Site icon Writers Club Pakistan

امید کا دھوکا (افسانہ)

افسانہ: عروج احمد، لاہور
”بیرسٹر صاحب! ایک کیس میرے لیے بھی لڑو ناں..!“ وہ شرارت سے مسکرائی۔ مواحد پھیکی مسکراہٹ لیے اسے دیکھتا رہ گیا ۔ وہ اپنا کیرئیر برباد ہو جانے کا غم کر رہا تھا اور سروا اسے خوش کرنے کی کوشش کر رہی تھی۔
”ایک ناکام وکیل سے اپنا کیس لڑواؤ گی تو کیس ہار جاؤ گی ناں..!“ اس نے سروا کا ہاتھ پکڑ کر اپنے پاس بٹھایا جو اس کی صورت پر چھائی نا امیدی سے کچھ افسردہ نظر آنے لگی تھی۔
”اجازت دیں تو کچھ اور کیا جاسکتا ہے۔“ اس نے اپنے چہرے پر شرارت سجاتے ہوئے کہا۔ وہ گلابی پڑتی صورت لیے اپنا ہاتھ چھڑا کر وہاں سے اٹھی تھی۔
”پتہ نہیں تم کیا کیا لڑا سکتے ہو۔۔ بھئی مجھے تم سے کچھ نہیں لڑوانا۔“ مواحد اسے الگ ہی انداز سے دیکھتا چلا گیا تھا۔
وہ اسے نظر انداز کر کے اپنا پرس اٹھائے وہاں سے اس دن چلی تو آئی تھی مگر اس کی یادوں سے کبھی باہر نہیں نکل پائی۔ جب سے وہ لندن گیا تھا ان کے درمیان بہت کم بات ہوتی تھی۔ وہ حصول تعلیم کے لیے گیا تھا، مگر اب اس کا ارادہ بدل گیا تھا، وہ وہی رہنے کا سوچ چکا تھا۔واپسی کی راہیں مفقود دکھائی دینے لگیں، اس کو خود کا روشن مستقبل ملک سے باہر ہی نظر آنے لگا۔ وہ فطرتاً ایک آرٹسٹ تھا مگر گھر والوں کے اصرار پر وکیل بن گیا۔ سروا بھی آرٹسٹ تھی اور اسے مواحد کے اندر چھپے آرٹسٹ سے پیار تھا۔ اس نے خیالوں میں اس کے گال کو چھوا اور پھر افسردہ ہوگئی۔
کیا وہ مجھے بھول گیا ہے؟ اس نے بے خودی میں سوال کیا۔ وہ جب بھی اس کیفیت کا شکار ہوتی خود سے سوال پوچھتی رہتی تھی۔ وہ اب تھک کر خود بھی اسے بھلانے کی کوشش کر رہی تھی۔
موبائل کی گھنٹی بجی، وہ اپنے خیالوں سے باہر آگئی۔ اسکرین پر منال کا نمبر عیاں تھا۔
”تمہارے پاس بس پانچ منٹ ہیں۔۔ تیار ہو کر باہر آجاؤ ہم لینے آ رہے ہیں۔“ مختصر بولتے ہوئے اس نے فون کاٹ دیا۔
سروا جلدی میں تیار ہونے لگی۔ مواحد کے خیالوں سے خود کو بچانے کا یہ ہی طریقہ تھا، خود کو مصروف رکھا جائے۔ وہ اب وہی کرنے جارہی تھی۔
گاڑی کے ہارن کی آواز سن کر وہ پرس پکڑے گھر سے باہر نکل آئی۔ سیاہ رنگ کی بڑی کار کا پچھلا دروازہ کھلا تھا، ماہی اسے کار میں نظر آئی، جسے دیکھ کر اسے اچھا لگا۔ چلو یہ اچھا ہوا منال کے ساتھ ماہی بھی آگئی ہے، تینوں اکٹھی مل کر خوب انجوائے کریں گی۔ اس نے دل ہی دل میں سوچا۔
اس کے بیٹھتے ہی کار تیزی سے آگے بڑھنے لگی۔ ڈرائیونگ سیٹ پر بیٹھا شخص اجنبی تھا اور گاڑی تیز چلا رہا تھا۔ اسے کچھ حیرت ہوئی اور گھبراہٹ بھی، اتنے میں ماہی نے جوس اس کی طرف بڑھا دیا۔ اس نے ماہی کے اصرار پر چند گھونٹ لیے مگر اس کی نظریں اب بھی اس ڈرائیور پر تھیں۔
وہ ڈرائیونگ سیٹ والے شخص کو تعجب سے دیکھ رہی تھی، اس نے براہ راست اسے مخاطب کرنے کے بجائے اگلی سیٹ پر بیٹھی منال سے پوچھا۔
”کار اتنی تیز کیوں چلائی جا رہی ہے؟“ کوئی جواب نہ ملا۔
وہ اور ماہی ٹوکتے ہی رہے مگر کار چلانے والا اپنے موڈ میں تھا، اس نے کار کی رفتار کم نہ کی۔
اللہ اللہ کر کے وہ ریستوران پہنچے تو لڑکیوں کی جان میں جان آئی۔ منال واش روم کے بہانے ان دونوں کو بھی ساتھ لے آئی۔ ”یہ وہی بیوروکریٹ ہے جس کا ذکر کیا تھا۔۔ “ منال نے ان کو بڑے اشتیاق سے بتایا۔ ”اور ہاں اس سے نمبر ضرور لے لینا۔۔ “ اس نے رازداری سے اشارہ کرتے ہوئے اپنی بات مکمل کی۔
سروا کو یاد آیا کچھ دن پہلے اس نے منال سے کہا تھا۔
”لگتا ہے اب کوئی جاب کر لینی چاہیے۔۔ اور اس کے لیے سرکاری جاب ہو تو کیا ہی بات ہے۔۔“
منال نے کہا تھا کہ اس کے لیے کوئی ایسا بندہ تلاش کرنا ہو گا جو سرکاری سطح پر صاحب حیثیت ہو اور ان کا کام کروا دے۔ منال نے وہی کیا تھا۔
یہ راستہ کیسا تھا اسے نہیں معلوم مگر وہ پہلے بہت کوشش کرچکی تھی کہیں فیک جابز تو کہیں دوسرے شہر جانے کی شرط، اب اسے یہی راہ نظر آئی۔ لیکن وہ طے کرچکی تھی اب اسے جاب کرنی ہی کرنی ہے۔
”بیوروکریٹ! ہممم۔۔۔ اس نے سوچتے ہوئے کہا۔
چلیں دیکھتے ہیں کیا ہوتا ہے۔۔“ وہ مختصر بول کر ہاتھ ٹشو سے صاف کرتے ہوئے باہر نکل آئی۔ منال اور ماہی بھی اس کے پیچھے ہال کی جانب بڑھیں۔ وہ اجنبی گاؤ تکیے کے ساتھ ٹیک لگائے ان کے آنے کا منتظر تھا۔
سروا کی نگاہیں اس کے چہرے پر تھیں، وہ ایک مہذب اور سلجھا ہوا کم عمر شخص تھا، سروا کو خود کی جانب دیکھتے ہوئے اس نے اپنی نگاہیں نیچی کر لیں۔ اس کا نام محمد عاطر تھا، پیشے سے وہ بیوروکریٹ تھا، رکھ رکھاﺅ اور بات چیت میں خاصا ملکا رکھتا تھا۔ کس سے کیا اور کتنی بات کرنی وہ سب باخوبی جانتا تھا۔ سروا کو اس سے بات کرنے میں کوئی دقت نہیں محسوس ہوئی، وہ جلدی ہی اس کو جج کرنا چاہتی تھی۔ اس کے لیے ضروری تھا اس سے باتیں کرے، باتیں بڑھیں تو بڑھتی چلی گئیں۔ وہ بے تکلف ہوتی گئی۔ ماحول انتہائی خوشگوار تھا۔ آج سروا بھی روٹین سے ہٹ کر ہنس رہی تھی اور ایک انجان شخص سے پہلی ہی ملاقات پر بے تکلفی سے گفتگو کر رہی تھی۔
