راولپنڈی : پاک فوج کے شعبہ تعلقات عامہ (آئی ایس پی آر) کے ڈائریکٹر جنرل، لیفٹیننٹ جنرل احمد شریف چوہدری نے ان رپورٹس کی سختی سے تردید کی ہے جن میں دعویٰ کیا گیا تھا کہ چیف آف آرمی اسٹاف (سی او اے ایس) فیلڈ مارشل سید عاصم منیر صدرِ مملکت بننے کا کوئی ارادہ رکھتے ہیں۔
برطانوی جریدے دی اکانومسٹ کو دیے گئے ایک انٹرویو میں فوج کے ترجمان نے فوجی سربراہ کے صدر بننے کی خبروں کو “بکواس” قرار دیا۔
یہ وضاحت اس وقت سامنے آئی ہے جب جولائی میں وزیر اعظم شہباز شریف نے بھی ان افواہوں کو سختی سے مسترد کیا تھا جن میں کہا جا رہا تھا کہ صدر عاصف علی زرداری کو مستعفی ہونے کے لیے کہا جا سکتا ہے یا فیلڈ مارشل عاصم منیر صدر بننے کی خواہش رکھتے ہیں۔
وزیر اعظم نے ان دعوؤں کو “محض قیاس آرائی” قرار دیا تھا اور یقین دہانی کرائی تھی کہ میڈیا کے کچھ حلقوں میں گردش کرنے والی ان خبروں میں کوئی صداقت نہیں۔
روزنامہ دی نیوز سے بات کرتے ہوئے وزیر اعظم شہباز شریف نے واضح الفاظ میں کہا:
“فیلڈ مارشل عاصم منیر نے کبھی صدر بننے کی خواہش کا اظہار نہیں کیا، نہ ہی ایسا کوئی منصوبہ زیر غور ہے۔”
انہوں نے مزید کہا کہ صدر زرداری، فیلڈ مارشل عاصم منیر اور ان کے درمیان ایک ایسا رشتہ موجود ہے جو باہمی احترام اور پاکستان کی ترقی و خوشحالی کے مشترکہ مقصد پر مبنی ہے۔
وزیر اعظم شہباز شریف کی یہ وضاحت اس وقت سامنے آئی جب وزیر داخلہ محسن نقوی نے اپنے ایکس (سابق ٹویٹر) ہینڈل پر ایک بیان میں صدر زرداری، وزیر اعظم شہباز شریف اور آرمی چیف کے خلاف جاری ایک “منظم بدنیتی پر مبنی مہم” کی مذمت کی ہے ۔
“ہم بخوبی جانتے ہیں کہ اس بدنیتی پر مبنی مہم کے پیچھے کون ہے۔ میں واضح طور پر کہہ چکا ہوں کہ نہ تو صدر سے استعفیٰ لینے کی کوئی بات ہوئی ہے اور نہ ہی چیف آف آرمی اسٹاف کے صدر بننے کی کوئی خواہش یا تجویز موجود ہے۔”
اسی انٹرویو میں جب لیفٹیننٹ جنرل احمد شریف چوہدری سے پوچھا گیا کہ اگر بھارت دوبارہ کوئی جارحانہ اقدام کرتا ہے تو پاکستان کا ردِعمل کیا ہوگا ،
“انہوں نے کہا کہ ہم اندر تک وار کریں گے، اور مشرق سے آغاز کریں گے۔ انہیں (بھارت کو) یہ سمجھ لینا چاہیے کہ اُنہیں ہر جگہ نشانہ بنایا جا سکتا ہے۔”
یاد رہے کہ مئی میں پاکستان اور بھارت کے درمیان ایک فوجی کشیدگی اس وقت شروع ہوئی تھی جب اپریل میں بھارتی غیر قانونی زیر قبضہ جموں و کشمیر (IIOJK) میں سیاحوں پر حملے کا الزام نئی دہلی نے اسلام آباد پر لگایا، جس کے بعد دونوں ممالک ایک دوسرے کے خلاف فوجی کارروائی میں ملوث ہو گئے۔
بھارت کی جارحیت کے جواب میں، پاکستانی مسلح افواج نے ایک بڑے پیمانے کی جوابی فوجی کارروائی کا آغاز کیا، جسے “آپریشن بنیان المرصوص” کا نام دیا گیا، اور مختلف بھارتی فوجی ٹھکانوں کو نشانہ بنایا گیا۔
پاکستان نے بھارت کے چھ جنگی طیارے مار گرائے، جن میں تین رافیل بھی شامل تھے، اور درجنوں ڈرونز تباہ کیے۔
کم از کم 87 گھنٹوں کی لڑائی کے بعد، دونوں جوہری قوتوں کے درمیان 10 مئی کو امریکہ کی ثالثی سے جنگ بندی پر اتفاق ہوا۔
یہ جنگ بندی امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے سوشل میڈیا پر سب سے پہلے اعلان کی، جس سے قبل واشنگٹن نے دونوں ممالک سے مذاکرات کیے۔ تاہم بھارت نے ٹرمپ کی ثالثی اور تجارتی معاہدے ختم کرنے کی دھمکیوں کے دعووں سے اختلاف کیا ہے۔
دوسری جانب، پاکستان نے ٹرمپ کی کوششوں کو سراہا اور انہیں 2026 کے نوبیل امن انعام کے لیے باقاعدہ طور پر نامزد کیا، کیونکہ انہوں نے گزشتہ ماہ اسلام آباد اور نئی دہلی کے درمیان کشیدگی کو ختم کرنے میں کلیدی کردار ادا کیا۔

