رُخصت ہوا تو ہاتھ ملا کر نہیں گیا
وه کیوں گیا ہے یہ بھی بتا کر نہیں گیا
یوں لگ رہا ہے جیسے ابھی لوٹ آئے گا
جاتے ہوۓ چراغ بجھا کر نہیں گیا
شاید وه مل ہی جائے مگر جُستجو ہے شرط
وه اپنے نقشِ پا کو مٹا کر نہیں گیا
ہر بار مجھ کو چھوڑ گیا اِضطراب میں
لوٹے گا کب؟ کبھی وه بتا کر نہیں گیا
رہنے دیا نہ اُس نے کسی کام کا مجھے
اور خاک میں بھی مجھ کو ملا کر نہیں گیا

