پاکستان کا سب بڑا، سنگین اور اہم مسئلہ غربت ہے۔ اپنے چاروں اطراف طائرانہ نظر ڈالیں تو ہمیں بے شمار ایسی کہانیاں دیکھائی دیں گئی۔
جو غربت کی چکی میں پس کر اپنی زندگی کے کھٹن دن کاٹ رہے ہیں۔ جن کے چہروں سے ان کی بے بسی کے آثار صاف واضح ہوتے ہیں کہ اس مشکل زندگی کے کٹھن لمحات کو کاٹنے کے لیے ان کے پاس دو وقت کی روٹی بھی میسر نہیں ہے۔ ان کی آنکھیں چیخ چیخ کر بتا رہیں ہوتی ہیں وہ کئی کئی دنوں سے بھوکے ہیں۔ کئی کئی دنوں سے انہوں نے کچھ نہیں کھایا۔
لیکن کوئی ہے احساس کرنے والا؟ کوئی ہے ان کا خیال کرنے والا؟ کوئی ہے ان کے لیے دو وقت کی روٹی کا بندوبست کرنے والا؟
غربت ایسا سنگین مسئلہ ہے جو انسانی زندگی سے خوشیاں اور سکون دیمک کی طرح چاٹ جاتی ہے۔ جب سر پر بھوک منڈلا رہی ہو اور بنیادی ضروریات کو پورا کرنے کے لیے معقول وسائل بھی موجود نہ ہو تو خوشحال زندگی کسی دیوانے کا خواب معلوم ہوتی ہے۔
یہ غربت ہی تو ہے جو کئی جرائم کو جنم دیتی ہے۔ یہ غربت ہی تو ہے جو کئی مسائل کو جنم دیتی ہے۔ جہالت، معاشرتی و اقتصادی پسماندگی کی جڑ یہ غربت ہی تو ہے۔
غربت ہمارے معاشرے کا ایسا ناسور ہے۔ جو انسان سے ایسے ایسے کام کروا جاتی ہے جس کا بھی تصور بھی نہیں کیا ہوتا۔
اب ایسی سینکڑوں خبریں ہمارے معاشرے کا حصہ بن چکی ہے۔ کبھی ہم سنتے ہیں کہ غربت سے تنگ آکر والد نے اپنی اولاد کو قتل کردیا کیونکہ وہ اپنے بچوں کو بھوک سے روتا، بلکتا ہوا نہیں دیکھ سکتا تھا۔ اکثر سننے کو ملتا ہے کہ ماں نے بھوک کی وجہ سے بچوں کو دریا میں پھینک دیا۔
کبھی دیکھنے میں آتا ہے ننھے ننھے ہاتھ جن کو قلم پکڑنا چاہیے تھا وہ کسی ہوٹل میں برتن مانجھ رہے ہوتے ہیں یا گاڑیوں کے شیشے صاف کر رہے ہوتے ہیں۔ جو والدین اپنی غربت کو چند پل مٹانے کے لیے اپنے بچوں کو ان کی پڑھنے کی عمر میں کام کاج پہ بھیج دیتے ہیں۔ ایک دن آتا ہے وہ ہی بچے اس ظالم معاشرے میں کبھی جنسی تشدد کا شکار ہوجاتے ہیں تو کبھی وہ خود غلط سوسائٹی میں پڑ کر معاشرے کے لیے وبال جان بن جاتے ہیں۔
غربت پر قابو پائے بغیر کسی بھی معاشرے کا ترقی کی راہ پر گامزن ہونا ممکن نہیں۔ غربت زدہ معاشرے میں سب سے زیادہ مظلوم طبقہ یہ معصوم بچے ہی ہیں جواپنی زندگی کی بنیادی ضروریات اور والدین کی عدم توجہ کے باعث شخصیت سازی سے محروم رہ جاتے ہیں۔ جو معاشرے میں بگاڑ کا باعث بنتے ہیں۔ جس کا اثر ان کے آنے والے کل پر ہوتا ہے جس کی وجہ سے ان کی آنے والی نسلیں میں متاثر ہوتی ہے۔
ستم تو یہ ہے کہ کچھ مہینوں سے کرونا کی وبا کی وجہ سے لاک ڈاون ہونے کی صورت میں ہماری معیشت پر بھی بہت برا اثر پڑا۔ جس کی وجہ سے متوسط طبقہ تو پھر بھی اپنی زندگی کی گاڑی کو گھسٹتا رہا۔ لیکن بے چارہ یہ غریب طبقہ کہاں جائے؟
