تاریخ قوم کا وہ اثاثہ ہے کہ جس سے نئی نسل کے لیے لائحہ عمل طے ہوتا کیا جاتا ہے، قوم کی بقا کے لیے اس کی تاریخ اتنی ہی اہمیت کی حامل ہے جتنا مچھلی کے لئے جل، اقوام کی کامیابی کا انحصار اس بات پر ہے کہ انہوں نے تاریخ سے کیا سیکھا۔ یہودیوں کی کامیابی میں بڑا ہاتھ ان کی تاریخ سے واقفیت ہے۔ انگریز نے بھی تاریخ کو پیچھے چھوڑنے کے بجائے ساتھ لے کر چلنے اور اس پر مسلسل تحقیق کرنے میں ہی اپنی عافیت جانی
اگر ہم بطور مسلمان اپنا موازنہ مغرب سے تاریخ و تحقیق کے مقابلے میں کریں تومغرب ہمیں خود سے اونچا دکھائی دے گا اور اس فرق کی ایک وجہ یہ ہے کہ مغرب میں تاریخ کو محض سبجیکٹ نہیں سمجھا گیا اور دوسری وجہ یہ ہے کہ مغرب نے تحقیق کا سلسلہ بند نہیں کیا بلکہ وقت کے ساتھ ساتھ تحقیق کرنے کا معیار بہتر ہوتا چلا گیا جس کی وجہ سے انہوں نے تاریخ میں چھپے ہوئے رموز حاصل کیے اور اور اس سے فائدہ اٹھایا۔اس معاملے میں مغرب کی کامیابی کی ایک وجہ یہ بھی ہے کے تاریخ کو پچھلی نسلوں تک محدود نہیں رکھا گیا بلکہ آنے والی ہر نسل میں منتقل کیا جاتا رہا۔
کسی بھی قوم کی بالادستی اسی وقت ممکن ہے جب وہ قوم سنجیدگی سے کامیابی کے بارے میں نہ صرف سوچے بلکہ عملی قدم بھی اٹھائے اور کامیاب ہونے کے لئے تاریخ میں ہونے والی غلطیوں سے سیکھا جاتا ہے اور اچھائیوں کو مزید بہتر بنانے کے لیے نئے دور کے مطابق قواعد و ضوابط مقرر کیے جاتے ہیں اور آج دنیا کی بہترین قوموں کی کامیابی کے رازوں میں سے ایک راز یہ بھی ہے۔ مگر صد افسوس کے ہم نے بحیثیت مسلمان اور پھر قوم ہونے کے ناطے اپنی اپنی اسلامی اور قومی تاریخ کو یکسر فراموش کر دیا ہے۔
ہماری تاریخ اب صرف چند مخصوص طبقوں تک محدود رہ گئی ہے یا پھر صرف ایک سبجیکٹ کے طور پر جانی جاتی ہے اور سبجیکٹ بھی وہ جسے پروفیشنل ورلڈ میں وہ حیثیت و اہمیت حاصل نہیں جو دوسرے سبجیکٹس کو حاصل ہے۔جبکہ غیر مسلم ممالک میں تاریخ کو وہی حیثیت حاصل ہے جو تحقیق کے دوسرے سبجیکٹس کو حاصل ہے بلکہ یہ کہنا غیر مناسب نہ ہو گا کہ غیر مسلم ہماری تاریخ کے بارے میں ہم سے زیادہ جانتے ہیں اور اس بات کی گواہ وہ موویز ہیں جو انہوں نے اسلامی شخصیات اور ہماری قومی شخصیات پر بنائی ہیں۔
مزید پڑھیں: آزادی کا جھنڈا
