Site icon Writers Club Pakistan

اجازت

ازقلم: عروج اصغر
سورج غروب ہو چکا تھا۔ سڑکوں پر رات کا سیاہ اندھیرا پھیل رہا تھا۔ جمعہ کی اداس شام روشنیوں میں گھلتی جا رہی تھی۔
ایم ایم عالم روڈ پر معمول کے مطابق رونق کا سماں تھا۔ سڑک کے بیچ سے ایک رکشہ گزرتا ہوا ایک نامور ہوٹل کے سامنے رک گیا۔
ارغوانی بیگی عبائے میں ملبوس ایک خوبصورت لڑکی رکشے سے باہر نکلی۔ اس نے گھبراتے ہوئے اپنے اطراف میں دیکھا اور ریستوران کی سیڑھیوں کی جانب بڑھنے لگی۔ اس کے ماتھے پر فکر اور پریشانی سے چند لکیریں نمودار تھیں۔ اس کے دائیں ہاتھ میں موبائل تھا جس پر وہ ایک نمبر بار بار ڈائل کر رہی تھی۔ دوسری جانب سے فون نہ اٹھایا گیا تو اس نے موبائل اپنے پرس میں رکھ لیا۔
اب اس نے وہیں رک کر پرس کی اندرونی جیب سے سارے پیسے نکالے اور گننے لگی۔ اس نے سوچوں میں الجھے ہوئے انہیں واپس رکھ لیا۔
وہ گھبراہٹ پر قابو پاتے ہوئے ہوٹل کے اندر داخل ہو گئی۔ وہ راہداری سے گزرتی ہوئی ریستوران کے فیملی ہال میں داخل ہوئی تو سامنے ہی اسے ایک مانوس صورت نظر آ گئی۔ اس نے اطمینان کی سانس لی اور اسی میز کے قریب چل پڑی۔
وہ اپنا پرس میز کی ایک جانب رکھ کر میز کی دوسری جانب بیٹھی جدید لباس میں ملبوس اس خوبصورت عورت سے گلے ملی۔ معلوم پڑتا تھا دونوں ایک دوسرے سے گہری دلی وابستگی رکھتی تھیں۔
حال احوال کے تبادلے کے دوران وہ اس کے سامنے والی کرسی پر بیٹھ گئی۔
”آپ میرا فون کیوں نہیں اٹھا رہی تھی؟ میری تو جان ہی نکل گئی۔ میرے پاس ابھی اتنے مہنگے ہوٹل کا بل ادا کرنے کے پیسے بھی نہیں تھے اور میں واپس جانے کا سوچ رہی تھی کہ پھر مجھے خیال آیا پہلے اندر جا کر دیکھ لیا جائے۔۔ اتنی مشکل سے تو گھر سے باہر نکلنے کی اجازت ملی تھی۔ اگر آپ آج یہاں نہ ہوتی تو میں آپ سے ناراض ہو جانے والی تھی۔“
وہ ناراضگی سے انہیں نگاہیں ترچھی کے دیکھ کر رہ گئی۔
سامنے بیٹھی عورت مسکراتے ہوئے اس کی باتیں سنتی جا رہی تھی۔
”اپنا موبائل چیک کرو۔۔ میں نے میسج کر دیا تھا کہ یہاں انتظار کر رہی ہوں۔ میں جانتی تھی قائرہ ناراض ہو جائے گی اگر آج میں یہاں ملنے نہ آئی۔۔“
اس نے تعجب سے اپنا موبائل نکال کر دیکھا۔ اب اس میں ماہا کے نام سے ایک بند میسج نظر آ رہا تھا۔
اس نے میسج کھولا اور دیکھ کر شرمندگی سے موبائل واپس رکھ لیا۔
”مگر فون تو اٹھایا جا سکتا تھا ناں!“ اس نے تعجب کا اظہار کیا۔
”آپ جو بار بار فون کر رہی تھی تو میاں صاحب دیکھ نہ لیں اس ڈر سے موبائل سائلٹ کر لیا تھا۔۔ پھر لاؤڈ کرنا یاد نہ رہا۔“ ماہا نے یاد کرتے ہوئے اعتراف کیا۔
گلے شکوے دور ہوتے ہی دونوں ایک دوسرے سے روز مرہ کی مصروفیات دریافت کرنے لگیں۔
خدمت گزار آیا اور اس نے آرڈر لینا چاہا تو ماہا نے پانچ منٹ بعد آنے کا کہہ ڈالا۔