اب سوال یہ ہے اس بڑھتی غربت پر قابو کیسے پایا جائے؟ ایسے کونسے اقدامات کو اختیار کیا جائے جس سے معاشرے میں بڑھتی ہوئی غربت کو کم کیا جا سکے۔
بات وہی ہے یہ ہماری کم عقلی ہے یا ہم اپنی آنکھیں کھولنا ہی نہیں چاہتے؟
اگر اپنے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی چودہ سو سال پہلے کی لائی ہوئی تعلیمات پر غور و خوض کیا جائے اور ان پر ایمانداری کے ساتھ عمل کیا جائے۔ تو آج بھی عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ کے دور خلافت جیسا معاشرہ بن سکتا ہے۔ امن کا گہوارہ اب بھی یہ معاشرہ بن سکتا ہے اگر اپنی اپنی جگہ ہر کوئی اپنی ذمہ داریوں کو نبھانے والا بن جائے۔
اگر غور و خوض کیا جائے تو اللہ کے ہر حکم میں انسان کی بھلائی چھپی ہوئی ہے۔ قرآن میں جابجا اللہ نے ہمیں زکاۃ قائم کرنے کا حکم دیا۔ اس میں انسان کی بے شمار بھلائیاں ہے۔ اگر ہر صاحب استطاعت آدمی نظام زکاۃ پر سختی سے عمل پیرا ہوجائے۔ اس کی اپنی زندگی اور معاشرے میں سکون پیدا ہوجائے۔ اللہ کے راستے میں خرچ کرنے سے انسان میں پیسے کا اور مال کا لالچ نہیں رہتا اور معاشرے میں غریب طبقے کی بھی مناسب طریقے سے مالی امداد ہوتی ہے۔ ان کی مالی معاونت سے وہ دوسروں کے آگے ہاتھ پھیلانے سے بچ جاتے ہیں۔
اس طرح صدقہ و خیرات کی ترغیب دیکر ہر طرح کے غریب طبقے کی مدد کا حکم دیا ہے۔ کیونکہ زکاۃ دینے کا حکم صرف مسلمان کے لیے ہے۔ اور سال میں صرف ایک بار لازم ہے۔ جبکہ صدقہ و خیرات جب چاہے دے سکتے ہیں۔
اس طرح غریب طبقے کو پڑھا لکھا کر ان کو کسی قابل بنا دینا یا ایسا غریب طبقہ جو پڑھا لکھا تو ہے لیکن بے زوزگار ہے تو ان کو سرمایہ فراہم کر کے نفع میں شریک بناکر کاروبار کرنے میں ان کی مدد کرنے سے معاشرے کا سب سے بڑا مسئلہ حل ہوسکتا ہے۔
اسی طرح میراث کو ایمانداری سے تمام شرکاء میں تقسیم کرنا۔
لیکن افسوس! آج ہمارا المیہ یہ ہے کہ ہمارے معاشرے میں نظام میراث بہت بری طرح سے بے توجہی کا شکار ہے۔ دیندار گھرانہ بھی اس سے غفلت برتتا ہے۔ جس کی وجہ سے دولت کی گردش نہیں ہوپاتی۔ اور دولت چند ایک گنے چنے افراد تک سمٹ کر رہ جاتی ہے۔ یہی وجہ ہے جو ہم اپنے معاشرے میں بڑھتی ہوئی غربت کو کنٹرول کرنے میں ناکام ہیں۔
اگر اسلام کی لائی ہوئی تعلیمات پر آج سے ہی ہم سب مل پیرا ہوجائے تو دنوں میں ہم اپنے معاشرے کو غربت اور غربت کی آڑ میں بے شمار جرائم و مظالم سے اپنی عوام کو بچا سکتے ہیں۔
٭……٭……٭
نوٹ: رائٹرز کلب اور اس کی پالیسی کا اس تحریر کے خیالات سے متفق ہونا ضروری نہیں۔ اگر آپ بھی ہمارے لیے اردو بلاگ لکھنا چاہتے ہیں تو قلم اٹھائیے اور تحریر اپنی تصویر، مکمل نام، فون نمبر، فیس بک اور ٹوئٹر آئی ڈیز اور اپنے مختصر مگر جامع تعارف کے ساتھ writerscpk@gmail.com پر ای میل کر دیجیے۔