ماہی تھوڑی حیران تھی مگر منال دل ہی دل میں خوش تھی، وہ یہی تو چاہتی تھی۔ اس کی ساری کوشش بیوروکریٹ کو خوش کرنے اور ہر طرح سے اپنی جانب متوجہ کرنے میں تھی۔
وقت کافی ہوچکا تھا، وہ ریسٹورنٹ سے باہر نکل آئے۔ سروا مستی کے عالم میں تھی منال نے اس سے کہا کہ عاطر کو اپنے ساتھ پیچھے بٹھا لیتے ہیں۔ سروا نشے کے اثر میں تھی جو جوس میں ملا ہوا تھا۔ وہ کچھ نا سمجھتے ہوئے مان گئی۔
عاطر ان کے درمیان بیٹھتے ہوئے ہچکچا رہا تھا مگر اب سروا کو اس کے ساتھ بیٹھنے پر رضامند دیکھ کر وہ مان گیا۔ منال نے اسے اپنے ساتھ بٹھا لیا تو ان کے کہنے پر سروا بھی کار میں بیٹھی اور کار چل پڑی۔ سروا کے سر پر نشے کا اثر تھا اس نے اشتیاق سے عاطر کا ہاتھ پکڑ لیا مگر اس کا ہاتھ ٹھنڈا پا کر چھوڑ دیا۔ اس سے پہلے اس نے ایسا کبھی نہیں کیا تھا۔ عاطر ان دونوں کے بیچ گھبرایا بیٹھا تھا۔ سروا کے ہاتھ چھوڑتے ہی اس نے اصرار کر کے کار رکوائی اور باہر نکل کر ڈرائیونگ سیٹ پر جا بیٹھا۔ سروا مسلسل کچھ بھی بول کر ہنستی رہی تھی۔ کار میں ساری رونق صرف اسی سے تھی۔ ایک بچہ گجرے لیے کار کے قریب آیا تو عاطر نے پوچھا۔
”کوئی گجرے پہنتا ہے؟“ سروا نے اشتیاق سے کہا۔
”کوئی پہنانے والا ہو تو پہننے والے پہن لیتے ہیں۔“ عاطر نے بچے کو دگنی قیمت دے کر اس کے آخری بچے ہوئے چاروں گجرے خریدے اور ان کو دیے جو سب لڑکیوں نے اپنے ہاتھوں میں پہن لیے۔ اس کی نظر سروا کے ہاتھ میں پہنے گجرے پر تھی اور اس کی آنکھیں خوشی سے چمک رہی تھیں۔ اگلے دن اسے ہوش آئی تو اسے پچھلی رات کا سب یاد آنے لگا۔ اسے تعجب ہوا کہ وہ رات میں اتنی مسرور کیوں تھی۔ اسے سب خواب کی طرح لگ رہا تھا۔ ناشتے کے بعد اسے منال کا فون آیا۔ منال نے اسے کہا وہ عاطر سے رابطے میں رہے تاکہ جاب کے معالات طے پاجائیں۔ اسے کسی بھی حال میں جاب چاہیے تھی اور خود سروا بھی جاب کے لیے کوشاں تھی۔
رات میں اس کی عاطر سے بات ہوئی تو اس نے لانگ ڈرائیو پر جانے کا اصرار کیا۔اس وقت سروا نے بہانا کر کے منع کردیا۔ دو دن بعد منال نے کہا کہ وہ سیالکوٹ میں ماہی کے گھر پر ہے وہ دونوں اسے آ کر یہاں سے لے جائیں۔
عاطر کو بھی ایک توجیہہ مل گئی، اب منع کرنا مشکل تھا۔ سروا نے عاطر کے ساتھ سیالکوٹ جانے پر رضامندی ظاہر کردی۔ دوران سفر اسے محسوس ہوا کہ وہ ایک شریف النفس اور باحیا مرد ہے۔ اس نے سارا وقت نظریں جھکا کر رکھیں اور اس کا خیال کرتے ہوئے اس کے کہے بغیر کار آہستہ چلائی۔ وہ باتیں کرتے رہے اور ایک دوسرے کے متعلق کافی کچھ جان گئے۔ آدھا راستہ گزرا تھا کہ وہ اس کے لیے جوس لے آیا۔ وہ اس کی نظروں میں خود کو خاص پا کر کچھ الگ محسوس کر رہی تھی۔ کافی عرصے بعد اسے کسی کی جانب سے محبت کا احساس ملا تھا۔
وہ جانتی تھی اس دنیا میں زیادہ تر لوگ چاہے جانا پسند کرتے ہیں مگر وہ چاہنے کے لیے بنی تھی۔ اسے مواحد کی یاد آنے لگی۔ چاہے جانا اُس کی طلب تھی اور وہ اسے دیوانوں کی طرح چاہتی تھی۔ جب وہ پہلی بار ملے تب وہ علیحدگی کے ابتدائی دور سے گزر رہی تھی۔ پھر اس کی مواحد سے دوستی گہری ہوتی چلی گئی۔ کچھ عرصے بعد وہ اس کے لیے اپنے دل میں عجیب سی دیوانگی محسوس کر کے گھبرا گئی۔ ایک دوسرے سے بڑھتے ہوئے مطالبات نے اسے مواحد سے فاصلہ اختیار کرنے پر مجبور کر دیا، کیونکہ اس کی محبت پاک تھی اور وہ اسے پاک ہی رکھنا چاہتی تھی۔ اب کئی سال بعد وہ دوبارہ ملے تو سروا آرٹسٹ اور مواحد وکیل بن چکا تھا۔ وہ اپنے بھائی کے ساتھ رہ رہی تھی اور ان دونوں کو پاپا باہر سے خرچ بھیج دیا کرتے تھے۔ اس نے طلاق کے بعد دوبارہ شادی نہیں کی تھی اور مواحد ابھی بھی غیر شادی شدہ تھا۔ مواحد نے اس سے کہا کہ میں ہمیشہ تمہارا دوست بن کر تمہارے ساتھ چلوں گا۔ تمھیں جو بھی ضرورت ہو میرے پاس سے پوری کر لینا۔ ہم ہمیشہ ایک دوسرے کے لیے ہونگے۔ مگر وہ یہ نہیں جانتا تھا کہ سروا کبھی بھی خود سے کچھ طلب کرنا پسند نہیں کرتی۔ وہ ہمیشہ سے اناپرست اور خوددار تھی، کسی سے بھیک میں محبت لینا بھی اسے قبول نہیں تھی۔ وہ شاہوں کی طرح جینے کی عادی تھی۔ دینا اس کی خاصیت تھی اور لینا اس کی توہین تھی۔
انہوں نے کبھی بھی شادی کے بارے میں نہیں سوچا تھا۔ اس کی وجہ ان کے درمیان عمر کا فرق تھا۔ مواحد سروا سے پانچ سال چھوٹا تھا۔ بظاہر وہ ہم عمر لگتے تھے مگر وہ نہیں چاہتی تھی کہ کبھی بھی کوئی ان کی عمر کے فرق پر بات کرے۔ اس کے علاوہ بھی وہ یہ جان کر پریشان تھی کہ وکیل بننے کے بعد مواحد کو شک کی عادت پڑ چکی تھی اور اس عادت کے ساتھ ان کا اکٹھے ساری عمر ساتھ رہنا مشکل تھا۔ وہ دونوں صرف اپنے محبت نامی جذبات کی تسکین کے لیے ایک دوسرے سے جڑے تھے۔ اب ان کا رشتہ کہاں تھا وہ سمجھ نہیں پا رہی تھی۔
وہ اسے جوانی سے جانتی تھی اور اس کے ماضی کی ایسی غلطیاں بھی جو کسی عورت کے لیے اپنے محبوب میں پائی جانا ناقابل برداشت ہیں۔ وہ اسے برائیوں سمیت چاہتی تھی اور مواحد کے لیے یہی بات قابل قدر تھی۔ سروا کی دوستی اس کے لیے بہت معانی رکھتی تھی۔ انہوں نے پہلی بار جب ایک دوسرے کو دیکھا تھا تو انہیں عجیب سا روحانی سکون ملا تھا اور بہت خاص جذبات محسوس ہوئے تھے۔ پہلے پہل یہ جذبات دوستی کے اندر ہی کہیں چھپے رہے، بعد ازاں محبت کے جزیرے پر سفر کرنے لگے۔