”آپ کا عبایا تو بہت خوبصورت ہے۔ اور پچھلے والے سے زیادہ آپ پر جچ رہا ہے۔“ ماہا نے اشتیاق سے اس کے پہناوے پر تبصرہ کیا تو وہ چونک کر اپنے عبایے کو دیکھنے لگی۔
”کافی ضد کر کے دامان سے پیسے لے کر خریدا ہے۔“ وہ خوشی سے بتانے لگی۔
”یہ تو اچھا ہوا آپ کو عبایہ پسند کر کے لینا اور کیری کرنا آ گیا۔“ ماہا نے اسے سراہا تھا۔
اس کے چہرے پر اداسی در آئی۔
”دیکھیں، محبت بھی انسان سے کیا کیا کرواتی ہے۔۔ اب پہننا ہے تو کچھ خاص بھی ہونا چاہیے۔۔ آپ کو تو پتہ ہے قائرہ کبھی معمولی چیز پر ہاتھ نہیں رکھتی۔“
آخری جملہ اس نے آنکھوں میں پرانی یادوں کی چمک کے ساتھ ادا کیا تھا۔
ماہا بھی اب ماضی سے حال کے سفر میں بھٹکنے لگی۔
”ہاں۔۔ مگر۔۔ اب آپ محبت کو چن چکی ہو۔۔ تو لازم ہے کہ محبوب کی پسند کو بھی محبت سے اپنایا جائے!“
قائرہ اس کی بات پر گہرائی سے سوچنے اور دھیرے سے مسکرانے پر مجبور کر چکی تھی۔ یہ مسکراہٹ ایک ہارے ہوئے عاشق کی مسکراہٹ تھی۔
”تو یعنی محترمہ آج کل اپنے میاں جی سے ضدیں پوری کروا رہی ہیں..!“ ماہا نے مذاق کے انداز میں بات کو بدل ڈالا۔
”ہاں۔۔ لیکن ایک حقیقت یہ بھی ہے کہ ضد اور محبت دو الگ راستوں کے نام ہیں۔۔“
ماہا کے چہرے پر مسکراہٹ پھیل گئی۔
”چلو۔۔ اچھا ہوا جلد پتہ چل گیا۔“
قائرہ نے حسرت سے اسے دیکھا تھا۔ ایک وقت تھا جب ان کو ملنے کے لیے یوں چھپ چھپ کر اور بہانے بنا کر نہیں آنا پڑتا تھا۔ وہ اکٹھے رہا کرتی تھیں۔
”کچھ آرڈر کر لو۔“ ماہا نے مینیو کارڈ اسے پیش کیا تھا۔ قائرہ چپ چاپ اسے پکڑ کر دیکھتی رہی اور چند منٹوں بعد افسوس سے اسے لوٹا دیا۔
”آپ ہی کچھ آرڈر کر دیں۔ عرصہ ہوا ایسی جگہوں پر آئے۔۔ میں تو کچھ بھی کھا لوں گی۔۔“
ماہا نے افسوس سے اسے دیکھا تھا۔ اچانک سے اسے کھانے پینے میں خوب نخرے کرنے والی قائرہ یاد آ گئی۔ جو کسی دوسرے کی مرضی سے کچھ بھی کھانا یا پہننا پسند نہیں کیا کرتی تھی۔
اس نے ذہن سے ماضی کو جھٹک ڈالا اور قائرہ کے پسندیدہ کھانوں کی چند اقسام آرڈر کیں۔
ہال کے ایک کونے میں ایک سفید شرٹ والا لڑکا اپنی کیپ ترچھی کیے چپ چاپ بیٹھا انہیں ہی دیکھ رہا تھا۔
قائرہ کی نگاہیں ماہا کی کلائی میں بندھی قیمتی گھڑی اور مہنگے بریسلٹ پر ٹھہری ہوئی تھیں۔
حسرت سے پرانے دنوں کو یاد کرتے ہوئے نجانے کب اس کی نگاہیں ان چیزوں پر ٹھہر گئیں۔ آج اسے اپنے سامنے بیٹھی عورت بہت غیر غیر لگ رہی تھی۔
”اور بتاؤ سب ٹھیک ہے نا!“
وہ اداسی سے پلکیں جھکا کر بتانے لگی۔ ”سب ٹھیک ہے۔۔ بس کچھ بخار تھا دوائی لی تھی اب آرام ہے۔“
ماہا فکر مندی سے کہنے لگی۔
”اپنا خیال رکھا کرو ناں! دامان تو تمہارا خیال رکھتا ہی ہوگا!“
وہ سوچتے ہوئے سر ہلا کر کہنے لگی۔ ”وہ بہت خیال رکھتا ہے۔ بس آج کل بہت مصروف ہے اور گھر میں کم آتا ہے۔“
وہ سوچ رہی تھی اسے کیسے کہ بتائے مرد تو بدل جاتے ہیں۔۔ محبت کیسی اور خیال کیسا!
