Site icon Writers Club Pakistan

کراچی میں بارش۔۔۔ چھپاک

تحریر: مہناز عنبرین، کراچی

کراچی میں بارش۔۔۔ رِم جِھم گرے ساون، سُلگ سُلگ جائے من ۔۔۔ بے شک سلُگ سُلگ ہی جائے۔۔۔

آہ کراچی میں بارش پھر کیسا رومان، کاہے کا ارمان، ہر شخص پریشان دکھائی دیتا ہے۔

بارش کا نام لیتے ہی ذہن میں رومان پرور ماحول کروٹیں بدلنے لگتا ہے، ٹِپ ٹِپ پڑتی بوندیں ہوں یا مُوسلا دھار بارش، واہ کیا کہنے! ایک سُرور ہوتا ہے جو چھا جاتا ہے۔ چائِے کی چاہ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔ ساتھ سموسے اور پکوڑے واہ، واہ، واہ۔۔۔۔۔۔۔۔۔
بارش سے سینکڑوں گانے منسوب۔۔۔۔ جیسے بچپن میں ایک گانا عام تھا۔۔۔ جس میں سہیلیوں سے فرمائشی پروگرام چلایا جاتا کہ جُھولا ڈالو۔ ساون آگیا ہے ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ خیر یہ تو اب ممکن نہیں کہ کنکریٹ کی عمارات کے جنگل میں جھولے ڈالنے کے لیے کوئی جگہ، کوئی گنجائش اب باقی نہیں رہی۔
اِسی طرح ابرِ کرم کے آگے گِڑگِڑانے کی بھی قطعاً ضرورت نہیں۔۔۔

صاحبو، اب آپ چاہیں یا نا چاہیں، ابرِ کرم سے سفارش کریں یا نہ کریں کہ جو بے چارہ شامتِ اعمال آگیا، اُسے آپ کے گھر رُکنا ہی پڑے گا کہ بارش میں کراچی کی سڑکیں ، اللہ اکبر  ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ سڑکوں سے بچ جائیں تو کرنٹ دوڑاتے ہوئے کھمبے ۔۔۔۔۔ استقبال کے لیے جگہ بہ جگہ، موڑ دَر موڑ، ہر دوراہے، ہر چوراہے اور کُو بکُو پذیرائی کے لیےحاضر اور اُن سے لٹکتے ہوئے کُھلے ہوئے تار، والہانہ انداز میں آپ کے منتظر ۔۔۔۔۔۔۔۔  یعنی اتنا پروٹوکول کہ سوچ کر ہی انسان گھبرا جائے کہ بھائ مجھ میں ایسا کیا ہے؟ سوگھر میں رہنے کو ہی عافیت جانے۔

بارش کا یہ موسم! ایک ہی لفظ زبان سے نکالتا ہے، آہ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔  بلکہ زبان ہی سے نہیں دل کی گہرائیوں سے آہ، آہ کی آوازیں نکلتی ہیں کہ کیسا رومان اور کہاں کےارمان۔۔۔۔۔۔۔ کہاں کی بارش اور کہاں کا مزہ، ہر شخص پشیمان ۔۔۔۔۔۔۔۔ اب تو بارش کا لفظ ہی ایک سزا بن گیا ہے، سزا جو ہے سو ہے، پرخطا تو بتاؤ۔
ورنہ کوئی بتلاؤ کہ ہم بتلائیں کیا ۔۔۔۔۔۔۔۔
کبھی کبھی اک خلش یہ بھی ہوتی ہے کہ کاش ہم 5 ہزار سال پہلے موئن جودڑو میں ہی پیدا ہوگئے ہوتے جہاں اُس وقت بھی نکاسی آب کا عمدہ انتظام تھا۔ کیسے خوش قسمت لوگ تھے ہزاروں سال پہلے جہاں باقاعدہ اور منظّم شہری سہولیات کے ساتھ زندگی رَواں دَواں تھی۔ کیسے مزے سے زندگی گزر رہی تھی۔۔۔۔۔

ہزار سال میں اگر اُسی رفتار سے ترقی کرتے تو شاید پوری کہکشاں پر ہمارا راج ہوتا اور مرّیخ پر جانے کے لیے پُوری دنیا کے لوگ ہم سے ویزہ لینے کے لئے لائینیں لگا رہے ہوتے۔۔۔۔۔۔لیکن افسوس صد افسوس کہ آج ہمیں، دنیا میں کوئی بھی ملک عزّت سے ویزا دینے کے لئے تیار نہیں۔