وہ سروا کے لیے آج بھی ایک ناداں بچہ تھا جو اس کی گود میں سر رکھ کر اپنے دکھڑے سنایا کرتا تھا اور اپنی ہر خوشی اور غم اس سے بانٹ لیا کرتا تھا۔ ان کی دوستی میں کہیں کوئی کمی نہیں تھی۔ اگر ان کا کچھ بھیانک تھا تو وہ ان کا غصہ۔ شاید اسی لیے مواحد ہمیشہ خود کو ٹھنڈا رکھتا تھا۔ ایک دن اس نے مواحد کو ٹوٹا ہوا، اداس دیکھ کر اپنی دیوانگی کا اظہار کر ڈالا۔ یہ سن کر وہ مسرور نظر آنے لگا تھا جیسے کسی کی ساری محرومیاں اور حسرتیں مٹا دی جاتی ہیں۔ وہ سروا سے محبت کا اظہار سن کر خود کو اس ملکہ کا بادشاہ سمجھنے لگا تھا۔ اب ملک سے باہر جاتے ہی اس کا بدل جانا سروا کے لیے نے ناقابل برداشت تھا۔ وہ اداس رہنے لگی تھی۔
وہ دونوں ماہی کے گھر پہنچے تو وہاں خاصا اہتمام تھا۔ ماہی کے گھر ڈائننگ ٹیبل والا نظام نہیں تھا۔ وہاں نیچے بیٹھ کر کھانا کھایا جاتا تھا۔ دسترخوان بچھا کر کھانا لگا دیا گیا۔ عاطر کوئی نخرہ کیے بغیر فرش پر بیٹھ گیا۔ وہ وقتاً فوقتاً سروا کو دیکھتا ہوا محبت سے مسکراتا رہا جس کے جواب میں سروا بھی مسکرا دیتی۔ سب کے درمیان گپ شپ چلتی رہی۔ جب وہ واپسی کے لیے نکلے تو منال عاطر کے ساتھ والی سیٹ پر بیٹھ گئی۔ منال اسے احساس دلاتی رہی کہ وہ اس کے لیے بہت اہم ہے۔ منال عاطر کو آنکھوں ہی آنکھوں میں محبت سے دیکھتی رہی مگر وہ کسی امید سے سروا کی جانب متوجہ تھا۔
******
وہ ثناء کے ساتھ بازار کے لیے نکل رہی تھی جب مواحد کی ویڈیو کال آنے لگی۔ وہ حیران تھی کہ اتنے دنوں بعد اسے سروا کی کیسے یاد آ گئی۔ سروا نے کال ریسیو کی۔
مواحد کی آنکھیں دیکھ کر وہ گھبرا گئی۔ وہ کئی راتوں کا جاگا ہوا بیمار اور رویا ہوا لگ رہا تھا۔ رسمی بات چیت کے بعد اس نے مواحد سے پوچھا مگر وہ ٹال گیا۔
”کچھ نہیں۔۔ میں ٹھیک ہوں،“ اس نے مختصر جواب دے کر الٹا سوال کر ڈالا۔
”آپ سنائیں بہت زیادہ گھوما جا رہا ہےآج کل!“
وہ پہلے ہی حیران آنکھوں سے اسے دیکھ رہی تھی اب اس سوال پر چونک پڑی۔
وہ ہاتھوں کو بغلوں میں دبائے یوں بیٹھا تھا جیسے بہت ہارا ہوا ناراض اور بے سکون ہو۔
”تم نے ہیئر بینڈ کب سے لگانا شروع کر دیا؟“ سروا نے پوچھ ہی ڈالا۔
وہ بات کو بدل گیا۔ ”میں تو گھر میں لگاتا ہی ہوں۔ اس میں کیا خاص ہے؟“ وہ نفی میں سر ہلا کر کچھ سوچتی رہ گئی۔ اسے شک پڑا وہ اس کی پسند کے مطابق خود کو پیش کر رہا ہے۔ وہ سوچنے لگی اسے کیسے پتہ چلا کہ اسے لڑکوں کا یہ ہیئر اسٹائل پسند ہے۔ اب وہ پھر سے جتا کر کہنے لگا۔
”بڑے ہاتھوں میں ہاتھ ڈالے جا رہے ہیں۔۔ جوس پیے جا رہے ہیں..!“ وہ چونکی تھی. ”کیا مطلب؟“
وہ منہ بنا کر بولا۔ ”دیکھ لیں، سب پتہ ہے مجھے۔۔“ وہ سمجھ گئی اسے کچھ ایسا پتہ چلا ہے کہ وہ اذیت میں ہے۔
”مجھ سے تو چھپایا آپ نے۔۔ مگر میں نے تفتیش کی تو مجھے پتہ چل گیا نا..!“
سروا نے ناراضگی سے کہا۔ ”تم نے بات ہی اتنے دنوں بعد کی ہے تو پہلے کیسے بتاتی..!“ اسے یقین ہونے لگا کہ یہ ساری باتیں منال نے ہی اسے بتائی ہیں۔
وہ ناراض ہوا۔ ”تو آپ نے کیوں نہیں کیا فون..!“
سروا نے یاد دلایا۔ ”تم نے ہی کہا تھا کہ میں خود فون کروں گا۔۔ آپ نے خود سے نہیں کرنا..!“
وہ بہانے بنانے لگا۔ ”میں نے اب ایسا بھی نہیں کہا تھا۔۔ آپ پھر بھی کر سکتی تھیں۔“
اس نے دوبارہ سروا کو سنایا۔
”بس کر دیں۔۔ بس کر دیں۔۔ آخری بار سے میں ہی سب میسج کر رہا ہوں۔“ وہ یاد کرنے لگی۔ اب وہ اسے کیا جتاتی کہ وہ بدل گیا ہے تو اسے بھلانے کو اسے اپنا دل دوستوں کے ساتھ لگانا پڑا۔ مواحد نے اسے سنا ڈالا کہ آپ نے تو محبت کا دعویٰ کیا تھا بس وہ جھوٹا ثابت ہو گیا۔
اس کے بار بار جتانے پر اس نے بتایا کہ وہ ملازمت کے لیے کوشش کر رہی تھی اور وہ اس لیے نہیں بتا رہی تھی کہ اسےیہ جان کر تکلیف نہ ہو۔
مواحد اب غصے سے بولا۔ ” پیسے تو آپ کو باہر سے آ رہےہیں، ملازمت کی کیا ضرورت ہے؟“ اس نے دل میں سوچا اسے کیسے بتاؤں کہ دوبارہ میری شادی پر زور دیا جا رہا ہے جو میں نہیں کرنا چاہ رہی۔ وہ مواحد کے لیے دل میں شدید جذبات لیے بیٹھی تھی اور اس کے ساتھ بے وفائی نہیں کرنا چاہتی۔ وہ ملازمت کر کے ساری زندگی یوں ہی تنہا گزار دینا چاہتی ہے۔ اس نے مواحد سے وطن واپسی کا پوچھا تو اس نے کہا اب وہ ادھر ہی رہے گا۔ اس کا واپسی کا کوئی ارادہ نہیں ہے۔ سروا نے یہ سن کر اپنے دل کو ڈوبتا ہوا محسوس کیا۔ وہ اسے یونہی باتوں سے اذیت پہنچاتا رہا۔ سروا نے دھیان بٹانے کو موبائل سے وقت دیکھا تو وہ مزید بے چین ہو گیا۔۔
”بار بار کیا چیک کر رہی ہیں؟ ٹھیک ہے آپ کو دیر ہو رہی ہے۔۔ میں نے آپ کا وقت ضائع کر دیا۔۔ آپ بازار جائیں۔۔“