ماہا اسے اداس دیکھ کر مسکرائی تھی۔
”محبت کا دعویٰ جو کیا تھا، اس نے اب زیادہ کما کر تمہاری فرمائشیں بھی پوری کرنی ہوں گی ناں!“
قائرہ دھیرے سے مسکرائی۔
اس کی نظر اب ماہا کے ہاتھوں کی انگلیوں پر تھی۔
”آپ کی انگوٹھی کتنی پیاری ہے۔ نئی لی ہے کیا!“
ماہا نے اپنی انگلیوں کی جانب دیکھا تھا۔
”ہاں یہ میاں صاحب نے مجھے تحفے میں دی ہے۔“
اس نے اپنی انگوٹھی اتار کر قائرہ کی انگلی میں ڈال دی۔ قسمت سے اسے وہ پوری آگئی ورنہ اس کی پتلی پتلی انگلیوں میں اس کی انگوٹھی کبھی پوری نہیں آیا کرتی تھی۔
”یہ تم رکھ لو تمہاری انگلی میں اچھی لگ رہی ہے۔“
وہ حیران پریشان سی ماہا کو دیکھنے لگی۔
”میں کیسے رکھ لوں..! یہ تو آپ کے شوہر کی طرف سے آپ کو تحفہ ملا ہے۔“
وہ بے فکری سے مسکرائی تھی۔
”تم سے پیارا تھوڑی ہے! رکھ لو میری جان۔۔“
وہ شرمندگی سے نظریں چرانے لگی۔
”نہیں۔۔ نہیں۔۔ یہ آپ کی ہے۔“
قائرہ نے انگوٹھی اتار کر دوبارہ اس کی انگلی میں ڈال دی۔ ”یہ آپ پر زیادہ اچھی لگ رہی ہے۔“
ماہا نے اس کی ہچکچاہٹ دیکھ کر خاموشی اختیار کر لی۔
”میاں صاحب آپ کے یہاں آنے سے ناراض ہوئے ہوں گے؟“
اس نے آخر پوچھ ڈالا۔
”انہیں بتا کر نہیں آئی۔ معلوم ہے نا! ان کی کسی بھی ناپسندیدہ بات پر طبیعت بگڑ جاتی ہے۔“
وہ افسوس سے سر ہلا کر رہ گئی۔
کھانا لگ چکا تھا۔ قائرہ کھانا دیکھتے ہی ٹوٹ پڑی گویا صدیوں کی بھوکی ہو۔
ماہا نے اپنے افسوس زدہ دل کو سمجھایا کہ وقت کبھی ایک جیسا نہیں رہتا۔ سب ٹھیک ہو جائے گا۔
”دامان آج کل کیا کر رہا ہے؟“
وہ خوشی سے بتانے لگی۔ ”آج کل تو وہ فیلڈ میں کام کر رہا ہے اور اس کی ترقی بھی ہوئی ہے۔“
وہ یہ سن کر خوش ہوئی تھی۔ ”یہ تو بہت اچھی خبر ہے۔“
اچانک سے قائرہ کے چہرے پر اداسی چھا گئی۔
”اس کی والدہ بیمار ہیں اور ان کے علاج پر بہت خرچ ہو رہا ہے۔“
وہ افسوس سے سر ہلا کر رہ گئی۔
”اللہ انہیں صحت تندرستی عطا کرے۔“ ماہا نے دعا دی تھی۔ ”آمین۔“ قائرہ نے فکرمندی سے کہا۔
”ان کا خیال رکھا کرؤ۔۔ جلد ہی ٹھیک ہو جائیں گی۔“
قائرہ نے پر امید صورت بنالی۔ ”انشاءاللہ۔۔“
”آپ کیوں میرے اکاؤنٹ میں پیسے بھیج دیتی ہو؟ دامان مجھ پر شک کرنے لگا ہے کہ تمھارے پاس پیسے کہاں سے آ رہے ہیں۔“ قائرہ نے کچھ یاد آتے ہی ناراضگی کا اظہار کیا۔
وہ اس پر خوب ہنسی تھی۔
”میاں صاحب بھی پوچھتے ہیں پیسے کہاں جا رہے ہیں..؟ ان دونوں مردوں کا بھی کچھ نہیں ہو سکتا۔ انہیں ڈر لگتا ہے جیسے ہم بدل گئے ہیں کہیں ہماری بیویاں بھی نہ بدل جائیں۔ اب ان کی اتنی پرواہ کیا کرنی۔۔“