بعض اوقات سمجھ نہیں آتا کہ ہم لوگ کہ جو ایک روپے کی ٹافی پر بھی ٹیکس ادا کررہے ہوتے ہیں، ہمارے ٹیکس کے پیسے آخر جاتے کہاں ہیں؟ کوئی جواب نہیں ملتا، ہر کوئی دوسرے پر الزام لگا رہا ہوتا ہے، کبھی شکایت کہ فنڈز نہیں، کبھی یہ الزام کہ فنڈز تو دیے گئے پر کس کنویں میں ڈال دیے گئے اُس کی خبر نہیں، لوکل اور فیڈرل گورنمنٹ آپس میں برسرِ پیکار۔۔۔۔۔ آخر ہم جائیں تو جائیں کہاں، پوچھنے کے لیے کس کا گریبان پکڑیں۔
خیر ہم عوام بھی دُکھڑے رونے کے علاوہ کچھ کر نہیں سکتے سو بس دُکھڑے ہی روئے چلے جاتے ہیں اور اِس پر ایمان رکھتے ہیں کہ آئے گا ، آنے والا۔۔۔۔۔۔۔یعنی کوئی دُور دیس کا شہزادہ، کوئی حسین وجمیل، جوانِ رعنا مثلاً ارتغرل سفید یا کالےگھوڑے پر بیٹھ کر آئے گا اور بالضرور اک دن ہمیں تمام تکالیف سے نجات دلا دے گا ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔جبکہ یہ لمحئہ فکریہ ہے یا جانے کیا کہ خود ہمارے اپنے بے شمار شہزادے ہمیشہ کے لیے بخوشی دُور دیس جا چکے ہیں۔

گذشتہ سال بارش میں کمر اور گردن تک پانی میں پھنسے لوگ، بہتے ہوئے پانی کی زد میں آکر پُلوں سے گِرنے والے لوگ، تیرتی ہوئی گاڑیاں اور پھسلتی ہوئی بائیکیں، بظاہر کامیڈی فلم کے ٹریلر نظر آتے تھے۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ ملک سے باہر بیٹھے ہوئے بعض انٹیلیکچوئلز اور پڑھے لکھے لوگ جس پر یہ وقت مُسکرا کر کاٹنے کا مشورہ دیتے تھے۔ اللہ اللہ ۔۔۔۔۔۔۔

ٹی وی کھولو تو تیز بارشوں کی پیشین گوئیاں ! جواخبار اُٹھاؤ تو پتا چلتا ہے کہ پورے شہر کا نالہ سسٹم ابھی بھی ٹھیک نہیں کیا جاسکا۔ ویسے تو خود عوام کے نالے ہیں جو عرش تک جا رہے ہیں، یہ دوسرے نالے کیا اِس بارش میں پہلی مرتبہ دریافت ہوئے ہیں؟
کسی نے کہا کہ کراچی میں جنگل کا قانون چلتا ہے ۔۔۔۔۔عرض کی ، حضور ایسا نہ کہیں جنگل کے جانور ناراض نہ ہوجائیں ۔ پھر طُرفہ تماشا وہ بلیم گیم ہے جو ہر کوئ کھیلے ہی چلا جارہا ہے۔ گیند سمیع اللہ کے پاس ہے۔۔۔۔۔۔سمیع اللہ سے کلیم اللہ، کلیم اللہ سے سلیم اللہ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔ سلیم اللہ کے پاس آئی تو بسم اللہ، بسم اللہ اور شکر الحمد للہ اور پھرکلیم اللہ نے گیند واپس لے لی تو استغفراللہ اور لاحول ولا قوۃ الا بالا۔۔۔۔۔۔۔
اور اِس سارے کھیل تماشے میں عوام کا حال یہ کہ ٹک ٹک دیدم، دم نہ کشیدم۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

خیر جو راگ ہم الاپ رہے ہیں، اُسے سننے کی زحمت کون کرے گا، یہ ہم انتے ہیں لیکن کیا یہی نوشتئہ دیوار ہے؟ اربابِ اختیار، شہر کے والی وارث آخر ہیں کہاں؟ وہ چین کی بانسری بجا رہے ہیں۔۔۔۔۔۔۔۔۔
لیکن نیرو تو بانسری بجانے میں مگن تھا کہ۔۔۔ جب شہر جل رہا تھا۔۔۔

کیوں جناب، شہر ڈُوبنے لگے تو بانسری بجانے پر پابندی تو نہیں!

Exit mobile version