اس نے فون بند کیا تو وہ بے چین ہو کر بازار کے لیے نکل گئی۔ اس کا موڈ اب بگڑتا ہی جا رہا تھا۔ اسے دل کی دھڑکن کے اتار چڑھاؤ کا عارضہ ہونے لگا۔ وہ اندر ہی اندر تڑپ رہی تھی۔ اس پر واضح ہو گیا کہ مواحد کو یہ خبر منال کے سوا اور کوئی نہیں دے سکتا۔ کیونکہ وہ وہی سب باتیں کر رہا تھا جو منال کو معلوم تھیں۔ اسے رشتوں کے دھوکہ دینے کی اندر ہی اندر تکلیف ہو رہی تھی۔ اس نے تو منال کا رجحان عاطر کی جانب دیکھ کر دوبارہ عاطر سے بات تک نہیں کی۔ حالانکہ منال نےاعلیٰ درجے کی منافقت دکھاتے ہوئے اسے ہر دفعہ یہی کہا کہ وہ عاطر سے باتیں کرتی رہے تاکہ ان کی نوکری لگ سکے حالانکہ یہ کام وہ بھی کر سکتی تھی۔
اب وہ اندر ہی اندر سلگ رہی تھی۔ اس کے لیے عاطر سے بڑھ کر منال اور اس کی دوستی اہم تھی مگر منال نے یہ کیا کیا۔۔! اس کے دل میں چھرا گھونپ دیا۔ وہ اپنا دل پکڑے تڑپ رہی تھی۔ اس نے مواحد سے محبت کا دعویٰ کیا تھا جسے آج مواحد نے جھوٹا ثابت کر دیا۔ وہ مواحد کو بے سکون اور رویا ہوا دیکھ کر خود سے نظریں نہیں ملا پا رہی تھی۔ اسے خود سے نفرت ہونے لگی کہ اس نے خود سے کیوں سوچ لیا کہ وہ بدل گیا ہے اور اس سے دل ہٹانے کو منال کی دوستی میں لگی رہی۔ مواحد اس کی منال سے دوستی پسند نہیں کرتا تھا، وہ منال کے معاملے میں کچھ تحفظات رکھتا تھا۔ اسے یہاں بھی یہی ڈر تھا کہ منال کے ساتھ وہ بھی غیر ضروری چیزوں میں پڑ جائے گی۔ اب وہ خود کو مسلسل کوس رہی تھی۔ وہ رات سونے کو بستر پر لیٹی تو اسے سکون نہیں ملا۔ اسے جھوٹی محبت کے دعوے کا طعنہ دل پر گھونسے کی طرح لگا تھا اس کا دل شدید اذیت میں تھا۔ وہ ساری رات روتی رہی۔
اگلے دن اس کی آنکھ کھلی تو اس کے دل کی دھڑکن معمول پر نہیں تھی۔ اٹھتے ساتھ ہی وہ مواحد کو یاد کر کے روتی رہی۔ اس کے لیے ناشتہ لگایا گیا مگر اس سے کچھ بھی کھایا نہیں گیا۔ اچانک سے اس کا دل ہر چیز سے اٹھنے لگا۔
اسے اندازہ بھی نہ تھا کہ ایک غلطی سروا نے کی تھی اس کے بدلنے کا یقین کر کے۔ مگر اس نے بڑی غلطی کی اس پر شک کر کے، وہ نہیں جانتا تھا کہ شک انسان کو کتنی تکلیف دیتا ہے۔ جو باتیں آج وہ سروا کے ساتھ جوڑ رہا تھا وہ اسے کی خود کشی کے لیے کافی تھیں مگر وہ پھر بھی خود کو ہمت اور دلاسے دے رہی تھی اور اپنی محبت پر پھر سے بھروسہ کر کے نئی امید لگانے کی کوشش کر رہی تھی۔
لیکن وہ تو الٹا اسے احساس دلانے لگا کہ اس سے گناہ ہوا ہے۔ گناہ والی بات سروا پر بجلی بن کر گری تھی۔
گناہ ہوا ہے مجھ سے !۔۔۔۔ وہ بے یقینی کی کیفیت میں خود سے سوال کرتی جارہی تھی۔۔
گناہ ہو گیا کہ میں نے کسی کا ہاتھ پکڑا۔۔ تو تب کیا تھا جب اسی جگہ مواحد خود تھا۔ تب کیا تھا جب مواحد اس سے بھی آگے نکل گیا تھا۔ تب وہ گناہ نہیں تھا؟
وہ ایسی باتیں کر رہا تھا جسے وہ کبھی نہیں کہہ سکتا تھا، وہ سارا دن اس کی باتیں سوچتی رہی۔ اسے احساس ہو گیا کہ اب مواحد کے دل میں اس کے لیے میل آ چکا ہے جسے کسی بھی طرح دور کرنا بہت مشکل ہے۔ اسے صدمہ پہنچا کہ وہ اس کے ساتھ وفا نبھانے کو اپنی ساری کشتیاں جلا رہی تھی مگر مواحد کا دل اس سے بے اعتبار ہو چکا تھا۔ مواحد نے روز رات کو ویڈیو کال لگا کر اس پر نظر رکھنا شروع کر دی کہ وہ گھر پر ہے یا کہیں باہر ہے۔ وہ اسے روز احساس دلانے لگا کہ میں اب تمہارا نہیں رہا اور ایسی باتیں جن سے اس کو بھی وہی اذیت دے سکے جو اسے ہوئی تھی۔
سروا اس کی ان حرکات پر اندر ہی اندر کڑھتی رہی۔ اسے اب مسلسل دل کا عارضہ رہنے لگا۔ کبھی دھڑکن تیز تو کبھی بالکل سست ہوجاتی تھی۔ اسے مواحد سے بھی بہت سارے گلے تھے مگر وہ اسے اذیت سے نہیں گزارنا چاہتی تھی جس سے وہ خود گزر رہی تھی۔
ایک دن شدت غم ایسا بڑھا کہ سروا اسپتال پہنچ گئی۔ ڈاکٹروں نے اسے سنبھالا۔ وہ یہ بات مواحد سے کہنا چاہتی تھی تاکہ مواحد اس کو تسلی دے اور وہ سکون اور راحت حاصل کرے۔ اس نے مواحد کو یہ بتایا مگر مواحد نے اسے سنجیدہ نہیں لیا اور اسے سروا کا جھوٹ سمجھ کر نظرانداز کر ڈالا۔ مزید وہ اپنی باتوں کے دوران عاطر کے ساتھ ہونے والی حرکات یاد دلا کر اسے اذیت پہنچانے لگا۔ اسے نے احساس دلایا کہ اب اسے سروا کی کسی بھی بات کا یقین نہیں ہے۔
اس صورتحال سے اس کے دل کی حالت بہت بگڑ گئی۔ اسے اس کا بھائی دل کے ڈاکٹر کے پاس چیک کروانے لے آیا۔ ڈاکٹر نے اسے سخت قسم کی ہدایات دیں اور بتایا کہ اس کی ٹینشن اسے ہارٹ اٹیک کی طرف لے جا رہی ہے۔ اللہ اللہ کر کے سروا کی طبیعت بہتر ہوئی اور وہ گھر آ گئی۔
اس کے اگلے روز مواحد کی کال آئی۔ اس نے کال پر پھر سے اسے چھیڑنا شروع کردیا۔ تم جھوٹ بول رہی ہو۔۔ تم تو بالکل ٹھیک ہو۔ وہ مسلسل اس کی ہر بات کا مذاق بنا کر چھیڑتا رہا۔ اس کی بے یقینی نے سروا کو مزید پاگل کر دیا۔
”تم نفسیاتی مریض ہو۔۔“ نجانے غصے میں اس نے کیا کیا کہہ ڈالا۔ پہلی بار مواحد نے بھی اس کی بات کا غصہ کر لیا اور ناراض ہو کر فون بند کر دیا۔ وہ بار بار اسے فون کرتی رہی مگر اس نے فون نہیں اٹھایا۔ اس کے دل میں پھر سے تکلیف اٹھنے لگی۔ اس نے ڈپریشن کی گولی لی اور لیٹ گئی۔ اس نے کچھ پیغام مواحد کے لیے چھوڑے جن میں معافی مانگی اور اسے احساس دلانا چاہا کہ میں دل کے عارضے میں مبتلا ہوں۔ مجھ پر شک کر کے مجھے مزید اذیت مت دو۔
