راولپنڈی: اڈیالہ جیل انتظامیہ نے وضاحت کی ہے کہ پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کے بانی عمران خان کو جیل میں ‘بی کلاس’ قیدیوں کے لیے مقرر کردہ قانونی دائرہ کار کے تحت تمام سہولیات فراہم کی جا رہی ہیں۔
پاکستان تحریک انصاف کے بانی کو جو سہولیات فراہم کی جاری ہیں ان میں ان کی ذاتی ترجیحات کے مطابق تیار کردہ کھانے، طبی سہولیات، مطالعے کے لیے کتابیں اور اخبارات، باقاعدہ ورزش اور چہل قدمی شامل ہیں۔
عمران خان کو دو کمروں پر مشتمل ایک مخصوص سیل میں رکھا گیا ہے، جس کے ساتھ ایک علیحدہ صحن موجود ہے جہاں وہ سائیکلنگ اور چہل قدمی کر سکتے ہیں۔ ان کے سیل میں ایل ای ڈی لائٹس، روزانہ کے اخبارات، اور ان کی پسندیدہ کتابیں موجود ہیں ، یہ سہولیات دیگر بی کلاس قیدیوں کو عام طور پر میسر نہیں ہوتیں۔ مزید برآں، ایک قیدی کو سرکاری طور پر ان کے باورچی کے طور پر مقرر کیا گیا ہے، جو ان کے لیے ناشتہ، دوپہر اور رات کا کھانا ان کی ذاتی پسند کے مطابق تیار کرتا ہے۔
قید کے آغاز سے اب تک، عمران خان نے اپنے نمائندوں کے ذریعے 413 ٹوئٹس جاری کیں، جن میں انہوں نے پی ٹی آئی کے کارکنوں کو مختلف قومی معاملات پر ہدایات دیں۔ ان بیانات میں 2024 کے عام انتخابات، سیالکوٹ ضمنی الیکشن، پی ٹی آئی کا 26 نومبر 2024 کا احتجاج، حکومت سے مذاکرات، اور 26ویں آئینی ترمیم پر پارٹی مؤقف شامل ہیں۔ اگست 2024 سے اب تک، ان کے بیانات 45 اہم مواقع پر قومی اور بین الاقوامی میڈیا میں شہ سرخیاں بن چکے ہیں۔
عمران خان نے کم از کم 10 بین الاقوامی میڈیا اداروں سے رابطہ رکھا، جن میں دی ٹیلیگراف، رائٹرز، آئی ٹی وی، وال اسٹریٹ جرنل، اور فاکس نیوز شامل ہیں۔ اس کے علاوہ، جب عدالتی کارروائیاں جیل کے اندر منعقد ہوئیں، تو وہ پاکستان کے مرکزی ٹی وی چینلز اور اخبارات کے صحافیوں سے براہِ راست اور تفصیلی بات چیت بھی کرتے رہے ہیں۔
گزشتہ تین ماہ کے دوران، 66 افراد جن میں پی ٹی آئی کے رہنما، ارکانِ اسمبلی اور وکلا شامل ہیں, عمران خان سے باقاعدہ ملاقات کر چکے ہیں۔ ان کی طبی جانچ جیل کے مقررہ ڈاکٹروں کی جانب سے روزانہ تین بار کی جاتی ہے۔
پچھلے دو ہفتوں کی میڈیکل رپورٹس کے مطابق، عمران خان مکمل طور پر صحت مند ہیں اور انہیں کوئی سنگین طبی مسئلہ لاحق نہیں۔ وہ روزانہ دو گھنٹے کھلی فضا میں ورزش کرتے ہیں۔
جیل انتظامیہ کا کہنا ہے کہ وہ عمران خان کی سیکیورٹی، صحت اور قانونی حقوق کے تحفظ کے لیے مکمل طور پر پرعزم ہے، اور تمام تر اقدامات بی کلاس قیدیوں کے ضوابط کے مطابق کیے جا رہے ہیں۔
حکام نے سوشل میڈیا پر گردش کرنے والی اور بعض سیاسی حلقوں کی جانب سے پھیلائی جانے والی بدسلوکی سے متعلق افواہوں کو بے بنیاد قرار دیا ہے، اور کہا ہے کہ یہ صرف غیر ضروری سنسنی پھیلانے کی کوشش ہے۔
انتظامیہ نے واضح کیا کہ عمران خان کے ساتھ کسی قسم کا امتیازی سلوک نہیں کیا جا رہا، بلکہ حقیقت یہ ہے کہ فی الوقت وہ اڈیالہ جیل کے کسی بھی قیدی کے مقابلے میں بہتر سہولیات حاصل کر رہے ہیں۔

