کسی بھی معاشرے میں صحت کا شعبہ نہایت اہمیت کا حامل ہوتا ہے پاکستان ایک ترقی پذیر ملک ہے جو کہ کئی شعبوں میں جدوجہد کررہا ہے عالمی ادارہ صحت کی ایک رپورٹ کے مطابق صحت کی سہولیات کی فراہمی کی کارکردگی رپورٹ میں دنیا کے 190ممالک میں سے پاکستان کا نمبر 122واں ہے جبکہ لانسیٹ کی ایک تحقیق کے مطابق پاکستان میں صحت کی دیکھ بھال کے معیار اور رسائی کے لحاظ سے دنیا کے 195ممالک میں سے پاکستان کا نمبر154ہے، انسانی حقوق کی پیمائش کے اقدام سے پتہ چلتا ہے کہ پاکستان کو اپنی آمدنی کا سطح کی بنیاد پر شعبہ صحت کے لیئے جتنے فیصد خرچ کرنا چاہیے اس کا ستر فیصد بھی خرچ نہیں ہو پا رہا صحت کی خدمات کے حوالے سے بڑہتے ہوئے مسائل اور ان کے حل کے لیئے اقدامات اور آگاہی کو مدنظر رکھتے ہوئے ایک باڈی بنام وزار ت قومی صحت کی خدمات، ضوابط اور رابطہ کاری 2011 میں قائم کی گئی، اس باڈی کے قیام کا بنیادی مقصد ایک ایسا نظام صحت فراہم کرنا تھاجو موثر، مساوی اور سستی صحت کی خدمات تک رسائی فراہم کرسکے عوامی صحت کے شعبے میں قومی اور بین الاقوامی ہم آہنگی کے ساتھ ساتھ آبادی کی بہبود و کوآرڈینشن بھی کرے، اس کے علاوہ شہری اور دیہی علاقوں میں صحت کی سہولیات کی فراہمی میں عدم توازن پر بھی کام کرے، سانس کی بیماری، ملیریا، ہیپاٹاءٹس و دیگر متعدی بیماریاں ہمیشہ پاکستان میں اموات کا سبب بنتی ہیں اوراب بیماریوں کے پھیلاو کی بڑی وجہ آبادی سے بھر ے شہر،پینے کا غیر محفو ظ پانی، ناکافی صفائی، ناقص سماجی و اقتصادی حالات، صحت سے متعلق کم آگاہی اور ناکافی ویکسینیشن و کوریج وغیر ہ شامل ہے.
ٹرانسپیرنسی انٹرنیشنل کی رپورٹ کے مطابق پاکستان میں صحت کی دیکھ بھال کو ملک کے بدعنوان ترین شعبوں میں سے ایک کے طور پر شناخت کیا جاتا ہے سروے کے حساب سے پاکستانیوں کی اکثریت صحت کی سہولیات سے ناخوش ہے، پاکستان میں صحت کی منتقلی کے عنوان کے نام سے مضامین کی سیریز میں کہا گیا ہے کہ پاکستان کا صحت کا شعبہ ثقافتی، اقتصادی اور جغرافیائی مماثلت کے ساتھ خطے کے بارہ ممالک سے پیچھے ہے.
پاکستان میں صحت کا کوئی قومی نظام نہیں ہے اور 80 فیصد کے قریب پاکستانی آبادی صحت کے اخراجات خود ادا کرتی ہے یہ پوری دنیا کا واحد ملک ہے جس کے پاس قومی صحت کی وزارت ہی نہیں ہے آئی ار آئی این نے صحت کی تشخیص کے لیے جن چار بڑے چیلنجز کا انتخاب کیا اس کے مطابق پاکستان میں بچوں کی بقا کے لیئے درپیش چیلنج کو سب سے تباہ کن اور بڑے پیمانے پر صحت عامہ کے ناقص انتظامات کا شکار اور انسانی بحران قرار دیا گیا جبکہ ایک اندازے کے مطابق ہر سال 5 سال سے کم عمر کے 423000 بچے صحت کی سہولیات کی عدم فرہمی اور ناقص انتظامات کی وجہ سے مرجاتے ہیں جن میں سے آدھے نئے پیدا ہونے والے بچے ہوتے ہیں جو کہ لمحہ فکریہ ہے، یہ ساری باتیں، ریسرچ یا تفصیلات بتانے کا مقصد صرف یہ تھے کہ صحت جیسے اہم شعبے کو ہمارے ملک میں بالکل بھی اہمیت نہیں دی جاتی پورے پاکستان کے سرکاری اسپتالوں کا حال کسی سے ڈھکا چھپا نہیں ہے اور پرائیویٹ ہسپتال تو مذبح خانے بنے ہوئے ہیں۔ چند روز قبل میری معصوم بیٹی کی رات کا اچانک طبیعت خراب ہوگئی تو اس کو لیکر اسپتال گیا۔