وہ سارا دن منتظر رہی کہ وہ اس کی طبیعت کا پوچھے گا مگر اس کی جانب سے ایسا کوئی بھی جواب نہیں ملا جس سے اس کے دل کی تکلیف کم ہو پاتی یا اس کو مواحد کی جانب سے دلاسہ ملتا۔ اسے احساس ہو گیا کہ مواحد کو اب اس کی پرواہ نہیں رہی۔
سروا کو شدت سے احساس ہوا کہ وہ جس سے محبت کرتی ہے وہ ایک نارمل انسان نہیں ہے۔ وہ اس دل کی تکلیف محسوس نہیں کر سکتا جو صرف اور صرف اسی کے لیے دھڑکتا ہے۔
اسے سمجھ آ گئی کہ ایک شکی انسان سے محبت تو کیا دوستی بھی نہیں نبھائی جا سکتی۔ اب وہ کچھ بھی کر لے اسے سروا کے جذبات سمجھ نہیں آئیں گے۔ وہ اس سب سے تنگ آ گئی۔ اسے اپنے دل کی دھڑکن کو معمول پر رکھنے کے لیے مسلسل دوائیاں لینی پڑ رہی تھیں۔ آخر تنگ آ کر اس نے فیصلہ کیا کہ اسے اب یہ سب ختم کرنا ہوگا۔ اس نے مواحد کو آخری میسج بھیجا جس میں اپنی طبیعت کا حال سنا کر کہا تمہیں ایک محبت بھرا دل توڑنے کا بدلہ ضرور ملے گا۔۔ آئندہ میں رابطہ نہیں کروں گی۔ خدا حافظ
اور وہ ذہنی سکون کی گولی لے کر سو گئی۔ اگلے دن جب اسے ہوش آئی تو اسے بے حد افسوس ہوا کہ اس نے یہ کیا کیا۔۔ اپنے محبوب کو بد دعا ہی دے ڈالی۔ اسے امید نامی دھوکے باز جذبے پر شدید غصہ آنے لگا۔ نجانے اسے کن امیدوں نے یہ سب کرنے پر مجبور کیا تھا۔ اس نے خود کو کوسا کہ اسے مواحد سے کوئی امیدیں لگانی ہی نہیں چاہیے تھیں۔ اسے اب سمجھ آئی کہ اس کو ملنے والی اذیت مواحد کی طرف سے نہیں امیدوں کی جانب سے تھی۔ وہ تو مواحد کو ہمیشہ سے جانتی تھی اس نے پہلے سے اسے یہ بتا دیا تھا کہ اسے اپنے پیشے کی وجہ سے تفتیش کرنے کی عادت پڑ چکی ہے اور وہ اس سے نہیں ہٹ سکتا۔ اس کا اپنا ہی قصور تھا جو اس نے مواحد سے اعتبار کی امید لگا لی۔ مواحد کو بھی اس سے اتنی امیدیں نہیں لگانی چاہیئے تھیں کہ خود وہ جیسے جی چاہے جیے مگر سروا اپنی زندگی میں کچھ بھی اس کی مرضی کے خلاف نہیں کر سکتی تھی۔ دونوں کی امیدیں انہیں دھوکہ دے چکی تھیں۔
*****
ماہی اسے دیکھ کر چپ چپ سی تھی۔ اسے امید نہیں تھی کہ سروا کی طبیعت سچ میں اتنی خراب ہے۔ ماہی اسے خوش کرنے کو یہاں وہاں کی باتیں کرتی رہی مگر سروا کے چہرے پر اداسی اور بے سبب سی اذیت کا احساس ٹھہرا ہوا تھا۔ سروا کو لگا ماہی اس سے شرمندہ ہے۔ وہ منال کے متعلق بات کرنا چاہتی تھی۔ آخر ماہی نے سروا سے پوچھ ہی لیا۔ ”مواحد کا کیا ہوا؟“
اس نے افسوس سے کہا۔ ”ہمارے بیچ سب ختم ہو گیا۔“
وہ سر جھکائے خاموش رہی۔ پھر سروا نے ماہی سے پوچھا۔ ”منال نے آخر میرے ساتھ ایسا کیوں کیا؟“
ماہی چند لمحے خاموشی سے کچھ سوچتی رہی پھر دھیرے سے کہنے لگی۔ ”وہ تو اس بات کو نہیں مانتی۔۔ البتہ وہ بہت پریشان ہے۔۔ اس کو عاطر نے ہر طرف سے بلاک کر دیا ہے۔۔ اور وہ یہ سمجھ رہی ہے کہ تم نے عاطر کو کچھ بتایا ہے۔“
یہ بات سن کر اسے ساری کہانی سمجھ آ گئی۔ ماہی کو اس نے یقین دلایا کہ وہ منال جیسی نہیں ہے۔ کچھ بھی ہو جائے وہ اسے کوئی نقصان نہیں پہنچا سکتی۔ ماہی نے اس کی بات کا یقین کیا کیونکہ وہ جانتی تھی سروا ایسی نہیں ہے۔ سروا بے حد حیران تھی کہ جب اس نے عاطر سے کوئی بات نہیں کی تو پھر آخر ایسا کیا ہوا جو بغیر کسی وجہ کے اس نے منال کو رابطے کی جگہ سے بلاک کر ڈالا۔ اب یہ اس کے لیے ایک بہت بڑا سوال تھا وہ اسی سوال میں الجھی رہی اور ماہی سے بھی اس کا جواب طلب کرتی رہی۔ ماہی کے پاس اس کا کوئی جواب نہیں تھا۔ جب ماہی وہاں سے چلی گئی تو پھر وہ اکیلے میں بیٹھ کر سوچتی رہی۔ اس نے عاطر کو فون لگایا جو اس نے ریسیو نہیں کیا۔ وہ سمجھ گئی منال نے ضرور کچھ زیادہ غلط فہمیاں پیدا کر ڈالی ہیں۔
ابھی وہ اسی سوچ میں تھی کہ عاطر کا فون آیا۔ اس نے منال کو بلاک کرنے کے متعلق سوال کیا تو اس نے بتایا کہ منال ان سے جل رہی تھی۔ وہ ان کے درمیان نفرتیں ڈال رہی تھی جبکہ وہ سروا کے لیے سنجیدہ ہو چکا ہے۔ یہ سنتے ہی سروا کو ساری سمجھ آ گئی کہ منال نے مواحد کو اس کے خلاف اس لیے کیا تاکہ مواحد اس کے اوپر نظر رکھنے لگ جائے اور وہ خود عاطر کے ساتھ دوستی بڑھا کر اسے شادی کے لیے راضی کر لے۔ جبکہ عاطر کے دل میں سروا تھی۔ وہ منال کو تو وقت دیتا رہا مگر وہ اس انتظار میں تھا کہ سروا اس سے بات کرے گی۔ جب اس نے دیکھا سروا اس سے بات کرنا پسند نہیں کر رہی تو اسے لگا کہ منال نے ہی اسے منع کر رکھا ہے اس لیے اس نے منال کو بلاک مار دیا۔
سروا سوچتی رہی کہ ان سب کو دھوکہ تو امید نے دیا ہے عاطر نے اس سے امیدیں لگا لیں اور اس نے مواحد سے امیدیں لگا لیں۔ مواحد نے بھی اس سے کچھ نہ کچھ امیدیں لگا رکھی تھیں جو اس پہ شک کرتا رہا اور منال نے عاطر سے امیدیں لگا کر اس کے اور مواحد کے درمیان سب برباد کر دیا۔
سب کی لگائی ہوئی امیدوں نے انہیں دھوکہ دے ڈالا تھا۔
***
مئی کی اداس سی ایک شام تھی۔ اس کا فون مسلسل بج رہا تھا۔ اس نے فون اٹھا کر دیکھا تو منال کا فون آ رہا تھا۔ اس کے دماغ نے کہا وہ اس کا فون نہ اٹھائے۔ وہ کئی بار اس کا فون کاٹتی رہی۔ آخرکار تنگ آ کر اس نے اپنے رحم کرنے والے دل کی مان لی اور اس کا فون اٹھا لیا۔
