Site icon Writers Club Pakistan

پی آئی اے کی بحالی کی کوششیں جاری ہیں ، خواجہ آصف

اسلام آباد: وفاقی وزیر دفاع خواجہ آصف نے کہا کہ پاکستان انٹرنیشنل ایئرلائن (پی آئی اے) کی بحالی کی کوششیں جاری ہیں، جن میں نیویارک کی پرواز کی بحالی بھی شامل ہے۔ یہ اقدامات قومی ایئرلائن کو نجی شعبے میں دینے اور اس کی ساکھ کو بحال کرنے کے وسیع تر منصوبے کا حصہ ہیں۔

اسلام آباد میں قومی ایئر لائن کی برطانیہ بحالی کے حوالے سے بات کرتے ہوئے کہا کہ وزیر اعظم شہباز شریف کی قیادت ایک “تاریخی سنگ میل” ہے ، پی آئی اے کو جلد مکمل فعال اور قیمتی اثاثے کے طور پر نجی سرمایہ کاروں کو پیش کیا جائے گا۔

اس سے قبل آج برطانیہ نے پاکستان کو ایئر سیفٹی لسٹ سے نکال دیا، جس سے پاکستانی ایئرلائنز کو برطانیہ میں پروازوں کے لیے درخواست دینے کی راہ ہموار ہو گئی ہے۔

خواجہ آصف نے کہا، “ہم سب سے پہلے تمام ضروری عمل مکمل کر رہے ہیں تاکہ ایئرلائن کی مارکیٹ ویلیو میں اضافہ کیا جا سکے۔” انہوں نے مزید کہا کہ حکومت نے ہوا بازی کے ریگولیٹرز کی رہنمائی کو قریب سے فالو کیا تاکہ مستقبل میں منظوریوں میں آسانی ہو۔

انہوں نے تصدیق کی کہ نجکاری کے بعد پی آئی اے کو نئے طیارے فراہم کیے جائیں گے اور بین الاقوامی روٹس دیے جائیں گے۔

انہوں نے کہا، “اوورسیز پاکستانیوں کے لیے وطن واپس آنا آسان ہو جائے گا۔” “سفر کے وقت اور اخراجات دونوں میں کمی آئے گی۔”

انہوں نے بتایا کہ وزیر اعظم شہباز شریف ذاتی طور پر بحالی کے عمل کی نگرانی کر رہے ہیں اور باقاعدگی سے اس کی رپورٹ لیتے ہیں۔

وزیر دفاع نے کہا، “بہت سے دوستوں اور ساتھیوں نے یہ ممکن بنانے کے لیے سخت محنت کی۔ آج ایک تاریخی اور یادگار دن ہے۔”

انہوں نے نشاندہی کی کہ ایک وقت تھا جب پی آئی اے مرحوم پاکستانیوں کی میتیں مفت واپس لایا کرتی تھی، جو سروس اب ختم ہو چکی ہے۔ “اب خاندانوں کو ہزاروں ڈالر خرچ کرنے پڑتے ہیں۔” انہوں نے کہا، “یہ اوورسیز پاکستانیوں کے لیے ایک بڑا دھچکا تھا۔ اب تو بہت سے لوگوں نے بیرون ملک ہی قبریں خرید لی ہیں۔”

خواجہ آصف نے پی آئی اے کی خراب صورتحال کا ذمہ دار سابق پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کی حکومت کو ٹھہرایا۔ انہوں نے کہا، “ہم پر پابندی ان کے دور میں لگائی گئی۔ غلام سرور خان نے اپنے ہی ادارے پر تنقید کی اور عملی طور پر عالمی اداروں کو پاکستان کی ایئرلائن پر پابندی لگانے کی دعوت دی تھی ۔”

انہوں نے مزید کہا، “آج تک انہوں نے اپنے ان بیانات کی کوئی وضاحت نہیں دی۔ عمران خان بھی اس انجام کے ذمہ دار ہیں۔”

انہوں نے کہا کہ اس پابندی سے اربوں روپے کا مالی نقصان ہوا، لیکن اس سے بھی زیادہ نقصان قومی وقار کو پہنچا۔ “ہمارا تربیت یافتہ عملہ خطے کی دوسری ایئرلائنز کو کھڑا کرنے میں مدد کرتا رہا ہے،” انہوں نے کہا۔ “ایک شخص نے وہ تمام محنت ایک لمحے میں ضائع کر دی۔ اس کے پیچھے کیا وجہ تھی؟ یہ آج بھی ایک تکلیف دہ سوال ہے۔”

خواجہ آصف نے کہا کہ یہ مسئلہ اب حل ہو رہا ہے اور تصدیق کی کہ ایئر بلیو کو بھی بین الاقوامی پروازوں کی اجازت دے دی گئی ہے۔ انہوں نے سول ایوی ایشن اتھارٹی (سی اے اے) کی تعریف کی اور کہا کہ یورپی یونین نے ادارے پر دوبارہ اعتماد ظاہر کیا ہے۔

انہوں نے خواجہ سعد رفیق کی گزشتہ دو سے تین سال کے دوران ہوابازی میں اصلاحات کے لیے کی گئی کوششوں کو بھی سراہا۔ اختتام پر انہوں نے کہا، “آج ہم سرخرو ہیں۔”

Exit mobile version