Site icon Writers Club Pakistan

اسلام کا قلعہ

بھارت کی پیش قدمی نئ نہیں ہے،ہمیشہ سے ہے،اسلام کا شیرازہ بکھیرنے والے یہ عناصر ازل سے ہیں،ابد تک رہیں گے،سوال یہ ہے کہ وہ ملک جو اسلام کے نام پر حاصل کیا گیا ہے جسکے لیڈر اپنی تقریروں جلسوں میں اسلام کے نام لیوا ہیں،وہ اور انکی پورہ تحریک اس وقت کوفے والوں کا منظر کیوں پیش کررہی ہے؟

امت مسلمہ بھی اب بیداری کی جنبش کررہی ہے،رمق ہے دیدہ نظر میں محبت رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی۔

مگر جو آنکھیں ہر ہر بات پر کھلی ہوتی ہیں،آنسوؤں کے دریا بہا رہی ہوتی ہیں،ان آنکھوں کا پانی کیوں خشک ہوا پڑا ہے،وہ آوازیں کیوں بند ہیں جو اپنے لیڈر کے لیے دل و جان سے سڑکوں پر واویلا کرتی ہیں،جنکے بتوں نے جھوٹے دعوے کرکے اللہ کے ساتھ خود کو منسلک کرلیا،جو نام نہاد اسلام کا مذاق اڑانے والے عہد سے روگردانی کرنے والے کہ جب سیٹوں سے ہٹایا گیا تو رام کرنے لگے اور لگے ہتھے سے اکھڑ نے۔

اب انکے پاس متحد ہونے کی مہلت ملی،اپنے کردار کو مثبت بنانے کی،متحد ہوکر اصل مقصد کے لیے اقامت کے فریضے کی،تو کہاں گئ وہ صلاحیتیں جو اپنے اقتدار کے لیے ایڑھی چوٹی کا زور لگانے میں استعمال کرتے ہیں۔

نفس کی تاریکی اسی کو کہتے ہیں،کہیں یہ تیرگی انکو کسی بڑے نقصان میں نہ دھکیل دے۔

اللہ اس مہلت عمل کے بعد جب رسی کھینچے گا تب کیا فائدہ کہ انسان ہدایت کو مان لے(بحوالہ سوری زمر)

یہ دنیا تو چند دن کا سامان ہے,ہماری جمع پونجی وہاں کے لیے غنیمت ہوگی،جب ہم خدا کے سامنے پیش ہونگے،پھر میرے نبی محترم صلی اللہ علیہ وسلم سدرۃالمنتہی کے سامنے کیا منہ دکھائیں گے کہ ہم نے اپنا کونسا حصہ رکھا تھا،کہاں کب کس مقام پر اور کتنا رکھا تھا یا رکھا ہی نہیں تھا۔

کچھ کہنے کے لیے نہ ہوگا،ہاتھ بھی خالی ہونگے،دل تو ہمیشہ سے خالی ہیں،وہ تو دھڑکتے ہی نہیں،یا پھر اپنے مطلب کے اپنے نفس کے لیے دھڑکتے ہیں۔

حضرت یاسر رضہ ،حضرت خبیب بن عدی رضہ اور خواتین میں حضرت سمیہ رضہ یہ وہ ہستیاں تھیں،جن پر کفار نے ظلم وستم کی انتہا کردی اور بالآخر اپنے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے لیے شہید کر دیئے گئے،وہ نام لیوا جنہوں نے مرتے دم تک اپنے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کا نام نیچا نہ ہونے دیا،اسلام کے لیے تابندہ نشان ہیں۔

ہم بحیثیت مسلمان اپنے کردار اپنے عمل کو نبی پاک کے اسوہ میں کس طرح پیش کرتے ہیں،اسکی اولین ترجیح ہماری ناموس کی حفاظت ہے،ان رگوں میں دوڑتا خون امی خدیجہ بنت خویلد کا ہے،جنکی نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے محبت بے مثال تھی۔

عالم اسلام کے فریضے کی جوابدہی ہم سب کو کرنی ہے،اسلیے ہمیں اپنے دل گرما دینے چاہئیں،اس سے پہلے کہ ہماری پکڑ غیرت کا دامن چاک کردے۔

کی محمد صہ سے وفا تو ہم تیرے ہیں

ریطہ طارق

Exit mobile version