منال اسے یقین دلانے لگی کہ اس نے ایسا کچھ بھی نہیں کیا تھا جیسا وہ سمجھتی رہی ہے۔ وہ آج بھی سچی دوستیں ہیں۔ اس کا دماغ منال کی باتوں پر یقین نہیں کر رہا تھا مگر اس کے دل نے اسے امید دلائی کہ منال اس کی پرانی دوست ہے وہ اس کے ساتھ دھوکہ نہیں کر سکتی۔ بھلا وہ اس کے ساتھ جھوٹ کیسے بول سکتی ہے..! اس نے منال کی بات کا یقین کر لیا۔ منال نے اس سے روتے ہوئے کہا وہ عاطر سے بات کرے۔ وہ سچ میں اس سے پیار کرتی ہے۔۔ اس سے کہو مجھے ان بلاک کر دے۔ اسے اپنی دوست پر رحم آ گیا۔ اس نے سوچا اتنی پرانی دوستی میں کم از کم اتنا تو حق بنتا ہے کہ وہ اس کے لیے کچھ کرے۔ اگر وہ خود شادی نہیں کرنا چاہتی تو منال کی شادی تو کروا سکتی ہے۔ اس نے فیصلہ کیا کہ وہ اس کے لیے عاطر سے بات کرے گی۔ اس نے عاطر کو فون لگایا۔ عاطر نے کہا وہ شام میں اس سے کہیں باہر مل لے۔ وہ منال کی خوشی کے لیے مان گئی۔ اسے امید تھی کہ پھر سے سب ٹھیک ہو جائے گا۔ اب اسے شام کا انتظار تھا۔
اس نے سوچا آج وہ عاطر کی تمام امیدیں توڑ دے گی اور اس پر واضح کر دے گی کہ وہ صرف مواحد سے محبت کرتی ہے اور مرتے دم تک اس سے وفا نبھانے گی۔
شام کے 7 بجے عاطر اس کے گھر کے باہر تھا۔ وہ اس کے ساتھ کار میں سوار ہوئی اور وہ اکٹھے لانگ ڈرائیو پر نکل گئے۔
اسے مسلسل مواحد کی یاد آ رہی تھی اس نے دل میں خود سے وعدہ کیا کہ وہ مواحد کے لیے ہمیشہ اپنے دل کا دروازہ کھلا رکھے گی، جب کبھی اسے سبق مل گیا اور وہ شک اور بے اعتباری کی عادت چھوڑ دے گا، تب وہ اسے اپنا لے گی۔
انہیں سوچوں میں ان کا سفر کٹ گیا اور وہ اپنے مطلوبہ ریستوران پہنچ گئے۔ کھانے کا آرڈر دینے کے بعد ان میں بات چیت شروع ہوئی۔ اس نے عاطر کو بتایا کہ منال اس سے بہت محبت کرتی ہے اور وہ اس سے بات کرنا چاہتی ہے۔۔ وہ منال کو ان بلاک کر کے اس بات سن لے۔ مزید اس نے یہ واضح کر دیا کہ وہ اسے اپنے دل یا اپنی زندگی میں، کہیں بھی جگہ نہیں دے سکتی۔ اس کے دل میں صرف اور صرف مواحد ہے اور اگر زندگی میں کبھی بھی موقع ملا تو وہ صرف مواحد سے شادی کرے گی ورنہ وہ دوبارہ کبھی شادی نہیں کرے گی۔ یہ سن کر عاطر کو کافی دکھ ہوا۔ وہ خاموش رہا کیونکہ وہ سمجھ چکا تھا کہ سامنے بیٹھی لڑکی جو بول رہی ہے وہ اس کی آخری بات ہے۔ اور اب اسے مزید قائل کرنا فضول تھا۔ دونوں نے خاموشی سے کھانا ختم کیا اور سروا گھر کو لوٹ آئی۔
وہ گھر پہنچی تو اس کے موبائل پر مواحد کی کال آنے لگی۔ اس نے پرجوشی سے اس کا فون ریسیو کر لیا۔ مواحد کی خشک لہجے میں آواز ابھری۔
”کہاں ہو..!“ وہ حیران سی ہوئی۔ ”میں گھر پر ہوں۔“
اس نے جتانے والے لہجے میں کہا۔ ”کہاں سے گھوم کر آرہی ہو..؟“
”کیا مطلب..!“ اس نے کہا۔ ”صاف بتاؤ نا..! ڈیٹ سے آرہی ہو۔“ وہ پریشان ہو گئی۔ ”تم یہ کیا کہہ رہے ہو..! میں کسی ڈیٹ پر نہیں گئی تھی۔۔ میں منال کے کہنے پر عاطر سے بات کرنے گئی تھی۔۔“
وہ بے اعتباری سے بولا۔ ”ہاں بس رہنے دیں۔۔ میں سب جانتا ہوں۔۔ یہ سب آپ کے بہانے ہیں.. میں آج ہی پاکستان پہنچا اور کچھ دیر نیند لیتے ہی سیدھا آپ سے ہی ملنے چلا آیا۔۔ کہ راستے میں میں نے آپ دونوں کو کار میں جاتے ہوئے دیکھ لیا۔۔ میں آپ کے پیچھے ہوٹل کے اندر تک آیا۔۔ مگر پھر میں نے سوچا آپ کی زندگی ہے، جب آپ فیصلہ کر ہی چکی ہو تو میں کیوں آپ کو روکوں۔۔“
وہ چلاتی رہی۔ ”ایسا کچھ بھی نہیں ہے۔۔ میری بات سنو..! میری بات تو سنو..!“ فون بند کر دیا گیا۔ وہ پاگلوں کی طرح رونے لگی اور خود کو کوسنے لگی کہ اس سے یہ کیا ہو گیا۔ وہ بیٹھی سوچنے لگی کیا اس کی دوست نے اسے جان بوجھ کر پھنسایا ہے یا یہ سب اس کی قسمت میں لکھا تھا۔
اس نے جلدی سے ماہی کو فون لگایا اور سب بتایا تو ماہی نے کہا۔ ”تم اسے ایک بار مل کر سمجھاؤ۔۔ وہ سچ میں تم سے پیار کرتا ہو گا تو تمھاری بات سمجھ جائے گا۔“
اس نے سوچا مواحد نے تو میری بات بھی سننا پسند نہیں کی تھی میں اسے کیسے خود پر یقین دلاؤں گی۔
اس نے خود کو سمجھاتے اور پھر سے امیدیں لگاتے ہوئے کار نکالی اور مواحد کے فلیٹ کی جانب رخ کیا۔ اس کی دھڑکن معمول پر نہیں تھی۔ اس کے دل میں تکلیف بھی اٹھ رہی تھی۔ وہ بے چینی میں غیر متوازن ڈرائیونگ کر رہی تھی۔ راستے میں گزرنے والے اسے کوس کوس کر گزر رہے تھے مگر اسے کسی بات کی ہوش نہیں تھی۔ وہ مسلسل رو رہی تھی، اپنے بال پیچھے کر رہی تھی اور کبھی کبھی مکے مار کر اسٹیرنگ پر غصہ بھی نکال رہی تھی۔ وہ خود کو کوس رہی تھی کہ یہ اس سے کیا ہو گیا۔ اسے سمجھ نہیں آرہی تھی کہ اس سے سب سے زیادہ بڑی غلطی کیا ہوئی۔۔ اس کا اپنی دوست کے لیے سوچنا یا ایسے انسان سے محبت کرنا جو اس پر صرف شک کر سکتا ہے۔