کراچی جیسے بڑے شہر کے بڑے اسپتال ڈاءو یونیورسٹی اسپتال جو کہ میری رہائش گاہ سے قریب ہے وہاں گیا، ٹراما سینٹر کی نئی بلڈنگ میں نئی بنی ہوئی ایمرجنسی کو دیکھ کر خوشی ہوئی کہ امید ہے یہاں کوئی اچھا ڈاکٹر ہوگا اور میری بیٹی کو بہترین طبی سہولیات ملیں گی اور وہ ٹھیک ہوجائے گی لیکن میں حیران ہوگیا کہ ڈاو یونیورسٹی اسپتال میں رات کے 3 بجے ایمرجنسی میں کوئی بھی ڈاکٹر موجود نہیں تھا بلکہ دیگر جونیئر اسٹا ف ہی سینئر ڈاکٹر بنے ہوئے تھے کافی شور شرابے کے بعد ایک لیڈی ڈاکٹر کو بلایا گیا تو محترمہ نے فارمیلیٹی پوری کر نے کے لیئے بچی کو دیکھا اور کاغذ پر چند ادویات لکھ کر دیں اور کہا ہماری فارمیسی سے لے آئیں جب میں ڈاو ایمرجنسی کی فارمیسی میں گیا تو کاءونٹر پر موجود خاتون نے پرچے دیکھنے کے بعد مجھے کہا کہ ان میں سے کوئی بھی دوائی ہمارے پاس نہیں ہے ڈاکٹر صاحبہ سے متبادل لکھوا کر لے آئیں جب میں دوبارہ ڈاکٹر سے ملنے کے لیا گیا تو پتا چلا کہ ڈاکٹر صاحبہ آئی سی یو میں چلی گئی ہیں کیونکہ اتنے بڑے اسپتال میں اس وقت ایک ہی قابل خاتون ڈاکٹر ہیں جو سارے اسپتال کے مریضوں کو دیکھ رہی ہیں۔
جب میں نے ساری بات وارڈ بوائے کو بتائی اور کہا کہ ڈاکٹر صاحبہ سے ادویات دوسری لکھوادیں تو انہوں نے کہا کہ آپ باہر سے کہیں ڈھونڈ کر لے آئیں وہ اب نہیں آئیں گی، بچی مسلسل رو رہی تھی اس وقت صبح کے چار ہورہے تھے، میمن میڈیکل انسٹی ٹیوٹ اسپتال کی فارمیسی میں گیا وہاں ادویات نہیں ملیں اس کے علاوہ یونیورسٹی روڈ پر بنے دیگر چھوٹے اسپتالوں کے بھی چکر کاٹتا رہا نہ ہی کسی اسپتال میں ڈاکٹر تھا اور نہ ہی کوئی ایسی سہولیات تھیں ، تھک ہار کر گھر آگیا اور گھر میں گھریلو ٹوٹکوں سے ہی بچی کا علاج کیا اور کچھ گھنٹوں کے بعد اس کو آرام آ گیا، پرائیویٹ اسپتال کے اخراجات برداشت کرنا عام انسان کے بس کی بات نہیں ہے جبکہ سرکاری یا نیم سرکاری اسپتالوں میں سہولیات کا فقدان ہے نہ جانے کس ذہنیت کے لوگ ہیں جو اسپتالوں کی بلڈنگز بنانے پر تو پیسے خرچ کردیتے ہیں لیکن عوام کو سہولیات فراہم کرنے کی جانب ان کی کوئی توجہ نہیں ہوتی۔
کراچی جیسے بڑے شہر میں یہ حال ہے کہ عام انسان ایمرجنسی میں صحت کی سہولیات سے محروم ہے تو چھوٹے شہروں ، گوٹھوں اور دیہاتوں کا کیا حال ہوگا، بدقسمتی سے اس ملک میں پہلے دن سے ہی صحت کے شعبے کو سنجیدگی سے نہیں لیا گیا خاص طور پر صوبہ سندھ میں تو صحت کے نام پر لوٹ مار اور کرپشن کے ریکارڈ بنائے گئے، سرکاری ہسپتالوں میں گندگی، ادویات کی کمی، ڈاکٹرز کا نہ ہونا معمول کی بات ہے جبکہ پبلک و پرائیویٹ پارٹنر شپ کے تحت چلنے والے ہسپتالوں کا بھی برا ہی حال ہے نہ جانے کیسے لوگوں نے اس مقدس پیشے اور کاروبار بنا لیا ہے ڈاکٹر کو تو مسیحا کہا اور سمجھا جاتا تھا لیکن آج کے دور میں ڈاکٹرز قصائیوں سے بدتر ہوچکے ہیں شاید ہی اس ملک میں کبھی صحت کی سہولیات کی فراہمی کے لیئے کوئی نظام بن سکے۔