وہ بھی کھلکھلا کر ہنسی تھی۔ ”مردوں کے بارے میں تو اب میرے خیالات بھی بدل گئے ہیں۔“
پہلے وہ ان سے لڑا کرتی تھی کہ اپنے میاں صاحب کو خوش رکھا کریں اور اب اسے یہ سب یاد کر کے خود پر ہنسی آ رہی تھی۔
جب اسے خود ایک مرد کے ساتھ رہنے کا تجربہ ہوا تو اسے پتہ چلا مردوں کے لیے کچھ بھی کر لو وہ کبھی خوش نہیں ہوتے اور عورت کی ہر مہربانی کو اس کا فرض سمجھ کر کسی بھی بات کو اہمیت نہیں دیتے۔ یہانتکہ محبت پاتے ہی وہ نظریں بدل لیتے ہیں۔
انہوں نے مسکرا کر پوچھا ”اچھا..!مثلاً۔۔“
”مثلاً، مرد گنوار ہوتے ہیں، چاہے جتنا بھی پڑھ لیں ان کے اندر کی جہالت کبھی نہیں مرتی۔۔ مرد فطرتاً ڈرامے باز ہوتے ہیں۔۔ وہ جتنے بھی دعوے کر لیں، شادی کے بعد بدل ہی جاتے ہیں۔۔ ان کی محبت پانی کی طرح ہوتی ہے مگر بے آواز بہتی ہے۔۔ ہتھیلی میں سنبھالنے کی کوشش کرؤ تو پتہ ہی نہیں چلتا پاس کیا بچا ہے۔۔“
وہ محسوس کر سکتی تھی کہ ان سب جملوں کے بیچ میں کتنے سارے واقعات چھپے ہوں گے۔
وہ پرس سے موبائل نکال کچھ دیکھنے لگی۔
”ویسے آپ نے میرا نام کس نام سے اپنے موبائل میں محفوظ کر رکھا ہے..! میں نے تو بیچ کا ایک لفظ بدل کر ماہا کے نام سے آپ کا نام رکھ چھوڑا ہے۔“
ماہا یہ سن کر خوب مسکرائی۔ ”تم تو کمال ہو بھئی۔۔ میں نے تو قائرہ کی بجائے اپنی دوست سائرہ کا نام رکھا ہوا ہے۔“ اس پر قائرہ بھی مسکرا دی۔
”چلو باتیں بہت ہو گئیں۔۔ کھانا بھی کھا لیا۔۔ اب میں تمہیں گھر چھوڑ دیتی ہوں۔“
پہلے وہ کچھ ہچکچائی مگر اس کے اصرار پر انکار نہ کر پائی۔ وہ ماہا کے ساتھ ریستوران سے باہر نکلنے لگی تو اچانک سے کسی وجہ سے اس نے مڑ کے پیچھے دیکھا تھا۔ اس سے پہلے کہ اسے نیلی کیپ والا لڑکا وہاں نظر آتا اس لڑکے نے اپنا رخ دوسری جانب موڑ لیا۔
وہ باہر نکلیں تو موسم پہلے سے زیادہ خوشگوار ہو چکا تھا۔ ماہا کے ساتھ کار کی اگلی سیٹ میں بیٹھتے ہوئے اس نے حسرت سے دو سال پرانے دن یاد کیے۔ کبھی وہ اس زندگی کا حصہ ہوا کرتی تھی۔
کار اسٹارٹ ہوئی تو ماہا نے اداسی سے دریافت کیا۔
”اب دوبارہ کب تمھیں یوں گھر سے نکلنے کی اجازت ملے گی؟ اس دفعہ بھی دو ماہ بعد تمھاری شکل دیکھی ہے۔“
وہ ناراضگی سے اسے دیکھنے لگی۔
”اور آج بھی آپ کیسے میاں صاحب سے چھپ کر ملنے آ پائی ہو۔۔ ورنہ اپنی سہیلیوں سے تو روز ملتی ہو۔“