وہ فلیٹ کے پاس پہنچی تو اس کو مواحد کی کار باہر کھڑی نظر آ گئی۔ اس کے دل کو کچھ سکون ملا کہ اتنے ماہ بعد وہ مواحد کو دیکھ پائے گی۔ وہ فلیٹ کے دروازے پر پہنچی اور بیل کرنے لگی۔۔ دروازہ کھول دیا گیا۔ اسے دیکھ کر مواحد کے چہرے پر عجیب سے تاثرات تھے۔ ایک لمحے کو اس کی صورت پر خوشی جھلکی مگر اگلے ہی لمحے اجنبیت اور ناراضگی کی انتہا چہرے پر ٹھہر گئی۔ مواحد کچھ کہے بغیر اسے راستہ دینے کو پیچھے ہٹ گیا۔ وہ طے کر رہی تھی کہ ایسا کیا بولے جس سے اس کو خود پر یقین دلا سکے اور اس کے دماغ میں بھرا شک دور کر پائے۔
وہ اس کے پیچھے پیچھے اندر چلی آئی۔ وہ ہال میں داخل ہوا اور چپ چاپ ایک صوفے پر جا بیٹھا۔
سروا بھی اس کے تعاقب میں رہی اور اس کے بیٹھتے ہی اس کے برابر آ بیٹھی۔ ”تم آج آنے والے تھے، تم نے مجھے یہ بتایا کیوں نہیں..!“
وہ ناراضگی سے کہنے لگا۔
”میں کیوں بتاتا..! کیا میں آپ مجھے اپنی ہر بات بتاتی ہو..!“ وہ اس کی اس ناراضگی اور ضدی پن کا الگ سا انداز دیکھ کر اندر ہی اندر کٹ کر رہ گئی. اس نے مواحد کا ہاتھ پکڑ کر اسے متوجہ کیا۔
”میں تمہیں بتانے والی تھی۔۔ ایسا کیسے ہو سکتا ہے کہ میں تمہیں نہ بتاتی۔۔“
وہ چلایا۔ ”ہاں ایسا ہی ہو رہا ہے۔۔ آپ مجھ سے اپنی ہر بات چھپاتی ہو..! اور اب ہمارے بیچ کچھ بھی ویسا نہیں رہا۔“
وہ بھی غم سے چلا اٹھی۔ ”نہیں..! ایسا کچھ بھی نہیں ہے۔۔ میری بات سنو..!“ مواحد وہاں سے اٹھ کھڑا ہوا۔
”مجھے آنکھوں سے سب دیکھ لینے کے بعد کچھ بھی سننے کی حسرت نہیں ہے۔۔ آپ اس دو ٹکے کے بیوروکریٹ کے ساتھ ملاقاتیں کرو اور اپنی زندگی اپنی مرضی سے گزارو۔۔ یہ آپ کی زندگی ہے۔۔“
اس نے مواحد کا ہاتھ پکڑ کر اسے روکنے کی کوشش کی. وہ لمحے بھر کو رکا اور اس نے پیچھے مڑ کر سروا کو دیکھا۔ اسے دیکھ کر جو اس کے چہرے پر محبت در آتی تھی اب وہاں ناراضگی اور بے یقینی کے سوا کچھ بھی نہیں تھا۔ اس کے نظر انداز کرنے کے انداز نے سروا کے دل کو چیر دیا تھا۔ مواحد نے اپنا ہاتھ چھڑایا مگر وہاں سے خود کو آگے نہ لے جا پایا۔ سروا کو سمجھ نہیں آرہی تھی وہ ایسا کیا کہے کہ جس سے اسے یقین آئے۔
مواحد آگے کو بڑھ رہا تھا کہ اس نے پھر سے مواحد کا ہاتھ پکڑ کر اسے روکنا چاہا مگر وہ آگے کو بڑھ چکا تھا اس کے ہاتھ میں اب صرف اس کی انگلی آئی تھی جسے اس نے کسی امید سے پکڑے رکھا کہ شاید وہ رکے گا اور اس کی بات سنے گا۔ مواحد نے مڑ کر اس کی طرف دیکھا اور پل بھر کو کچھ سوچا پھر اس نے اجنبیت سے اپنی انگلی چھڑوا لی اور آگے کو بڑھ گیا۔
”مواحد میری بات کا یقین کرؤ..! ویسا کچھ بھی نہیں جیسا تم سمجھ رہے ہو۔۔“
اس نے بظاہر بے فکری کے انداز میں کہا۔ ”میرے کچھ بھی سمجھنے سے آپ کو فرق نہیں پڑنا چاہیے۔۔ آپ اپنی زندگی انجوائے کریں۔۔“
وہ کمرے سے باہر کو نکل گیا۔ سروا حسرت سے اسے جاتے ہوئے تکتی رہی۔ اس نے کبھی سوچا بھی نہیں تھا کہ مواحد اس سے اس طرح پیش آئے گا۔ وہ بڑی امید سے یہاں آئی تھی اب اس آخری امید نے بھی اسے دھوکا دے دیا تھا۔ اسے خود سے شکوہ ہوا کہ اسے یہاں آنا ہی نہیں چاہیے تھا۔ اسے کیوں لگا کہ وہ اس کی بات سن لے گا اور پھر سے سب ٹھیک ہو جائے گا۔ وہ آنسوؤں سے بوجھل آنکھوں کے ساتھ اٹھ کھڑی ہوئی۔ اب اس کو مواحد سے کوئی امید نہیں رہی تھی۔ وہ کار کی چابی پکڑے باہر نکل آئی۔ اس کا رخ ماہی کے گھر کی جانب تھا۔ وہ روتے ہوئے ڈرائیونگ کرتی رہی۔ ماہی کے فلیٹ کے سامنے اس کی کار رکی اور وہ ناراضگی سے اندر داخل ہوئی۔
”مجھے تمہاری بات مان کر اس سے یقین دلانے جانا ہی نہیں چاہیے تھا۔ کیونکہ جو شخص اپنی آنکھوں سے کچھ دیکھ لے اس کو کسی کی بات پر یقین آتا ہی نہیں ہے۔“
ماہی نے محبت سے اس کا ہاتھ پکڑ کر پاس بٹھایا۔ ”تم نے اپنی طرف سے آخری کوشش کرنا چاہی، اس میں کوئی حرج نہیں تھا۔ مگر وہ بدقسمت ہے جس نے تمھیں کھو دیا۔۔ لعنت ہے ایسی محبت پہ جس میں بھروسہ نہ کیا جائے۔۔ وہ تم پر شک کرتا ہے اور خود نجانے کیا کچھ کرتا رہا ہے۔ اب تم پر نظر بھی رکھتا ہے، یہ کیسا انسان ہے۔ تم نے خود کو کیوں نفسیاتی طور پر ایسے انسان کے لیے باندھ رکھا ہے جو محبت کے کیا دوستی کے بھی لائق نہیں۔“
ماہی کی باتیں سن کر وہ ایک دم خاموش سی ہو گئی۔ ماہی اس کے لیے پانی لے کر آئی۔ سروا چپ چاپ پانی پینے لگی۔ ”دیکھو ایک نفسیاتی مریض کے ساتھ رہ کر انسان خود بھی نفسیاتی مریض بن جاتا ہے۔۔ یہ وقتی طور پر تمہارے جذبات ہیں جو ایک دو دن میں ختم ہو جائیں گے۔ ایک وہمی اور شکی مرد کے ساتھ رہنا انتہائی اذیت ناک ہے۔۔ میں تمہیں ایک اچھی دوست ہوتے ہوئے یہی مشورہ دوں گی کہ تم اس سے دور رہو۔“
اس نے سروا کو شانت پڑتے دیکھ کر یاد دلایا آج منال کی سالگرہ ہے۔ اس کے گھر پر پارٹی ہے اور وہ بھی انوائٹڈ تھی مگر اسے دوستوں کی پرواہ نہیں ہے۔
