بیٹھی اسے سن رہی تھی، ہر بات کو جیسے سمجھنے کی کوشش کر رہی ہو۔
“امیلیہ، ہم امریکہ میں رہے بڑھے ہیں وہاں وہ ساری چیزیں عام ہیں جن سے اسلام منع کرتا ہے۔ لیکن مجھے لگتا ہے کہ مسلمان ہونا کافی نہیں ہوتا، باعمل ہونا زیادہ ضروری ہوتا ہے۔ اگر ہم مبلغ اسلام ہیں تو جو بات ہم آگے پہنچا رہے ہیں اگر وہ اچھی ہے تو ہم میں پائی جائے اور اگر بری ہو تو ہم اس سے دور رہنے والے ہوں۔۔۔۔۔ جس جس چیز کی تخلیق اللہ نے کی وہ بہت خوبصوت ہے، تم ہو یا میں، کوئی موسم ہو یا کوئی جگہ، دریا، جھیل، سمندر، پہاڑ۔۔۔۔۔ سب بہت خوبصورت ہے اور جس کی ذمے داری ہماری تابع ہے نہ، ہم اسے خوبصورت نہیں بنا پائے۔”
ایرا نے افسوس والے انداز میں کہا۔
“کیا تابع ہے ہمارے؟” امیلیہ نے حیران نگاہوں سے پوچھنا چاہا جیسے کہنا چاہتی ہو کہ سب ٹھیک کر دے گی وہ۔
“ہمارا اپنا آپ۔۔۔۔ہمارا مزاج، ہماری سوچ اور ہمارے عمل۔” اس نے مضطرب سے عالم میں کہا تھا۔
امیلیہ اس کی بات سے بلکل متفق تھی۔
“جو چیز ہماری ذمے داری ہوتی ہے ہمیشہ ہم سے غفلت بھی وہیں ہوتی ہے۔ دنیا کو پسند کرنا بری بات نہیں ہے، لیکن اس قدر پسند کرنا کہ ہمیں اللہ بھول جائے تو یہ افسوس کی بات ہے کہ ہم اپنے خالق کو بھول جائیں۔ امیلیہ مجھے دنیا میں سب اچھا لگتا ہے۔”
اس نے اپنا ہاتھ ہوا میں اٹھاتے ہوئے کہا تھا۔
“لیکن میں اس کو اس قدر پسند نہیں کرنا چاہتی کہ میں اللہ سے دور ہو جاؤں۔”
سامنے بیٹھی امیلیہ مسکرائی تھی، اسے سامنے بیٹھی ایرا اور اس کی باتیں اور اچھی لگنے لگی تھی لیکن اگلے ہی لمحے نے اسے اداس کیا تھا۔
“ایرا۔۔۔۔ ہم سب مر جائیں گے تو ہم ایک دوسرے سے جدا ہو جائیں گے۔”
اس نے جدا ہونے کے دکھ کو محسوس کرتے ہوئے کہا تھا۔
“لیکن ہم ایسی جگہ مل سکتے ہیں جہاں کبھی موت نہیں۔”
ایرا نے اپنی بھنوں کو اونچا کرتے مسکرتے ہوئے کہا تھا۔
“کہاں؟” امیلیہ کو تجسس ہوا تھا۔
“جنت میں۔” ایرا کی آنکھوں میں ایک خواہش جھلکی تھی جسے باآسانی امیلیہ بھانپ گئی تھی۔
امیلیہ مسکائی اور اس کا دل بھی مسکرایا تھا۔
“ویسے تمہیں کون سا موسم پسند ہے ایرا؟”
امیلیہ کو اپنے اندر ٹھنڈ اترتی محسوس ہوئی تھی اور اس ٹھنڈ سے اسے یہی سوال سوجھا تھا۔
“ویسے تو سارے موسم اچھے ہیں لیکن مجھے خوشیوں کی بہار اور غموں کی خزاں کا موسم بہت پسند ہے۔”
امیلیہ کی مسکراہٹ اور نمایاں ہوئی تھی، بات کو جاری رکھنے والے انداز میں ایرا سے پھر مخاطب ہوئی۔
“اور کیوں؟”
“کیونکہ میں غم میں اللہ کے اور قریب اور خوشی میں اللہ کو مجھ پر رحمن پاتی ہوں۔”
ایرا کے ایسے جواب دیا تھا جیسے وہ ان جوابات کے لیے پہلے سے تیار تھی۔
“آج سمندر کو دیکھتے ہوئے چلیں گے امیلیہ۔”
اس نے سامنے بیٹھی امیلیہ کو دیکھتے ہوئے کہا تھا جو اسے تمام تردد سے آزاد نظر آ رہی تھی۔
ٹھیک ہیں، چلیں پھر؟
وہ اسی طرح اپنے چہرے پر مسکان سجائے کہہ رہی تھی۔
“ہمم، چلو!”