ہم ان فلموں کو دیکھ کر بہت خوشی کا اظہار کرتے ہیں کہ دیکھو انگریز نے ہمارے اسلامی ہیرو پر مووی بنائی۔مگر یہ توفیق ہمیں خود سے نہ ہوئی کیونکہ اس عمل کے لیے ایک بہترین قسم کی تاریخی ریسرچ کی ضرورت ہوتی ہے جو کہ شاید ہمارے بس کا کام نہیں۔ پرائمری یا سیکنڈری کا نصاب ہو یا پھر مختلف شعبوں سے تعلق رکھنے والے فیلڈ ایکسپرٹس کی بات ہو۔ ہمیں اپنی تاریخ دم توڑتی ہوئی محسوس ہوتی ہے۔ پاکستان بننے کے بعد سے لے کر اب تک ہمارے کتنے فوجی جوان شہید ہوچکے ہیں اس تعداد کا اندازہ شائد ہی کسی پاکستانی شہری کو ہو، چند اسلامک ہیروز کے علاوہ تاریخ کے بڑے بڑے نام آج بھی تاریخ کے پردے میں پوشیدہ ہیں۔ ہم وہ نااہل ہیں کہ ہم میں سے اکثریت نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی پوری سیرت مبارکہ بھی آج تک نہیں پڑھی۔
دور حاضر کے فتنوں کا مقابلہ کرنے کے لیے یہ بات انتہائی ضروری ہے کہ ہمیں اپنی مذہبی اور قومی تاریخ کے بارے میں پوری واقفیت حاصل ہو اور یہ اس وقت ممکن ہوگا جب ہم تعلیمی نصاب میں تاریخ کو اہمیت دینے کا انتظار کرنے کے بجائے بذات خود عملی طور پر تاریخ کو پھیلانے میں اپنا کردار ادا کریں۔ اس ضمن میں سب سے پہلی ذمے داری تو تعلیمی پالیسی بنانے والوں کی ہے مگر چونکہ وہ غفلت کی گہری نیند میں خواب خرگوش کے مزے لوٹ رہے ہیں لہٰذا ان سے توقع لگانے کے بجائے ہمیں یہ ذمہ داری اپنے کندھوں پر اٹھانی ہوگی۔ یہاں قوم کے والدین سے درد مندانہ اپیل ہے کہ جہاں والدین بچوں کو بہترین مستقبل اور تعلیم دینے کی فکر میں عملی طور پر مصروف رہتے ہیں وہیں کچھ وقت روزانہ نہیں تو ہفتہ وار بنیاد پر بچوں کو تاریخ سنانا اور سمجھانا شروع کریں۔
مزید پڑھیں: آزادی کی قیمت
ہم کون تھے، ہمارے آباؤ اجداد کون تھے اور ہمارے مذہبی و قومی اقدار کیا ہیں۔ یہ سب ہمیں اپنے بچوں کو بتانا ہوگا اور اس اقدام کے لئے ضروری ہے کہ پہلے ہم خود تاریخ کا مطالعہ شروع کریں کیونکہ جو قومیں اپنی تاریخ بھول جاتی ہیں وہ دنیا میں ذلیل و خوار ہو جاتی ہیں۔ اس ضمن میں ایک اور بات انتہائی ضروری ہے کہ آپ کو تاریخ کا مطالعہ کر رہے ہو یا بچوں کو تاریخ کے بارے میں بتا رہے ہوں، ہمیشہ مستند کتابوں کا سہارا لیں اور اگر آپ نیٹ کے ذریعے تاریخ کے بارے میں جاننا چاہتے ہیں تو وہاں بھی مستند ویب سائٹس کا ہی روخ کریں کیونکہ غلط معلومات رکھنا، معلومات نہ رکھنے سے زیادہ خطرناک ہے۔
نوٹ: رائٹرز کلب اور اس کی پالیسی کا اس تحریر کے خیالات سے متفق ہونا ضروری نہیں۔ اگر آپ بھی ہمارے لیے اردو بلاگ لکھنا چاہتے ہیں تو قلم اٹھائیے اور تحریر اپنی تصویر، مکمل نام، فون نمبر، فیس بک اور ٹوئٹر آئی ڈیز اور اپنے مختصر مگر جامع تعارف کے ساتھ writerscpk@gmail.com پر ای میل کردیجیے۔