ماہا افسوس سے سر جھکانے پر مجبور ہو گئی۔
”مجبوری ہے۔۔ اگر انہیں پتہ چلا ہم پھر سے چھپ کر مل رہی ہیں تو اب کی بار وہ پکا مجھے گھر سے نکال دیں گے۔“
قائرہ کا چہرہ اتر گیا۔ ”کیا وہ آج بھی مجھ سے اتنی نفرت کرتے ہیں؟“
ماہا نے اس کو غمگین دیکھ کر تصویر کا قدرے بہتر رخ دکھانا چاہا۔
”نہیں۔۔ یہ وقتی غصہ ہے۔۔ وہ کہتے ہیں اگر تم دامان کو چھوڑ کر واپس آ جاؤ تو وہ تمھیں معاف کر دیں گے۔۔ مگر تم نے ایک مشکل وقت جھیل کر دامان کا ساتھ حاصل کیا ہے، تمھیں اپنا گھر بسانا چاہیے ان کی ناراضگی کا نہیں سوچو۔۔“
ناراض تو وہ بھی ان سے تھی اسی لیے اب تک انہیں پہلے والا رتبہ نہیں دے پا رہی تھی۔
اچانک اسے لگا کچھ رشتوں سے انسان کبھی دل سے ناراض نہیں ہوتا، بس ناراضگی کا ڈرامہ کر کے اپنی انا کو تسکین دے رہا ہوتا ہے کہ جب تک دوسرا اپنی غلطی مان کر جھک نہیں جائے گا، وہ پہلے والا مقام نہیں دیا جائے گا۔
قائرہ سوچوں میں الجھے ہوئے کار کے شیشے سے باہر دیکھنے لگی۔ اس کی نظروں کے سامنے موجود ہر منظر، اصل منظر کا اداس سایہ تھا۔
اس کی نظر بے خیالی میں ایک دور سے گزرتی موٹر سائیکل پر پڑی تھی۔ اسے وہم سا ہوا کہ اس موٹر سائیکل کو وہ کئی بار دیکھ چکی ہے۔ اس نے اس پر سوار شخص کو دیکھنا چاہا تو اس کے چہرے پر موجود ماسک اور سر پر پہنی کیپ نے اسے دیکھنے نہ دیا۔
اس نے اپنے شک کو اپنا وہم سمجھ کر نظریں پھیر لیں۔ اگلے ہی لمحے اسے یاد آیا آج دامان بھی اسی سفید شرٹ اور نیلی پینٹ میں گھر سے نکلا تھا۔ اس نے جلدی سے نظریں دوبارہ اس موٹر سائیکل کی تلاش میں سڑک پر دوڑائیں۔ اس نے اپنی کار سے دور جاتی اسی موٹر سائیکل پر سوار شخص کی گھورتی نگاہیں اپنی جانب پالیں۔
اس کے دل کی شریانوں میں بہتا خون اسی پل کے بیچ کہیں رک گیا۔
اس کے ذہن کی ریل پر کچھ دیر پہلے ریستوران میں موجودگی کے چند لمحات چلنے لگے۔ اس نے کسی لمحے اسی کیپ والے شخص کو وہاں بھی دیکھ لیا تھا۔
چند لمحوں بعد اس کا سرد پڑتا وجود تیزی سے گرم ہونے لگا۔ اس نے اپنا اسکارف اور عبایہ اتارنا شروع کر دیا۔
ماہا نے حیرانی سے اسے دیکھا تھا۔ ابھی وہ کچھ پوچھتی قائرہ نے اپنے موبائل میں ماہا کا نام ایڈٹ کر کے ماما لکھتے ہوئے ساتھ بیٹھی عورت کو مخاطب کیا۔
”آپ اب میرے گھر کی بجائے اپنے گھر کا راستہ لے لیں۔۔ آج کے بعد مجھے کچھ بھی کرنے کے لیے کسی کی اجازت نہیں لینا پڑے گی۔“
Exit mobile version