Site icon Writers Club Pakistan

سلطنت عثمانیہ نے یہودیوں کو جگہ کیوں نہیں دی؟

القدوس مسجد اقصیٰ ہم مسلمانوں کا قبلہ اول یہودیوں کے قبضے میں ہے۔ 75 سال سے فلسطینی اس کے لیے لڑ رہے ہیں ۔ غزہ کی پٹی پر بچے بوڑھے نوجوان شیر خواروں نے شہادتیں دی ہیں۔ اسرائیلی خون کی ہولی کھیلتے پیں دن رات اور اقوام متحدہ خاموش تماشائی بنا رہتا ہے۔

عیسائیوں کو ذرا سی خراش بھی پہنچ جائے تو واویلہ مچا دیتا ہے مغرب ابھی روس کا یو کرائن تو پورا یورپ روتا بھرتا تھا شرٹ پہن کر احتجاج کرتے پھرتے تھے لوگ اور ہر مذہبی تہوار عید رمضان پر اسرائیلی فلسطین اور غزہ کے لوگوں پر ظلم وستم کرتے ہیں لوگوں کو شہید کرتے ہیں ۔ نماز نہیں پڑھنے دیتے عبادت نہیں کرنے دیتے کبھی کتے ان پر چھوڑتے ہیں آنسو گیس کا استعمال کرتے ہیں۔ بری طرح فوجی مارتے ہیں ۔بوڑھے جوان ان کے شر سے محفوظ نہیں آئے دن سوشل میڈیا پر ان کے ظلم وستم کی ویڈیوز وائرل ہوتی ہیں مگر ہماری مسلم دنیا خواب خرگوش کی نیند سو رہے ہیں۔

یاسر عرفات ساری زندگی فلسطینیوں کا مقدمہ لڑتے رہے، سلطنت عثمانیہ کے دور میں سلطان عبد الحمید حمید نے یہودیوں سے کہا تھا کہ زمین کا ایک ٹکڑا بھی فلسطین کا تمہیں صیہونی ریاست بنانے کو نہ دوں گا۔ اس نے روس جرمن اور برطانیہ جیسی سپر پاورز کو اپنی حکمت عملی سے ناکوں چنے چبائے یہی وجہ تھی اس کا دور بہت کٹھن دور تھا۔

یہودیوں کے لیے 1919ء میں یہودیوں نے وہاں زمینیں خرید کر بہانے سے گھر بنا کر فلسطین کی زمین پر قبضہ کرکے اسرائیل بنانے کی سازش کو حتمی شکل دی۔ ابھی بھی ان کی عبادت گاہ اینٹوں کی ایک دیوار دیوار گریہ ہی ان کے حصے میں آتی ہے اس کی اینٹوں میں منہ چھپا کر یہ روتے ہیں۔

جیسے وادی سینہ میں میں یہ مارے مارے پھرتے رہے برسوں دنیا میں ہٹلر نے انہیں مارا اب ان کے لیے اللہ تعالی نے خواری لکھی ہے۔ ان کی ایک وزیر اعظم گولنڈن مائر گزری ہے اس نے حضور صہ کی زندگی کا بغور مطالعہ کیا کے جب حضور صلی اللہ علیہ وسلم کا وصال ہوا تو ورثے میں دو تلواریں تھیں۔
اس نے اپنے لوگوں سے کہا دن مین ایک روٹی کھاؤ مگر اسلحہ بناؤ اب یہی وجہ ہے کے اسرائیل کے پاس جدید اسلحہ ہے دنیا کی اکنامی اس کے ہاتھ میں ہے۔۔
ان کے بچوں کا خاص مضمون حساب اور الجبرا ہے دودہ اور بادام ان کی غذا کا اھم جز ہے اور سات آٹھ سال کے بچوں کو وہ اسلحہ کا استعمال اور بندوق کو چلانا اس کو کھولنا اور اسمبل کرنا سیکھاتے ہیں جنگی حکمت عملی وہ تعداد یعنی آبادی میں کم مگر موثر افراد بناتے ہیں اپنی آبادی میں ہم مسلمان ان کے اشاروں پر ناچتے ہیں امریکا اسرائیل کا ایجنٹ ہے اور ہم آئی ایم ایف کے غلام ۔۔۔۔ ہماری حکومتیں سربراہان ان کے ہاتھوں کی کٹ پتلیاں ہیں ۔۔۔۔
جبکہ ارکان اسلام توحید، نماز، روزہ، حج، کے بعد جہاد ہے
ہمیں پہلے __این سی سی یعنی نیشنل کریڈٹ کورس شہری تحفظ کی تربیت دی جاتی تھی کہ اچانک حملے کی صورت میں عام شہری اپنا اور لوگوں کا تحفظ کر سکے مگر افسوس ہم مسلمان غفلت میں پڑے سو رہے ہیں دشمن ہمارے سرو_<<ں تک پہنچ چکا ہے ہم پر دین کی حفاظت کا اپنے لوگوں کا حق ہے مگر پوری دنیا کا مسلمان عیش و عشرت میں مگن ہیں۔
وہ اپنا کام اور مقصد حیات بھلا چکا ہے کے اس کا داعی ہونے کا کام دین کی سربلندی ہے مسلمان کے کام آنا ہے۔ مسلمان جسد واحد کی مانند ہے جسم کے ایک حصے کو تکلیف ہو درد سارے جسم کو ہوتا ہے کیونکہ تمام

مسلمان آپس میں بھائی بھائی ہے ر گت نسل ملک کوئ اہمیت نہیں رکھتے بس کلمہ طیبہ ان کی پہچان اور رشتہ ہے ایک اللہ پر ایمان اور حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم کے امتی ہونے کے ناتے ہم پر فلسطینیوں کا حق ہے کہ ہم ان کے لیے لڑیں اپنے جذبہ جہاد کو نہ سلائیں اب جنگ میدان میں تلوار یا ایٹم بم گرا کر ہیں بلکہ سوشل میڈیا پرلڑی جاتی ہے۔ فلسطین کی ازادی کے لیے آواز اٹھائیں۔ اقوام متحدہ کا دروازہ با بار کھٹکھٹائیں سب مسلمان متحد ہوجائیں۔

Exit mobile version