ماہی کے کہنے پر وہ تیار ہوئی اور وہ دونوں منال کے گھر پہنچ گئیں۔ اس کے گھر پر اچھا خاصا پارٹی کا انتظام تھا۔ تیز میوزک کے ساتھ کافی رونق لگ چکی تھی۔ راستے سے سروا نے اس کے لیے گفٹ لے لیا تھا۔ اب وہ بظاہر مسکراتے ہوئے مگر اترے ہوئے چہرے کے ساتھ خود کو پارٹی میں شریک کرنے کی کوشش کر رہی تھی۔ منال اس سے پوچھ رہی تھی کہ سب ٹھیک تو ہے مگر وہ اسی کی خوشی کے موقع پر اسے کچھ بھی بتانے سے پرہیز کر رہی تھی۔ میوزک نے ماحول گرم کر رکھا تھا۔ منال نے سروا کو غمگین دیکھ کر ماہی کو مشورہ دیا جس پر اس نے سروا کے جوس میں ہلکا سا نشہ ملا دیا تاکہ وہ سب بھول کر ان کے ساتھ پارٹی میں مست ہو جائے۔ سروا نے بے خیالی میں جوس پی لیا۔ کچھ ہی دیر میں وہ سب بھلا کر مستی میں ان کے ساتھ شریک ہو گئی مگر اس کی آنکھوں سے غم اور اذیت عیاں تھی۔ منال سگریٹ پی رہی تھی اس کی دیکھا دیکھی پہلی بار سروا نے بھی سگریٹ سلگا لی۔ منال کو حیرانی تھی کہ اتنے سالوں میں آج تک وہ سروا کو سگریٹ پینے پر مجبور نہیں کر سکی اور آج اس نے خود ہی اس زہر کو قبول کر لیا۔ اسے دل ہی دل میں کچھ رنج ہوا تھا مگر وہ ڈھیٹ بن کر مسکراتی رہی۔
سروا سگریٹ پیتے ہوئے دیوار کے ایک کونے کو تکتی ہوئی کچھ سوچتی جا رہی تھی۔ منال کو لگا شاید وہ اپنے غم کو محسوس کر رہی ہے اس نے سروا کا ہاتھ پکڑا اور اپنے ساتھ رقص میں شریک کیا۔ دونوں نے رقص کیا اور سروا پھر سے صوفے پر جا بیٹھی۔ وہ مسلسل کسی اور ہی کیفیت میں تھی۔ منال نے کہا۔
” آج تم بہت زیادہ ڈسٹرب لگ رہی ہو۔۔ ایسا کرو تم رات یہیں رک جاؤ۔۔ میں تمھیں نیند کی گولی دیتی ہوں تم اسے کھا کر سو جاؤ۔۔ “ سروا نے خاموشی سے سر ہلا دیا۔ وہ اس کے ساتھ اس کے بیڈ روم میں چلی آئی۔ منال نے اسے نیند کی گولی اور پانی کا گلاس دیا اور وہاں سے باہر نکل گئی۔ اس کا ذہن کہیں اور تھا۔ اس نے منال کو نیند کی گولیاں کی تلاش کرتے ہوئے اس کی الماری کی دراز میں پستول پڑی دیکھ لی تھی۔
نشے میں وہ صرف یہی سوچ رہی تھی کہ اس کو اب اس دنیا میں رہ کر کیا کرنا ہے۔ اب اس دنیا میں اس کے لیے کچھ بھی نہیں بچا۔ پہلے مواحد کی دوستی ہی اس کے لیے تنہائی میں آسرا تھی مگر اب تو اس نے اسے چھوڑ دیا تھا۔ وہ تنہا جی کر کیا کرے گی۔۔
اس نے خود کو یقین دلانا چاہا کہ وہ تنہا نہیں ہے۔ اس کی سہیلیاں اس کے ساتھ ہیں۔ وہ کسی امید سے وہاں سے اٹھی اور ہال کو چلی آئی جہاں پارٹی چل رہی تھی۔ اسے دور سے ماہی اور منال صوفے پر بیٹھی نظر آئیں۔ اس کی جانب ان کی پشت تھی۔ وہ ان کی جانب بڑھ رہی تھی کہ اس کے کانوں میں ان کی آوازیں ٹکرائیں۔
”اچھا ہوا اسے پتہ نہیں چلا کہ مواحد کو ساری خبریں تم دیتی تھی ورنہ تم تو اسے جانتی ہو۔۔“ ماہی نے منال کو ڈرایا تھا۔ منال بے رحمی سے مسکرائی۔ ”اسے چھوڑو اور یہ دیکھو کہ میں نے اس سے کیسا بدلا لیا۔۔ عاطر نے اس کے لیے مجھے چھوڑا اور میں نے مواحد کو اس سے دور کر دیا۔۔ میرا تو ایک ہی اصول ہے کسی کو خود سے آگے نہیں نکلنے دینا چاہے اس کا کتنا ہی نقصان کرنا پڑے۔“ وہ خوب ہنسی تھی۔ ماہی اس کامنہ دیکھتی رہ گئی تھی۔ ”ہو سکتا ہے کل تک مواحد اس سے خود ہی صلاح کر لے۔۔“ منال نے قاتل یقین سے نفی میں سر ہلایا تھا۔ ”ایسا ممکن ہی نہیں۔۔ وکیل میرے ہاتھوں کی کٹ پتلی ہے وہ وہی سمجھتا ہے جو میں اسے بتاتی ہوں۔ اس کے دماغ سے کھیلنا میں خوب جانتی ہوں۔۔ وہ اب کبھی سروا پر یقین نہیں کرے گا۔“
سروا ان کی باتیں سن کر اندر ہی اندر خون کے آنسو رو رہی تھی۔ وہ ان سے کچھ کہے بغیر وہیں سے پلٹ گئی اور کمرے میں لوٹ آئی۔ اس پر آج دوستی کی حقیقت بھی آشکار ہو چکی تھی۔ اب اسے کوئی وہم نہیں تھا۔ نہ ہی کوئی ادھ موئی سی کوئی امید بچی تھی۔ وہ خود پر ہنستی چلی جا رہی تھی۔
نشے کا سب سے برا نقصان یہ ہے کہ انسان اس میں وہ بھی کرنے لگتا ہے جو اپنی ہوش میں کرنے کا وہ سوچ بھی نہیں سکتا۔ نشہ انسان کو تمام حدود سے باہر نکال لاتا ہے وہ بھی آج اپنی حدود سے باہر نکل آئی تھی۔ آج اس کی تمام امیدیں ٹوٹ چکی تھیں۔ اسے امیدوں نے جو دھوکہ دیا تھا اس کے بعد وہ کبھی کسی امید نامی احساس سے نہیں ملنا چاہتی تھی۔
اس نے دراز کھولی اور پستول نکال کر اسے کسی آخری امید سے دیکھا تھا۔ وہ اسے لے کر صوفے کے قریب آئی اور بازو پھیلائے ٹیک لگا کر بیٹھ گئی۔
اسی لمحے اسے مواحد کا محبت سے دیکھنا یاد آیا تھا۔ اس نے بے چینی سے پستول کو دیکھا تھا اور پھر وہ اپنی گود میں رکھ لی۔ وہ پھر سے خود پر ہنسنے لگی تھی۔
اچانک اسے مواحد کا ناراضگی سے دیکھنا یاد آیا۔ اس کا دل گھٹنے لگا۔ اس نے کانپتے ہاتھوں سے پھر سے پستول پکڑ لی۔ اسے کچھ ہوش نہیں تھی کہ وہ کیا کر رہی ہے وہ خیالات میں کھوئی ہوئی تھی۔ اس کو لگنے لگا وہ مواحد کے گھر میں ہے۔ اس کی آنکھوں کے سامنے کچھ گھنٹوں پہلے کا منظر چل رہا تھا۔
اس نے مواحد کا ہاتھ پکڑ کر اسے روکا تھا مگر وہ اپنا ہاتھ چھڑا کر آگے کو بڑھ گیا تھا۔ اس نے حسرت سے اس کی انگلی کو پکڑا تھا۔ چند لمحوں بعد اس نے اپنی انگلی بھی چھڑا لی تھی۔ وہ حسرت سے اسے کمرے سے باہر نکلتا ہوا دیکھتی رہ گئی۔ آج دھوکے باز امیدیں بھی اس سے ڈر کر کہیں چھپ گئی تھیں۔
وہ صوفے سے ٹیک لگائے ہنستی رہی۔ پھر اس نے پستول کی نالی اپنی کنپٹی پر رکھی اور ایک لمحے میں اس کا ٹریگر دبا ڈالا۔ اگلے ہی لمحے پستول اس کے ہاتھ سے نکل کر گر چکی تھی۔

Exit mobile version