Site icon Writers Club Pakistan

شرم و حیاء اور جدت پسندی

پہلے تو ہمیں اپنے علم میں اضافہ کرنا چاہیے اور اس بات کو سمجھ لینا چاہیے کہ جدیدیت اور مغربیت دو الگ الگ چیزیں ہیں۔ مغربیت درحقیقت زمانہ جاہلیت کی روشن مثال ہے جبکہ اسلام نہ صرف جدید کاری کو قبول کرتا ہے بلکہ اس کی حوصلہ افزائی بھی کرتا ہے کیونکہ جدت پسندی بذات خود ایک مستحسن جذبہ اور انسان کی ایک فطری خواہش ہے، اگر یہ جذبہ نہ ہوتا تو انسان پتھر کے زمانے سے ایٹم کے دور تک نہ پہنچتا۔ اس لیے جدت پسند ہونا اور مغرب زدہ ہونا دو الگ مطلب ہے۔ اور شَرم و حیا ایسا وصف ہے جو صرف انسان میں پایا جاتا ہے۔ یہ جانور اور انسان کے درمیان وجہِ امتیاز اور ان دونوں میں فرق کی بنیادی علامت ہے۔

اگر لب و لہجے، حرکات و سکنات اور عادات و اطوار سے شرم و حیا رخصت ہو جائے تو باقی تمام اچھائیوں پر خود بخود پانی پھر جاتا ہے اور یہ دیگر تمام نیک اوصاف کی موجودگی کے باوجود اپنی وَقعت کھو دیتے ہیں۔ جب تک انسان شرم وحیا کے حصار میں رہتا ہے ذلت و رسوائی سے بچا رہتا ہے اور جب اِس قلعے کو ڈھا دیتا ہے تو پھر گھٹیا و بدترین کام بھی بڑی ڈھٹائی کے ساتھ کرتا چلا جاتا ہے۔رسولِ خدا صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم نے اسی لئے ارشاد فرمایا: جب تجھ میں حیا نہ رہے تو جو چاہے کر۔ (صحیح البخاری)

معلوم ہوا کہ کسی بھی بُرے کام سے رکنے کا ایک بڑا سبب شرم و حیا بھی ہے۔ شرم و حیا سے لاتعلقی کی وجہ کر معاشرہ بے شمار خرابیوں کا شکار ہوتا جا رہا ہے، جس میں بچوں اور بچیوں کے ساتھ اجتماعی زیادتیاں، زنا، زنا کے بعد قتل، فحش تصاویر بنوانا، ویڈیوز بناکر فروخت کرنا جیسی وارداتیں شامل ہیں جن میں ہر آنے والے دن کے ساتھ ہوش ربا اضافہ ہورہا ہے۔

الیکٹرانک اور آزاد سوشل میڈیا نے تو خواتین کو نہ صرف حد سے زیادہ بے باک کردیا ہے بلکہ اب تو ان کے لباس بھی یا تو اُتر گئے ہیں یا ایسے ہوگئے ہیں جس پر بے لباسی بھی شرما جائے۔ بے لباسی شیطان کا وہ حربہ ہے جس کے بعد کسی بھی معاشرے میں ایسی بڑی بڑی خرابیاں جڑ پکڑ جاتی ہیں کہ پورا معاشرہ سیاہ رو ہوکر رہ جاتا ہے ۔ یہی وہ شیطانی حربہ ہے جس نے آدمؑ و حواؑ کو جنت سے زمین پر اتر جانے پر مجبور کیا۔

ارشادِ باری تعالیٰ ہے: ’’پھر جب انھوں نے اس درخت کا پھل چکھ لیا تو ان کی شرم گاہیں ان کے سامنے بے پردہ ہوگئیں اور وہ اپنے آپ کو باغ کے پتوں سے ڈھانکنے لگے۔‘‘ (الاعراف)

اسلام کہیں بھی عورت و مرد کے اختلاط اور مغربی طرز کو پسند نہیں کرتا، لیکن زندگی میں ایسا وقت ضرور آتا ہے جب کسی عورت کو کسی مرد سے، اور کسی مرد کو کسی عورت سے بات کرنا ضروری ہوجائے۔ ایسے وقت کے لیے بھی قرآن اور حدیث میں حیا و شرم کے پہلو کو سامنے رکھ کر خواتین و حضرات کے لیے طریقہ کار متعین کردیا گیا ہے تاکہ دونوں کے بیچ کوئی خرابی پیدا نہ ہوسکے اور اُس وقت کی ضرورت بھی پوری ہوجائے۔

اگر کبھی کسی خاتون کو مرد سے بات کرنا پڑجائے تو اُس کا انداز کیا ہونا چاہیے، اس کو کچھ یوں سمجھیے: ’’موسیٰ علیہ السلام نے مدین کے کنویں پر جن دو لڑکیوں کی بکریوں کو پانی پلایا تھا، ان میں سے ایک جب انھیں (موسیٰ ؑکو) اپنے باپ کے پاس لے جانے کے لیے بلانے آئی تو اُس وقت اُس کے آنے میں حیا کی جو صفت نمایاں تھی، قرآن نے درج ذیل الفاظ میں اس کا ذکر کچھ یوں کیا ہے: ’’پس ان میں سے ایک شرماتی ہوئی آئی، کہا کہ میرے والد آپ کو بلاتے ہیں تاکہ جو پانی آپ نے ہماری خاطر پلایا ہے، اس کا آپ کو صلہ دیں۔ (القرآن)‘‘

حضرت موسیٰؑ نے ان کی بات سننے کے بعد کہا کہ ٹھیک ہے لیکن میں آگے چلوں گا اور تم مجھے میرے پیچھے سے راستہ بتانا۔ دیکھیے مردانہ شان۔ انھیں یہ گوارہ نہ ہوا کہ ان سے آگے کوئی خاتون ہو اور وہ شرم و حیا کی وجہ سے شرماتی اور لجاتی رہے۔ مردانہ شرم و حیا کا تقاضا تھا کہ کسی دوسرے کی حیا کا خیال کیا جائے، یہ بات ایک پیغمبر کیسے نہیں جانتا ہوگا! اس میں تمام مردوں کے لیے بھی ایک تعلیم پوشیدہ ہے کہ وہ دوسروں کی اور خود اپنی حیا کا خیال رکھا کریں۔ اس طرح معاشرے میں پاکیزگی کو عام کیا جاسکتا ہے۔

Exit mobile version